بچی نے نہایت معصومیت اور تشویشناک لہجے میں اپنی ماں سے پوچھا۔ ' اماں، جب میں چلتی ہوں تو چاند میرے ساتھ چلنے لگتا ہے اورآسمان پر بادلوں کی پہاڑیاں میرے پیچھے بھاگنے کے لئے ایکدوسرے سے ٹکراتی ہیں اور جب میں تیز بھاگنے لگتی ہوں تو زمین کے سب درخت بھی میرے ساتھ بھاگتے ہیں۔ اماں کیا میں انکو بھی اتنی اچھی لگتی ہوں جتنی آپ کو۔
تو جناب، اس بچی کی طرح میں بھی اپنے گھر کے بالکل نزدیک ایک وسیع میدان میں سر شام باقی بچوں سے الگ تھلگ بادلوں، چاند اور سورج کی یہ محبت اکثر جانچتی رہتی۔ اور توقع کے مطابق یہ بالکل ایسے ہی نکلتیں تھیں۔ کچھ دنوں بعد مجھے یہ جان کر اورخوشی ہوئ کہ نانی کے گھر کے پاس جو چاند اوربادل ہیں وہ بھی مجھ سے کم محبت نہیں کرتے۔ میرا ددھیال سارے کا سارا انڈیا میں تھا اور کچھ سیاسی و معاشی بنیادوں پہ یہ امتحان وہاں نہیں کیا جا سکتا تھا۔ درختوں کے لئے کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ وہ میدان ایسے ہی لق و دق پڑا ہوا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے آبادی کے پھیلاءو نے اس میدان کو کھا لیا اور اب وہاں مکان، دوکانیں اور راستے بن گئے۔
ان سب امکانات کے وجود میں آنے کے بعد پتہ چلا کہ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔ اور یہ کہ ہر صبح سورج مجھے جگانے کے لئے نہیں اٹھتا بلکہ یہ اس کا اپنا لگا بندھا معمول ہے جس میں کچھ سائنسی اصول کارفرما ہوتے ہیں۔ چاند کی بڑھیا کا چاند سے کوئ تعلق نہیں دراصل جھوٹ تھا جو کچھ کہ سنا ، جو سنا افسانہ تھا، چاند میں سچ مچ نور کہاں چاند تو ایک ویرانہ ہے۔ یہ جھلملاتے ستارے تو دہکتی آگ کے گولے ہیں۔ اور یہ آسمان پرہر وقت شکلیں بدلتے بادل جو کوہ قاف کا منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ تو صرف پانی کے بخارات کا مجموعہ ہیں۔ اسی طرح کے تلخ حقائق نے رفتہ رفتہ ان جاں نثار دوستوں سے بھی محروم کردیا۔
انہی دنوں میں تتلیوں کے پیچھے محض یہ جاننے کے لئے بھاگا کرتے تھے کہ یہ شاخ شاخ سرگرداں کس کی جستجو میں ہیں، کونسے سفر میں ہیں۔ اسی اندھا دھند جاسوسی میں کئ دفعہ کیچڑ میں جا کر گرے مگر تتلیوں نے کھل کر نہ دیا۔ یہ راز بھی بعد میں کسی کتاب سے معلوم ہوا۔ میں نے انہیں پکڑنے کی کوشش کبھی نہِں کی کیونکہ میرا خیال تھا کہ پکڑنے سے انکے پر ٹوٹ جائیں گے۔ ویسے بھی کراچی میں تتلی نظر آنا بہت ہی نایاب واقعہ ہوا کرتا ہے اور آلودگی بڑھنے کے ساتھ اب تو شاید ہی کبھی نظر آتی ہیں۔
بہت سارے بچوں کے برعکس مجھے یہ امتیاز حاصل رہا کہ مجھے اپنی بہت چھوٹی عمر کے واقعات بھی خاصی صراحت کے ساتھ یاد ہیں۔ میری یاد داشت کی لوح پر جو پہلا نقش ہے وہ تقریباً ڈیڑھ سال کی عمر کا ہے۔ یہ چھوٹا اور معصوم سا قصہ جو میں آپ کو بتانے جا رہی ہوں اس وقت میری عمر تین سال دو مہینے کی تھی۔ میرا ایک بھائ جو مجھ سے تقریباًتین سال چھوٹا ہے اسوقت تین مہینے کا تھا کہ ایک دن محلے میں کچھ خاندانوں نے ملکر کراچی چڑیا گھر جانے کا پروگرام بنایا اور ایکدن سب چل پڑے۔
ہم جیسے ہی چڑیا گھر سے اندر داخل ہوئے، گیٹ کے قریب پہلے انکلوژر کے پاس جمع ہو گئے یہ کوئ باقاعدہ لوہے کی سلاخوں سے بنا انکلوژر نہ تھا بلکہ ایک چوڑی سی, تین چار فٹ اونچی دیوار اٹھی ہوئ تھی جس کے ساتھ ساتھ لوگ کھڑے ہوئے تھے۔ کیونکہ اس جانور کو سلاخوں کی ضرورت نہ تھی اسکے روکنے کے لئے یہی دیوار کافی تھِی۔ کسی نے شوق میں مجھے بھی کمر سے اٹھا کر انکا دیدار کرانے کی کوشش کی۔ لیکن گینڈے پر نظر پڑتے ہی میرے حواس گم ہو گئے۔ مجھے آج بھی وہ جذباتی صدماتی لمحہ اسی طرح یاد ہے۔ ایسی بھیانک، بے ڈھنگی اور عظیم الجثہ مخلوق کسی طرح بھی میرے تصور میں گھسنے کے لئے تیار نہ تھی۔ جبکہ میرے خیال میں وہ بلا روک ٹوک میری طرف بڑھی چلی آہی تھی۔
میں نے وہی بچوں اور خواتین کا کا آزمودہ ہتھیار استعمال کیا۔ اور دھاڑیں ما ر کر رونا شروع کیا سب نے مجھے اسوقت میری سمجھ کے مطابق جھوٹی تسلیاں دیں کہ وہ تو اس دیوار کے پیچھے بند ہے۔ پھرکافی دیر تک بہلاتے بھی رہے۔ سب سے پہلے مجھے گینڈا دکھانے کی سزا سب کو اس صورت ملی کہ پھر میں نے گود سے اتر کر نہ دیا۔ کیاپتہ میرے زمین پر پیر رکھتے ہی گینڈا اگر زمین پھاڑ کر نکل آئے تو۔ بچوں میں تخلیقی قوت اور طرح طرح کے تصور باندھنے کی کتنی زبردست صلاحیت ہوتی ہے۔
میں سوچتی ہوں ایسے ہی کسی واقعے سے گذر کر فلم ٹریمر کا مرکزی خیال اخذ کیا گیا ہو گا۔ کبھی کبھی لوٹ کر جب بچپن کے دامن میں پناہ لیتے ہیں تو جیسے ڈزنی لینڈ جانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہاں سے وہ توانائ ملتی ہے جو پوپائے دی سیلر کو پالک کھا کر ملا کرتی تھی۔یہیں سے سوچ کے وہ توانا اور نئے جذبے پھوٹتے ہیں جو انسان کے اندر جینے کی خواہش کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ ہماری زندگیوں کا یہ آب حیات صرف ایک خیال کی رو کے فاصلے پر ہوتا ہے۔ پھر بھی ہم اس سے محروم رہتے ہیں کیوں؟
![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)