Showing posts with label Muslims in India. Show all posts
Showing posts with label Muslims in India. Show all posts

Saturday, April 3, 2010

نئے افکار انکا حصول اور ترویج-۹

بر صغیر پاک ہ ہند میں اسلام کی آمد واضح تبدیلیوں کی علامت بنی۔ اس سے پہلے بدھ مذہب اور جین مذہب یہاں سنسکرتی برتری کے خلاف تحریک بن کر ابھرے،  لیکن یہاں کے عام دھارے میں شامل ہو گئے۔ مسلمان اپنے ساتھ مذہب اور معاشرت کا مضبوط تصور لیکر آئے۔ ۔البیرونی لکھتا ہے کہ 'مذہبی لحاظ سے ہندوستانیوں کا آپس میں اختلاف بہت کم تھا اور وہ معمولی اختلافات پہ اپنے جسم ، مال اور روح کو قربان کرنے کو تیار نہ تھے۔' اسکے برخلاف مسلمانوں نے اس تصادم کو خارجی حیثیت دی۔  اونچی ذات کے ہندو اسے اپنے خلاف حملہ سمجھنے لگے اور صف آرائ پہ آمادہ ہوگئے۔ یوں مسلمانوں کی آمد نے ہندو مذہب کے صدیوں پرانے جامد تصورات کو ہلا دیا۔
مشہور زمانہ خیال کے برعکس مسلمان پہلی دفعہ محمد بن قاسم کیساتھ ہندوستان میں وارد نہیں ہوئے تھے  بلکہ حضرت عمر فاروق کے زمانے میں ہندوستان کے ساحلوں پہ انکے جنگی بیڑے  اترے۔ انکا یہ جنگی بیڑہ بلوچستان کے علاقے مکران تک پہنچا لیکن اس وقت کے سپہ سالار نے جب امیر المومنین کو اس علاقے کے سخت جغرافیائ حالات، پانی کی عدم دستیابی اور علاقے کے غیر آباد ہونے کی اطلاع دی تو حضرت عمر فاروق نے انہیں آگے نہ بڑھنے کا حکم دیا۔ سپہ سالار کا قاصد جب حضرت عمر کے سامنے حاضر ہوا تو اس نے اس طرح نقشہ کھینچا۔
“ 'O Commander of the faithful!
It's a land where the plains are stony; Where water is scanty; Where the fruits are unsavory Where men are known for treachery; Where plenty is unknown; Where virtue is held of little account; And where evil is dominant; A large army is less for there; And a less army is useless there; The land beyond it, is even worse .

سو ہندوستان میں اسلام اول جنوبی ہندوستان میں تاجروں کے ذریعے پھیلا پھر سندھ میں عربوں کی فتح اور آخر میں ترکوں کی فتح کے بعد شمالی ہندوستان میں آیا۔ 
مسلمان اپنے ساتھ تازہ فکر لائے تھے۔ وہ  تناسخ کے برعکس حیات بعد الموت کے قائل تھے اور ان کے دین میں ذات پات کو اہمیت حاص نہ تھی۔  یہ وہ نظریات تھے جو ہندوستان کے لئے نئے تھے۔ چنانچہ  ذات پات کے بندھنوں میں جکڑی، انسان کے تناسخ میں الجھی زندگی میں بار بار کے جنموں سے وابستہ ہندو تہذیب مغلوب ہوئ اور تبدیلی ء مذہب کا سلسلہ مختلف سطحوں پہ شروع ہوا۔
نچلی سطح کے لوگ اسلامی مساوت سے متائر ہوئے، اونچے طبقے کے لوگ اسلام کو ایک ترقی پسند مذہب سمجھ کر اس میں داخل ہوئے، بعض امرائے وقت مصلحت وقت کے تحت اس میں شامل ہوگئے۔ کچھ لوگ اسلام کا مطالعہ کرنے کے بعد خالص دینی جذبے سے اس میں شامل ہوئے۔بعض مسلمان سلاطین بالخصوص قطب الدین ایبک اور شمس الدین التمش کی فیاضی نے مقامی باشندوں کے دل جیت لئے اور وہ تبدیلی ء مذہب پہ آمادہ ہوگئے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ اسلام نے انکے عقائد تو بدل دئیے لیکن انکے بنیادی ثقافتی اور سماجی ڈھانچے کو تبدیل نہیں کی تھا۔ یوں ایک نئ ثقافت نے جنم لینا شروع کیا۔
  اگرچہ جن مسلمان سلاطین نے ہندوستان کو فتح کرنے کی غرض سے حملے کئے ان میں چاہے محمد بن قاسم ہو یا محمود غزنوی انکا مقصد اسلام کی تبلیغ اور ترویج نہیں تھا۔ لیکن بہرحال انہیں امور سلطنت کو مستحکم انداز میں چلانے کے لئے زیادہ مسلمان چاہئیے تھےاس لئے انہوں نے اس میں دلچسپی لی کہ مقامی لوگ مسلمان ہوں اور اس سلسلے میں لوگوں کو جاگیریں دی گئ اور انہیں مالی تحفظ فراہم کیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ جب فتح سندھ کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ مقامی ہندءووں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے تو حجاج بن یوسف نے علما ء و فقہاء سے مشورے کے بعد  حکم دیا کہ انکے ساتھ اہل کتاب کی طرح سلوک کیا جائے اور انہیں اپنی عبادت گاہوں کو جانے کی اوراپنی مورتیوں کی پوجا کی اجازت دی جائے۔
خود مسلمان فاتحین نے اس بات کو محسوس کرتے ہوئے کہ مسلمان اقلیت میں ہیں اور ہندو اکثریت میں۔ اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کے لئے مذہبی تفریق کو کم رکھنے کی کوشش کی۔ اس طرح سے وہ خود بھی تبدیلی کے عمل سے گذرے۔علاءالدین خلجی نے پہلی مرتبہ اعلان کیا کہ حکومت کے انتظام ومیں وہ صرف ایک چیز کو مد نظر رکھتا ہے کہ رعایا کی فلاح و بہبود کے لئے کیا ضروری ہے۔ اس نے اپنے قاضی  مغیث کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ'میں یہ نہیں جانتا کہ میرے احکامات شرعی ہوتے ہیں یا غیر شرعی۔ جس چیز میں اصلاح دیکھتا ہوں اور جو کچھ بھی مصلحت وقت کے مطابق نظر آتا ہے اسکا میں حکم دے دیتا ہوں'۔ یہ مصلحت اندیشی اکبر کے زمانے میں اپنے عروج پہ پہنچی۔ جب اکبر کے دربار میں ہندءووں کو اعلی درباری عہدے ملے اور ان پہ  امتیازی ٹیکس ختم کئے گئے علاوہ ازیں انہیں فوج میں بھی شامل کیا گیا۔
تبلیغ اسلام  میں  صوفیاء اکرام کا بھی ایک اہم کردار رہا۔  جنہوں نے ہندو اور مسلمان کا امتیاز کئے بغیر سب لوگوں کو یکساں طور پر بلند تر روحانی زندگی کا پیغام دیا ان درویشوں نے عوامی دربار لگائے، عوام کی زبان میں شاعری کی اور محبت اور خلوص سے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر لیا۔ مولانا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں کہ
'اگر یہ کہنا صحیح ہے کہ ہندوستان کو غزنی اور غور کے بادشاہوں نے فتح کیا تو اس سے زیادہ یہ کہنا درست ہے کہ ہندوستان کی روح کو خانوادہ ء چشت کے روحانی سلاطین نے فتح کیا'۔
یہ صوفی ذہنی لحاظ سے وسیع المشرب تھے۔ چشتیہ، قادریہ، امدادیہ اور غوثیہ سلسلوں کے صوفیاء نے اس بات کی کوشش کی کہ تمام مذہبوں میں یک جہتی کے اصول تلاش کر کے ان میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔
  یہاں یہ پہلو بھی مد نظر رہنا چاہئیے کہ جن جگہوں پہ ذات پات کا نظام حاوی تھا وہاں اسلام زیادہ تیزی سے نہ پھیل سکا۔ جیسے شمالی ہندوستان، جہاں برہمن ازم شدت لیساتھ موجود تھا اور اس نے اسلام میں دلچسپی نہیں لی بلکہ مراعات یافتہ طبقہ ہونے کی وجہ سے محاذ آرائ اختیار کی۔ اسلام کو وہاں کامیابی ہوئ جہاں پہلے سے ہی بدھ مت اور جین مت کا رسوخ موجود تھا۔
اس طرح سے ہندوستان میں اشاعت اسلام میں حکومت کیساتھ ساتھ ہندوستان کے مذہبی، سیاسی، ثقافتی اور سماجی حالات کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔

جاری ہے

حوالہ جات؛
اردو ادب کی تحریکیں، مصنف ڈاکٹر انور سدید
المیہ تاریخ، مصنف، ڈاکٹر مبارک علی