Showing posts with label چین. Show all posts
Showing posts with label چین. Show all posts

Sunday, July 15, 2012

دروازہ پچکاں

بلوچستان میں معدنیات کی ایک کان پہ جانے کا اتفاق ہوا تو بہت ساری دلچسپ باتوں کا اندازہ ہوا۔  بلوچستان کا زیادہ تر علاقہ پہاڑوں پہ مشتمل ہے وہ بھی بنجر پہاڑ۔ ان پہاڑوں کو دیکھ کر خیال کیا جا سکتا ہے کہ یہ کسی زمانے میں سمندر کے پانی سے ڈھکے ہوئے تھے اور جب یہ پانی غائب ہوا تو سمندر میں پوشیدہ یہ پہاڑ ظاہر ہو گئے۔ یہ کام ہزاروں سال پہلے ہوا ہوگا۔ اب یہ بظاہر بنجر پہاڑ، اپنےاندر خزانوں کو چھپائے ہوئے ہیں۔ یہ خزانے  پر اسرار تو نہیں  لیکن لگتا ہے کہ ان پہ کسی آسیب کا سایہ ہے۔ یہ آسیب ان خزانوں کو باہر آنے نہیں دیتا ، دروازہ بند رکھتا ہے اور اسکا پہرہ دار ہے۔


ہمارے بلوچ ساتھی نے ہمیں معلومات دیں کہ اس علاقے میں لوہا، تانبا، بیریئم اور دیگر دھاتوں کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ ہم نے جب انٹر نیٹ کی طرف توجہ کی تو پتہ چلا کہ لوہا، تانبا، کرومیئم، بیرائٹ، فلورائیٹ اور مختلف طرح کے سنگ مر مر ہی نہیں سونا بھی یہاں سے نکالا جاتا ہے۔
   سونا جیسی زمین نہیں بلکہ سونے کی کانیں بھی بلوچستان میں موجود ہیں۔ یہ سونا ایک چینی کمپنی نکال رہی ہے۔ سونا،  تانبے کے ذخائر کے ساتھ عام طور سے ملتا ہے۔ سونے اور تانبے کے یہ ذخائر، ریکو ڈک جوکہ ایک چھوٹآ سا قصبہ ہے چاغی ڈسٹرکٹ ، بلوچستان میں پائے جاتے ہیں۔
 ہم جس علاقے میں موجود تھے یہ بیلہ کے قریب ہے۔ یہاں سے ماربل کی بڑی مقدار نکالی جا رہی ہے۔ ہمارے بلوچ ساتھی نے جن کا نام ہم انیس بلوچ فرض کر لیتے ہیں ہمیں بتایا کہ وہ علاقے جو سمندر کے ساتھ ہیں وہاں عام طور پہ ماربل نہیں ہوتا ، جو ہوتا ہے وہ اچھے معیار کا نہیں ہوتا۔ سمندر کا پانی اسے خراب کر دیتا ہے۔ ادھر بیلہ کی طرف اس کے بقول زیر زمین قدرتی گیس پائ جاتی ہے جو کہ زیادہ تر ماربل کی چٹانوں کو پھاڑ دیتی ہے۔ جس سے ماربل کا معیار اچھا نہیں رہتا۔
چٹان کی پھٹی ہوئ تہیں

انیس نے ہمیں مزید بتایا کہ ماربل کی  کانوں سے پیداوار اتنی اچھی حاصل نہیں ہو پاتی کیونکہ ہمارے پاس ماربل کی کان کنی کے لئے جدید مشینیں موجود نہیں ہیں۔ عام طور پہ چٹانوں کو توڑنے کے لئے ڈائینامائیٹ استعمال ہوتا ہے جس سے چٹان تباہ ہو جاتی ہے اور بڑے سائز کا پتھر نہیں ملتا۔ انیس بلوچ کا کہنا تھا کہ تقریباً پچھتر فی صد پیداوار تباہ ہوجاتی ہے جبکہ باہر کے ممالک میں یہ تناسب نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔
مشینیں کیوں نہیں ہیں، جبکہ بلوچستان کو قدرتی وسائل سے مالا مال زمین سمجھا جاتا ہے۔ انیس کا کہنا تھا کہ حکومت زراعت کے لئے قرضہ دیتی ہے لیکن معدنیات کے لئے نہیں۔ لوگ اپنے طور پہ کام کرتے ہیں اور یہ بھاری بھرکم مشینیں نہیں خریدسکتے۔
حکومت کیوں ایسے قوانین نہیں بناتی کہ معدنیات کے لئے بھی قرضہ فراہم کیا جائے۔ اس پہ انیس بلوچ نے ہنستے ہوئے کہا یہ حکومت کہاں ہے یہ تو قبضہ گروپ ہے۔ ابھی ادھر زہری کی جو کانیں ہیں ، زرداری کی کوشش ہے کہ اس پہ اس کا قبضہ ہوجائے۔
یہ تو تھے ایک بلوچ کے خیالات۔ میرے خیال سے تو سرداری نظام ہر چیز پہ حاوی ہے۔ یہ کانیں سردار کی مرضی کے بغیر کوئ استعمال نہیں کر سکتا۔ 
سارا دن پہاڑ پہ ایک گرم دن اس طرح گذارا کہ لو چل رہی تھی اور ہم چٹائیوں سے بنے ایک شیڈ کے نیچے چٹائیوں پہ بیٹھے ہوئے تھے۔ کان پہ زیادہ تر مزدور پٹھان اور انتظامیہ سرائکی اور بلوچ تھی۔
دن کے تین بجے تک اس بات کے قوی امکان پیدا ہو چلے تھے کہ ہمیں لو لگ جائے گی۔ تب ہمارے میزبان ہمیں قریب واقع ایک چشمے پہ لے گئے۔ یہ جگہ درختوں سے گھری ہوئ تھی۔ زمین سے مختلف سمتوں سے پانی رس رس کر جمع ہورہا تھا اور اس نے ایک نالے کی شکل اختیار کر لی تھی۔ یہ چشمہ چند گز کا فاصلہ طے کرنے کے بعد زمین میں غائب ہو رہا تھا۔
چشمے کا پانی یہاں زمین میں غائب ہو رہا ہے

 صاف ستھرے اس پانی کو ہم نے پینے کی بھی جراءت کی۔ اگرچہ اس میں کائ کی مہک شامل تھی اور اسکے ارد گرد بن جانے والے جوہڑوں میں مینڈک بھی موجود تھے۔  لوگوں نے بالخصوص بچوں نے اس میں اشنان کرنے کی سعی بھی کی۔ اپنی اس کوشش میں وہ اس حد تک کامیاب رہے کہ پانی میں پاءوں پھیلا کر لیٹ گئے۔ اشنان اس لئے کہ غسل میں میرا خیال ہے زیادہ پانی خرچ ہوتا ہے۔


اگر کائ کی مہک نہ ہو تو اس پانی کا کاروبار بھی کیا جا سکتا ہے۔ میں نے سوچا۔ ماں کے دودھ جیسا خالص پانی، ایک بلوچ محاورہ ہے۔ بلوچستان میں پینے کا پانی اہمیت رکھتا ہے کہ یہاں میٹھے پانی کا کال ہے۔
بہر حال پہاڑوں پہ بادل گرجنے کی ہلکی سی آواز آئ تو ہم نے اپنا ڈیرہ سمیٹا کہ ان علاقوں میں سیلابی پانی انتہائ تیزرفتاری سے کسی بھی وقت دھاوا بول سکتا ہے اور اس میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ کسی گاڑی کو اپنے ہمراہ لے جائے۔ ابھی ہم کچے میں ہی تھے موبائل فون بجا۔ اطلاع ملی کہ اس کان پہ بارش ہو گئ جہاں ہم ابھی ایک گھنٹہ پہلے موجود تھے۔  موسم بہتر ہو چلا تھا۔
وہاں سے واپسی پہ ایک گاءوں کے نزدیک ایک ہوائ چکی دیکھی یعنی ونڈ مل جسکے ساتھ عورتیں کپڑے دھو رہی تھیں۔ معلوم ہوا کہ مشرف کے دور میں یہ پن چکی یہاں لگائ گئ تھی۔ جسکی مدد سے کنویں سے پانی نکالا جاتا ہے۔
 انیس بلوچ کے خیال میں مشرف کی پالیسی معدنیات کے حوالے سے اچھی تھیں۔ اس کے دور میں اس سمت میں کام بھی ہوا لیکن اب کوئ پرسان حال نہیں۔
 اوتھل کے قریب جب ہم ایک دوکان سے پانی لے رہے تھے ایک عورت گاڑی کے نزدیک آکر بھیک مانگنے لگی۔ یہ ایک سرائکی عورت لگ رہی تھی۔ وہیں پہ ایک صاحب دوکان پہ کھڑے باتیں کر رہے تھے خالص کارخانے دار دہلوی انداز میں۔
اور گاڑی میں مشعل، دیگر بلوچی بچوں کو بتا رہی تھی کہ اسے بلوچی آتی ہے۔ پھر اس نے ایک جملہ بول کر دکھایا بلوچی لب و لہجے میں۔ دروازہ پچکاں۔ ہمارے ساتھیوں نے اسے داد دی اور ان میں سے کسی نے پوچھا، تمہیں اسکے مطلب پتہ ہیں۔ اس نے کہا، ہاں دروازہ کھول دو۔
بلوچستان کی  بھی اس وقت یہی آواز ہے، دروازہ پچکاں۔ دروازہ کھول دو ترقی کی طرف، آگہی کی طرف۔

Monday, September 12, 2011

پاکستانی سینی میں چین کی چینی

کل صبح بارہ بجے تک میری چائینیز کی کلاس ہے جو بھی کام ہوگا اسکے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ میرے ایک دوست نے اطلاع دی۔ زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم۔ کیا ہوا کسی چائینیز کو اپنا محبوب بنا لیا ہے۔ کیونکہ ہمارے خطے میں مادری زبان کے علاوہ اگر کسی زبان کو لوگ دل سے سیکھنا چاہتے ہیں تو وہ انگریزی ہے نہ کہ چائینیز۔  جواب ملا نہیں چین جا کر کچھ کاروبار کرنے کا ارادہ ہے۔
سو میں  نے ان سے کچھ ابتدائ معلومات لیں۔ کراچی میں چند ایک ادارے ہیں جہاں یہ سکھائ جاتی ہے۔ پانچ چھ استاد ہیں جنہوں نے یہ فریضہ اٹھایا ہوا ہے۔ اور وہ آجکل بڑے مصروف ہیں۔ ان کی زیادہ تعداد چین سے تعلق رکھتی ہے۔
پھر اس کے بعد کسی اور سے بات ہو رہی تھی۔ پتہ چلا کہ وہ اپنے بچے کو کالج کی تعلیم کے لئے ہانگ کانگ بھیج رہے ہیں۔ ایک دفعہ پھر حیرانی سے گذرنا پڑا۔ لوگ لندن، کینیڈا، امریکہ بھیجتے ہیں آپ ہانگ کانگ بھیج رہے ہیں۔ جواب ملا، وہ زمانہ گیا جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے آجکل انہوں نے فاختائیں آزاد کر کے اس خطے میں ڈیرہ ڈال لیا ہے۔  چین ، ہانگ کانگ۔
نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے میں اپنا سرمایہ لگایا، ذہن لگایا۔ لیکن کہنے والے اسے ستم گر کہتے رہے۔ مغربی ممالک نے دہشت سے نبٹنے کے لئے دہشت زدہ پالیسیز بنائیں۔  یوں آج اس واقعے کے دس سال بعد دنیا میں سرمائے  اور اعتماد کے سفر میں ایک واضح تبدیلی نظر آتی ہے۔ یہ مغرب سے مشرق کی طرف چل پڑا ہے۔ مغرب کا عالم یہ ہے کہ یہ اڑی اڑی سی رنگت، یہ کھلے کھلے سے گیسو، تری صبح کہہ رہی ہے تیری رات کا فسانہ اور مشرق آخر مشرق ہے۔
ان مشرقی ممالک میں اسلامی ممالک شامل نہیں۔ اگر ہم بہت کوشش کریں تو ترکی، ملائیشیا یا انڈونیشیا کا نام لے سکتے ہیں۔ جنکی معیشت بہتر حالت میں ہے۔ ان میں سے ترکی نسبتاً  مضبوط ہے اور بہتر مستقبل کی طرف دیکھتا ہے۔
پاکستان کے دگرگوں سیاسی حالات اور حکمرانوں کی عدم دلچسپی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم کیا ہے۔ ایک طرف بجلی کی کمی ہے دوسری طرف شفاف نظام کا رونا۔ بالخصوص کراچی میں کاروبار کو چلانے کے لئے جس اعتماد اور تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے وہ پچھلے تین سال میں ناپید ہو گیا ہے۔
 ہمارے سرمایہ کار اپنا سرمایہ تیزی سے ملک سے باہر منتقل کر رہے ہیں جیسے ملائیشیا ۔ سرمائے کی اس منتقلی سے ہمارے ملک میں روزگار کے مواقع کم ہونگے اور مہنگائ مزید بڑھے گی۔ جس سے ایک عام انسان جس کا جینا مرنا اسی زمین سے وابستہ ہے متائثر ہوگا بلکہ ہو رہا ہے۔ اس لئے جب کراچی میں کاروباری استحکام کی بات ہوتی ہے تو یہ دراصل ہر گروہ کی بقاء کی بات ہوتی ہے۔
عالمی کساد بازاری میں، امید کی ایک کرن چین میں سرمایہ کاری ہے۔ چین اس وقت معاشی طور پہ مستحکم ہے ایک ابھرتی ہوئ نئ معاشی طاقت۔  میں نگینہ گلی، صدر میں موجود تھی۔ وہاں ایک نگینہ فروش نے بتایا کہ وہ آجکل چین سے نگینے لے کر آ رہا ہے پہلے وہ بنکاک جاتا تھا۔  اس وقت جو چین سے کاروبار کرے وہ فائدے میں ہےاس نے ایک راز مجھ سے شیئر کیا۔ چین چھا رہا ہے۔ انکی تجارتی اور سرمایہ کاری کی پالیسیاں حوصلہ افزاء ہیں۔ ویزہ بھی آسانی سے مل جاتا ہے۔ آپکا پاسپورٹ مہینوں قطار میں نہیں پڑا رہتا۔ چند دن لگتے ہیں۔ آپ وہاں آفس لے سکتے ہیں۔ کمپنی کھول سکتے ہیں۔ بس صرف ایک خرابی ہے پاکستانیوں کو چینی زبان نہیں آتی اور چینی کوئ اور زبان نہیں بول سکتے۔ چینی نہ صرف کاروباری ذہانت رکھتے ہیں بلکہ وہ اس میں خاصے چالاک ہیں۔ اس چالاکی سے نبٹنے کے لئے زبان آنا ضروری ہے۔
آپکو بچپن میں سنی ہوئ وہ کہانیاں یاد ہیں جس کا مرکزی خیال اس نکتے کے گرد گھومتا  ہے کہ زمین کے نیچے دفن خزانے کسی ایک جگہ نہیں رہتے یہ چلتے رہتے ہیں اور آواز دیتے ہیں ہم یہاں ہیں۔ انکی آواز پہ  دھیان دینے والا اور انہیں سمجھنے والا انہیں حاصل کر لیتا ہے۔ یہی حال زمین کے اوپر موجود خزانوں کا ہے۔ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں مزید سرمایہ ہوتا ہے اور جہاں یہ گردش کی حالت میں رہے۔ مایا کو مایا ملے کر کے لمبے ہاتھ، حرکت میں برکت ہے۔
اب اس سارے قصے سے کیا ہم یہ سمجھیں کہ پاکستان کے صوبے سندھ میں اسی مستقبل کا ویژن رکھتے ہوئے اسے تمام اسکولوں میں سال دو ہزار تیرہ سے چھٹی کلاس سے لازمی مضمون کے طور پہ پڑھایا جائے گا۔ یاد رہے اسی کی دہائ میں مرد مومن کے ویژن پہ اسکولوں میں عربی زبان بھی پڑھانے کی کوشش کی گئ تھی۔
  اس حکومتی فیصلے کے بارے میں لوگوں کی رائے مختلف ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ  کیا اسے بھی اسی طرح سکھایا جائے گا جس طرح صوبے میں اردو، انگریزی یا سندھی زبانیں سکھائ جاتی ہیں۔ جو اول تو سکھائ نہیں جاتیں بلکہ پڑھائ جاتی ہیں۔ دوئم جہاں جہاں پڑھائ جاتی ہیں وہاں مقصد امتحان پاس کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے ساری زندگی اردو پڑھنے والوں کو اردو لکھنا پڑھنا نہیں آتی، انگریزی کے چند مضامین اور خطوط یاد ہوتے ہیں اور سندھی رسم الخط سے نقطوں کی وجہ سے آشنائ ہو جاتی ہے۔ یہ سندھی زبان، صوبے کے اسکولوں میں پانچ سال تک لازمی پڑھائ جاتی ہے۔
پھر یہ کہ چینی زبان سکھانے کے لئے اساتذہ کہاں سے آئیں گے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے لئے چین سے اساتذہ لئے جائیں گے۔ اور پاکستان میں بھی اساتذہ کو تربیت دی جائے گی۔ یقیناً ان چینی اساتذہ کوجان کا تحفظ دینے پہ بھی حکومت کو  وسائل خرچ کرنا پڑیں گے۔ ادھرسال بھر کے عرصے میں کیا تربیت کے بعد ایسے ماہر اساتذہ تیار کر لئے جائیں گے جو دوسروں کو زبان سکھانے کے قابل ہوں۔ یہاں کچھ لوگ ہو سکتا ہے کہ کچھ اس قسم کے ڈائیلاگ بولنا چاہیں کہ ہمت کرے انسان تو کیا کام ہے مشکل۔ جس سے میں اپنے ہم وطنوں کی حد تک اتفاق نہیں کرتی۔ جو محض ڈائلاگز بول کر ہر پیچیدہ صورت حال سے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔ یوں مسائل اپنی جگہ رہتے ہیں اور کاغذ کے پلندے وزن حاصل کرتے رہتے ہیں۔ یہاں ڈائیلاگز نہیں ٹھوس عمل چاہئیے۔
مزید یہ کہ کیا تمام طالب علموں کے لئے چینی زبان سیکھنے کا کوئ فائدہ واقعی  ہے بھی یا نہیں۔ اسکا جواب میں آپ پہ چھوڑتی ہوں۔
میں اپنے پالیسی سازوں کے شر پسند ذہن سے سوچوں  تو یہ کہتا ہے کہ اس میں بھی سرمائے کی منتقلی کا چکر ہے۔ بس یہ کہ مشرق یا مغرب میں جانے کے بجائے یہ کچھ حکومتی اراکین کی جیب کا رخ کرے گا۔ اور وہ یہ کہہ کر فارغ ہونگے، ٹک دیکھ لیا، دل شاد کیا، خوش وقت ہوئے اور چل نکلے۔

Friday, March 4, 2011

ساحل کے ساتھ-۵


اندھیرا پھیل چلا تھا جب میں مشعل کو رات کا کھانا کھلا کر فارغ ہوئ۔ پتہ چلا کہ محلے سے دو خواتین ملنے کے لئے آئ ہیں۔ عبایہ پہنے ہوئے جب وہ اندر آئیں تو مجھے لگا کہ ان میں سے ایک سے پہلے مل چکی ہوں۔ طیبہ، یہی نام ہے ناں تمہارا۔ میں نے ان میں سے ایک سے کہا۔ وہ ایکدم مسکرائ۔ میں سمجھی  تم مجھے بھول گئ۔ ارے نہیں، میں اتنے عرصے بعد یہاں آئ ہوں تم اتنی بڑی ہو گئیں۔
طیبہ، اپنی بڑی بہن اور چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ آئ تھی۔ اسکی عمر یہی کوئ چودہ پندرہ سال ہوگی۔ اسکی بڑی بہن اس سے کوئ دو تین سال بڑی تھی۔ نام تھا اس کا فرض کریں کہ رخسانہ۔
تم لوگوں کو اردو کیسے آتی ہے؟  ڈارمے دیکھتے ہیں اور فلمیں کیبل پہ۔ اس سے آئی ہے۔ کیبل یہاں کوئ چار سال پہلے آیا ہے۔ اور چار سال کے حساب اردو فرسٹ کلاس۔  جو چینلز یہاں آتے ہیں وہ زیادہ تر انڈین یا ایرانی ہیں۔ ایرانی اس لئے کہ گوادر سے ایرانی سرحد زیادہ دور نہیں۔ اور انڈین کس لئے، یہ نہ معلوم یا معلوم؟  پاکستانی چند چینلز آتے ہیں ان میں سے ایک دو خبروں کے ہیں۔ ڈرامے کا کوئ چینل نہیں ہے۔ لازماً ان لوگوں کی اردو پہ ہندی کا اثر ہے۔ جب ہی ایک بچے نے مجھ سے پوچھا کیا تم پتنی ہو؟ 
جتنی دیر وہ میرے پاس بیٹھی رہی۔ رخسانہ اپنی دوچ ، خواتین کا خاص بلوچی لباس،  کی جیب میں سے موبائل نکال کر دیکھتی رہی۔  یہ مجھے پتہ چل گیا کہ تم ہو بڑی مالدار، موبائل فون ہے تمہارے پاس۔ میں نے اسے چھیڑا۔ لیکن یہ بتاءو، جب  تمہیں پڑھنا نہیں آتا تو تم کیسے موبائل کو چیک کرتی ہو۔ ہنسنے لگی۔
ہلکے پھلکے مذاق کے بعد میں نے گفتگو کو قائم رکھنے کو پوچھا ، تو تم لوگ تین بہنیں چار بھائ ہو۔ نہیں ہم چار بہنیں اور چار بھائ تھے۔ بڑی بہن  مر گئ۔
میں خاموش ہو گئ۔ اچھا کیسے مر گئ۔ وہ اسکی شادی ہو گئ تھی۔ وہ پھر خاموش ہو گئ۔ ہمم، بچے کی پیدائش کے سلسلے میں مر گئ۔ نہیں اسے میرے گھر والوں نے زہر دے دیا تھا۔ اس نے اتنے سادہ اورعام لہجے میں کہا زہردے دیا تھا، جیسے گھر میں کسی چوہے کے مرنے مارنے کا تذکرہ ہو،  میں دنگ رہ گئ۔ ایک سال پہلے وہ مری۔ اندازاً اٹھارہ انیس سال کی ہوگی۔
مگر تمہارے گھر والوں نے اسے زہر کیوں دیا؟  وہ اسے اپنا شوہر پسند نہیں تھا۔ اس نے کچھ سوچ کر کہا۔ کیوں؟ وہ اس سے بہت بڑا تھا۔ پہلے بھی اسکی دو شادیاں ہوئیں تھیں۔ وہ اسکی تیسری بیوی تھی۔
تمہیں کیسے پتہ گھر والوں نے اسے زہر دیا تھا؟ یہاں سب کو یہ بات پتہ ہے۔ وہ ہمارے گھر رہنے آئ ہوئ تھی۔ بس ایک دن مر گئ۔
غیرت بڑی چیز ہے جناب۔ اسکے آگے ایک اٹھارہ انیس سال کی لڑکی کیا اوقات ہے۔ اسی صوبے کے ممبرقومی اسمبلی نے ایک دفعہ کہا تھا کہ غیرت پہ قتل ہماری روایت ہے۔ اور اس بات سے ہم سب اچھی طرح واقف ہیں کہ خواتین کے سلسلے میں روایت توڑی نہیں جا سکتی اور جو جہاں ہے وہاں سے وہ حتی المقدور حصہ لیتا ہے۔ جو عملی طور سے نہیں کر پاتے وہ زبان سے کرتے ہیں۔
بلوچ بغاوت کرنا چاہتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ کس کے خلاف بغاوت کرنی چاہئیے اور یوں کچھ روحیں شب انتظار کے مختصر ہونے کے انتظار میں برزخ میں ہیں۔
میں نے بات بدلنے کو کہا۔ تم دونوں کی منگنی ہو گئ کیا۔ دونوں شرما گئیں، نہیں ابھی تو نہیں۔ اچھا یہ بتاءو تمہارے یہاں لڑکی کو کیسے پسند کرتے ہیں۔ نہیں، ہمارے یہاں پسند کی شادی نہیں ہوتی رخسانہ نے فوراً میری بات کاٹی۔ مجھے معلوم ہے تمہارے یہاں ایسے نہیں ہوتا۔ میں پسند کی شادی کا نہیں کہہ رہی یہ پوچھ رہی ہوں کہ ایک لڑکی کو لڑکے والدین جب دیکھتے ہیں تو وہ کس چیز کو پسند کرتے ہیں۔ شکل صورت، ابا کا کام یا اسکی پڑھائ۔ کیسے انہیں کوئ لڑکی پسند آتی ہے۔
طیبہ کی بڑی بہن نے پہلے سوچا اور پھر بڑے مدبرانہ انداز میں کہنے لگی۔ ہمارے یہاں اس لڑکی کو پسند کرتے ہیں جو عزت میں زیادہ ہو۔ کون عزت میں زیادہ ہوتی ہے؟  میں نے پھر سوال داغا۔ جواب، وہ جسے گھر کے سارے کام آتے ہوں، کڑھائ سلائ آتی ہو، جانوروں کو دیکھ لیتی ہو۔
اس پہ میں نے طیبہ سے کہا، طیبہ تمہارا کیا ہوگا۔ تمہاری شکل تو اچھی ہے لیکن عزت تو تمہاری بڑی بہن کی زیادہ ہے اسے سب کام آتے ہیں اور تمہیں صرف جھاڑو دینا آتی ہے۔ اسکی شادی تو ہو جائے گی تم کیا کروگی۔ میں نے اسکی طرف دیکھ کر سوالیہ انداز میں بھنوئیں اچکائیں۔ جواباً اس نے بھی اپنی بھنوئیں شرارت میں ہلائیں۔  ہاں میں کیا کرونگی، مجھے تو صرف جھاڑو دینا آتی ہے۔
جب چلنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئیں تو اصرار کیا کہ ہمارے گھر بھی ضرور آنا۔ چلتے چلتے، بڑے شوق سے کمرے کے درمیان لٹکے ہوئے جھولے کی طرف دیکھنے لگیں۔ بیٹھنا چاہو تو بیٹھ جاءو۔ ادھر محلّے کے اور بچے بھی اس جھولے میں بیٹھنے کے لئے آتے ہیں۔ مجھے بھی پسند ہے۔
ٹوٹ جائے گا؟ نہیں ٹوٹے گا۔ یہ لوہے کی زنجیر بڑی مضبوط ہے۔ میں نے زنجیر کو ہلایا۔  میں، مشعل اور اسکے ابّا تینوں ایک ساتھ اس جھولے پہ لیٹ جاتے ہیں نہیں ٹوٹتا۔ میں نے حوصلہ دینے کو کہا۔ نہیں، انہوں نے پھر سوچا اور انکار کر دیا شاید شرم مانع تھی۔  پھر کمرے کے دروازے سے باہر نکلتے نکلتے یک لخت طیبہ پلٹی اور آ کر جھولے پہ بیٹھ گئ۔ بچپن اتنی آسانی سے ہاتھ ہلا کراور دامن جھاڑ کر رخصت نہیں ہوتا اور بعض لوگوں  سے کبھی نہیں۔  
پتہ چلا کہ شافٹ یہاں صحیح نہیں ہو سکتی اور فیصلہ یہ کیا ہے کہ کراچی سے نئ لا کر لگائیں۔ اب ہمیں واپسی کا پروگرام سیٹ کرنا تھا۔ مکینک صبح کی بس سے واپس جا رہا تھا۔ گاڑی کے بغیر ہم بھی یہاں کچھ کرنے کے قابل نہیں۔ کراچی کی طرح یہاں ٹرانسپورٹ کی سہولت نہیں۔
رات کو کھانے کی میز پہ مکینک صاحب بھی موجود تھے۔ معلوم ہوا کہ گوادر میں لوگوں نے انہیں بلوچ ماننے سے انکار کردیا۔  کیسا بلوچ ہے، نہ شراب پیتا ہے، نہ  افیون چرس لیتا ہے نہ گٹکا کھاتا ہے ۔  چھالیہ بھی نہیں کھاتا۔ تو بلوچی نہیں ہو سکتا۔ مکینک شرماتا ہوا کہہ رہا تھا کہ ادھر کراچی میں بھی لوگ کہتا ہے کہ تم کیسے مکینک ہو کسی قسم کا نشہ نہیں کرتے۔
مجھے چین یاد آگیا۔ چین سے تجارت میں جیتنے کے جذبے میں انگریزوں نے چینیوں کو افیون کی لت لگائ۔ چین نے دو جنگیں لڑیں جو افیون کی جنگیں کہلاتی ہیں۔ ہانگ کانگ کے جزیرے سے ہاتھ دھونا پڑا۔ یوں ایک پوری صدی چین ذلت اور شرمندگی کے نشے میں دھت رہا۔ انیس سو گیارہ میں شہنشاہیت کے خاتمے کے ساتھ چین ری پبلک بنا۔ مزید سیاسی اصلاحات ہوئیں۔ ماءو زے تنگ کی سخت پالیسیز سامنے آئیں۔ اور افیون کے نشے میں دھت قوم  جاگی اور ایسی جاگی کہ آج بھی خاموشی سے دنیا کی عظیم قوم بننے سے لگی ہوئ ہے۔
جاری ہے

Wednesday, May 26, 2010

انکار یا فرار

گوگل سرچ انجن نے انیس سو چھیانوے میں کام کرنا شروع کیا۔ اس تحریر کو پڑھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس بات سے واقف ہوگی کہ اس سے پہلے معمولی سی بات کو جاننے کے لئے لائبریریوں کے چکر لگانے پڑتے تھے۔ اور اگر وہاں متعلقہ مواد موجود نہ ہو تو کسی بھی سنی سنائ بات سے آگے بات بڑھ نہ پاتی تھی۔ اس نئ ٹیکنیک نے دنیا میں معلومات کی ترسیل کا انداز ہی بدل دیا۔ اور آج دنیا کے کسی حصے میں کیا ہو رہا ہے اسکا علم صرف چند سیکنڈز میں ہمارے پاس ہوتا ہے۔ لیکن جس طرح سے یہ علم عام انسان کی فلاح کے لئےکام آرہا ہے وہاں شر پسند بھی اسکے مناسب استعمال کے طریقے ڈھونڈھتے رہتے ہیں یوں طبل جنگ اب  میدان جنگ میں نہیں بلکہ ایک ایسے مجازی میدان جنگ میں بھی ہو سکتا ہے جہاں ہمارا حریف دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے۔ اگر ہم اسکی سواری کے ماہر نہیں تو یہ ممکن ہے کہ ہم آگے بڑھنے سے پیشتر خود ہی ناکام ہو جائیں۔ اور نتیجے میں میدان بلا مقابلہ ہمارے حریف کے ہاتھ رہے۔
لیکن نہیں ایک صورت یہ بھی ہے کہ ہم اس ٹیکنیک کو استعمال کرنے سے انکار کر دیں اور نتیجے میں رضاکارانہ طور پہ یہ میدان اپنے حریف کے حوالے کر کے خود بغلیں بجائیں۔
ٹیکنالوجی کی  اس ترقی سے ملکوں کے سیاسی معاملات میں دوسری طاقتوں کے نفوذ و اثر کا امکان زیادہ بڑھ گیا۔ اور ایسا بھی ہوا کہ مختلف ممالک میں انکی دسترس پہ پابندی لگائ گئ۔ جیسے فیس بک پہ پابندی۔ اب تک پانچ ممالک اس پہ پابندی لگا چکے ہیں۔ ان میں چین، ایران، شام، ویتنام اور پاکستان شامل ہیں۔ پاکستان کے علاوہ باقی تمام ممالک نے مختلف اوقات میں اپنے اندرونی معاملات میں بیرونی عناصر کے اثر کو کم کرنے کے لئے یہ انتہائ قدم اٹھایا۔
  چین وہ واحد ملک ہے جہاں  سن دو ہزارنو میں لگائ جانیوالی فیس بک پہ پابندی آج بھی موجود ہے۔ چین کی آبادی اس وقت سوا ارب کے قریب ہے۔ اس پابندی سے چین میں ایک عام انٹر نیٹ صارف کے متائثر نہ ہونے کی وجوہات میں جو چیزیں اہم ہیں وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کی خود انحصاری ہے۔ وہ انٹر نیٹ کے سلسلے میں اپنا انفرا اسٹرکچر رکھتے ہیں۔ دوسری اہم وجہ چین میں چینی زبان کی ترویج ہے یوں بیرونی ذرائع جو کہ زیادہ تر انگریزی میں ہوتے ہیں وہاں زیادہ پذیرائ حاصل نہیں کر پائے۔ اس سب کے باوجود آزاد ذرائع کہتے ہیں کہ پروکسی سرور کے ذریعے فیس بک تک رسائ حاصل کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد چین میں اب بھی فیس بک سے مستفید ہو رہی ہے۔ اور یوں فیس بک کو اس سلسلے میں کوئ بہت زیادہ نقصان نہیں ہے۔

دنیا بھر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت انٹر نیٹ استعمال کر ہی ہے۔ اگر ہم اپنے ملک میں ہی دیکھیں تو اس وقت اسے استعمال کرنے والوں میں نوجوان ہی زیادہ شامل ہیں۔ یہ بھی ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے مختلف حصوں کو نوجوانوں نے ہی ترتیب دیا۔ یوں ثابت ہو گیا کہ ہر عہد اپنے نوجوانوں کا ہوتا ہے۔

مارک ایلیئٹ زکربرگ، نیویارک میں انیس سو چھیاسی میں پیدا ہوا۔ نسلاً یہودی اور مذہباً دہریہ ہے۔ فیس بک کے بانیوں میں سے ایک ہے۔ شاید اسی وجہ سے مسلمان فیس بک کو یہودیوں کی سازش قرار دیتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ہمارے مایہ ناز کرکٹر عمران خان نے ایک یہودی النسل خاتون کو  مسلمان کر کے شادی کی۔ اس طرح یہودیوں سے بننے والے تعلقات کے نتیجے میں انکے کینسر کے لئے قائم ہسپتال کو کافی ڈونیشنز ان ذرائع سے ملیں۔ لیکن اسے یہودیوں کی سازش نہیں سمجھا جاتا۔ اس وقت مارک کی ذاتی جائداد کی مالیت چار ارب امریکی ڈالر ہے۔ اسکے دیگر ساتھیوں میں شامل ہیں، ایڈوآرڈو سیورن ، ڈسٹن ماسکووٹس، کرس ہیوز، یہ سب لوگ اسّی کی دھائ میں پیدا ہونے نوجوان ہیں۔

انیس سو اٹھتر میں پیدا ہونے والا اسٹیون شی چن، آٹھ سال کی عمر میں تائیوان سے ہجرت کر کے امریکہ پہنچا۔ پےپل میں دوران ملازمت  اسکی ملاقات چیڈ ہرلے اور جاوید کریم سے ہوئ اور یوں سن  ۲۰۰۵ میں یو ٹیوب وجود میں آئ۔
چیڈ ہرلے، امریکہ میں انیس سو چھتّر میں پیدا ہوا۔ جاوید کریم، انیس انّاسی میں جرمنی میں پیدا ہوا۔ اسکے والد کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا جو جرمنی میں ایک تحقیقداں کے طور پہ کام کر رہا تھے۔ جبکہ اسکی ماں ایک جرمن سائینسداں تھی۔
جب یوٹیوب کو گوگل کے حوالے کیا گیا تو اسٹیون کو تین سو پچاس ملین امریکی ڈالر مالیت کے شیئرز ملے۔ چیڈ ہرلے کو تین سو چھبیس ملین امریکی ڈالر اور جاوید کریم کے حصے میں چونسٹھ ملین امریکی ڈالر کی مالیت کے شیئرز آئے۔

گوگل ویب بیسڈ سرچ انجن کی بنیاد دو پی ایچ ڈی کرنے والے اسٹوڈنٹس نے انیس سو چھیانوے میں رکھی۔ یہ انکا پی ایچ ڈی کا پروجیکٹ تھا۔ جسکا مقصد ایک یونیورسل ڈیجیٹل لائبریری کا قیام تھا۔ یہ دو طالب علم تھے لارنس اور سرجے۔ لارنس لیری پیج انیس سو تہتر میں امریکہ میں پیدا ہوا۔ اسکا ساتھی سرجے برن بھی انیس سو تہتر میں،  روس میں پیدا ہوا اور چھ سال کی عمر میں امریکہ ہجرت کر گیا۔ فوربس کے مطابق وہ دونوں اس وقت دنیا کے چوبیسویں امیرترین اشخاص ہیں۔ اور انکی ذاتی دولت کا شمار ساڑھے سترہ ارب امریکی ڈالر لگایا جاتا ہے۔ یہ دولت انکے پاس اپنے پروجیکٹ میں کامیاب ہونے کی صورت میں آئ جسکا نتیجہ آج ہم گوگل کی صورت دیکھتے ہیں۔
ان نوجوانوں نے نہ صرف  اپنی صلاحیتوں کو بہترین طور پہ استعمال کیا، دولت کمائ بلکہ آج کی دنیا میں انسانی ترقی اور تاریخ کا رخ اور رفتار موڑ دی۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہیں یہ قوت حاصل ہے کہ وہ آجکی دنیا پہ اثر انداز ہو سکیں۔
اب ہم اپنے یہاں ستر اور اسّی کی دھائ میں پیدا ہونے والے لوگوں کو دیکھتے ہیں ۔ کیا واقعی انہیں ان نوجوانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار کیا گیا۔ جنکا تذکرہ میں نے اس طویل تحریر میں کیا ہے۔ یہ جو موجودہ رویہ ہمیں اپنے نوجوانوں کا نظر آتا ہے۔ یہ کسی احساس محرومی کی وجہ سے ہے، احساس ذمہ داری سے بھاگنے کی وجہ سے ہے یا مقابلے کی فضا میں فرار حاصل کرنے کی وجہ سے ہے۔