آسٹریلیا پہلی دنیا سے تعلق رکھنے والا ملک ، پاکستان کے مقابلے میں تقریباً سات گنا زیادہ رقبہ رکھتا ہے۔ پاکستان کی آبادی اس وقت تقریباً سترہ کروڑ ہے اور آسٹریلیا کی آبادی تقریباً بائیس ملین یعنی دو کروڑ ہے۔ آسٹریلیا کی فی کس سالانہ آمدنی تقریباً انتالیس ہزار ڈالر بنتی ہے۔ اور پاکستان کی فی کس سالانہ آمدنی ایک ہزار ڈالر سالانہ بنتی ہے۔
اب آپ سوچیں گے کہ اس وقت مجھے آسٹریلیا کیوں مل گیا ہے پاکستان سے مقابلے کے لئے۔ اسکی دو وجوہات ہیں ایک تو میں ابھی کچھ ہی مہینے پہلے وہاں ایک قلیل مدتی قیام کے لئے موجود تھی۔ اس سے کچھ سال پہلے بھی میں وہاں ذرا زیادہ عرصے کے لئےرہ چکی ہوں اور اسکی دوسری بڑی وجہ لوڈ شیڈنگ سے نبٹنے کے لئے نئے حکومتی منصوبے کا اعلان ہے۔
ان دونوں میں ایک بات مشترک ہے۔ آسٹریلیا میں تمام صنعتی ادارے شام کو پانچ بجے بند ہو جاتے ہیں جس میں بازار بھی شامل ہیں۔ اور تمام کھانے پینے کی جگہیں شام کو سات بجے بند ہوجاتی ہیں۔ سوائے کچھ مخصوص جگہوں کے جن میں کھانے پینے کی کچھ جگہیں اور کچھ اور مثتنشیات شامل ہیں جو کہ رات کو دس بجے تک کھلی رہتی ہیں۔ شام کو سات بجے تمام سرگرمیاں ماند پڑ جاتی ہیں۔ بازاروں کے اس طرح سر شام بند ہونے سے وہ لوگ جو آفسز میں کام کرتے ہیں انہیں مسئلہ ہو سکتا ہے اسکے لئے ہفتے میں ایکدن ایسا ہےجسے شاپنگ نائٹ کہتے ہیں اس دن بازارزیادہ سے زیادہ نو بجے رات تک کھلے رہتے ہیں۔ تمام مارکیٹس صبح سات بجے کھل جاتی ہیں۔ اور یہ بالکل ممکن ہے کہ آپ اپنے بچے کو اسکول چھوڑتے ہوئے واپسی میں خریداری کرتے ہوئے آجائیں۔
ان دونوں میں ایک بات مشترک ہے۔ آسٹریلیا میں تمام صنعتی ادارے شام کو پانچ بجے بند ہو جاتے ہیں جس میں بازار بھی شامل ہیں۔ اور تمام کھانے پینے کی جگہیں شام کو سات بجے بند ہوجاتی ہیں۔ سوائے کچھ مخصوص جگہوں کے جن میں کھانے پینے کی کچھ جگہیں اور کچھ اور مثتنشیات شامل ہیں جو کہ رات کو دس بجے تک کھلی رہتی ہیں۔ شام کو سات بجے تمام سرگرمیاں ماند پڑ جاتی ہیں۔ بازاروں کے اس طرح سر شام بند ہونے سے وہ لوگ جو آفسز میں کام کرتے ہیں انہیں مسئلہ ہو سکتا ہے اسکے لئے ہفتے میں ایکدن ایسا ہےجسے شاپنگ نائٹ کہتے ہیں اس دن بازارزیادہ سے زیادہ نو بجے رات تک کھلے رہتے ہیں۔ تمام مارکیٹس صبح سات بجے کھل جاتی ہیں۔ اور یہ بالکل ممکن ہے کہ آپ اپنے بچے کو اسکول چھوڑتے ہوئے واپسی میں خریداری کرتے ہوئے آجائیں۔
کم و بیش یہی حال میں نے تھائ لینڈ میں دیکھا۔ تمام بازار سات بجے بند۔ شام ساڑھے چھ بجے سے شاپنگ مالز میں اعلان رخصت کی سیٹیاں بجنا شروع ہو جاتی ہیں۔ حتی کہ پہلے دن میرے ساتھیوں کے اس چیزکو سنجیدگی سے نہ لینے کی وجہ سے ہمیں تقریباً رات کو بھوکا رہنا پڑا،محض ڈبل روٹی سے کس کا بھلا ہوتا اور اتنی رات کو سوائے کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے جو ہماری جگہ سے خاصہ دور تھا کہیں سے حلال کھانا تو دور حرام بھی ملنے کا کوئ امکان نہ تھا۔ تمام مارکٹ صبح آٹھ بجے کھل جاتی ہیں۔
اب پاکستان آئیے، کراچی میں مارکیٹ دن کے ایک بجے کھلنا شروع ہوتی ہے جو رات کو گیارہ بارہ بجے تک بند ہوتی ہے۔ گویا عملی طور پہ دن آدھے دن کے بعد شروع ہوتا ہے کہ کاروباری طبقہ اس وقت سو کر اٹھتا ہے۔ پھر رات کے بارے میں کہہ دیا جاتا ہے کہ رات تو اپنی ہوتی ہے۔
اب سے چند مہینے پہلے، جب تک شادی کے اوقات کی پابندی مقرر نہ ہوئ تھی۔ عالم یہ تھا کہ خواتین دس بجے رات کو درزی کے پاس کھڑی کپڑوں کا انتظار کرتی تھیں کہ یہ کپڑے پہن کر تیار ہو کر انہیں بارہ بجے کسی شادی میں پہنچنا ہوتا تھا اور اس شادی کا کھانا رات کو دو بجے کھایا جاتا تھا۔اور اس شادی کی تقریب کا اختتام صبح چار بجے ہوتا تھا۔
ترقی یافتہ ممالک تو اپنی بجلی بچانے کے اتنے سخت قوانین بنا کر ان پہ عمل کر ہے ہیں۔ لیکن ہم جیسے غریب ممالک میں کیا ہوتا ہے۔ پاکستانی حکومت کے اس اعلان کے بعد کے کاروبار رات کو آٹھ بجے بند کر دیا جائے تاجروں نے اسکی عدم تعمیل کا اعلان کیا ہے۔ ایک طرف ہم بجلی کی کمی کا رونا رو رہے ہیں ہمارے کارخانوں میں، ہسپتالوں میں، اسکولوں میں بجلی نہیں ہے۔ اور دوسری طرف ہم بطور حکمران یا بطور عوام اپنی کاہلی، نکمے پن اور عیاشی سے بھی نجات نہیں پانا چاہتے ہیں۔ کون لوگ ہو تسی؟
![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)