جب حضرت سفیان ثوری کی والدہ نے ان سے فرمایا کہ بیٹے علم حاصل نہ کرو تو صرف اتنی ہی بات انہوں نے نہیں کہی۔ انہوں نے فرمایا کہ بیٹے علم حاصل کرو تو اس پہ عمل کرنے کی کوشش کرو ورنہ قیامت کے دن یہ تمہارا علم تمہارے لئے حساب کتاب کے دروازے کھولدے گا۔ حضور اکرم صلعم کے ایک ارشاد کا مطلب ہے کہ دو آدمیوں نے میری کمر توڑ دی ایک جاہل دیندار نے دوسرے بے عمل عالم نے۔
علم اگر برتا نہ جائے تو پھر ایسے علم سے کیا فائدہ۔ اللہ نے انبیاء کو علم عطا کیا تو انہوں نے علم کو برتا اور اس پہ عمل کر دکھایا۔ علم اگر آدمی میں اچھے برے کی تمیز اور عمل کی تحریک نہ پیدا کر سکے تو ایسا علم بے کار ہے۔ قرآن علم کا سرچشمہ ہے۔ اللہ کے رسول کو جب یہ علم وحی کے ذریعے عطا ہوا تو آپ نے اسکے ایک ایک لفظ پہ عمل کر کے دکھایا اسی لئے قرآن کہتا ہے کہ آپ مومنوں کے لئے نمونہ ہیں۔
علم اور عمل میں فرق ہو تو ایک طرح کی منافقت ہےبلکہ کھلی منافقت۔ علم سکھاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو۔آدمی اللہ سے ڈرنے کے بجائے سرکش ہو جاتا ہے۔سیدھی راہ چھوڑ کر الٹی راہ چلنے لگتا ہے۔ علم دھوکے اور ریاکاری سے روکتا ہے اور اگر کوئ علم حاصل کرنے کے بعد بھی ریاکار ہوجائے تو کیا کہا جائے۔
حضرت حسن بصری، تاریخ اسلام کی ایک بڑی شخصیت اکثر اپنے نفس پہ خفا ہوتے اور اپنے آپکو جھڑک کر کہتے حسن بصری، تو پرہیز گاروں اور اطاعت گذاروں جیسی باتیں کرتا ہے مگر تیرے کام تو جھوٹوں ، منافقوں اور دکھاوا کرنے والوں کے سے ہیں۔ سن لے اور خوب اچھی طرح سن لے کہ یہ اللہ سے محبت رکھنے والوں کی صفت نہیں کہ وہ سراپا اخلاص اور تمام تر ایثار نہ ہوں۔
یحیی بن معاذ سے پوچھا گیا کہ آدمی اخلاص والا کب ہوتا ہے۔ فرمایا جب اسکی عادت دودھ پیتے بچے کی سی بن جائے۔ کوئ اسے اچھا کہے تو خوش نہ ہو۔ برا کہے تو برا نہ منائے۔
حضرت ابراہیم ادھم کہتے ہیں کہ جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ لوگ اسے اچھا کہیں وہ نہ اللہ سے ڈرنے والا ہے نہ صاحب اخلاص۔
جسکی نیت نیک ہوگی اس کا عمل بھی ویسا ہوگا۔علم وہ جوہر ہے جو نیت کو نیک اور عمل کو بہتر بناتا ہے۔ اسی لئے قرآن کہتا ہے کہ وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ علم اللہ کی صفات میں سے ایک ہے ۔
جو صاحب علم ہوتا ہے اسکی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ حضرت عیسی نے لوگوں سے پوچھآ۔ جانتے ہو ولی اللہ کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں آپ بتائیے۔
فرمایا کہ وہ جو اپنے علم پہ عمل کرے۔
یہ ایک تحریر ہے جو شاہ بلیغ الدین کی کتاب روشنی سے مستعار لی گئ۔ میرے بچپن میں ہماری صبح کا آغاز ریڈیو سے مثنوی مولانا روم کے ترجمے سے ہوتا تھا اور اسکے بعد شاہ بلیغ الدین کا پانچ دس منٹ کا پروگرام روشنی چلا کرتا تھا۔ مولانا صاحب اپنے دھیمے لہجے میں اپنی بات کرتے جاتے اور ہم اپنے اسکول کی تیاری۔
علم کے ساتھ عمل نہ ہو تو یہ منافقت ہے۔ یہ بات میں نے اپنی سوچ سے کہیں لکھی تھی۔ لیکن آج جب میں نے اس کتاب کو دوبارہ کھولا تو لگا کہ شاید میں نے لا شعوری طور پہ یہ جملہ محفوظ کر لیا تھا۔ میرے شعور نے مجھے بتایا کہ دراصل یہ جملہ اپنی پوری معنویت میں یہاں استعمال کرنا ہے۔
عالم بے عمل، کیا تبلیغ کا حق رکھتے ہیں؟
![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)