Showing posts with label سائینس. Show all posts
Showing posts with label سائینس. Show all posts

Tuesday, August 21, 2012

دلیل کے دشمن

انہیں اور ہیں کون  بہکانے والے
یہی آنے والے، یہی جانے والے
 لیکن بات جب اندیشے کی حد سے نکلتی ہے تو جادو کی حدوں میں داخل ہوجاتی ہے شاید اسی لئے کہتے ہیں جادو وہ جو سر چڑھ کے بولے۔ یعنی جادو جب بولتا ہے تو دنیا میں کچھ بھی باقی رہے اگلے کا سر باقی نہیں رہتا۔ جی ، میرا شارہ عقل ہی کی طرف ہے۔ ایک شخص جسے گمان ہو گیا ہو کہ اس پہ جادو کیا گیا ہے۔ اس کو کوئ بھی عقل کی بات سمجھاوی جاوے ہرگز اسکی عقل میں سما نہ پاوے۔
لوگ کہتے ہیں جادو برحق ہے اسکا نہ ماننے والا کافر ہے۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ اس قول کی ترویج کرنے والا یقیناً جادو کا توڑ جانتا ہے جبھی اپنے قول میں اتنا اٹل ہے۔
علم کی کمی سے اس کا تعلق نہیں۔  اچھے اچھے با شعور لوگ اس مرض میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ اس لئے نہ صرف یہ کہ جادو کا توڑ کرنے والوں کا کاروبار خوب پھل پھول رہا ہے بلکہ اب تو مختلف چینلز پہ بھی اسکے اثرات دور کرنے کے طریقے بتاءے جاتے ہیں۔
لیکن جب اخبار کے ایڈِٹوریل صفحے پہ ایسے مضامین ملیں جیسا کہ ابھی دو ہفتے پہلے کے ایکسپریس اخبار میں ایک ایڈوکیٹ اعوان صاحب کا مضمون تھا تو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔  شاید وہ عاملوں وغیرہ کی برائ میں لکھنا چاہ رہے تھے لیکن اس سے پہلے انہوں نے، انہی پرانے فرسودہ خیالات کی تصدیق میں لکھا جو کہ جنات کے لئے رائج ہیں۔ یعنی جنات ہوتے ہیں وہ گھوڑے کی لید، گوبر یا ہڈی وغیرہ کھاتے ہیں۔ وہ مسلمان بھی ہوتے ہیں تو ہندو بھی۔ انکا بھی یوم حساب ہوگا ، مسلمان جن چھتوں پہ رہتے ہیں اور غیر مسلم جنات سنسان مقامات پہ۔ ان سب حقائق پہ آمنا و صدقنا کہنے کے بعد انہوں نے جب عاملوں اور تعویذ کرنے والوں کو برا بھلا کہنا شروع کیا تو یہ بات ایک دم مذاق لگی۔
جب ایک شخص جادو اور جنات پہ یقین رکھتا ہے تو اسی کے بعد اس پہ یہ نوبت بھی آتی ہے کہ وہ ان عاملوں سے جو جنات پہ قابو پا لینے کا ہنر جانتے ہیں اور جادو کا توڑ کرتے ہیں، ان کی خدمات کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
رسول اللہ نے جادو کا توڑ بتایا اور وہ ہے معوذتین سورتیں۔ ایک آسان  اور سادہ سا حل۔ یہ ذہن میں رکھنا چاہئیے کہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے جب یہ جادو کا مرض بالکل عام تھا۔ معاشرے کو اس وباء سے نکالنے کے لئے یہ حل نفسیاتی لحاظ سے چنا گیا ہوگا۔ لیکن جیسا کہ ہم عملی سطح پہ دیکھتے ہیں کہ جو دماغ جادو کو بر حق جانتا ہے اسکی تسلی اس باب میں محض ان سورتوں سے نہیں ہوتی۔  وہ کسی پہنچے ہوئے عامل کی تلاش میں رہتا ہے۔ جادو جیسی اسرارکے رس  سے بھری چیز کی  کسی غیر اسراری عمل سے کیسے تسلی ہو سکتی ہے۔ حالانکہ یہ اسرار بھی کم نہیں کہ کیسے چند الفاظ کے بولنےسے جادو ٹوٹ جاتا ہے لیکن جب تک الو کا خون، بکرے کے شانے کی ہڈی، قبر کی مٹی، آدھی رات کا سناٹا، سیہ کا کانٹا، کالے رنگ کا کپڑا اور اس قماش کی دیگر اشیاء شامل نہ ہوں سچ پوچھیں تو اسرار کا اصرار بڑھے جاتا ہے۔
جادو کی کہانی بہت پرانی ہے۔  جب انسان نے پہلے پہل اپنے ماحول میں دلچسپی لینا شروع کیا۔ اس نے بولنا سیکھا، اس نے اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانا سیکھا تو اس نے اپنے طور پہ یہ فرض کیا کہ اسکے اردگرد کے ماحول کو غیر مرئ طاقتیں کنٹرول کرتی ہیں۔ کیونکہ اسے کوئ بارش برساتا نظر نہیں آتا۔ اسے معلوم نہیں ہوا کہ زلزلے کیسے آتے ہیں۔ وہ نہیں جانتا کہ کیسے شکار کی فراوانی ہوتی ہے اور کیسے قحط آجاتے ہے۔ 
چونکہ وہ سوچ سکتا تھا  اس لئے اس نے جانا کہ ان طاقتوں کی توجہ کا مرکز وہ خود یعنی انسان ہے۔  اس نے یہ بھی فرض کیا کہ اسکے مصائب اور اسکی خوشیاں سب انہی کے مرہون منت ہیں وہ بارش بھی لاتے ہیں اور طوفان بھی۔ اس نے یہ بھی فرض کیا کہ جب یہ طاقتیں اس سے خوش ہوتی ہیں توکھانے کو اچھا ملتا ہے، زندگی سہولتوں سے بھرپور رہتی ہے، شکار ملتا ہے ، بہتر پناہ ملتی ہے   اور جب ناراض ہوتی ہیں تو بادل گرجتے ہیں، سیلاب آتے ہیں ، زلزلے آتے ہیں، آندھیاں چلتی ہیں، بیماریاں آتی ہیں، کھانے کو نہیں ملتا۔
یہاں پہنچ کر اس نے یہ بھی فرض کیا کہ اگر وہ چاہے تو ان طاقتوں کو اپنے قابو میں لا سکتا ہے تب وہ اس کے فائدے کے کام کریں گی اور اسکے نقصان میں جانے والے کام نہیں ہونگے۔ ان ماورائ طاقتوں کو قابو میں لانے کی سوچ نے جادو کو جنم دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی سوچ نے دوسری طرف سائینس کو بھی جنم دیا۔  جادو اور سائینس دو جڑواں لیکن متضاد خیالات کے ساتھ وجود میں آئے۔ لیکن سائینس نے اپنی بنیاد دلیل پہ رکھی, کسی ماورائ طاقت سے الگ دلیل جو قدرتی قوانین کو ایک دوسرے سے جوڑے۔ یعنی اگر ہم کسی عمل کے ہونے کے طریقے کو جان لیں تو اس پہ قابو پا سکتے ہیں۔ اگر ہم جان لیں سیلاب اور قحط کیسے آتے ہیں تو ہم ان پہ قابو پا لیں گے۔ اگر ہم جان لیں کہ ہم بیمار کیوں ہوتے ہیں تو بیماری پہ قابو پا لیں گے۔
دلیل کے ساتھ چلنے میں ایک بظاہر نقصان اسرار کے ٹوٹ جانے کا ہوتا ہے۔ اسرار، جو ہم پہ حکومت کرتا ہے اور جب یہ ٹوٹ جاتا ہے تو ہم اس پہ حکومت کرتے ہیں۔ اس مرحلے پہ پہنچ کر کیا آپکو یہ نہیں لگتا کہ ہم میں سے کچھ لوگ اسرار کے غلام بنے رہنے میں لذت پاتے ہیں اور کچھ لوگ اسرار کو محمود غزنوی کی طرح ڈھا دینے میں۔
آئیے ایک ویڈیو دیکھتے ہیں۔ دلیل کے دشمن۔


 

Friday, August 3, 2012

سائینس کا بحران

پاکستان میں کوئ سیاسی یا معاشرتی انقلاب آئے یا نہ آئے، سائینسی انقلاب دستک دے چکا ہے۔  ایک کے بعد ایک نوجوان سائینسداں اور انکی ایجادیں ایسے سامنے آرہی ہیں جیسے  بغیر دانت والے منہ سے پان کی پیک نکلتی ہے۔ ایک ایجاد  ابھی ابھی سامنے آئ ہے۔ ملاحظہ کریں۔ 
   اس حیرت ناک ایجاد کے ساتھ ہی ایک اور نوجوان سائینسدان کے خیالات سننے کو ملے۔ جسے ہمارے ایک فیس بک کے ساتھی  نے شیئر کیا۔ جس سے ہم بیک وقت رنجیدہ بھی ہوتے ہیں اور تفریح بھی لیتے ہیں۔ اگر مذہب میں عامر لیاقت ایک نئ علامت ہیں تو سائینس میں بھی عامر لیاقتوں کی کمی نہیں ہے۔  دل کو ایک اندیشہ سا لگا ہوا ہے کہ ہو نا ہو یہ وینا ملک کو استغفار سے روکنے کا نتیجہ ہے کہ سائینس کا دجال ہمارے یہاں نازل ہو گیا۔ آئیے یہ ویڈیوز باری باری دیکھتے ہیں۔
پہلی ویڈیو میں ہمارے بوٹنسٹ بارش لانے کا ایک نسخہ بتا رہے ہیں اور اینکر خاتون اس بات کی تصدیق کر رہی ہیں کہ بادل آجانے کے بعد اگر خواتین گھروں میں جھاڑو پھیریں تو بارش برس کر رہتی ہے۔ تو سنئیے کہ بارش کس طرح جھاڑو دینے سےلائ جا سکتی ہے۔


ہمارے نوجوان بوٹنسٹ یہیں پہ بس نہیں کرتے بلکہ اپنے تفکر پہ نیوٹن کے کشش ثقل کے قانون کو بھی نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔ ہیں جناب، یہ بھی کوئ سمجھ میں آنے والی بات ہوئ کہ  ایک ہزار کلو گرام کا جسم اور ایک کلوگرام کا جسم ایک ہی رفتار سے زمین پہ گرے۔ نیوٹن کے اس قانون کو اب تک کیسے لوگ صحیح تسلیم کرتے آرہے ہیں؟ آئینسٹائین نے ایسوں کے لئےکہا تھا کہ
“A clever person solves a problem. A wise person avoids it.”
ایک چالاک شخص ایک مسئلے کو حل کرتا ہے لیکن عقل مند اس سے دور رہنا پسند کرتا ہے۔



جس طرح سلاد کی سیزننگ چاہئیے ہوتی ہے اس طرح ہمارے یہاں اب کوئ بھی چیز مذہب کی سیزننگ کے بغیر نہیں ہو سکتی اسکا نمونہ ہمارے یہی بوٹنسٹ پیش کرتے ہیں اور اپنے خیالات میں برکت کے لئے آخیر میں ایک مذہبی تائثر بھی جمع کرتے ہیں۔


 
اہم سوال یہ ہے کہ اب اس وقت جبکہ بجلی کا بحران اپنے عروج پہ ہے۔ پاکستانیوں کی توجہ سائینس کی طرف کیوں مبذول ہو گئ ہے؟ سائینس کا بحران پیدا کیا گیا ہے یا یہ مکافات عمل ہے ؟ سائینس نے انتقام لیا ہے؟
یا کیا انہوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ سائینس ہی انکے مسائل کو حل کر سکتی ہے۔ شاید وہ آئیسٹائین کے ایک اور مقولے پہ عمل کرنا چاہتے ہیں جس میں اس نے کہا کہ اگر آپ اپنے بچوں کو ذہین بنانا چاہتے ہیں تو انہیں پریوں کی کہانیاں سنائیں اور اگر اور زیادہ بنانا چاہتے ہیں تو اور زیادہ کہانیاں سنائیں۔
“If you want your children to be intelligent, read them fairy tales. If you want them to be more intelligent, read them more fairy tales.
اور سائینس انکے لئے پریوں کی کہانیوں سے کم نہیں۔ ایک تضادات سے بھرپور تعلیمی نظام رکھنے کے بعد تو سائینس پریوں ہی کی کہانی لگتی ہے۔ جس میں پری ہاتھ میں جادو کی چھڑی لئے ہوتی اور خبیث جادوگرنی جھاڑو پہ گھومتی پھرتی ہے۔ یہ جھاڑو آج نجانے کیوں بار بار ذکر میں داخل ہو رہی ہے۔ شاید جھاڑو واقعی بارش کا شگن ہو۔ یہاں تو سائینسداں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو شاید قحط سالی کا سامنا کرنا پڑے۔
کچھ لوگوں کے خیال میں عوامی سطح پہ اس قدر زیادہ محرومی کا احساس بڑھ چکا ہے کہ لوگ ہر اس تماشہ دکھانے والے کے گرد جمع ہو جاتے ہیں جس سے انہیں ذرا بھی توقع ہوتی ہے کہ وہ انکا مسیحا بن سکتا ہے۔ یہ بھی ایک عبرت کا مقام ہے کہ ہم ہر تماشہ دکھانے والے کو پذیرائ دینے کو تیار ہیں۔ یعنی
تیرے انتظار میں کس کس سے پیار میں نے کیا
پانی سے چلنے والی کار کے قصے میں آغا وقار ہی کا نام نہیں آتا بلکہ عبدالقدیر خان صاحب بھی میڈیا میں کچھ زیادہ مثبت انداز سے سامنے نہیں آ سکے۔ ایک متوقع مسیحا نے دوسرے تسلیم شدہ مسیحا کو ٹھکانے لگانے کا بند و بست کر ڈالا۔
 عبد القدیر خان صاحب کا نام اگر چہ کہ سدرۃ المنتہی کا درجہ رکھتا ہے جس سے آگے جانے کی جراءت پرویز مشرف نے ہی کی۔ لیکن اب ان کا سحر بھی ٹوٹتا دکھائ دیتا ہے۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تھا۔ اس وقت خان صاحب کا نام پیچھے ڈال کر ڈاکٹر ثمر مبارک کا نام اخبارات کی زینت بن گیا تھا۔ نواز شریف نے ڈاکٹر ثمر مبارک کو مبارک باد دی۔ نوے کی دہائ میں جب ایسا ہوا تو کراچی کے عوام کی اکثریت نے اسے نواز شریف کی کراچی سے تعلق رکھنے والے اس سائینسدان سے لسانی عصبیت کو وجہ جانا۔
اس وقت کچھ دوستوں نے دبے لفظوں میں کہا کہ دراصل خان صاحب اتنے نیک نہیں جتنے جانے جاتے ہیں اور نہ ہی اتنے بڑے سائینسداں۔ جو لوگ انکے قریب رہتے ہیں وہ انکی شخصی سطحیت کے واقعات سناتے ہیں۔ لیکن اسے انکے خلاف بنی جانے والی سازشوں کا جال سمجھا گیا۔
پھر اسکے کافی عرصے بعد مجھے ایک بلاگ کا لنک ملا۔ جس میں اے کیو خان پہ خاصہ عجیب الزام لگایا گیا تھا۔ سالوں پہلے بھیجے گئے اس لنک کو مجھے تلاش کرنا پڑا۔ اس وقت تو میں نے اسے ہونہہ کہہ کر ایک طرف ڈال دیا تھا۔ یہ ہے اسکا لنک۔ ان لوگوں کے لئے جن کے لئے ڈاکٹر عبد القدیر خان ایک انسپیریشن کی حیثیئت رکھتے ہیں۔ ان سے بے حد معذرت۔
 خیر آئیسٹائین ایک اور مزے کی بات کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دنیا جیسی ہم بناتے ہیں ہمارے تخیل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اسے اپنے خیالات کو تبدیل کئے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔  
The world as we have created it is a process of our thinking. It cannot be changed without changing our thinking.”
میں سوچ رہی تھی کہ اگر ہم یہ سوچ لیں کہ ہمیں تبدیل ہونا ہے، ہمیں اپنی دنیا تبدیل کرنی ہے تو ہم تبدیلی کا آغاز کس نکتے سے کریں گے؟

Wednesday, August 1, 2012

ہود بھائ کی سازش

کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔  لیکن ضرورت کی مجبوری دماغی خلل  بھی پیدا کرتی ہے۔ اس سے ایجاد میں  شوخی ء تمنا  ہوتی ہے اور اگر مناسب تعداد میں ہم نوا مل جائیں تو دھمال ڈالنے کا لطف سوا ہوتا ہے۔ میرے جیسے مجبور بھی سر اٹھا کر دیکھنے لگتے ہیں کہ ایجاد کی ماں اب کیا جنم دیں گی۔ فی الحال تو ہفتہ بھر سے زائد ہو گیا اور ایک دفعہ پھر ٹاک شوز کو رواں رکھنے کے لئے ایک کے بعد ایک ڈرامہ ہونے کے علاوہ لیبر روم سے کچھ بر آمد نہیں ہو رہا۔ ایک دفعہ پھر میڈیا اینکرز بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لئے کھڑے ہیں اور ایک دفعہ پھر کچھ بڑے لوگوں کو آمنے سامنے پہنچا دیا گیا ہے۔ مثلاً ڈاکٹر عبد القدیر اور پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن۔
 سواس دفعہ لپیٹے میں ہمارے ایٹمی سائینسداں بھی نہ بچ سکے ۔  لگتا ہے ان سب کو پرویز ہود بھائ کی بد دعا لگی ہے۔ یوں مجھے شبہ ہے کہ آغا قادر نامی ڈپلومہ انجینیئر کو شہہ دینے والے حامد میر یا عبد القدیر خان نہیں بلکہ پرویز ہود بھائ ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ آغا قادر کی اس متوقع نوبل ایجاد پہ سب سے پہلے انہی کا اعتراض میں نے پڑھا۔ انہوں نے یہ ٹریپ تیار کیا ہے۔ ملک کے سائینسدانوں  کو لنگڑی دینے کا۔ خیر یہ کانسپیرینسی تھیوری ایک مذاق ہے۔ شوخی ایجاد تمنا کا کانسپیرینسی تھیوری سے بڑا گہرا تعلق ہے۔
اس ایجاد کی خبر سامنے آتے ہی  فخر و انبساط کے نعرے اٹھے۔ نعروں کی اس گونج میں جس نے بھی اپنی آواز بلند کی منہ کی کھائ۔ لوگوں کو اس پہ ہی ملک دشمن عنصر ہونے کا شبہ اٹھا۔ جہاں لکچھ لوگ بگڑ بیٹھے کہ یہ کیا پاکستانی کوئ بھی کارنامہ انجام دیں لوگ اس میں کیڑے نکالنے لگ جاتے ہیں دوسری طرف فزکس کے قوانین کی بقاء کی جنگ لڑنے والے اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ تو تھرمو ڈائنامکس کے پہلے قانون سے متصادم ہے۔ حامیوں نے یہ نہیں کہا کہ تو کیا ہوا آئینسٹائین کے قوانین نیوٹن کے قوانین سے متصادم تھے۔   فزکس کا یہ قانون فزکس کے لئے صحیح ہوگا۔ ہم میٹا فزکس پہ ، فزکس سے زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ مجھے تو درحقیقت یہ جاننے میں دلچسپی ہے کہ انہوں نے کس کے دئیے ہوئے وظیفے سے چمتکار کر دکھایا۔ 

دنیا میں پانی سے کار چلانے کا یہ پہلا دعوی نہیں۔ پہلے جتنے مدعی گذرے ان میں سے زیادہ تر لوگ فراڈ نکلے۔ مغرب میں فراڈ نکلنے پہ کسی کو قومیت کا جذباتی دھچکا نہیں لگتا۔ اس لئے فراڈ کی نشاندہی کرنا کار ثواب کی جگہ کار علم ٹہرتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا فراڈ پاکستان میں ہونا مشکل ہے۔ اس لئے ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے البتہ یہ کہ معصوم لوگوں کی ہمارے یہاں کمی نہیں۔ جیسے ایک معصوم حامد میر ہیں جنہوں نے پچھلے تمام مدعیوں کو فراڈ کہنے کے بجائے اپنے انٹرویو میں انکے خلاف سازشوں کا ماحول تیار کرنے کو ترجیح دی۔
 اب تک اس سلسلے میں جو سائینس بیان کی گئ ہے اس میں پانی کوبجلی سے توڑ کر ہائڈروجن گیس تیار کی جاتی ہے۔ یہ عمل الیکٹرولیسس یا برق پاشیدگی کہلاتا ہے۔ پانی کی اس تحلیل سے ہائڈروجن گیس اور آکسیجن  گیس کاآمیزہ پیدا ہوتا ہے جو آکسی ہائڈروجن کہلاتا ہے۔ جسے براءون گیس یا ایچ ایچ او بھی کہتے ہیں۔
 آغا وقار صاحب کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا نظام بنا لیا ہے جس میں نہ صرف پانی ٹوٹ کر ہائڈروجن اور آکسیجن گیسز بنائے گا بلکہ یہ دونوں گیسز توانائ پیدا کرنے کے عمل سے گذر کر دوبارہ پانی میں تبدیل ہوجائیں گی۔  یہاں یہ یہ نکتہ قابل غور ہے کہ پانی ٹوٹتے وقت جتنی توانائ لیتا ہے اتنی ہی توانائ پانی کو ان گیسز کو ملا کر بنانے کے لئے چاہئیے ہوتی یعنی مجموعی تعامل اس طرح ہوگا۔

 
 پانی کے مالیکیول کو بنیادی اجزاء میں توڑنے کے لئے جو توانائ درکار ہوگی وہ الگ ہے جو کہ آغا وقار کی ایجاد میں بیٹری سے حاصل کی جارہی ہے اور بقول انکے بیٹری کی توانائ جنریٹر سے حاصل ہوگی ابتداء میں بعد میں جب کیمیائ تعامل چل پڑے گا تو نہیں چاہئیے ہوگی۔ واضح رہے  کہ پیٹرولیئم مرکبات کی صورت میں زنجیری تعامل چلتا ہے اور توانائ کی زیادہ مقدار تعامل کی ابتداء میں چاہئیے ہوتی ہے جب ایک دفہ تعامل چل پڑتا ہے تو وہ زنجیر کی شکل جاری رہتا ہے۔
چونکہ پانی توڑنے کے لئے توانائ بیٹری سے حاصل کی جارہی ہے اس لئے سامنے جو نظر آرہا ہے وہ یہ کہ گاڑی ایک ان ڈائریکٹ ذریعےسے  دراصل بیٹری کی بجلی سے چل رہی نہ کہ پانی سے۔
لیکن آغا وقار اسے سامنے کی بات قرار نہیں دیتے بلکہ انکا دعوی ہے کہ اس میں ایک راز ہے جو وہ اگر کھول دیں تو پھر پروڈکٹ انکے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ 
 یہاں فیئول سیلز ہوتے ہیں جن میں ہائڈروجن استعمال کی جاتی ہے۔ یہ فیئول سیلز گاڑیوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ ہائڈروجن حاصل کرنے کا کمرشل ذریعہ عام طور سے قدرتی گیس یا پیٹرول مرکبات ہوتے ہیں۔ انہیں توڑ کر ہائڈروجن حاصل کی جاتی ہے۔ اس طرح فیئول سیلز کا بنیادی فائدہ کم آلودہ فضا نظر آتی ہے۔ کیونکہ ہائدروجن جلنے سے کاربن کے آکسائیڈز پیدا نہیں ہوتے جوکہ فضائ آلودگی کا بنیادی سبب ہوتے ہیں۔ فیئول سیلز پہ چلنے والی گاڑیوں کے انجن میں تبدیلی لانی پڑتی ہے۔ پانی کو سورج کی شعاعوں کی مدد سے بھی توڑآ جا سکتا ہے اس سلسلے میں تجربات جاری ہیں ۔ سمندری پودے یہ کام انجام دیتے ہیں لیکن کمرشل سطح پہ اس وقت کوئ سستا طریقہ موجود نہیں۔
آغا وقار صاحب کا ایک انٹرویو اور حامد میر صاحب کے ساتھ انکی سیر دیکھی، پانی سے چلانے کے لئے اس گاڑی کو کرائے پہ حاصل کیا گیا۔ نہ حامد میر صاحب نے اپنی گاڑی پیش کی نہ ان صاحب نے اپنی گاڑی استعمال کی نہ ہی انکے کسی دوست یا قائل شخص نے انہیں اپنی گاڑی دی۔ انٹرویو میں وہ بے دھڑک ایک کے بعد ایک پیچیدہ سائینسی اصطلاحات استعمال کرتے رہے جن سے عام لوگ واقف نہیں۔ یعنی ایک مبصر کا یہ کہنا درست معلوم ہوتا ہے کہ بس نیوکلیئر فیوژن کی اصطلاح باقی بچ گئ۔ ڈپلومہ ہولڈر انجینیئر آغا وقار اپنی 'ایجاد؛ کے بارے میں اتنے زیادہ پر اعتماد ہیں کہ انہوں نے ہمارے محترم استاد پروفیسر ڈاکٹر عطاالرحمن کا بھی ٹیسٹ لے ڈالا۔ 'کیا آپکو معلوم ہے کہ ہائڈروجن گیس کہاں سے آتی ہے؟ مجھے معلوم ہے کہ استاد محترم کا حس مزاح بڑا اچھا ہے اور وہ یقیناً اس سے محظوظ ہوئے ہونگے۔
انٹرویو کے دوران مسلسل زور اس بات پہ رہا کہ حکومت اس سلسلے میں فنڈنگ کرے۔ بقول آغا وقار ، وہ اس پراجیکٹ پہ سوا کروڑ روپے خرچ کر چکے ہیں۔ میرا تو خیال ہے کہ انہیں اسکی تشہیر سے پہلے کم از کم دو گاڑیوں کو مستقل پانی پہ کر دینا چاہئیے۔ سوا کروڑ روپے خرچ کرنے والے شخص کے لئے دو سیکنڈ ہینڈ گاڑیاں ایک ، ڈیڑھ لاکھ کی خریدنا مشکل نہیں۔
وہ لوگ جو ان کی اس 'ایجاد' کے قائل ہو چکے ہیں کم ازکم انہیں تو اپنی گاڑیاں پانی  پہ کر دینی چاہئیں۔ خاص طور پہ حامد میر صاحب۔ وہ کم از کم اپنی گاڑی کے لئے تو فنڈنگ کر ہی سکتے ہیں۔ تاکہ لوگ اس کے قائل ہو کر اسے خریدنا شروع کریں اسکے بعد ہی کمرشل سطح پہ اسکی پیداوار کا سوال اٹھتا ہے۔


  میرا تو آغا وقار سے اس سارے موضوع سے ہٹ کر ایک معصوم سا سوال ہے کہ انکے بقول ڈسٹلڈ واٹر کی بوتل تو دس روپے کی مل جائے گی یہ کم بخت پینے کے پانی کی بوتل اتنی مہنگی کیوں ملتی ہے؟
خیال یہ آرہا ہے کہ اس سے آگے کیا ہوگا؟ کیا آغا وقار میڈیا سے باہر کچھ ثابت کر پائیں گے۔ اگر وہ ثابت نہ کر پائے تو ڈاکٹر عبد القدیر خان جیسے پائے کے سائینسدانوں کا کیا ہوگا۔ پی سی آئ آر کے چیئرمین کس گنتی میں گنے جائیں گے؟ ہود بھائ کی مسکراتی تصویر میں انکی مسکراہٹ کتنی بڑھ جائے گی؟ کیا پروفیسر ڈاکٹر عطاالرحمن ، آغا وقار کو یاد رکھیں گے؟
اور عام لوگ ، کیا عام لوگ تھرمو ڈائنامکس کا پہلا قانون، قانون بقائے توانائ بھول پائیں گے۔ توانائ نہ پیدا کی جا سکتی ہے نہ فنا کی جا سکتی ہے یہ بس ایک شکل سے دوسری شکل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

Wednesday, June 13, 2012

اعلی میں گھٹالا


یہ واقعہ مشہورطبیعیات داں نیلز بوہر سے منسلک کیا جاتا ہے۔ نیلز بوہر پچھلی صدی کے عظیم سائینسدانوں میں سے ایک تھا۔ اپنی سائینسی خدمات کے سلسلے میں انہیں فزکس کے میدان میں نوبل پرائز بھی ملا۔ قسمت کا ایسا دھنی نکلا کہ اسکے چھ بیٹوں میں سے ایک کو نوبل پرائز ملا۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ اس کے بیٹے کے نوبل پرائز کا اسکی قسمت سے کیا تعلق۔ مجھے بھی نہیں معلوم، میں نے تو اپنے معاشرتی چلن میں یہ لکھا ہے۔
قصہ خواں کہتے ہیں کہ  فزکس کا پرچہ تھا اور ممتحن نے سوال پوچھا کہ ایک بیرو میٹر کی مدد سے کیسے ایک بلند عمارت کی اونچائ ناپی جا سکتی ہے۔ ممتحن نے جس جواب کے لئے سوال پوچھا تھا، وہ یہ تھا کہ بیرو میٹر سے زمین کی سطح پہ دباوء معلوم کیا جائے پھر اس عمارت کی چھت پہ دباءو معلوم کیا جائے اور ان دونوں کے فرق کو ایک فارمولے میں رکھ کر عمارت کی بلندی پتہ چلا لی جائے۔
شاید نیلز بوہر نے اس مہم پسند طالب علم کی طرح سوچا جو اپنی مہم جوئ کا شوق اپنے استاد پہ نکالتا ہے، کیوں نہ ممتحن کو تپایا جائے اور جواب لکھ مارا کہ ایک رسی لے کر اس میں بیرو میٹر باندھ لیا جائے۔ عمارت کی چھت سے اس بیرو میٹر کا زمین تک چھوڑا جائے زمین کی سطح سے چھت تک اس رسی کی لمبائ ناپ لی جائے اور اس میں بیرومیٹر کی اونچائ شامل کر لی جائے۔
ممتحن اتنا بھنایا کہ طالب علم کو فیل کر دیا۔  طالب علم نے احتجاج کیا کہ یہ اسکے ساتھ زیادتی ہے۔ کسی غیر جانب دار شخص سے اسکی تحقیقات کرائ جائے۔ ایک  کمیٹی معاملے کی تحقیقات کے لئے بیٹھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جواب تو درست ہے لیکن اس میں فزکس کہیں نہیں ہے۔ لہذا طالب علم کو ایک موقع اور دیا جائے تاکہ وہ فزکس میں اپنی مہارت ثابت کر سکے۔
 طالب علم سے کہا گیا کہ اسکے پاس چھ منٹ ہیں۔ اگر وہ اس کا فزکس کے مطابق جواب دے دے تو اس کے حق میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
کچھ لوگ ہر حال میں ڈرامہ پیدا کرنے کے ماہر ہوتے ہیں۔  شاید نیلز بوہر کی فطرت میں کچھ ڈرامہ بھی تھا۔ یا شاید ہر سائنسداں تھوڑا بہت ڈرامہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ طالب علم خاموش ہو گیا۔ لیکن گھڑی کی سوئیاں نہیں۔ اس لئے ایک دفعہ پھر اسے یاد کرایا گیا کہ اسکے پاس اب بہت کم وقت ہے۔
 نیلز بوہر نے جواب دیا کہ دراصل اسکے ذہن میں کئ ممکنہ جواب ہیں اور وہ طے کر رہا ہے کہ کسے پہلے بیان کرے۔ یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ خالی ذہن ہی نہیں بھرا ہوا ذہن بھی شیطان کا چرخہ ہوتا ہے۔ اس چرخے کی مضبوطی دیکھ کر وہ یوں گویا ہوا۔
بیرو میٹر کو عمارت کی چھت پہ لے جا کر وہاں سے نیچے پھینکا جائے۔ چھت سے زمین تک فاصلہ طے کرنے میں جو وقت لگا ہو اسے نوٹ کر کے فارمولہ لگایا جائے تو بلندی معلوم ہو جائے گی۔ البتہ بیرومیٹر کے بچنے کی امید نہیں۔
ایسا بھی کر سکتے ہیں کہ اگر سورج نکا ہوا ہو تو بیرو میٹر کی اونچائ نوٹ کر کے اسکے سائے کی لمبائ لے لیجئیے پھر عمارت کے سائے کی لمبائ نوٹ کر لیں اسکے بعد تو ایک بالکل سادہ نسبت کے ذریعے عمارت کی اونچائ معلوم کی جا سکتی ہے۔
پھر اس نے اپنا داہنا گال کھجایا، شاید مسکراہٹ چھپانے کے لئے اور بولا
لیکن اگر آپ ایک دم درست لمبائ جاننا چاہتے ہوں تو بیرو میٹر کو ایک رسی کے ذریعے ٹانگ کر اس کا پینڈولم بنا لیں۔ پھر زمین  اور عمارت پہ الگ الگ اسے جھلائیے۔ اور دونوں جگہوں پہ ریسٹورنگ فورس معلوم کر کے فارمولا لگا دیں۔ لیجئیے جناب بلندی معلوم ہو جائے گی۔ 
تمام کمیٹیوں کے ارکان میں ایک بات مشترک ہوتی ہے سب سکون سے ہر ناروا کو بھی روا سمجھ کر سنتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں فیصلے کا اختیار انکے پاس ہے۔ یہ سوچ کرنیلز بوہر نے کہا اگر عمارت میں چھت تک جانے کے لئے ایمرجنسی سیڑھیاں موجود ہیں تو بیرو میٹر لے کر سیڑھیوں پہ چڑھ جائیے۔ اور ہر منزل پہ بیرو میٹر کی بلندی ناپتے جائِے اور آخیر میں اسے جمع کر لیں۔ عمارت کی بلندی پتہ چل جائے گی۔
پھر اس نے ذرا رک کرسانس لی اور چہرہ سنجیدہ کیا جیسے ایک مقدس بات کہنے جا رہا ہو۔ اگر کسی روائیتی اور بور طریقے کو اپنانا چاہتے ہیں تو زمین پہ  بیرو میٹر رکھ کر دباءو معلوم کریں اور اسی بیرو میٹر سے عمارت کی چھت دباءو معلوم کریں  اور دونوں کے فرق کو ملی بار سے فٹ میں تبدیل کر لیں۔ عمارت کی بلندی علم میں آجائے گی۔
آخر میں اس نے فیصلہ کن پینترا بدلا۔ لیکن چونکہ ہمیں ہمیشہ یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ کھلے ذہن سے سائینسی طریقہ ء کار کو سوچو تو میں عمارت کے نگراں کے پاس جاءونگا اور کہونگا کہ کیا وہ مجھے عمارت کی بلندی بتا سکتا ہے اگر ہاں تو میرے پاس ایک نیا بیرو میٹر ہے وہ اسکا ہوگا۔
قصہ خواں اسکے بعد خاموش ہوتا ہے۔ کیا کمیٹی کے حواس یکجا رہے؟ کیا کمیٹی نے متفقہ طور پہ اسے پاس کر دیا؟ کیا واقعی پوت کے پیر پالنے میں نظر آتے ہیں؟
اس قصے کے بارے میں دو خبریں ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ سب سے پہلے انیس سو پچپن میں ریڈرز ڈائجسٹ میں شائع ہوا اور دوسرا یہ کہ اس کا نیلز بوہر سے کوئ تعلق نہیں۔
۔
۔
۔
۔
۔

کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار
اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں
اب آپ جان چکے ہونگے کہ یہ معاملہ محبت تک ہی محدود نہیں کئ اور معاملات میں بھی ہوتا ہے مثلاً عظمت۔ کچھ تو لوگ بڑے کارنامے انجام دے کر عظیم ہو ہی جاتے  ہیں اور کچھ داستانیں ان میں مزید شامل ہو جاتی ہیں۔ ایسے کے سچ نکالنا مشکل ہی نہیں غیر دلچسپ اور گناہ کے برابر  ہو جاتا ہے۔

Tuesday, May 29, 2012

عدم کا وجود

بچوں کے سوالات کا سلسلہ جب شروع ہوتا ہے تو وہ یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ وہ کیسے والدین کے پاس آئے۔ والدین کی اکثریت بچوں کے سادہ ذہن کو ایک سادہ سا جواب دیتی ہے کہ کسطرح کوئ فرشتہ یا پری انہیں ایک تحفے کی صورت پہنچا گیا۔  میری بیٹی نے ایک دن میری معلومات میں یوں اضافہ کیا ، آپ کو پتہ ہے ماما، کچھ بچوں کو نرس بھی لے کر آتی ہیں اور ایسی صورت میں ماما کو ہسپتال میں ہونا پڑتا ہے کیونکہ نرس ہسپتال میں ہی ہوتی ہے۔ جب میں نے اس معلومات کا ذریعہ دریافت کیا تو انہوں نے مجھے ٹی وی کا ایک اشتہار دکھایا۔ جس میں ایک نرس ایک چھوٹا سا بچہ لے کر آتی ہے۔  ٹی وی والدین کی بہت ساری مشکلوں کو اس طرح آسان بھی کرتا ہے۔
میں آپ سے کوئ ایسا مشکل سوال نہیں کرنے جارہی۔ یہ ایک بالکل آسان سا سوال ہے  اور یہ میرے ذہن کی پیداوار بھی نہیں ہے۔ بلکہ اسے میں نے جس ویڈیو سے اٹھایا ہے وہ بھی ساتھ میں موجود ہے۔
سوال یہ تھا کہ درخت کہاں سے اپنا وجود حاصل کرتے ہیں۔ 
ابتداً لوگوں نے کہا زمین سے غذائیت لیتے ہیں، زمین کی مٹی استعمال کرتے ہیں اور اس طرح بڑے ہوتے جاتے ہیں۔ لیکن سوال کرنے والے نے ایک سائینسداں کا حوالہ دیا جس نے ایک ایک بیج لگایا ، مٹی کو تول لیا اور پھر پانچ سال تک اس پودے کی دیکھ بھال کی اس طرح کہ مٹی بالکل بھی ضائع نہ ہو۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پانچ سال بعد مٹی کے وزن میں ساٹھ گرام کی کمی واقع ہوئ جبکہ پودے نے ستر کلو گرام وزن حاصل کیا۔ پس ثابت ہوا کہ مٹی سے پودا جسامت حاصل نہیں کرتا۔
پھر لوگوں نے خیال ظاہر کیا کہ پانی کی وجہ سے ہے۔ محض پانی سے مادہ نہیں بن سکتا۔ اس کے بعد یہ کہا گیا کہ  سورج کی روشنی کی توانائ مادے میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ آکسیجن کا اس سے کوئ تعلق ہے شاید، کچھ نے اس خدشے کا اظہار کیا۔
لیکن نہیں، پودوں کو بڑھنے کے لئے ایک چیز اور بھی چاہئیے ہوتی ہے اور وہ ہے کاربن ڈائ آکسائیڈ۔ پودے سورج کی روشنی کی موجودگی میں  کاربن ڈائ آکسائیڈ سے اپنی غذا تیار کرتے ہیں، یہ عمل فوٹو سنتھیسزیعنی شعاعی ترکیب کہلاتا ہے۔ اس طرح وہ بڑے ہوتے جاتے ہیں اور جسامت حاصل کرتے ہیں۔ ادھر دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ہم، انسان سانس کے ذریعے کاربن ڈائ آکسائیڈ خارج کرتے ہیں یوں ہمارے اندر جو کمی واقع ہوتی ہے وہ پودے کی بڑھوتری کی صورت نمودار ہوتی ہے۔
۔
۔
۔
بس ایسے آہستہ آہستہ ہم درخت بن جاتے ہیں۔ ایک پرانا مشاہدہ، الفاظ کے چاک پہ نئ صورت ابھرتا ہے۔
اس خیال پہ مبنی یہ دلچسپ ویڈیو دیکھنا نہ بھولئیے گا۔

Monday, October 3, 2011

ستارہ کھوپڑی

بچوں کے ساتھ پڑھنا ایک خاصہ دلچسپ عمل ہوتا ہے۔   میں اپنی بچی کے ساتھ  ہر ہفتے آنے والا  بچوں کا میگزین ینگ ورلڈ پڑھ رہی تھی۔ اور اس میں سے جو چیزیں انکی سمجھ آ سکتی تھیں انہیں آسان الفاظ میں ڈھال رہی تھی۔ اس پہ موجود ڈرائینگز  انکو دکھائیں کہ وہ اس میں سے کیا کیا چیزیں بنا سکتی ہیں۔
صفحے پلٹتے ہوئے میری نظر ایک مضمون پہ جا پڑی۔ دی اسٹار اسکل۔ چاند چہرہ ستارہ آنکھیں۔ سنییں، دیکھیں اور پڑھیں۔ لیکن ستارہ کھوپڑی۔ یہ کیا جادو نگری ہے۔
عنوان ایسا تھا کہ میں اسے پڑھنے لگی یہ ایک بچے کی کھوپڑی کے بارے میں تھا جو میکسیکو کے آس پاس کہیں سے ملی۔ پھر ماورائ  ریسرچ کرنے والے اداروں تک پہنچی اور اس مضمون کے مطابق ایک ماورائ تحقیق سے متعلق تحقیقداں    نے یہ کہا کہ یہ کھوپڑی نو سو سال پہلے اس علاقے میں رہنے والے ایک بچے کی ہے۔ جس کے ساتھ پائے جانے والی کھوپڑی غالباً اسکی ماں کی ہے۔

اس کھوپڑی یں دلچسپی اس وقت بڑھی جب اندازہ لگانے والوں نے اسے ایک ایسے بچے کی کھوپڑی قرار دیا بچہ جو  کسی غیر زمینی مخلوق سے تعلق رکھتا ہے۔ امکان ہے کہ یہ مکمل طور پہ ایلیئن مخلوق نہیں بلکہ انسانی عورت کے ساتھ ایلیئن مخلوق کے رابطے سے اس نے جنم لیا۔ اسکی وجہ اس کھوپڑی کی ساخت میں بے انتہا توازن یا ہم شکلیت یعنی جسے ہم انگریزی اصطلاح میں کہیں کہ سمِٹری ہے۔اسکے علاوہ بقول انکےاسکے  ڈی این اے میں بھی غیر زمینی مخلوق کے آثار ملتے ہیں۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔ مضمون اس پِغام کے ساتھ ختم ہوا۔ میرے اندر کا بچہ اسے پڑھ کر ایک پر اسرار دنیا کے دھندلکوں میں کھو گیا۔
غیر زمینی مخلوق کی مغربی معاشرے میں وہی حیثیت ہے اور لوگوں کی اس میں وہی دلچسپی ہے جو ہمارے معاشرے میں جنات، بھوت یا آسیب کی ہے۔ یہ الگ بات کہ مغرب اپنے اس خیال کو اتنی عزت دیتا ہے کہ اس پہ تحقیقیاتی رپورٹس بھی بنتی ہیں فنڈ بھی خرچ ہوتا ہے۔  جبکہ ہمارے جنات اور آسیب بس توہمات کے کارخانے کی پیداوار رہ جاتے ہیں۔  امیروں کے وہم بھی اپنی ایک شان رکھتے ہیں۔
اپنے اندر کے بچے کو جھٹک کر ایک طرف کیا جو چاند کو پکڑنا چاہتا ہے، بادلوں کے تعاقب میں رہتا ہے، تتلیوں کی طرح اڑتا ہے اور ماورائ کہانیوں سے خوش ہوتا ہے۔ یہ معلومات میرے لئے خاصی مشکوک تھیں۔ ایک انگریزی اخبار میں ایسی غیر معیاری تحریر کیسے وہ بھی بچوں کے حصے میں؟
انگریزی کا اپنا ایک رعب ہوتا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ انگریزی مواد کو چھاننا پھٹکنا آسان ہوتا ہے۔ اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں یہ حد سے زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ اس لئے غلطی کی توقع کم ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک دو روز بعد جب وقت ملا تو اسٹار اسکل کو نیٹ پہ چیک کیا۔
پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے اسٹار اسکل کا نام کیوں دیا گیا؟
اس لئے کہ عہد قدیم سے یہ خیال موجود ہے کہ  سیارہ زمین کے علاوہ کائینات میں کہیں کوئ اور مخلوق موجود ہے جو زمین پہ آتی جاتی ہے۔ اپنی اس آمدو رفت کے دوران وہ یہاں زمینی انسان سے رابطہ کرتی ہے۔ کچھ خواتین اس مخلوق کی وجہ سے حاملہ بھی ہوجاتی ہیں۔ 
چونکہ خیال یہ تھا کہ یہ مخلوق کہیں ستاروں سے آتی ہے اس لئے یہ  بچہ اسٹار چائلڈ اور یہ کھوپڑی، اسٹار اسکل کہلائ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ مخلوق جب انکے بچے دنیا میں پیدا ہوتے ہیں تو ایکدن انہیں واپس لیجاتی ہے۔ کیوں لیجاتی ہے یہ نہیں معلوم۔
 اس ستارہ کھوپڑی والے بچے کی ایک عام پسندیدہ کہانی یوں بنتی ہے کہ اسکی زمینی ماں نے اسے اس مخلوق کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے بچے کو زہر دے دیا اور آخیر میں خود بھی خود کشی کر لی۔ بچے کے پاس پائے جانے والی دوسری کھوپڑی اسکی ماں کی ہے۔
یہ مغربی لوک کہانی کا ٹیکنالوجی کے زمانے سے ملن کی ایک عمدہ مثال ہے۔



وکیپیڈیا کے مطابق اس قسم کی ساری معلومات کی حیثیت ایک اندازے سے زیادہ نہیں وہ بھی ایک خاص طبقے کی طرف سے ہے۔ ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ بچے کا سر اپنی عمر کے حساب سے اس لئے زیادہ بڑا ہے کہ وہ پیدائیشی طور پہ کسی جینیاتی بیماری میں مبتلا تھا جیسے ہائیڈرو سفالس۔ اس بیماری میں سر میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے سر کی ہڈیاں پھیل جاتی ہیں اور سر نارمل جسامت سے بڑاہو جاتا ہے۔
  اسکا ڈی این اے چیک کیا گیا جو قطعی انسانی ڈی این اے ہے۔ اس میں باپ کی طرف سے وائ کروموسومز اور ماں کی طرف سے ایکس کروموسومز موجود ہیں یعنی وہ ایک لڑکا تھا۔ مزید تحقیق کے لئے اسکا مائ ٹو کونڈریا چیک کیا گیا۔ یہ مائ ٹو کونڈریا وہ اطلاعات رکھتا ہے جو ماں کی طرف سے آتی ہیں۔ مائ ٹو کونڈریا  پہ تحقیقات ایک انسان کا وہ سلسلہء نسب بتاتی ہیں جو ماں سے چلتا ہے۔ ماں کی ماں اور پھر اسکی ماں۔ ہمم,  قدرت عورت کے لئے ایک ترجیح نہیں رکھتی؟
:)
  کسی انسان کی ابتداء کے بارے میں معلوم کرنے کے لئے اس مائ ٹوکونڈریا کو چیک کیا جاتا ہے۔ اسکے ذریعے انسانوں کے گروہوں کے ابتدائ علاقے کا اندازہ ہوتا ہے۔ یوں انکی گروہ بندی ہوتی ہے۔ یہ بچہ اس گروہ بندی میں گروہ ہیپلو گروپ سی میں شامل ہے۔ جبکہ اسکے ساتھ پائے جانے والی عورت کا گروپ, ہیپلو گروپ اے ہے اسکا مطلب وہ اسکی ماں نہیں ہے۔ یہ دونوں گروہ ہیپلو سی اور ہیپلو اے قدیم امریکی باشندوں کے ہیں۔
لیکن اب بھی لوگوں کا ایک گروہ اس بات کا منتظر ہے کہ کسی طرح یہ بچہ ایک غیر زمینی، خلائ مخلوق ثابت ہو جائے۔
مشرق ہو یا مغرب لوگوں کے بنیادی جذبات، احساسات، توقعات، خوشیاں، خوف اور وہم کتنے ملتے جلتے ہیں۔ اسکا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم ان سے ملتے ہیں یا انکے بارے میں غیر جانبدار ذرائع سے علم حاصل کرتے ہیں۔
بہر حال ینگ ورلڈ میں کس طبقے کی نمائندگی میں یہ تحریر لکھی گئ۔ کیا آپ اسکا جواب دے سکتے ہیں۔ اشارے اسی تحریر میں موجود ہیں۔
 :)


Star skull
Mitochondria
DNA
Haplogroup
Wikipedia
Young world

Wednesday, May 11, 2011

سونا، اک جنوں

سائینس کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔  انسان نے اسے تجسس، خوف، لالچ اور ضد جیسے جذبوں سے گوندھا ہے۔ کچھ نے اس میں خدا کو ڈھونڈھنے کے لئے اپنا حصہ ڈالا اور کچھ نے رد کرنے کے لئے۔ کہانی کسی بھی ارادے سے شروع کی گئ۔ انجام  یہ ہوا کہ خدا انسانوں کے ساتھ جوا ہی نہیں کھیلتا بلکہ کبھی کبھی اپنے پانسے ادھر ادھر بھی ڈال دیتا ہے۔
  یہ کہانی ہیمبرگ کے ہیننگ برینڈ  کی ہے۔ برینڈ فوج میں ایک جونیئر آفیسر تھا۔ کیمیاء سے لگاءو رکھتا تھآ۔ اسکی پہلی  بیوی کا جہیزاتنا تھا کہ فوج کی نوکری چھوڑنے کے بعد وہ الکیمیا پہ کام کر سکتا تھا۔ الکیمیا ، کیمیاء کی وہ ابتدائ شکل ہے جس میں ایک کیمیاداں کا مقصد عام دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرنا ہوتا تھا یا پھر کوئ ایسی دوا جو تمام امراض کا علاج کر دے جسے اکسیر کہا جائے۔ یہ شاید خضر کے آب حیات سے متائثر خیال تھا۔ وہ الکیمیسٹ تھا۔ عربوں کو سونےسے بڑی انسیت تھی ۔ یوں  انہوں نے سونے کی تلاش میں کیمیاء میں خاصی دلچسپی لی اور کیمیائ تعاملات کے بنیادی طریقے متعارف کرائے۔
سونا انسان کو ہمیشہ مسحور کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائ انسان سوچتا تھا کہ خدا کی جلد یقیناً سونے سے بنی ہوگی یا وہ سونے کی طرح چمکیلا ہوگا۔ انسانی خدا بھی اپنے لباس  اور اشیائے استعمال مِیں سونے کا بے دریغ استعمال کرتے تھے۔
قدیم انسان تو یہ بھی سوچتا تھا کہ سورج پگھلا ہوا سونا ہے جسکی سنہیری چمک زمین تک پہنچتی ہے۔ یوں یہ خیال کیا جانے لگا کہ جو چیزیں سنہری نظر آتی ہیں ان کا کوئ نہ کوئ تعلق سونے سے ضرور ہوگا۔
برینڈ بھی اس پتھر کی تلاش میں تھا جو کسی عام دھات کو سونے میں تبدیل کر دے۔ فلاسفرز اسٹون یا جسے ہم اردو میں پارس کہتے ہیں۔ اس نے اپنی پہلی بیوی کی ساری جائداد اس میں جھونک دی۔ مگر کچھ بھی نہ ملا۔
اس کے مرنے کےبعد برینڈ نے دوسری شادی کی ایک مالدار عورت سے۔ ایک دفعہ پھر وہ سونے کے تعاقب میں تازہ دم تھا۔ لیکن اس دفعہ اس نے پچھلے تمام تجربات سے ہٹ کر ایک نئ چیز پہ اپنی توجہ مرکوز کی۔ یہ تھا سنہرا، پیلا انسانی پیشاب۔
کہا جاتا ہے کہ برینڈ نے اس کے لئے ہزاروں لٹرز پیشاب استعمال کیا، پچاس بالٹیاں ، ساڑھے پانچ ہزار لٹر پیشاب۔
اسکے بعد مختلف کہانیاں ہیں۔ مستند یہ ہے کہ برینڈ نے اس پیشاب کو خوب اچھی طرح ابالا۔ اس میں سے دھواں نکلنا شروع ہوا۔ جسے اس نے ڈسٹل کر کے الگ کر لیا۔ بچ ہوئے پیسٹ میں  ٹھنڈا ہونے پہ  ایک مادہ جم گیا جس میں سے سبز رنگ کی روشنی نکل رہی تھی۔ یہ روشنی آگ سے نکلنے والی روشنی کے برعکس ٹھنڈی روشنی تھی۔  یہ سولہ سو تیس میں پیدا ہونے والے کیمیاداں کے لئے ایک حیران کن مشاہدہ تھا۔
یہ سبز روشنی خارج کرنے والا مادہ 'فاسفورس' تھا۔ انسانی پیشاب میں فاسفورس موجود ہوتا ہے فاسفیٹ آئین کی شکل میں۔ اندازاً ایک لٹر میں ایک گرام فاسفورس ہوتا ہے۔ جی یہ وہی فاسفورس ہوتا ہے جو ہماری ہڈیوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جسے دیا سلائ سے لیکر دھماکہ خیز اشیاء بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔


سائینس میں دو طریقے ہیں تحقیق کے۔ یا تو نظریہ پہلے جنم لیتا ہے اور اسکا مشاہدہ عملی سطح پہ بعد میں جانچا جاتا ہے۔ یا  مشاہدات پہلے موجود ہوتے ہیں اور انہیں جوڑ کر ایک نظریہ تخلیق کیا جاتا ہے تاکہ حقائق کے لئَے دلیل لائ جا سکے۔
برینڈ نے انجانے میں جو کیمیائ طریقہ نکالا اسکی دلیل سائینسی سطح پہ یہ بنی کہ پیشاب میں موجود فاسفیٹ کو جب خوب اچھی طرح گرم کیا جاتا ہے تو آکسیجن پیشاب میں ہی موجود کاربن کے دیگر مرکبات سے تعامل کر کے فاسفیٹ میں سے خارج ہو جاتی ہے اور اس طرح فاسفورس عنصر کی حالت میں بچ جاتا ہے۔ دو سو اسی ڈگری درجہ ء حرارت پہ یہ پگھلی ہوئ حالت میں ہوتی ہے جبکہ ٹھنڈا ہونے پہ چوالیس ڈگری کے قریب یہ ٹھوس حالت میں آجاتی ہے۔
فاسفیٹ کی کچ دھات سے فاسفورس حاصل کرنے کے لئے آج بھی یہ طریقہ استعمال کیا جاتا ہے فرق یہ ہے کہ کاربن سے تعامل کرانے کے لئے کاربن کوک استعمال کی جاتی ہے۔

1. (NH4)NaHPO4 —› NaPO3 + NH3 + H2O
2. 8NaPO3 + 10C —› 2Na4P2O7 + 10CO + P4

دوسری جنگ عظیم میں برینڈ کے ہیمبرگ پہ گولہ باری کی گئ۔ ان بموں میں وہی ظالم فاسفورس تھا جسے برینڈ نے انجانے میں دریافت کیا تھا۔
برینڈ کا کیا ہوا؟ وہ اسی طرح ناکام و نامراد رہا۔ دنیا آج تک پارس حاصل نہیں کر سکی۔ البتہ کیمیاء اس ترقی پہ پہنچ گئ کہ آج انسان کی زندگی میں اسکی پیدائیش سے لیکر موت تک ہر چیز میں اس کا دخل ہے۔  اس سفر میں کیمیاء خود پارس بن گئ۔
  مزید معلومات کے لئے یہ دستاویزی فلم دیکھئیے۔


Monday, April 11, 2011

تعلیم کے لئے جنگ

 یہ صرف چار سال پہلے کی بات ہے , مجھے وفاقی اردو یونیورسٹی میں  پڑھانے کا اتفاق ہوا۔ یہ یونیورسٹی پہلے کالج تھی جہاں پوسٹ گریجوایٹ کی سطح پہ تعلیم دی جاتی تھی۔ بعد میں شاید اسے یہ سوچ کر یونیورسٹی کی سطح تک ترقی دی گئ کہ یہ پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہوگی جہاں ذریعہ ء تعلیم اردو میں ہوگا۔
مگر ہوا کیا؟  یونیورسٹی کے بیشتر اساتذہ وہی تھے جو کالج کے زمانے سے پڑھا رہے تھے۔ تقریباً سبھی ماسٹرز کی ڈگری رکھتے تھے۔ تقریباً سبھی کسی علمی تحقیق سے وابستہ نہ تھے، کسی نے کبھی کسی سیمینار یا کانفرنس میں شرکت نہیں کی تھی۔ انکا کوئ تحقیقی مقالہ موجود نہ تھا۔ در حقیقت انکی اکثریت اس بات سے واقف ہی نہ تھی کہ تحقیقی مقالہ ہوتی کیا بلا ہے۔ انہیں صرف اس بات پہ ناز تھا کہ انکی مدت ملازمت کو اتنا عرصہ ہو چکا ہے۔
یونیورسٹی کے اوپر چند مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا راج بلکہ قبضہ تھا۔ انکی پسند کے شخص کے علاوہ کسی کا ٹہرنا نا ممکن تھا۔ یہ اساتذہ تدریسی سرگرمیوں میں کم اور سازشی سرگرمیوں میں زیادہ مصروف رہتے۔ اس مذہبی گروہ کے افراد بات بے بات پہ خدا کو یاد کرتے اور اخلاقی حالت یہ کہ یونیورسٹی کے پتے پہ اگر کسی کا کوئ خط آتا تو انکے پاس  سے گذر کر آتا۔ وہ اسے کھولتے، پڑھتے اور مناسب سمجھتے تو وہ متعلقہ شخص کو ملتا ورنہ جیسے دل چاہے اسکی اطلاعات کو استعمال کرتے۔
 اسے یونیورسٹی کا درجہ ملے ہوئے پانچ سال کا عرصہ ہو رہا تھا۔ مگر فارمیسی کی پریکٹیکل لیبز ہونے کا سامان نہ تھا۔  کیمسٹری کی لیب میں کیمیکلز نکالنے کے وہ چھوٹے چھوٹے چمچے موجود نہیں تھے جو اسپےچولا کہلاتے ہیں حقیر ترین چیز جن کی قیمت اس وقت دس پندرہ روپے ہوگی۔ ساٹھ اسٹوڈنٹ کی لیب میں دو اسپے چولا اور تین برنرز۔ باقی سامان کا بھی یہی حساب، لٹمس پیپر جیسی روز کے استعمال کی سستی ترین شے کیمسٹری کے چیئر مین سے مانگ کر لائ جاتی۔ 
میری اس طرف بار بار توجہ دلانے پہ ہماری چیئر پرسن جو کیمسٹری ڈپارٹمنٹ سے لا کر یہاں مقرر کی گئ تھیں۔ اور جو کسی بھی قسم کی تحقیق تو دور تدریسی عمل میں بھی کئ سالوں سے شامل نہ تھیں۔ سخت آگ بگولہ ہوئیں اور کہنے لگیں کہ پچیس سال سے ہم پڑھا رہے ہیں ہمیشہ کیمیکلز نکالنے کے لئے کاغذ پھاڑ کر اسکی ڈوئ بنائ آپکے بڑے نخرے ہیں اسپے چولا ہونا چاہئیے۔ میرے جیسے جونیئر استاد نے یہ احمقانہ دلیل سنی اور خاموش ہو گیا۔
ماں باپ اپنی جان مار کر اپنے بچوں کو ان یونیورسٹیز میں بھیجتے ہیں۔ یونیورسٹی میں پڑھنے والے کراچی کے بیشتر نوجوان  گھر واپس جا کر ٹیوشن پڑھاتے ہیں اور تب اپنے تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے کے قابل ہو پاتے ہیں۔ لیکن میں آپکو یہ بات وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ جس طرح کا معیار تعلیم میں نے اس یونیورسٹی میں دیکھا اور جو لیبز کی حالت تھی۔ یہاں  دی جانے والی ڈگری، جعلی ڈگری کے برابر ہی تھی۔ 
ماسٹرز ڈگری کے حامل یہ اساتذہ، اپنے سالوں پرانے لیکچرز پڑھا رہے تھے۔ شعبے کے ایک سینیئر ٹیچر نے انتہائ ناقص کتابچہ کیمسٹری کی رہنمائ کے لئے تحریر کر رکھا تھا اور نئے آنے والے تمام ٹیچرز پہ فرض تھا کہ وہ اسی کتابچے سے تجربات کی تھیوری اور طریقہ لکھوائیں۔  میں نے اسے ایک طرف رکھا اور ذاتی طور پہ اپنی لیب کے لئے ایک کتابچہ خود تیار کیا اس اطلاع پہ ان سینیئر ٹیچر نے فوری ایکشن لیا۔ چیئر پرسن نے فوراً طلب کر کے  کہا، آپ اپنے کتابچے کو ابھی رہنے دیں۔ اگلے سال اسے دیکھیں گے۔ ابھی پرانے کتابچے  کو ہی استعمال کروائیے۔ انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ بحیثیت یونیورسٹی ٹیچر وہ اس بات کا حق نہیں رکھتیں کہ سلیبس کے علاوہ میرے طریقہ ء تدریس میں دخل دیں اور مجھے کسی خاص کتاب کے استعمال پہ مجبور کریں۔ مجھے معلوم تھا لیکن ہر دفعہ کی طرح پھر خاموش ہوئے۔
یونیورسٹی کا نام اگرچہ اردو یونیورسٹی تھا مگر یہاں اردو میں تعلیم نہیں دی جا سکتی تھی۔ کیونکہ اردو میں سائینس کی کتب ہی کتنی موجود ہیں۔ سو اسکے قیام کا بہانہ، دراصل بش کے اس بہانے کی طرح تھا جو اس نے عراق پہ حملے کے لئے کیا تھا۔
خیر، ایک ایسی ناگفتہ بہ حالت میں جبکہ  تعلیمی سرگرمیوں پہ خرچ کرنے کے لئے پیسے نہ تھے۔  ہمارے مذہبی ٹولے کی ملی بھگت سے یونیورسٹی میں انکے پسندیدہ با ریش وائس چانسلر کی آمد ہوئ تو انہوں نے پہلا اور آخری کام اپنی سوابدید پہ   یہ کیا کہ  وائس چانسلر آفس کے لئے نئے گلاس منگوائے کیونکہ پرانے گلاسوں کی شکل انکے خیال میں ان گلاسوں سے مشابہ تھی جن میں شراب پی جاتی ہے۔ یعنی وہ جام جیسے تھے۔ ان گلاسوں کی تبدیلی کے بعد وائس چانسلر اپنی عاقبت سنوارنے کے مشکل مرحلے سے نکل کر عالم سکون میں آگئے۔ باقیوں کا رقص بے خودی بھی شروع ہوا، اس دھن پہ، سیاں بھئے کوتوال اب ڈر کاہے کا۔
ایسا نہیں ہے کہ صرف مذہبی طبقہ ہی ایسی کرپشن کرتا ہے ۔ غیر مذہبی بھی کرتے ہیں۔ لیکن یہ چیز اس وقت اتنی بد تر مذاق کی صورت لگتی ہے جب ایک شخص اپنے آپکو زیادہ مذہبی ثابت کر رہا ہو، اس پہ فخر کرتا ہواور دوسروں پہ نفرین بھیج رہا ہو پھر اس ساری نفرین کے بعد وہ وہی کرپشن زور و شور سے کرے جو دوسرے لوگ بغیر مذہبی و اخلاقی پند و نصائح کے کرتے ہیں۔
اب لیبز تو سامان کی کمی کی وجہ سے ہو نہیں پاتی تھیں۔ لے دے کر تھیوری کی کلاسز ہی منعقد ہوتیں اس کے بعد ہمارے پاس خاصہ وقت ہوتا۔ گیارہ بارہ گھنٹے ہر ہفتے کے کریڈٹ آرز کے بعد تو خاصہ وقت ہوتا ہے۔  ایکدن میں نے اپنی چیئر پرسن سے کہا کہ میرے پاس خاصہ وقت ہوتا ہے اور میں سوچتی ہوں کہ فارغ ہونے کے بعد کچھ اس طرح ورک شیڈول ترتیب دوں کہ کراچی یونیورسٹی جا کر کسی تحقیقی پروجیکٹ پہ کام شروع کردوں۔ اس طرح جو پبلیکیشن بنے گی اس میں اردو یونیورسٹی کا نام بھی آئے گا۔ میری ماسٹرز کی ہوئ پچیس سالہ تجربے کی حامل سینیئر استاد نے اپنے سر کا اسکارف صحیح کیا اور کہنے لگیں جب آپکو اپائینٹمنٹ لیٹر ملا تو اس پہ کیا لکھا تھا؟ پھر میرے سوالیہ تائثر پہ انہوں نے بیان کیا کہ اس میں  یہ لکھا تھا کہ یونیورسٹی کو ایک استاد چاہئیے یا یہ لکھا تھا کہ انہیں ایک تحقیق داں چاہئیے۔ یہ ایک تحقیقی ادارہ نہیں یونیورسٹی ہے۔ اب آپ ریسرچ  کو بھول جائیں۔
آپ میں سے کچھ لوگوں کو اب  سمجھ آئے گا صرف بلاگی دنیا میں ہی اس قبیل کے لوگوں  نہیں بلکہ اس مملکت خداداد میں جہاں نکل جائیں وہاں یہ اسپی شی موجود ہے۔
ایک مایہ ناز یونیورسٹی کی، ایک اہم ڈپارٹمنٹ کی چیئر پرسن، یہ کہتی ہے کہ یونیورسٹی کا تحقیق سے کیا تعلق تو اس چیئر پرسن کو کسی کالج یا اسکول میں ہونا چاہئیے، یونیورسٹی میں نہیں۔  یونیورسٹی کی بنیاد کا مقصد ہی تحقیق کو تعلیم سے جوڑنا ہوتا ہے۔
آخر یونیورسٹی کی اس دگرگوں حالت کا کون ذمہ دار تھا۔ کون اس بات کا ذمہ دار تھا کہ وہ یونیورسٹی کے معیار پہ نظر رکھے، وہ اس بات کو جانچے کہ یونیورسٹی اپنے طلبہ کو جن سہولیات کو پہنچانے کا دعوی کر رہی ہے آیا وہ ایسا کر پا رہی ہے یا نہیں، اتنے عرصے میں یہاں سے جتنے طالب علم اپنی تعلیم مکمل کر کے نکلے یقیناً وہ تعلیمی سطح پہ انتہائ گھٹیا معیار رکھتے تھے۔ بیرون ملک تو کیا اپنے ہی ملک کی کسی بہتر یونیورسٹی کے طالب علم سے مقابلہ نہ کر پاتے۔ لیکن اس میں کس کا قصور تھا۔ کیا اس طالب علم کا یا اس بات کا کہ اس یونیورسٹی کے اندر موجود لوگوں کے ایک گروہ کو پتہ تھا کہ وہ جو دل چاہے کرتے رہیں۔ ان سے پوچھ گچھ کرنے والا کوئ نہ ہوگا۔
یہ کوئ واحد یونیورسٹی نہ ہوگی، مشرومز کی طرح اگ آنے والی یونیورسٹیز کی ایک تعداد اسی قطار میں کھڑی ہوگی۔
یونیورسٹیز کے معیار کو کیسے جانچنا چاہئیے؟ یونیورسٹیز کو کیسے اس بات کا پابند بنانا چاہئیے کہ وہ بہتر نتائج دیں؟ یونیورسٹیز کے اساتذہ کو کیسے مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے آپکو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں؟ یونیورسٹیز کو آزاد تعلیمی ماحول دینا کس کی ذمہ داری ہے؟ یہ امر کیسے باور کرایاجائے کہ یونیورسٹیز کو سچی اور معیاری تحقیق سے جڑا رہنا چاہئیے؟
میں نے کچھ ہنگامہ بپا کرنے کے بعد یونیورسٹی چھوڑ دی۔ اس دوران بارہا مختلف صاحب علم لوگوں سے پوچھا اور یہ سوال میں اب بھی اپنے ملک کے اس دانشور طبقے سے پوچھنا چاہتی ہوں جو اس ملک میں تعلیم کی حالت پہ  فکر مند رہتے ہیں۔ کیا آپ واقعی تعلیمی زبوں حالی پہ فکر مند ہیں؟
آج ایچ ای سی کو ختم کرنے پہ احتجاج جاری ہے۔
ایچ ای سی کے دامن پہ داغ بھی ہیں اور کامیابیاں بھی۔ 
ملک میں زیادہ تعداد میں یونیورسٹیز کھولنے اور زیادہ سے زیادہ طلباء کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دینے کے چکر میں معیار کا کوئ خیال نہیں رکھا گیا۔  یونیورسٹیز میں تحقیقی سہولیات مہیا کرنے کے بارے میں کوئ دلچسپی نہیں لی گئ۔ جہاں تھوڑی بہت ہو رہی ہے،  انہیں اس بات پہ مجبور کرنے کے لئے کوئ منصوبہ نہیں بنایا گیا کہ وہاں ایسی تحقیق کو پذیرائ ملے جو ہمارے ملک کے لئے کار آمد ثابت ہو۔ باہر سے آنے والی فنڈنگ بشمول اسکالر شپس کو منظور نظر افراد اور اداروں کی نذر کیا گیا۔ ملک میں پی ایچ ڈی کرنے والے افراد کو کھپانے کے لئے کوئ منصوبہ بندی نہیں کی گئ۔
ان میں سے بیشتر باتوں کو یہ کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ کرپشن ہمارے ملک کا مزاج ہے۔ بہت کم ایسا ہو پاتا ہے کہ حق دار کو اسکا حق ملے۔ اور کچھ  نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔ غریب ممالک میں، تبدیلی یک لخت نہیں آتی۔ ادارے جیسے جیسے پختگی کی طرف بڑھتے ہیں زیادہ بہتر ہو جاتے ہیں۔
 اسکے ساتھ ایچ ای سی کے حصے میں تمغے جاتے ہیں۔ بیرون ملک سے پاکستانی طلباء طالبات کے لئے اسکالر شپس حاصل کی گئیں، ریسرچ کے لئے فنڈنگ ملی۔ سب سے بڑھکر یہ کہ بیرون ملک سے غیر ملکی اساتذہ آئے جنکی وجہ سے یہاں طلباء طالبات کو مہمیز ملی اور اندازہ ہوا کہ باہر کس طرح اساتذہ اپنی تدریسی سرگرمیوں کو دلچسپ بناتے ہیں اور کیسے انہیں اپنی تحقیق کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
پاکستان سے کثیر تعداد میں طلباء طالبات باہر گئے، انہیں ایک نئ، مختلف دنیا دیکھنے کو ملی۔  وہ نئ ثقافتوں کو دیکھ کر
 واپس آئے اور لازماً یہ صورت  ملک میں پھیلتی ہوئ انتہا پسندی کو روکنے میں سازگار ہو سکتی ہے اور کسی قوم کی بالغ نظری کی بنیاد بن سکتی ہے۔
ان اسکالرشپس سے  ملک کے دوردراز کے علاقوں کے لوگ بھی مستفید ہوئے۔ ایسے لوگ بھی باہر اعلی تعلیم کے لئے گئے جو کبھی تصور بھی نہ کر سکتے تھے کہ وہ وظیفے پہ اتنی اعلی تعلیم حاصل کر پائیں گے۔
اب بجائے یہ کہ ایچ ای سی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے اقدامات کئیے جاتے۔ حکومت نے ہمیشہ کی طرح اپنی ناعاقبت اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ انکا کہنا ہے کہ وہ اسے صوبوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔
پیپلز پارٹی جو اپنے آپکو ایک وفاقی جماعت کہتی ہے وہ خدا جانے دن بہ دن ایسےفیصلے کیوں کر رہی ہے جو اسے ایک وفاقی جماعت کے بجائے ایک علاقائ جماعت بنائے دے رہے ہیں۔
اب شاید وہ لمحہ آن پہنچا ہے کہ ہم اپنے کچھ مسئلوں کو جنگی نوعیت کا قرار دے کر ان پہ پورے جذبے کے ساتھ کام کریں اور ان میں سب سے پہلا مسئلہ تعلیم کا ہے اسلام کا نہیں۔ صوبوں کو اسکول کی تعلیم کا حق حاصل ہے انہیں اسکی ترویج کے لئے جان لگانی چاہئیے۔
پولیو کے ٹیکوں کی طرح پرائمری سطح کی تعلیم کے لئے ایک ٹارگٹ مقرر کرنا چاہئیے کہ آئیندہ پانچ  سال میں ہمارا ہر بچہ اسکول کی اتنی تعلیم حاصل کرے گا اخبار پڑھ سکے اور اپنی زبان میں خط لکھ سکے۔ جب صوبے اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو جائیں تو انہیں ہائیر ایجوکیشن کی ذمہ داری دی جائے۔ فی الوقت تو یہ فیصلہ صرف دو پس منظر رکھتا ہوا لگ رہا ہے۔ ایک جعلی ڈگری کی شناخت کی وجہ سے ایچ ای سی پہ عتاب اور دوسرے صوبوں کو تعلیم کی مد میں ملنے والے فنڈ میں زیادہ خرد برد کے آسان مواقع حاصل کرنا۔ صوبوں کی سطح پہ جہاں علاقائ اثر زیادہ گہرا ہو گا، خرد برد اور غبن کے مواقع زیادہ آسان ہونگے۔