Showing posts with label کیرن آرمسٹرونگ. Show all posts
Showing posts with label کیرن آرمسٹرونگ. Show all posts

Thursday, February 25, 2010

میرا پیغمبر عظیم تر ہے

میں یہاں اس نبی کا تذکرہ کرنے نہیں جا رہی، جسکا سایہ نہ تھا، جو اپنے لعاب دہن سے امراض کو اچھا کر دیتا تھا  جس کی انگلیوں سے پانی کی دھاریں بہیں، جس کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور جسکی پیدائش پہ  ایوان کسری کے چودہ کنگورے گر گئے، مجوس کا آتش کدہ ٹھنڈا ہو گیا، بحیرہ سادہ خشک ہو گیا اور اسکے گرجے منہدم ہو گئے۔
یہ ایک انسان کے بارے میں ہے جسے قرآن کے الفاظ میں انسانوں کے درمیان سے نبوت کے عہدے پہ فائز کیا گیا۔ تاکہ دوسرے  انسان اسکی تعلیمات سے اسی طرح سیکھیں جیسے اور انسانوں سے سیکھتے ہیں اور انہیں یہ اعتراض نہ ہو کہ  یہ تو ہے ہی ایک مافوق الفطرت شخص ہم بھلا کہاں اسکے جیسے کام کر سکتے ہیں۔
یہاں میں ایک کتاب کا حوالہ دینا چاہونگی  جسکے مصنف مائیکل ہارٹ ہے یہ میرے کتابوں کے مجموعے میں دس سال پہلے شامل ہوئ۔ انیس سو اٹھتر میں شائع ہونے والی اس کتاب میں دنیا کی تمام تاریخ سے سو افراد کو چنا گیاہے۔ سو ایسے افراد جنہوں نے انسانی تاریخ کا دھارا بدل دیا اور جنکے اثر سے دنیا آج بھی آزاد نہ ہو سکی ان سو افراد کو ترتیب دیتے ہوئے مائیکل نے جس شخصیت کو سب سے پہلا نمبر دیا وہ رسول اللہ کی ذات ہے۔
وہ کہتا ہے میرا یہ انتخاب کچھ پڑھنے والوں کو حیران کر دیگا۔ لیکن در حقیقت محمد[صلعم]  دنیا کی تاریخ میں وہ واحد شخص ہیں جنہوں نے  مذہبی اور سیکولر دونوں سطحوں پہ بے انتہا کامیابی حاصل کی۔ محمد [صلعم] نے دنیا کے عظیم مذاہب میں سے ایک کی تبلیغ کی اور ایک انتہائ پر اثر سیاسی رہ نما ثابت ہوئے۔
 تاریخ کی بہت اہم شخصیات کے بر عکس محمد[صلعم] کو دنیا کے کسی اہم  تہذیبی مرکز یا ثقافتی سطح پہ یا سیاسی طور پہ اہمیت کی حامل قوم میں موجود ہونے کا فائدہ نہیں ملا۔ بلکہ وہ علاقہ جہاں وہ موجود تھے اس وقت دنیا کا ایک پسماندہ علاقہ تھا۔ انکی اپنی زندگی آسانیوں سے مرقع نہ تھی اسلامی تعلیمات کے مطابق وہ پڑھے لکھے نہ تھے۔ عرب کے مختصر حالات یہ تھے کہ وہ بہت سارے خداءووں پہ یقین رکھتے تھے۔ کچھ یہودی اور عیسائ بھی وہاں موجود تھے لیکن وہ بھی اتنا اثر نہ رکھتے تھے۔ عرب قبائل آپس کی جنگوں میں الجھے رہتے تھے اور انہیں  بے تحاشہ معاشی مسائل کا سامنا تھا۔
 وہ مزید کہتا ہے کہ اگرچہ دنیا میں عیسائیوں کی تعداد مسلمانوں سے تقریباً دوگنی ہے تو یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ پھر محمد [صلعم] کو نمبر ایک کیوں دیا۔  اسکی وجہ اسکے مطابق  یہ ہے کہ اسلام کو مرتب کرنے میں اور اسے پھیلانے میں محمد[صلعم] نے جتنا کام کیا۔  وہ کرائسٹ یعنی حضرت عیسی نے نہیں کیا۔

حتی کہ مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن کو لکھوانے  اور محفوط رکھنے کا جو کام محمد[صلعم] نے کیا
وہ حضرت عیسی بلکہ انکے نائیبین  نے بھی نہیں کیا۔
 اسی طرح کی اور مثالیں دیتے ہوئے مائیکل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تاریخ کی سب سے زیادہ کامیاب اور پر اثر شخصیت قرار دیتا ہے۔
مائیکل وہ واحد شخص نہیں جو اس چیز کا اعتراف کرتا ہے۔ یہ اعتراف ہر وہ شخص کرتا نظر آتا ہے جو رسول اللہ کی جدو جہد کی داستان کو بغیر کسی جانبداری اور عقیدت کے پڑھتا ہے۔ انہیں اپنے ماحول کے لحاظ سے اتنے انقلابی فیصلے کرتے دیکھتا ہے۔ انہیں جنگیں لڑتے دیکھتا ہے۔ حاصل ہونے والی فتح سے بردباری سے نبٹتے دیکھتا ہے۔ اور شکست ہونے پہ اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دیکھتے ہے۔ انہیں اپنی خاندانی زندگی گذارتے دیکھتا ہے، خوشی اور غم کو برتتے دیکھتا ہے اور لوگوں  کیساتھ دیکھتا ہے اور پھر خلوت میں دیکھتا ہے۔ اپنے عزم پہ جمے دیکھتا ہے اور لوگوں کی ہمتیں باندھتے دیکھتا ہے ، ایک سپہ سالار کو دیکھتا ہے اور ایک واعظ کو دیکھتا ہے، مسلمانوں کیساتھ دیکھتا ہے اور غیر مسلموں کیساتھ دیکھتا ہے اور ان سب چیزوں کو دیکھنے کے بعد انکی ذات سے متائثر ہونا ، پھر ان دیکھے خدا پہ ایمان لے آنا کتنا ہی آسان اور صحیح کام  لگتا ہے۔ محمد مصطفی سے آشنا ہونے کے بعد کیا کوئ خدا سے نا آشنا رہ سکتا ہے۔
کشف الدجی بجمالہ 
حسنت جمیع خصالہ
صلو الیہ وٰاٰلہ

 نوٹ؛ سیرت طیبہ پہ آج ڈان میں اصغر علی انجینیئر صاحب کی ایک تحریر چھپی ہے۔ اسے ضرور دیکھیں۔ لنک یہ ہے
حوالہ؛


                                                               

Thursday, February 18, 2010

نئے افکار انکا حصول اور ترویج-۵


 یہ ہے وہ چھاپہ خانہ جو سولہویں صدی کے یوروپ کی بیداری میں حصے دار ہے۔ یہ وہی چھاپہ خانہ ہے جو مغل بادشاہ اکبر کے زمانے میں جب ہندوستان کی سر زمین پہ اجازت باریابی چاہ رہا تھا تو بادشاہ نے یہ کہہ کر اسے خوش آمدید نہ نہا کہ اس سے ہندوستان میں فن کتابت ختم ہو جائیگا۔

یوروپ کے دور تاریک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آٹھ سو سن عیسوی میں شورع ہوا اور اٹھارویں صدی میں اس سے نجات پائ گئ۔ لیکن تاریخ میں ایسی تبدیلیوں کا کوئ معین دن نہیں ہوتا۔  قوموں کی پیدائش اور موت کا دن مقرر کرنا اتنا آسان نہیں۔کیونکہ یہ تبدیلیاں زیادہ تر انتہائ خاموشی سے دستک دیتی ہیں اور پھر حالات کے گرد اپنا ایسا جال بن جاتی ہیں کہ انکی وجوہات کو صحیح طور سے جانچنے پہ بھی بڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔ بہرحال سولہویں صدی کا یوروپ اب بیدار ہونے کو تیار تھا
چھاپے خانے نے کتابوں تک پہنچ کو آسان بنا دیا۔ اور وہ کتابیں جن سے غیر یوروپین علم نے بارہویں صدی میں یوروپ کے اندر جگہ بنائ تھی اب ان تک زیادہ تر لوگ پہنچ سکتے تھے۔ یونانی کتابوں کے میسر لاطینی تراجم کا انگریزی میں ترجمہ ہوا۔
چودھویں صدی کے وسط میں جب قسطنطنیہ کا سقوط ہوا تو یونانی مفکر اور انکی تصنیفات یوروپ میں چھا گئیں۔ انسان نے اپنی آنکھیں اپنے داخل سے ہٹا کر پھر کائنات پہ مرکوز کیں اور سائینسی انکشافات نے جنم لینا شروع کیا۔یہ سب کچھ اس لئیے  بھی ہوا کہ ابن رشد اور ابن خلدون نےعقلی تحریکوں کو تقویت دی تھی۔
یوروپ کے پر تشدد مذہبی حالات نے وہاں کے انسان کو مذہب سے ہٹا کر عقل سے قریب کر دیا تھا چنانچہ یہاں ابن رشد کا استدلالی طریقہ مشہور ہوا۔ فلپ حطی نے 'عربوں کی تاریخ' میں لکھا کہ'دور وسطی کے مغربی متکلمین  اور اہل قلم کے ذہنوں میں جتنا ہیجان ابن رشد نے برپا کیا اور کسی نے نہیں کیا'۔
مسلمانوں کی علمی شمع اب بجھ رہی تھی اس لئیے ابن رشد کی روشنی سے یوروپ نے اپنی قندیلوں کو روشن کیا۔ اس طرح سے عیسائ کلیسا کے خلاف پیدا ہونے والی تحریک سے کلیسا ابن رشد کے دشمن ہو گئے اور اسے بے تحاشہ گالیاں دینے لگے۔ اور ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ یوروپین تعلیم گاہوں میں ان کتابوں کا پڑھانا ممنوع ہو گیا اور بعض جگہ جلا بھی دیا گیا۔
 مسلمانوں کے دور زوال میں ابن خلدون نے جنم لیا وہ سائینسی طرز فکر کے حامی تھے اور جس نظرئیے پہ ابن رشد، ارسطو کی مدد سے پہنچا اس پہ ابن خلدون اپنے نظریہ ء تاریخ  سے پہنچا۔ وہ اپنی نسلی تعصبات سے بلند تھا اور عرب نژاد ہونے کے باوجود یہ کہتا تھا کہ 'عرب تہذیب و تمدن کے دشمن ہیں اور دنیائے اسلام میں علوم و فنون کے حامل عجم ہیں'۔ ابن خلدون نے عربی مزاج کی بدویت کو پہچانا اور آزاد فکر کی روش پیدا کی۔ یہ اتنا بڑا کارنامہ تھا کہ ٹائن بی نے بھی اسکی تعریف کی اور ابن خلدون کو فلسفہ ء تاریخ کا پیش رو قرار دیا۔
 چھاپہ خانہ نے بائبل کو بھی ایک عام عیسائ کے ہاتھوں میں پہنچا دیا اور اب بائبل کا مطالعہ بھی ایک عام کتاب کی طرح کیا جا سکتا تھا۔ بائبل کو اب پرانے عقائد کے بجائے نئے طریقہ ءکار سے پڑھا جاتا تھا۔
اسکے بعد بارود  اور مقناطیسی گھڑی کا استعمال ، انہوں نے نے زندگی کے دھارے کو تبدیل کر دیا۔ واسکو ڈی گاما نے نے ہندوستان پہنچنے کا نیا بحری راستہ نکالا اور کولمبس نے امریکہ دریافت کر لیا۔ کوپر نیکس نے اس وسیع کائنات میں زمین کو محض ایک سیارہ قرار دیا جو سورج کے گرد حرکت کر رہا ہے اور اس سے اپنے حصے کی روشنی لیتا ہے اور اسکی اس بات کی تصدیق گلیلیو گلیلے نے کی۔ کائنات کے اس نئے تصور نے انسان کے کائنات میں مرتبے کو متائثر کیا اور اسکے بہت سارے نظریات کو تبدیل کر دیا۔
زمانے نے کروٹ لی اور انسان زراعت سے تجارت کی طرف متوجہ ہوا۔  جاگیر داری نظام اپنے اختتام کی طرف بڑھا اور اس طرح متوسط طبقے پہ مشتمل انسانوں کے اس گروہ نے جنم لیا۔ جو اب چیزوں کو استدلالی نکتہ ء نظر سے دیکھتا تھا۔
یہ تمام قوتیں جو تبدیلی کی قوتیں تھیں اس صدیوں کے جمود کا نتیجہ تھیں جس پر کسی محرک قوت نے اثر انداز ہونے کی کوشش نہ کی تھی۔ اس سارے ماحول کے نتیجے میں تبدیلی کے تین عناصر یعنی مذہب، فلسفہ اور سائنس ایکدوسرے کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ زندگی کی معنویت میں تبدیلی نے  ہر شعبہ ء زندگی میں کسی تحریک کا بیج ڈالدیا تھا۔

 لیونارڈو ڈے ونشی کی مونا لیزا  آنیوالے دنوں کے خیال سے مسکرا رہی تھی۔ جس کی تخلیق اسی زمانے کی ہے جب یوروپ زندگی کے نئے چلن سے آشنا ہو رہا تھا۔ صرف لیونارڈو ہی نہیں اس وقت کے بیشتر تخلیق کار اپنی اپنی سطح پہ مصروف بہ عمل نظر آتے ہیں۔ یوں تخلیقی بنجر پن ختم ہوا اور ایسا لگتا تھا کہ ساری فضا متحرک ہو گئ ہے۔
نوٹ؛ یوروپ کی تاریخ کا یہ سفر جاری ہے۔ آپ بھی کچھ شامل کرنا چاہیں تو خوش آمدید۔


حوالہ جات؛
اردو ادب کی تحریکیں، مصنف ڈاکٹر انور سدید
تاریخ فلاسفۃ الاسلام، مصنف محمد لطفی جمعہ
خدا کے نام پہ لڑی جانیوالی جنگ، مصنفہ کیرن آرمسٹرون۔ 
The battle for God by Karen Armstrong