Showing posts with label شدت پسندی. Show all posts
Showing posts with label شدت پسندی. Show all posts

Monday, September 3, 2012

چار ستمبر، یوم حجاب

ایک ساٹھ سالہ خاتون انتہائ غصے میں بتا رہی تھیں کہ وہ کسی مجبوری کی بناء پہ بس سے سفر کر رہی تھیں۔ بس والا اتنی تیز بس چلا رہا تھا اور مسافروں کو اتارنے کے لئے بھی بس آہستہ کرتا لیکن روک نہیں رہا تھا۔ یہ دیکھ کر انہوں نے اس سے کہا دیکھ بھال کر چلاءو۔ کیونکہ کچھ سال پہلے وہ چلتی بس سے گر کر اپنا ہاتھ تڑوا بیٹھی تھیں۔  اس پٹھان ڈرائیور نے انکی نصیحت پہ عمل کرنے کے بجائے ان سے کہا دوپٹہ سر سے اوڑھ کر بیٹھو۔ طیش میں انہوں نے بس ڈرائیور کو کہا  کہ تو کیا میرا باپ لگتا ہے۔ تیرا قصور نہیں، تیری ماں کا قصور ہے نہ اس نے اپنی عزت کرائ ہو گی نہ تجھے اسکی تربیت دی کہ تو کسی اور عورت کی عزت کرے۔ شاید اور کچھ بھی کہا ہوگا۔ خیر اسی وقت اس سے بس رکوائ اور اتر گئیں۔
یہاں ڈرائیور کی لسانی شناخت بتانی ضروری ہو گئ کہ اگر اردو اسپیکنگ ہوتا تو غصے میں کہتا' جاءو جاءو، ایسی نوابی ہے تو بس کے بجائے ٹیکسی سے سفر کیا کرو'۔ یہ ابھی ایک ہفتے پہلے کراچی میں پیش آنے والا واقعہ ہے۔
مجھے اس وقت کیوں یاد آیا؟
ابھی تفصیل سے بتاتی ہوں۔  چند دن پہلے میں ایک دفعہ پھر گوادر گئ تقریباً دس مہینے بعد۔ اس دفعہ مجھے ماحول میں ایک واضح تبدیلی محسوس ہوئ۔ اول تو ہری پگڑی والے لوگ دیکھے جو کہ موٹر سائکلوں پہ پھر رہے تھے۔ یہ تو میں پچھلی ایک پوسٹ میں بتا چکی ہوں کہ یہ جو گوادر کی دیواروں پہ مذہبی اجتماعات کی دعوتیں لکھی نظر آرہی ہیں۔ یہ کسی نئ سمت کا اشارہ کر رہی ہیں جو یقیناً مکران کے ماحول کو تبدیل کرے گا۔ اور اس دفعہ یہ تبدیلی واضح نظر آرہی تھی۔
کیونکہ پھر میرے ساتھ دو واقعات ہوئے۔
پہلا واقعہ دلچسپ ہے۔ ہوا کچھ یوں  کہ جس جگہ ہم رہائش پذیر تھے وہ جگہ سمندر سے چند قدم کے فاصلے پہ تھی۔
ساتھ ہی ایک پہاڑ ہے۔ میں جب بھی یہاں جاتی تھی تو اس پہاڑ کے ساتھ سمندر کنارے ضرور تنہا بیٹھتی کہ ایک دم مراقبے کا مزہ آجاتا۔ یوں معلوم ہوتا کہ میں زمین پہ نہیں بلکہ کائینات کے کسی لامتناہی نکتے سے زمین کو دیکھ رہی ہوں۔ پھر یہاں سے پتھرلیے فوسلز جمع کرتی اور گھر واپس آجاتی۔ گوادر میں یہ میری سب سے اہم اور بڑی عیاشی ہوتی۔ اسکے لئے میں ساڑھے سات سو کلومیٹر کا پر مشقت سفر کر کے یہاں آتی ہوں۔ اب یہ مشغلہ میری بیٹی کو بھی پسند آتا ہے۔
اس دن میرے ساتھ میری بچی، پالتو کتا اور مقامی بچے درجن بھر موجود تھے۔ ہم جلوس کی شکل میں پہاڑ کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ اگرچہ میری خواہش تو یہ تھی کہ یہ بچے ساتھ میں نہ ہوتے تاکہ تھوڑی دیر اپنے مراقبے کا مزہ لیتی۔  لیکن بہر حال بچے بہت زیادہ مشتاق تھے ساتھ چلنے کے۔ شاید اسکی ایک وجہ کتے کا ہمارے ساتھ ہونا بھی تھا۔ کتا بھی خوش تھا۔ بار بار تھوڑی دور تک دوڑ کر جاتا۔ اپنے پیشاب کی بو چھوڑتا اور پھر خوشی سے اچھلتا کودتا واپس آتا۔ پیشاب کی بو سے اسکے حصے کی زمین میں اضافہ جو ہو رہا تھا۔
راستے میں ایک صاحب نے قریب سے گذرتے ہوئے موٹر سائیکل روکی اور کہنے لگے۔ آپ اس طرح اکیلے نہ پھریں آجکل سیکیوریٹی کا مسئلہ ہے۔ میں نے اسکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا میں صرف پہاڑ کے ساتھ جا کر سامنے والی جگہ پر جا کر واپس آجاءونگی۔ نہ بستی کی طرف جاءونگی اور نہ یہاں سے زیادہ دور۔ مجھے بھی اس بات کا احساس ہے۔  وہ خاموش ہو کر واپس پلٹ  گیا۔
ابھی چند ہی گز طے کئے ہونگے کہ ایک صاحب موٹر سائیکل پہ آئے انکے پیچھے ایک گن بردار شخص بیٹھا ہوا تھا۔ میں ٹھٹھک کر رک گئ۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں جا رہی ہیں۔ میں نے انگلی کے اشارے سے بتایا کہ بس وہاں تک جا رہی ہوں۔ پھرمزید سوالات کے جواب دینے سے پہلے میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے۔  پتہ چلا کہ وہ پولیس سے تعلق رکھتا ہے۔ کس کے ساتھ آئ ہیں، کس جگہ رہ  رہی ہیں قسم کے سوالات کے بعد اس نے کہا کہ ہمیں اطلاع ملی کہ ایک انگریز عورت ادھر اکیلے پھر رہی ہے۔ مجھے ہلکی سی ہنسی آئ۔ آپ نے دیکھ لیا میں انگریز نہیں ہوں۔ ہاں وہ اس نے آپکے حلئے کو دیکھ کر کہا ہوگا۔ حلئے سے شاید اس کی مراد پیروں کے جاگرز اور سر کی ٹوپی ہوگی۔ دراصل یہ پسماندہ علاقہ ہے یہاں اس حلئے کو ہی انگریز سمجھ لیتے ہیں۔  بات یہ ہے کہ سیکوریٹی کا مسئلہ ہے آپ زیادہ دور تک نہ جائیں۔ میں نے اسے تسلی دی۔ میں بس سامنے ہی سے پتھرلے کر واپس آجاءونگی۔ یہاں کراچی میں پڑھنے لکھنے والے بچوں کو تحفے میں مجھے یہ پتھر دینا پسند ہیں۔
پھراس جگہ پہنچ کر ان بچوں کے ساتھ چند منٹ رک کر پتھر ڈھونڈھے اور جلدی ہی واپسی کا راستہ لیا کیونکہ میں نے دیکھا کہ وہ دونوں ایک چٹان پہ بیٹھے ہم لوگوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ ایسے میں میرے دل دھڑکا بھی کم ہوگا اور انکی ڈیوٹی بھی ختم ہوگی۔
اگلے دن گھر کے سامنے ساحل پہ بچی کے ساتھ چلی گئ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ماضی میں یعنی تین چار سال پہلے میں ایک ڈیڑھ میل تک تنہا چہل قدمی کر چکی ہوں۔ مقامی لوگوں سے گپ شپ کی اور کبھی کوئ مسئلہ نہیں ہوا۔ اس دن جب میں اپنی بچی اور محلے کے دیگر بلوچی بچوں کے ساتھ اپنے گھر واپس آنے لگی تو ایک موٹر سائیکل قریب سے گذری جس پہ دو افراد بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے موٹر سائیکل کو آہستہ کیا۔ میں کچھ ہوشیار ہوئ۔ پھر ان میں سے ایک نے نفرت بھری نظر مجھ پہ ڈال کر کہا جاءو جا کر کچھ پہنو۔
قارئین کی تسلی کے لئے میں اس وقت تیراکی کے مغربی لباس میں نہیں تھی۔ بلکہ پاکستانی سوتی شلوار قمیض پوری آستین کا پہنے ہوئے تھی اور دھوپ سے بچنے کے لئے ڈھائ گز کے سوتی دوپٹے کو سر سے لپیٹ کر منہ بھی اطراف سے ڈھکا ہوا تھا۔ سو میں نے حیرانی سے انکی طرف دیکھا اور پھر غور کیا کہ وہ کچھ کیا ہو سکتا ہے جو میں پہنوں۔ سمجھ آیا کہ برقعہ قسم کی چیز ہی اب اس کے بعد بچ جاتی ہے۔
  دس سال سے یہاں آرہی ہوں اور اتنے لمبے عرصے کے تجربے کے بعد میں اس علاقے کو کافی بہتر سمجھتی تھی۔ مقامی لوگ مچھیرے ہیں جو اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ وہ خود کیسے بھی رہیں دوسروں کے کام میں مداخلت نہیں کرتے۔ حتی کہ عین اس وقت جب کراچی میں کسی ہوٹل میں بیٹھ کر سر عام شراب نہیں پی جا سکتی تھی یہاں ایسی کوئ منادی نہ تھی۔  اس وقت میں ساحل پہ تنہا بیٹھ کر گھنٹوں سمندر کی آتی جاتی لہریں دیکھا کرتی تھی۔ کراچی  کی مٹی سے جنم لینے کے باعث سمندر کی محبت میرے اندر ہمیشہ مءوجزن رہی ہے۔
 یہ وہ وقت تھا جب  یہاں کوئ مدرسہ  نہ تھا۔ پھر کوسٹل ہائ وے کی تعمیر کے ساتھ ہی زمین کے ایک بڑے رقبے پہ ایک بڑا مدرسہ وجود میں آگیا۔ اور اب جیسے جیسے یہاں مذہبی ماحول کو شہہ مل رہی ہے ویسے ویسے یہ شدت پسندی ماحول کا حصہ بن رہی ہے۔ معاشرے کے کمزور طبقات ہمیشہ شدت پسندی کا پہلا نشانہ ہوتے ہیں۔ تاکہ دوسرے لوگ ان سے سبق سیکھیں۔ خواتین اس لئے سب سے پہلا نشانہ بنتی ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گوادر میں یہ مذہبی شدت پسندی کون متعارف کرا رہا ہے؟ کیا بلوچستان کے مسائل کا حل مذہبی شدت پسندی کو ہوا دینے میں ڈھونڈھاجا رہا ہے؟
حیرت ہوتی ہے کہ گوادر میں ایک اچھا ہسپتال موجود نہیں ہے۔ اسکی وجہ سے عورتوں کو کس قدر مصائب کا سامنا ہے اسکا اندازہ اس عورت سے لگائیں جس نے بتایا کہ ابھی چند مہینے پہلے اسکی بچی پیدائیش کے دوران مر گئ۔ کوئ ماہر ڈاکٹر نہ تھا کہ وہ زندہ پیدا ہو پاتی۔ کسی ماہر ڈاکٹر کے موجود نہ ہونے سے وہ لیبر میں اتنا زیادہ عرصہ رہی کہ  اسے فسچولا ہو گیا۔ شوہر بھائ کے پاس چھوڑ گیا وہاں سے وہ کراچی کے جناح ہسپتال پہنچی جہاں ایک مہینہ علاج میں ناکامی کے بعد اسے کراچی کے مضافات میں واقع، کوہی گوٹھ کے فسچولا  ہسپتال بھیجا گیا وہاں وہ تین مہینے رہی اسکے تین آپریشن ہوئے  اور ابھی بھی بالکل تندرست نہیں ڈاکٹر نے اسے تین مہینے بعد پھر بلایا ہے۔
حیرانی ہوتی ہے ناں کے جس شہر میں عورتیں محفوظ طریقے سے بچہ نہ پیدا کر سکیں وہاں عورتوں کو پردے کی تبلیغ کرنے والے پیدا کئے جائیں۔ ایک بڑا مدرسہ بنانے والے تو موجود ہوں لیکن ہسپتال کا کوئ انتظام نہ ہو۔ یہی نہیں یہاں کوئ ڈھنگ کا اسکول موجود نہیں ہے۔ لیکن کوسٹل ہائ وے پہ جاتے ہوئے سنسان پہاڑوں پر خوبصورت ٹائلز کی بنی ہوئ بڑی مساجد نظر آئیں گی جو کہ پچھلے دو سالوں میں عرب بھائیوں کی فیاضی سے تعمیر ہوئ ہیں۔ اتنے سنسان علاقوں میں ان مساجد کا کیا کام؟
 ایک صاحب کا کہنا ہے کہ عرب اسکول کی تعمیر کے لئے پیسے خرچ نہیں کرتے وہ مسجدیں اور مدرسے بناتے ہیں بہت زیادہ فیاضی اگر کبھی دکھائ تو شاید ہسپتال بنا دیں لیکن اسکول، نو وے۔
عرب ہمارے ملک میں اسکے علاوہ کس چیز پہ پیسہ خرچ کرتے ہیں؟
اس کا اندازہ اس خبر سے ہوگا کہ ایک عرب شیخ ایک بلوچ کو پیسے دے رہے ہیں کہ وہ سو بچوں کو پیدا کرنے کا ریکارڈ قائم کر کے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام ڈال لے۔ اس سلسلے میں وہ بلوچ تیئیس شادیاں کر چکا ہے اسکے ترانوے بچے پیدا ہو چکے ہیں۔ ہر تھوڑے دنوں بعد ایک بیوی کو طلاق دے کر ایک اور شادی کر لیتا ہے۔ طلاق یافتہ بیوی کو وہ عرب پیسہ دیتا ہے کہ وہ اپنی باقی زندگی عسرت میں نہ گذارے۔
  اس بلوچ کو یہ یاد نہیں کہ اسکا کون سا بچہ کس بیوی سے ہے اسکے لئے اسے اپنی ڈائری دیکھنی پڑتی ہے۔ اور نہ اسے یہ معلوم ہوگا کہ اسکا کوئ بچہ پڑھتا لکھتا بھی ہے یا نہیں۔ یہ شخص پہلے فوج میں رہ چکا ہے اور ٹانگ سے معذور ہونے کے بعد وہاں سے نکل آیا۔ ہو سکتا ہے آپ میں سے کچھ کو اس سے کراہیئت آئے اور کچھ ہنس دیں ۔ لیکن ایک دفعہ پھر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ مسلمان مرد ، اپنی عورتوں کو کیا سمجھتے ہیں؟
خیر ہم موضوع کی طرف واپس پلٹتے ہیں۔ کراچی میں آجکل جماعت اسلامی کے زیر اہتمام چار ستمبر کو یوم حجاب منانے کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں۔ شہر میں ہر جگہ خواتین کو حجاب کی تلقین کے بینرز ملیں گے۔ یہی نہیں روزنامہ جنگ کے اس  دفعہ کے اتوار میگزین میں بھی، میں نے دیکھا کہ یوم حجاب کے حوالے سے چار مضامین موجود ہیں۔ گوادر میں میرے ساتھ پیش آنے والا واقعہ آپ پڑھ چکے۔ ملک ہی نہیں باقی دنیا میں بھی مسلمان مردوں کی شدت پسندی کو ہوا دینے والی یہ مذہبی جماعتیں ہیں اور کوئ نہیں۔ شاید اسی لئے بنگلہ دیش میں سیاسی جماعتوں پہ پابندی لگا دی گئ ہے کہ وہ اپنے نام کے ساتھ کوئ مذہبی نام استعمال نہیں کریں گی۔
اس بات کو خآطر میں لائے بغیر کہ ہمارے ملک میں عورتوں کی حالت کتنی دگرگوں ہیں۔ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام منائے جانے والے اس طرح کے یوم مجھے تو مردوں کو مزید شدت پسندی کی ترغیب دیتے ہوئے ہی لگتے ہیں۔ جس وقت وہ یہ پیغام دیتے ہیں کہ حجاب عورت کی عزت کا ضامن ہے اس وت وہ مردوں کو بین السطور یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ اگر کوئ عورت بے حجاب ہے تو اسکی عزت پہ حملہ کوئ بری بات نہیں۔ اسکے ساتھ یہی ہوگا، کیونکہ مذہب اسکے بارے میں یہ پیشن گوئ کر چکا ہو۔ چاہے مذہب نے اس بات کو نکتہ بھی نہ بنایا ہو۔
بالکل ایسے ہی وہ انفوگرافکس جس میں مردوں سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو کس لباس میں دیکھنا پسند کریں گے۔ اور انتخاب میں شدید برقعے سے لیکر جینز ٹی شرٹ میں ملبوس خواتین دکھا دی جاتی ہیں۔ ایسے جیسے بازار میں آپ مختلف برانڈز کے کیچپ دیکھ رہے ہوں۔ پھر انہیں غیرت کے طعنے دے کر کہا جاتا ہے کہ دراصل تمہاری بیوی کو کس قدر حجاب میں ہونا چاہئیے۔ چاہے وہ اسکی اہلیت نہ رکھتے ہوں کہ اپنے خاندان کے معاشی مسائل حل کر سکیں لیکن ان میں یہ اہلیت ضرور پیدا کی جاتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کے لباس پہ غضب کی نظر رکھیں۔  
جماعت اسلامی سمیت، ہر مذہب کا ڈھنڈورہ پیٹنے والی جماعت سے ایک ہی سوال ہے کہ وہ کبھی خواتین کے حالات میں بہتری کے لئے بھی کچھ کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا مردوں کو خواتین کے نام پہ ہی غیرت دلاتے رہیں گے۔  معاشرے کو خواتین کے لئے مزید غیر محفوظ بنانے کے فول پروف انتظامات کرتے رہیں گے۔ یہ ملک جو پہلے ہی مسائلستان بنا ہوا ہے کیا اسکے مسائل میں وہ مثبت طریقے سے کوئ کمی لا سکتے ہیں۔ کیونکہ فلسفہ ء جہاد سے لے کر مرد و خواتین کی جہالت تک ہر ایک میں  وہ برابر کے حصے دار ہیں۔ 
آخری اہم سوال لوگوں کو خدا کے قہر اور عذاب سے ڈرانے والے کیا خود خدا کے عذاب اور قہر سے ڈرتے ہیں؟
 کیونکہ انکی پھیلائ ہوئ شدت پسندی کی وجہ سے جتنی انسانی جانیں جاتی ہیں اسکے ذمہ دار وہ ہوتے ہیں۔ جب کسی عورت پہ تیزاب پھینکا جاتا ہے، جب کوئ عورت کاروکاری کا شکار ہوتی ہے، جب کسی عورت کو اس لئے نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ انکے متعارف کرائے گئے فلسفہ ء حجاب پہ یقین نہیں رکھتی۔ ہر  ہر صورت میں وہ عذاب کے مستحق ہوتے ہیں اور ہونگے۔  خدا کے عذاب سے بچنے کے لئے وہ خود کیا کریں گے؟ کیونکہ جو تم کروگے وہ ہم کریں گے۔ 

Tuesday, October 25, 2011

سوءر کے بال

انکی باتوں کا سلسلہ جاری تھا۔ اور اس میں فل اسٹاپ آنے کی جلد امید بھی نہیں کی جا سکتی تھی کہ معاملہ انکے شوہر اور شوہر کے گھر والوں کا تھا۔ میں انہیں دبے الفاظ میں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اس وقت جبکہ آپ کینیڈا میں ہیں اور شوہر کے گھر والے پاکستان میں۔ آپ اپنے گھر پہ اکیلے راج کر رہی ہیں۔ شوہر کے سب بہن بھائ یہاں سے ہزاروں میل دور اپنی دنیا میں مگن ہیں انکے اوپر انہیں کچھ خرچ بھی نہیں کرنا پڑتا تو وہ کیوں انکے تذکرے سے اپنے گھر کی فضا مکدر کرتی ہیں۔ کبھی کبھی شوہر کو محض شوہر نہ سمجھا کریں بلکہ محبوب دلنواز سمجھ کر بھی آءو بھگت کیا کریں اس سے تعلقات پہ کافی مثبت اثر پڑتا ہے لیکن ہر دفعہ وہ ماضی سے کوئ قصہ نکال کر اسکا پوسٹ مارٹم کرنے بیٹھ جاتیں۔
اسی گفت و شنید میں جو کہ میرے لئے گفت کم اور شنید زیادہ تھی، اچانک ٹی وی لاءونج سے بچوں کے جھگڑنے کی آواز آئ۔ پھر مشعل انتہائ ناراض حالت میں وہاں سے برآمد ہوئیں۔ 'میں کارٹون دیکھ رہی تھی کہ ریان نے ٹی وی بند کر دیا'۔ میں نے سوالیہ نظروں سے اور ریان کی ماں نے غصیلی نظروں سے ریان کو دیکھا۔ جسکی تاب نہ لاتے ہوئے ریان نے ترنت جواب دیا،'ٹی وی پہ گندہ کارٹون آرہا تھا۔ میں نے بند کر دیا'۔  کینیڈا میں بچوں کا بڑا مشہور چینل ہے ٹری ہاءوس، مجھے حیرت ہوئ کہ ایسا کون سا گندہ کارٹون ہے جو اس چینل سے آرہا ہے۔ 
بچے کی اس بات پہ ماں نے اطمینان کا سانس لیا۔ 'وہ دراصل یہ گورے تو ایسے غلیظ ہیں کہ انہوں نے پگز تک پہ کارٹونز بنائے ہوئے ہیں۔ پگز کا پورا خاندان اس کارٹون میں موجود ہے۔ جب ٹی وی پہ وہ کارٹون آتا ہے تو ہم ٹی وی بند کر دیتے ہیں۔ اور ریان کو بھی یہی ہدایت ہے اس لئے اس نے بند کر دیا'۔ پگز یعنی سوءر۔
میں نے زبان کھولنے کی کوشش کی اور پھر خاموش ہو گئ۔ رات ہی ان سے سیدوں کے اعلی ہونے پہ کچھ زیادہ بات ہو گئ تھی۔  اس وقت دوبارہ دینی بحث میں جانے کا موڈ نہیں تھا۔ میں انکے یہاں چند دن کے لئے مہمان تھی اور پہلے کچھ خاص علیک سلیک بھی نہ تھی۔
لیکن یہ سوال اپنی جگہ ذہن میں موجود  کہ قرآن میں سوءر کا گوشت کھانا منع ہے۔ یعنی حلال نہیں حرام ہے۔ لیکن اسکے علاوہ کہیں ایسی کوئ بات نہیں کہی گئ کہ سوءر کا دیکھنا بھی منع ہے۔ یا یہ بتانا منع ہے کہ سوءر کے بھی ماں باپ اور بچے ہوتے ہیں۔ در حقیقت وہ بھی اسی فضا میں سانس لیتے ہیں جس میں ہم سانس لیتے ہیں تو کیا یہ ساری فضا غلیظ ہو گئ ہے۔ اب ہم کیسے سانس لیں گے۔ 
پھر یہ کہ گوشت تو شیر اور بھیڑئیے کا بھی کھانا منع ہے یعنی حرام ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ان سے منسوب حکائیتیں تک بچوں کو سنائ جاتی ہیں۔ آخر سوءر کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں؟ آپ نہ کھائیں یہ الگ بات ہے تقریباً تمام مسلمان سوءر کا گوشت نہیں کھاتے وہ بھی جو شراب پی لیتے ہیں۔  لیکن ایسا کیا کہ اسکا کارٹون تک نہ دیکھیں۔
اکثرہمارے ملک میں موجود شدت پسندی کی جڑیں امریکہ، انڈیا، ایران اور سعودی عرب سے جوڑی جاتی ہیں۔ لیکن مشتبہ قوتوں میں ، میں ایک قوت اور شامل کرنا چاہونگی اور وہ ہیں مغربی ممالک کی شہریت اختیار کرنے والے پاکستانی۔ جب سے پاکستانی ان مغربی ممالک میں جا کر آباد ہوئے ہیں ان کی اکثریت نے پاکستان کو اپنے مذہبی خلاء کو پورا کرنے کی جگہ سمجھ لیا ہے۔ نہ صرف وہاں کی ہر تشنگی کو یہاں مٹاتے ہیں۔ جیسے وہاں کے بے حیاء ماحول میں رہ کر انکا دل شدت سے چاہتا ہے کہ پاکستان میں کاش لڑکیاں حجاب کے ساتھ پیدا ہوں۔ کیا سائینس اس سلسلے میں جینیٹک انجینیئرنگ کے کمال دکھا سکتی ہے؟ وہ پوچھنا چاہتے ہیں۔ 
اسی طرح وہاں رہ کر مذہب میں باریکیاں نکالنے کا بڑا شوق پیدا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ، وہاں دو بنیادی طبقے پیدا ہو جاتے ہیں ایک وہ جو وہاں کے رنگ میں ان سے زیادہ رنگ جاتا ہے اور دوسرا وہ جو پہلے سے بھی زیادہ مذہبی ہو جاتا ہے۔ اور ہر طرح کے مذہبی وہم انہیں تنگ کرنے لگتے ہیں۔ درمیانی راہ چلنے والے  نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
مثلاً وہیں ایک پاکستانی خاتون کو میں نے اپنے شوہر سے یہ کہتے سنا کہ اسلام میں گھر کے کام بیوی پہ فرض نہیں اگر کرے تو مرد پہ احسان ہے۔ نہ ہی اسکے والدین کی خدمت اسکا فرض ہے۔ اسلام میں بیوی کا فرض ہے کہ بچے پیدا کرے اور شوہر کی ضرورت پوری کرے۔
لیجئیے اسلام کا یہ ورژن، اگر وطن عزیز میں رہنے والی خاتون بتاتیں تو شوہر بعد میں پہلے سسرال والے انہیں انکی اوقات یاد دلا دیتے۔ کن ہواءوں میں ہیں اسلام میں اسی لئے مرد کے لئے چار شادیاں رکھی گئ ہیں۔
خیر ہم لوٹ کر دوبارہ سوءر پہ آتے ہیں۔ یہاں پاکستان میں تو کچھ لوگ سوءر کا نام بھی منہ سے نہیں نکالتے اور کہہ دیتے ہیں وہی جانور جو گُو کھاتا ہے۔ اگر وہ والا محاورہ کہنا ہو کہ فلاں کی آنکھ میں تو سوءر کا بال ہے تو اسکی جگہ کہتے ہیں اسکی آنکھ میں تو اُسکا بال ہے۔ جو پوچھیں کس کا؟ تو جواب ملے گا وہی جو گوُ کھاتا ہے۔ کچھ لوگوں کو سوءر کے بجائے خنزیر کہنا زیادہ مناسب لگتا ہے۔ سوءر کہتے ہوئے زبان کے آگے خندق آجاتی ہے لیکن خنزیر سے روانی رہتی ہے۔ مجھے اس ترجیح کی وجہ نہیں معلوم۔
 ایک عزیز بزرگ آج سے تیس سال پہلے کا قصہ سنا رہے تھے کہ وہ دبئ میں تھے اور بچوں کے ایک اسکول میں پڑھاتے تھے۔  اسکول لائیبریری کے لئے باہر سے کتابیں منگوانے کے لئے فہرست طلب کی گئ مختلف اساتذہ نے اس میں کتابوں کے نام ڈال دئیے۔ اور اس طرح سے باہر سے کتابیں آئیں لیکن ان میں سے کچھ کتابوں کو فوری طور پہ واپس بھجوایا گیا۔ وجہ اسکول کی عرب ایڈمنسٹریشن نے یہ بتائ کہ کتابوں میں سوءر کی تصویریں ہیں۔
بس جہاں اور اوٹ پٹانگ سوالات ذہن میں آتے ہیں ان میں  یہ بھی چلے آئے کہ پاکستان کے دیہاتوں میں سوءروں کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ شہر کے بچے اگر سوءر دیکھناچاہیں کہ کیسا ہوتا ہے تو کیا کریں؟ کوئ سر پھرا بچہ یہ پوچھے کہ سوءر کے بچے بھی کیوٹ ہوتے ہیں، انکی ماما بھی انکو پیار کرتی ہیں تو کیا اسکا جواب یہ دیں  کہ سوءر کے بال بچوں سے تمہیں کیا، وہ تو خود مارے شرمندگی کے ایکدوسرے سے منہ چھپائے پھرتے ہیں کہ پیدا کیوں ہو گئے۔

Sunday, October 16, 2011

جنوبی پنجاب سے ایک کہانی

ادب دنیا کی کسی بھی زبان میں تخلیق ہو اسکی سب سے اہم خوبی یہ ہوتی ہے یا ہونی چاہئیے کہ وہ اپنے عہد کی نمائیندگی کرتا ہے اسکے بغیر ادب مردہ ہے، بے جان ہے، بے اثر ہے اور محض تفریح ہے۔
آجکا پاکستان ، بم، بارود،  بے حسی، افلاس اور شدت پسندی کے دھند میں کچھ اس طرح چھپ گیا ہے کہ یہ دھند اب لکھنے والے ہی ہٹا سکتے ہیں۔ وہ لکھنے والے جو خوفزدہ ہیں۔  لکھنے والا اگر خوف زدہ ہو تو وہ کیا نوید دے سکتا ہے، وہ کیا جدو جہد پیدا کر سکتا ہے، وہ کیا انقلاب لا سکتا ہے، وہ کیا سوچ پیدا کر سکتا ہے۔  لیکن ہم اب بھی پر امید ہے، ہر خوف اپنی انتہا پہ بے خوفی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
پاکستان کی موجودہ فضا میں ، پنجاب  میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں خاصی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ وہ صوبہ ہے جو پاکستان کی ساٹھ فی صد آبادی کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ وراث شاہ، بلھے شاہ، اقبال، فیض، عدم، ثریا ملتانیکر، اقبال بانو، نورجہاں، ملکہ ء پکھراج، احمد ندیم قاسمی، منشا یاد اور نجانے کتنے ہی تخلیق کاروں کو، فنکاروں کو جنم دینے والی یہ زمین تمام تر نا مساعد حالات اور بڑھتی ہوئ شدت پسندی کے باوجود ابھی بھی بنجر نہیں ہوئ۔ اس زمین میں اب بھی ہیر کی بغاوت موجود ہے اور سوہنی کی استقامت۔
گذشتہ دنوں، میری نظر سے محمد اقبال دیوان کی لکھی ہوئ کہانی 'شہر کو سیلاب لے گیا' گذری۔ کہانی جنوبی پنجاب کی معیشت اور معاشرت دونوں سے تعلق رکھتی ہے۔ کہانی انقلاب کے ان نعروں سے تعلق رکھتی ہے جو کبھی مذہبی شدت پسند لگاتے ہیں، کبھی انکے مخالفین لگاتے ہیں، کبھی سیاستدان لگاتے ہیں۔ سب اپنے مفاد کے وقت ان نعروں میں پناہ لیتے ہیں۔ کیا انقلاب نعروں پہ سوار ہو کر آتا ہے؟ جنوبی پنجاب میں انقلاب کے ان نعروں کا پس منظر کیا ہے؟
کہتے ہیں ہر جھگڑے کی بنیاد زر ، زمین یا زن ہوتی ہے۔ اقبال دیوان کی یہ کہانی موجودہ پاکستان میں ان تینوں عوامل کو کس طرح اکٹھا کرتی ہے اسکے لئے آپکو یہ طویل کہانی پڑھنی پڑے گی ۔ جو کہ آصف فرخی صاحب کے مرتب کردہ ادبی پرچے دنیا زاد میں شائع ہوئ ہے۔ اسکے پبلشر ہیں شہرزاد۔ دنیا زاد کے اس حصے کا نام ہے جل دھارا، حصے کا نمبر ہے انتیس۔
کہانی کے کچھ صفحات آپکی دلچسپی کے لئے اسکین کئے ہیں۔  تو آئیے پڑھتے ہیں۔  اس زمین کے نام جس کے باسیوں کے لئے ایک ہی پیغام ہے۔ مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا۔











نوٹ؛ بہتر طور پہ دیکھنے کے لئے تصویر پہ کلک کریں۔

اس بلاگ پہ دنیا زاد میں شائع شدہ مزید تحاریر کے لئے یہ لنکس دیکھ سکتے ہیں۔

نیا پاکستان، آدھا طالبان
زر، زمین، زن
خدا، انسان کا ہتھوڑا
ایک ادیب کے مشورے

Thursday, July 14, 2011

حسد

آجکل کینیڈا میں موسم گرما ہے۔ لیکن مجھے تو بہار کا موسم لگتا ہے۔ ہر جگہ  طرح طرح کے پھول ، قطار اندر قطار، سرخ، اودے، نیلے پیلے ہر طرح کے پیرہن میں۔ ایک دو نہیں، ایک پودے پہ درجنوں گلاب۔ سڑک کنارے بچھی گھاس میں بھی ننھے ننھے پھول مسکراتے جھانک رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں ہم یہاں بھی ہیں۔
گھروں کے آگے سجی ہریالی تو سمجھ میں آتی ہے کہ گھر والوں کاذوق اور محنت ہے لیکن عام  سڑکوں پہ یہ محنت کون کرتا ہے۔ معلوم ہوا کہ شہری حکومت کی طرف سے پھولوں کے گملے روزانہ کی بنیاد پہ سجانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ایک ٹرک اپنے حصے کے گملے لے کر چلتا ہے اور انہیں انکے مقررہ مقام پہ رکھتا جاتا ہے یوں ایک عام پول پہ بھی پھولوں کے گچھے لہراتے نظر آتے ہیں۔ ہم پھولوں کے سوداگر ہیں اور سودا سچا کرتے ہیں۔
سوچ سکتے ہیں کہ امیر ملکوں کے پاس اتنے پیسے بچ جاتے ہیں کہ ان اللے تللوں پہ بھی خرچ کئیے جا سکیں۔ لیکن نیت کی بھی بات ہے۔ نیت صاف منزل آسان۔
شاید یہی وجہ ہے کہ کینیڈا کا شمار دنیا کے ان پانچ ممالک میں ہوتا ہے جہاں لوگ خوش باش اور خوش مزاج بھی ہیں۔ یہ سب خوشیاں، خوشحالی اور معاشرے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم سے جڑی ہیں۔ ایک بھوکا ننگا، فکروں کا مارا، بم اور راکٹ لانچر کے سائے میں جینے والا شخص کیا خوش مزاج ہوگا اور خوش باش۔
اس معاشرے میں بھی لوگ کے درمیان دولت کا فرق موجود ہے۔ وہ لوگ جو کم کماتے ہیں انہیں حکومت کی طرف سے بے شمار رعائیتیں حاصل ہوتی ہیں۔ مثلاً بچوں کے لئے زیادہ وظیفہ۔ اس طرح انکی کم آمدنی کو پورا کیا جاتا ہے۔ جتنی آمدن زیادہ ہوتی ہے ٹیکس بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ ایسا  نہیں ہوتا کہ آپ فارم ہاءوس میں محل بنا کر رہیں اور یہ کہہ کر ٹیکس نہ دیں کہ یہ تو فارم ہاءوس ہے۔ اور پاکستان کی طرح یہ بھی نہیں ہے کہ ٹیکس کا بوجھ صرف مڈل کلاس تنخواہ دار یا کاروباری طبقہ اٹھائے، قبیلوں کےسردار گلچھرے اڑائیں، غریب قسمت پہ شاکر ، معاشرے کے انصاف  اور بندوں کی کارکردگی سے مطمئن، اپنے گردے بیچے یا خودکشی کرے۔
بے روزگار افراد کو حکومت کی طرف سے وظیفہ ملتا ہے۔ بے گھر افراد کے لئے بھی شیلٹر ہاءوس موجود ہیں۔ اسکے باوجود لوگ بھیک مانگتے نظر آ سکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے وظیفے کی رقم  کو نشے پانی پہ اڑا دیتے ہیں۔ بھیک مانگتے ہیں اور پھر کسی دن خودکشی کر لیتے ہیں۔ بھیک مانگنے والی قوموں کی داستان بھی اس سے مختلف نہیں ہوتی۔
خواتین اسکارف پہنے بھی نظر آتی ہیں اور منی اسکرٹ پہنے بھی۔ لیکن کینیڈیئنز کو تو چھوڑیں۔ وہ تو ہیں ہی بے حیا۔ ہمارے پاکستانی دیسی بھائ بھی یہ سب دیکھنے کے باوجود لب سیئے رہتے ہیں۔ یہ نہیں کہتے کہ ٹانگیں ڈھک لو دوپٹہ پہن لو۔ جس کا دل زیادہ جلتا ہے وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑا کر رہ جاتا ہے ۔ انہیں میں سے شاید کچھ لوگ انٹر نیٹ پہ جا کر پاکستانی خواتین کو اخلاقی پاسداریوں کا درس دیتے ہیں، اس بات پہ افسوس کرتے ہیں کہ پاکستان میں اب تک شریعت کا نفاذ کیوں نہیں ہوا اور پھر دوبارہ کسی شاپنگ مال میں جا کر مغرب کی بے حیائ کے چشم دید گواہ بنتے ہیں۔
کیا میں  وطن کو یاد کرتی ہوں۔
شاید نہیں، بس جب ٹی وی دیکھتی ہوں تو یاد آتا ہے۔ مثلا ان دس دنوں میں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں سنا کہ کسی خاتون کے ساتھ اجتماعی زنا بالجبر کا واقعہ پیش آیا ہو۔ لیکن ابھی ایکدن پہلے ہی ٹی و ی سے خبر سنی کہ ویہاڑی ایک بارہ سالہ لڑکی کو اس سانحے سے گذرنا پڑا۔  مردوں کی کسی ٹولی نے کسی خاتون کو چوک پہ برہنہ نہیں کیا۔ لیکن یہ خبر بھی دس دن پہلے وطن سے ہی ملی۔ خیر، اسکی وجہ یہ شاید مغرب کی بے حیائ ہی ہوگی۔

 مجھے اپنے اندر بھی خاصی تبدیلیاں محسوس ہوتی ہیں۔ مثلاً میں اور میری بچی روزانہ قریبی پارک جا کر اسکول ٹائم کرتے ہیں۔ اس وقت پارک میں کوئ نہیں ہوتا۔ لیکن میں خاصی بے خوف رہتی ہوں۔  اسی بے خوفی کی وجہ سے میں نے آجکل اپنے سونے کے کچھ زیورات بھی پہنے ہوئے ہیں۔  مجھے اپنے ہینڈ بیگ میں موجود پیسوں کی بھی فکر نہیں ہوتی۔ خدا جانے میں آجکل اتنی بہادر کیوں ہو گئ ہوں۔
 سنگین نامعلوم حالات کے پیش آجانے کے اندیشے سے دل  ہر وقت عام رفتار سے زیادہ دھڑکتا رہتا تھا۔ وہ بھی خاصہ سنبھلا لگتا ہے۔ گھر کے لوگ دیر سے آتے ہیں تو یہ خیال تک نہیں آتا کہ ٹی وی کھول کر شہر کے حالات جان لیں۔ یہاں زیادہ تر پاکستانی کینیڈا یا ٹورنٹو کے حالات سے با خبر رہنے کے بجائے پاکستانی چینلز دیکھتے رہتے ہیں۔
اور پھر ہم سے پوچھتے ہیں پاکستان کب رہنے کے لائق جگہ بنےگا۔
ادھر ایک ساتھی نے کہا کہ پاکستان سے آنے والی خبروں  کوسن کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا کہ اس پہ افسوس کیا جائے یا ہنسا جائے۔ ایک خبر ملی کہ لوگوں نے دو ڈاکوءوں کو پکڑ کر اتنی پٹائ لگائ کہ پولیس کو آ کر چھڑانا پڑا۔ لیجئیے ساری دنیا میں پولیس کو ڈاکوءووں سے لوگوں کو بچانا پڑتا ہے ہمارے یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ تازہ واقعہ ، کراچی میں کمشنری نظام بحال ہونے کی خوشی میں شاہی سید صاحب نے دعوت کا اہتمام کیا اور اس میں جناب ذوالفقار مرزا سے بہ اصرار تازہ کلام کی فرمائیش کی گئ۔ انہوں نے اپنے مفاہمتی بھائ کے اصرار پہ ایسا پر اسرار، سحر ناک الفاظ کا جادو پھونکا کہ  پندرہ انسانوں نے اپنی قربانی پیش کر دی۔ اب آپ بتائیے اس پہ ہنسا جائے یا رویا جائے۔ 
میں پاکستانی ذہن کے ساتھ جواب دیتی ہوں۔ آپ لوگ کینیڈا کی خبریں کیوں نہیں دیکھتے۔ جواب ملتا ہے۔ یہاں کی خبریں بھی کوئ خبریں ہوتی ہیں۔ نہ گولی، نہ دستی بم، نہ راکٹ لانچر نہ لاشیں نہ ان میں وہ تخلیقی جوہر موجود کہ  ان سب چیزوں سے بھی لطیفے بنا لیں۔
پھر بھی، یہ کوئ بات نہیں کہ اب اپنے جنمی ملک واپس جانے کا ارادہ نہیں پھر بھی وہاں کےمعاملات کی کرید میں رہیں  وہ بھی ایسی کہ اس سے ہماری اور بد تری سامنے آئے۔
یہ پاکستانی ، اپنی مرضی سے یہاں ہجرت کر چکے ہیں ۔ اس ہجرت پہ افسوس کرتے ہیں مگران میں سے شاید ہی کوئ پلٹ کر واپس آئے۔  ایئر پورٹ پہ ایک خاتون مجھ سے کہنے لگیں کہ عرصہ ء پانچ سال کے بعد تین ہفتے کے لئے پاکستان آئ تھی۔ خدا کا لاکھ شکر ادا کرتی ہوں کہ بر وقت پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
ہمم،   مجھے لگتا ہے کہ میں حاسدی بھی ہو گئ ہوں، اور کسی ایک شخص سے نہیں پورے ملک سے حسد میں مبتلا ہوں۔ کیا اسکی وجہ کینیڈا کے پولز پہ لہرانے والے پھولوں کے گچھے ہیں،   شاہی سید کی دعوت عام، ذوالفقار مرزا کا تازہ کلام یا ایئر پورٹ پہ ملنے والی خاتون ہیں۔ 

Friday, June 17, 2011

زر، زمین، زن

کہتے ہیں  دنیا میں تمام جھگڑوں کا باعث تین چیزیں ہیں۔ زر، زمین اور زن۔ مجھے نہیں معلوم کہ نظریاتی اور مذہبی جھگڑے انکے درمیان کہاں فٹ ہوتے ہیں۔ اس لئے ممکن ہے کہ یہ مقولہ، معاشرتی جھگڑوں پہ زیادہ جچتا ہو۔ 
آپ میری اس رائے سے اختلاف کریں یا انکار، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ جھگڑے اپنی رفتار سے جاری ہیں اور جاری رہیں گے۔ آج ایک وجہ کو ختم کریں کل کسی اور نام سے اٹھ کھڑے ہونگے۔ اس لئے عقلمند لوگ، پرانے جھگڑے نہیں نبٹاتے۔  یہ جتنے پرانے ہوں، اتنی ہی مہارت سے لٹکائے رکھے جا سکتے ہیں۔ یوں بہت سے لوگوں کی دانش اور مہارت کا سکہ جما رہتا ہے۔ اگر پرانے جھگڑے  فی الفور نبٹا دئیے جائیں۔ تو ہر نئے جھگڑے پہ نئ مہارت حاصل کرنی پڑے گی۔ اس سے ارتقاء کی رفتار بڑھ جانے کا اندیشہ ہوگا۔ جس سے نئ مخلوقات سامنے آئیں گی۔ وہ دعوی کریں گی کہ یہ  جھگڑا ہمارا ہے اور ہم اسے بہتر طور پہ حل کر سکتے ہیں۔ لیجئیے  پھر نسلی تفاخر کی جگہ بننا مشکل ہو جائے گی۔ اس طرح، معاشرے کے تارو پود بکھر جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے۔
تارو پود کے بکھرنے  سے ، غریب، ترقی پذیر معاشروں کو سب سے زیادہ ڈر لگتا ہے۔ کیونکہ ان تاروں کے بکھرنے میں  تبدیلی کا کرنٹ بہتا ہے۔ انہیں واپس انہی بنیادوں پہ ایستادہ نہیں کیا جا سکتا۔ جس سے پرانے جھگڑے مر جاتے ہیں۔ اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے ہیں اب رہائ ملی تو مر جائیں گے۔  اور پود کے متعلق مجھے بھی کچھ اندیشہ ہائے دراز لا حق ہیں۔ پورب جاءو یا پچھم، وہی کرم کے لچھن۔

اس سلسلے کو یہیں فل اسٹاپ لگا کر اپنے اصل موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔ زر، زمین اور زن۔
پچھلے دنوں میں نے دوتحریریں پڑھیں۔ ایک مصری  ادیب علاء الاسوانی کی کہانی اور دوسرے ایک پاکستانی ادیب محمد اقبال دیوان کی کہانی۔ ایک کے پیچھے مصر  کا پس منظر اور اسکے سیاسی، معاشی و معاشرتی حالات جھانک رہے ہیں اور دوسرے میں پاکستان اپنی انہی تلخ حقیقتوں کے ساتھ موجود ہے۔ لیکن ان دو تحریروں میں ایک چیز مشترک لگتی ہے وہ مرد کا عورت سے رشتہ۔ اور یوں لگتا ہے دنیا کا  ہر انقلاب ان دونوں کے اس رشتے سے ہو کر گذرتا ہے۔ تو کیا دنیا کا ہر جھگڑا زر، زمین اور زن کے گرد گھومتا ہے۔
میری تو خواہش تھی کہ اقبال دیوان کی کہانی کو پورا ڈال دیتی ہے۔ کہ اس میں آجکا پاکستان جھلکتا ہے۔ لیکن یہ تیس صفحوں پہ مشتمل ہے۔
علاء الاسوانی کی تحریر کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی مسئلہ ہے۔ اس لئے دونوں کہانیوں کے کچھ صفحات کے اسکین شدہ حصے ہی مل پائیں گے۔ آج مصری ادیب کو پڑھیں۔ مصر کی تہذیب میں ویسے ہی  بڑی سحر انگیزیاں ہیں اسکے ادیب کا سحر دیکھیں۔ یہ حصہ انکے ناول عمارت یعقوبیان کے  دوسرے باب سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ مترجم ہیں محمد عمر میمن۔  شائع ہوا ہے دنیا زاد میں۔ اب دنیا زاد والوں کو مجھے اپنے ایڈورٹائزنگ سیکشن کاحصہ سمجھنا چاہئیے۔
:)




یہ اسکین شدہ صفحات ہیں۔ بہتر طور پہ پڑھنے کے لئے تصویر پہ کلک کیجئیے۔