Showing posts with label pakistan. Show all posts
Showing posts with label pakistan. Show all posts

Monday, July 25, 2011

سیاح بلائیں

بنکاک میں ہم دو دن کے لئے تھے۔  یہاں میری دلچسپی جس چیز میں سب سے زیادہ تھی۔ وہ یہاں سے کچھ فاصلے پہ موجودتیرتا ہوا بازار تھا۔ جسے فلوٹنگ مارکیٹ کہتے ہیں۔ صبح ہمیں سات بجے ہوٹل سے نکلنا تھا۔  رات جب ہم سونے کی تیاری کر رہے تھے تو اچانک  کھانے کے بعد مشعل کو الٹی ہو گئ۔   وہ کچھ سست تھی لیکن باقی سب ٹھیک لگ رہا تھا۔ ڈھائ سال کا بچہ سفر سے تھک گیا ہوگا۔
صبح جب ہم گاڑی میں سوار ہونے لگے تو میں نے سوچا کہ  میں اور مشعل رک جاتے ہیں باقی لوگ چلے جائیں۔ لیکن سب کہنے لگے کہ اس میں کرنا کچھ نہیں ہے۔ گاری ایئر کنڈیشنڈ ہے وہ بالکل لیٹ کر جا سکتی ہے۔ اور وہاں بوٹ میں بیٹھے رہنا ہوگا۔ دو پہر تک واپس ہوٹل میں ہونگے۔ سو،  احتیاطاً او آر ایس، الٹی کی دوا اور گلوکوز  اپنے بیک پیک میں ڈالا اور چل دئیے۔
ہمیں وہاں پہنچنے میں دو گھنٹے لگے۔ گاڑی سے اتر کر ایک بوٹ میں بیٹھ گئے۔ یہ ایک نہر ہے جسکے دونوں اطراف گھر موجود ہیں۔ ان گھروں کے درمیان آمدو رفت کشتیوں سے ہوتی ہے۔ اسی پہ ذرا آگے بڑھیں تو کشتیوں میں لوگ دوکانیں سجائے نظر آتے ہیں۔  کسی زمانے میں یہاں واقعی اصلی مارکیٹ موجد تھی وقت کے ساتھ وہ ختم ہو گئ۔ کشتیوں میں یہ دوکانیں دراصل سیاحوں کی کشش کے لئے دوبارہ سجائ گئ ہیں۔ ان سے مقامی باشندوں کودلچسپی نہیں۔
بہر حال، ہم کشتیوں کی اس مارکیٹ سے گذر رہے تھے۔ گرمی خاصی بڑھ چلی تھی۔ ہم نے اپنی اپنی چھتریاں کھول رکھی تھیں۔ اس تیرتی ہوئ مارکیٹ سے گذرتے ہوئے کنارے پہ موجود ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں چائے پینے کا خیال آیا۔ اسی کے ساتھ ایک دوکان تھی جس میں بچوں کے کھلونے اور دیگر اشیاء موجود تھیں۔ میں مشعل کو وہ دکھانے لے گئ۔ چند ایک چیزیں لے کر میں اسکی ادائیگی کی لائن میں تھی کہ میرے ساتھ کھڑی مشعل زمین پہ بیٹھی اورایکدم بے ہوش ہو گئ۔  میں نے جلدی سے جھک کر اسے سیدھا کیا، سر کو جھکایا پھر جلدی سے بیگ سے گلوکوز نکال کر اسکے منہ میں ٹھونسا اور پانی کے قطرے ڈالنے لگی۔
ادھر سے مشعل کے بابا دوڑتے ہوئے آئے اور دوسری طرف ایک تھائ خاتون جلدی سے بھاگتی ہوئ آئ۔ اور کہنے لگی تمہیں ایمبولینس چاہئیے۔ وہ سامنے کھڑی ہے۔ ہم دونوں نے اسے اٹھایا اور ایمبولینس کی طرف دوڑ لگائ۔ یہ دراصل ایک کار تھی۔ ایسی دو کاریں اور یہاں موجود تھیں۔ ایمبولینس میں ڈالتے ہی ڈرائیور نے سائرن آن کیا اور ہم ہسپتال کی طرف روانہ ہوئے۔ ہسپتال پہنچنے میں ہمیں دس منٹ سے بھی کم وقت لگا۔ فوراً ہمیں ایمرجینسی میں لے جایا گیا۔ اس وقت تک مشعل تھوڑی بہتر حالت میں تھی۔ مگر چہرہ اترا ہوا تھا۔
یہ ایمرجینسی سیکشن ایسا تھا، جیسا کہ کراچی کے کسی بہترین پرائیویٹ ہسپتال کا ایمرجینسی یونٹ ہوتا ہے۔ ہر بیڈ کے ساتھ مشینیں اور آلات تھے۔ ماحول صاف ستھرا، نرسیں موجود۔ وہاں انہوں نے اسے ایک بیڈ پہ لٹایا، چیک کیا اور اسے او پی ڈی میں بچوں کے ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا۔
یہ حصہ الگ تھا۔ ہم ایمرجینسی یونٹ سے باہر نکلے اور او پی ڈی کی طرف بڑھے۔ پیچھے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا۔ اس نے اپنے ہاتھ میں لی ہوئ چھتری کھولی اور ہمارے سروں پہ سایہ کئے ہوئے او پی ڈی تک لے گیا۔ او پی ڈی کے حصے میں ایئر کنڈیشنڈ کی ٹھنڈک موجود تھی۔ نرسز گلابی یونیفارمز میں موجود تھیں۔ ریسیپشن کے حصے میں تین خواتین اور ایک مرد موجود تھے۔ تینوں خواتین نے اسمارٹ سا گلابی روائیتی تھائ لباس پہنا ہوا تھا۔ اس اسمارٹ لباس کے ساتھ انکے گلوں میں موتیوں کی ایک لڑی اور کانوں میں ہلکے آویزے تھے۔ اپنی روائیتی نرم تھآئ زبان میں انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ مشعل کی فائل تیار کی۔ ڈاکٹر کا نام دیا۔ اور ہمیں ساتھ موجود ہسپتال کے گائڈ کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا۔ یہاں لوگ تمیز سے بینچ پہ بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔
دو لوگوں کے بعد ہمیں اندر بلا لیا گیا۔ گلابی یونیفارم اور سفید گاءون میں دلکش مسکراہٹ والی ڈاکٹر نے چیک کیا تمام معلومات لیں اور ہمیں بتایا کہ یہ وائرل انفیکشن ہے۔ ہو سکتا ہے شام تک بخار اور دست بھی آجائیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کوئ اینٹی بائیوٹک نہیں دی جارہی ہے۔ دودھ بند کر دیں۔ نرم غذا کے ساتھ او آر ایس اور الٹی کی دوا دیتے رہیں۔ اگر بخار ہو جائے تو یہ دوا الگ سے ہے۔ اسی وقت شروع کرادیں۔
دوا ہسپتال کی فارمیسی سے ملی۔  دوا مفت تھی۔ یہ ایک پرائیویٹ ہسپتال نہیں بلکہ گورنمنٹ ہسپتال تھا۔ ہم ہسپتال سے نکلے تو گویا مسمرائِزڈ حالت میں تھے۔
تھائ لینڈ کی سب سے بڑی صنعت سیاحت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس سیاحت کی فروغ میں یہاں پیشہ ور خواتین کی آسان  دستیابی اور شراب کی آزادی شامل ہے۔
لیکن اس واقعے سے ایک شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ سیاحت صرف خواتین اور شراب کے سہارے نہیں چل سکتی۔  ایک خاندان جو بچوں کے ساتھ موجود ہو اسکے لئے پیشہ ورخواتین کی دستیابی کیا اہمیت رکھتی ہے۔ آپ نے پڑھا کہ ہسپتال میں ہمارے ساتھ کیسا وی آئ پی سلوک ہوا۔ اسکی وجہ یہ  تھی کہ ہم انکا ذریعہ ء روزگار تھے۔ ذریعہ ء روزگار کی عزت نہ کی جائے تو انسان خود عزت سے محروم ہو جاتا ہے۔
میں دوبارہ اگر تھائ لینڈ جانا چاہوں تو اب مجھے بالکل عار نہ ہوگا۔ وجہ سستی رہائیش، سستا کھانا، سستی اور آسان ٹرانسپورٹ، صحت کے کسی بھی ایمرجینسی مسئلے سے نبٹنے کے لئے ڈاکٹر اور ہسپتال فوراً موجود، عام لوگ معاون و مددگار۔ اور سب سے بڑھکر رات کو بارہ بجے میں اور میری ساتھی خاتون ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہیں بغیر کسی خوف کے۔ راستہ بھول جانے سے کوئ اندیشے لا حق نہیں ہوئے۔ یہ احساس نہیں تھا کہ ابھی کوئ ہاتھ سے پرس چھین کر فرار ہو جائے گا۔ اسلحے کے زور پہ ہر چیز سے محروم ہو جائیں گے۔ اگر خاتون ہیں تو آتے جاتے لوگ دھکے یا ہاتھ ماریں گے، سیٹیاں بجائیں گے، زبان پھیریں گے یا آنکھ ماریں گے، ہجوم والی جگہوں پہ بم پھٹنے کا خیال نہیں۔ احساس تحفظ کے
بغیرسیاحت میں کوئ کشش نہیں پیدا ہو سکتی۔
اپنے ملک کو سیاحت کے لئے مناسب مقام بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آپکے ملک میں وہ تمام چیزیں جو آپکوبے حد خوبصورت لگتی ہیں، جنکی تاریخی یا روائیتی اہمیت ہے، جن سے قدرت نے صرف آپکو نوازا ہے انہیں دوسرے ممالک کے باشندوں کے ساتھ شیئر کریں۔ اس شیئرنگ کے  نتیجے میں وہ آپکے ملک میں رہتے ہیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے خریداری کرتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں اور جو چیزیں یہاں پسند آتی ہیں وہ یہاں سے خرید کر لے جاتے ہیں۔ ان تمام مراحل پہ وہ پیسے ادا کرتے ہیں۔ اس طرح یہ سیاح  ملک میں پیسہ لے کر آتے ہییں۔ سیاحت کے نتیجے میں مختلف روزگار بھی جنم لیتے ہیں۔ مثلاً سیاح اپنے ساتھ آپکے ملک کی کوئ نہ کوئ نشانی لےجانا چاہتے ہیں یا گھر والوں کے لئے تحفے لے جانا چاہتے ہیں۔ اس طرح سے ان چیزوں کی پیداوار بڑھانا پڑتی ہے۔
 اب اس ملک کی ذہانت  ہے کہ کسطرح اس سیاح سے یہ پیسے خرچ کرواتے ہیں اور کیسے اسے واپس جا کر اس ملک کے لئے مزید سیاح یعنی مزید کاروبار لانے پہ سوچنے پہ مجبور کرتے ہیں۔
خیر سیاحت کے نکتے سے عام سے سوالات ہیں جو آپ چاہیں تو صرف سوچتے رہیں یا چاہیں تو انکا اظہار کریں۔ پاکستان میں وہ کون سی جگہیں ہیں جنہیں آپ سیاحوں کے لئے پر کشش سمجھتے ہیں یا انہیں پر کشش بنایا جا سکتا ہے۔ وہ کون سی پروڈکٹس ہیں جو آپ  سمجھتے ہیں سیاح آپکے ملک سے خریدنا پسند کریں گے۔ 

Friday, August 27, 2010

حکمران یا نظام

یہ میرے گھر کا ٹی وی لاءونج ہے, ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جانے کے لئے یہاں سے گذرنا پڑتا ہے۔ میری بچی کے کھلونے اور سائیکلیں بھی یہاں پڑی رہتی ہیں۔  اکثر جب میں گذرتی ہوں تو آپکو بھی ساتھ شریک کر لیتی ہوں۔ یہ سماء ٹی وی کی جیسمین  منظور ہیں جو اس وقت بلوچستان ڈیرہ مراد جمالی ، میں سیلاب کے متائثرین کے ساتھ موجود ہیں۔ جی یہ وہی علاقہ ہے جو سیلاب کے پانی سے اس لئے متائثر ہوا کہ سندھ کے زمینداروں نے اپنے علاقے میں آنے والے سیلابی پانی کا رخ اس طرف موڑ دیا۔ جیسمین میرے گھر میں کچھ لوگوں کو بہت پسند ہے یہ قصہ پھر کبھی سہی۔

جیسمین ایک دیہاتی عورت کو پرسہ دیکر فارغ ہوئ

تھی کہ میں نے اس پروگرام کو دیکھنا شروع کیا۔ اسکے دو بچے مر گئے  اور وہ اپنے خاندان سمیت کھانے کے انتظار میں ان چارپائیوں کے ساتھ بیٹھی ہے جہاں سے بچوں کی میتیں روانہ ہوئ ہونگیں۔ جیسمین انہیں دلاسہ دیتی ہے کھانا ملے گا سب کو ملے گا۔ مجمع تنبو یعنی ٹینٹ کے نہ ہونے کی شکایت کر رہا ہے۔ جیسمین ان سے بھی کہتی ہے سب ملے گا۔ ابھی ہم یہاں سے جا کر بات کرتے ہیں آپ سب لوگوں کو سب ملے گا کھانا بھی اور تنبو بھی۔  وہاں سے نکل کر وہ میرے جیسے ناظرین کو بتاتی ہے کہ اس وقت یہاں فوج کے جوانوں کے علاوہ کوئ شخص انکی مدد کے لئے موجود نہیں ہے۔
لیکن یہ کیا، اسکے پیچھے ایک امدادی کیمپ نظر آرہا ہے۔ اس پہ ایک بڑا سا بینر لگا ہے کہ یہ کیمپ جماعت اسلامی کی طرف سے لگایا گیا ہے۔ جیسمین، جماعت والوں کے تنبو کے اندر پہنچتی ہے تنبو یعنی شامیانے کے اندر ایک ڈنڈے کے ساتھ ایک بکری بندھی ہوئ ہے خالی زمین پہ دو تین دیہاتی بیٹھے ہوئے ہیں اور کچھ نہیں ہے۔ یہ امدادی کیمپ اندر سے بالکل خالی، پارٹی کا کوئ کارکن تک موجود نہیں ، امداد کا تو تذکرہ ہی کیا۔ جیسمین اس سے آگے بڑھتی ہے۔ یہ ایک اور شامیانہ لگا ہے جس پہ عمران خان کی ایک بڑی سی اسٹائلیش تصویر موجود ہے نیچے انکی پارٹی کا نام موجود ہے۔ تحریک انصاف۔ ابھی چند دن پہلے انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں  سنہری چمکدار کرسیوں پہ بیٹھےم پیچھے لاکھوں روپے سے پرنٹ کئے ہوئے بڑے سے بینر جس پہ سیلاب زدگان کی قد آدم تصویریں موجود ہیں انکی موجودگی میں  اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کہا تھا کہ ہمیں امداد کی رقم دیں۔ ہم آپکو ایک ایک پائ کا حساب دیں گے۔ یہ شامیانہ بھی اندر سے خالی پڑا ہے۔ اور یہ کہہ رہا ہے کہ عمران خان اس شامیانے کے پیسوں کا حساب دو۔
اس سے آگے ایک اور شامیانہ لگا ہے۔ اس میں تو لال دریاں بھی بچھی ہیں اور ایک اسٹیج بھی بنا ہے۔ یہ ایک میڈیکل ریلیف کیمپ ہے یہ بھی اندر سے بالکل خالی پڑا ہے۔ یہ پاکستان اسلامک کلچر والوں کی طرف سے لگایا گیا ہے۔ جتنی دیر میں جیسمین اپنی بے زاری کو پوری طرح ظاہر کرتی ہوئ اس میڈیکل کیمپ کی حالت دکھاتی ہے ایک داڑھی والے صاحب بھاگے بھاگے پہنچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دراصل دو بجے کیمپ کی چھٹی ہوجاتی ہے اس لئے یہ اس وقت آپکوخالی ملا۔ مجمع جو جیسمین کے ساتھ ہے بتاتا ہے کہ یہ صبح سے اسی طرح خالی ہے۔ سیلاب زدگان کے لئے قائم کیمپ میں وقت کی پابندی شاید سب سے زیادہ ہوگی۔

تین کیمپ اور تینوں خالی، باقی وہاں اور کوئ نہیں۔ فوج کا ایک ہیلی کاپٹر مصروف بہ عمل ہے۔ جیسمین وہاں سے اپنے ناظرین کو خدا حافظ کہہ کر نکل آئ۔

میں بھی جیسمین کے ساتھ اس منظر سے رخصت ہوئ۔ پیچھے رہ گئے متائثرین۔ ایسے وقت میں انکا خدا پہ یقین رکھنا بہت ضروری ہے۔ خدا نے ہی یہ عذاب بھیجا ہے ان پہ تاکہ اس نظام کی کمزوری ان پہ عیاں نہ ہو جسکے وہ پروردہ ہیں۔ اور وہ یہ سمجھتے رہیں کہ یہ سب اللہ سائیں کی مرضی ہے۔ اور اب خدا ہی باقی رہ گیا ہے کہ وہ اس زندگی کو ان پہ آسان کرے اور مخیر افراد  خدا کے ڈر سے اپنے مال کا صدقہ انہیں عطا فرمائیں۔۔
ان لوگوں کو خدا پہ چھوڑتے ہوئے میں واپس آ کر اردو سیارہ کو چیک کرتی ہوں پتہ چلا کہ جیو ٹی وی پہ کامران خان کا کہنا ہے پاکستان کے سو فی صد عوام کو نظام کی پرواہ نہیں  بلکہ وہ ایک مسلمان حکمران چاہتے ہیں جو خود اسلامی تعلیمات پہ عمل کرے اور ملک کو اسلامی تعلیمات کے مطابق چلائے اور اسکے حساب سے انکا خیال رکھے۔

لیکن معزز قارئین، جیسا کہ ابھی آپ نے میرے ساتھ، جیسمین منظور کے ساتھ

ایک علاقے کے متائثرین کو دیکھا۔ تو آپ کو پتہ چلا ہوگا کہ یہ بھی پاکستان کے عوام ہیں اور انہیں کیا چاہئیے؟

جو لوگ انہیں امداد پہنچا رہے ہیں انکے بارے میں انہیں کوئ فکر نہیں کہ وہ شراب پیتا ہے یا زنا کرتا ہے یا اسکے گھر کی عورتیں بے پردہ پھرتی ہیں، یہ امداد حق حلال کے پیسوں کی ہے یا حرام سے کمائے گئے روپے کا صدقہ ہے، یہ امداد ہندو، عیسائ یا یہودی بھیج رہے ہیں یا کوئ راسخ العقیدہ مسلمان، یہ ہمارے دشمن ملک بھیج رہے ہیں یا دوست، دہشت گرد یا امن پسند، طالبان یا لبرل۔ انہیں بس ایک ایسا نظام چاہئیے جس میں انہیں سیلاب کے بعد کھانا اور بے گھری سے بچنےکے لئے کچھ نہیں ایک تنبو تو ملے۔

یہ  پاکستان کے سو فی صد عوام میں شامل نہیں ہیں۔  یہ کبھی بھی پاکستان کے عوام میں نہیں گنے جاتے۔ کیونکہ یہ اپنی گنتی کا حق اپنے کسی انسانی رب کے حوالے کر چکے ہیں۔ انکی گنتی امداد کے حصول کے وقت یا سیاسی چالوں کے وقت صحیح سے ہوگی۔ بہر حال باقی سب جو گنتی جانتے ہیں یہ سمجھ  کے کہ یہ اپنے نظریات کو چمکانے کا سنہرا وقت ہے یہی وقت ہے  لوگوں کواللہ نامی دیوتا کے غیض و غضب سے عذاب سےڈرانے کا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام اسکے بجائے کسی اور نظریہ حکومت میں پناہ تلاش کرنے لگیں۔ اپنی اپنی دوکانیں لگائے بیٹھے ہیں۔ آئیے صاحبان، ڈھونڈھتے ہیں ایک حکمران جو ہو اصل مسلمان، جو کرے وہ سرداری دور ہوگی ہر بیماری، جو نہیں سنوگے ہماری بات، تو نازل ہونگے ایسے ہی عذاب۔  یہ اصل مسلمان حکمران انکے پاس چھپا ہوا ہے، جب سب تائب ہو جائیں گے تو وہ باہر آئے گا۔
جو مصیبت جھیل رہے ہیں وہ توبہ کی نمازوں میں کھڑے ہونے کے بجائے، کھانے اور تنبو کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ یا اپنے اپنے بیمار بچوں کی دواءووں کے انتظار میں ہیں ان میں اتنی ہمت بھی نہیں کہ ڈوبتی نبضوں پہ اپنا ہاتھ ہی رکھ دیں۔ ان میں سے بیشتر کو صحیح سے نماز بھی نہیں پڑھنی آتی۔ بس یہ کہنا آتا ہے کہ مالک ہے اللہ سائیں  اور پیر سائیں ۔ 
جو اس مصیبت سے دور ہیں وہ ایکدوسرے کو توبہ اور استغفار کی نصیحتیں کر رہے ہیں۔ جو ایکدوسرے سے جلے ہوئے ہیں وہ ایکدوسرے کو بد دعائیں دے رہے ہیں خدا تمہیں بھی ایسی مصیبت سے دو چار کرے۔ حالانکہ بات تو اتنی ہے کہ ہوئے تم دوست جسکے اسکا دشمن آسماں کیوں ہو۔ 
اب بات یہ ہے کہ سائینسداں کہہ رہے ہیں کہ دنیا بھر میں موسمی حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ اگررررررر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم اس سیلاب سے بچ نکلے تو بہت ممکن ہے کہ اگلے سال پھر یہ سیلاب حاضر ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ دو،  تین، چار سال بعد پورے ملک کو قحط سالی بھگتنی پڑ جائے۔ اگلی دفعہ کیا کریں گے؟ حکمران تبدیل کریں گے یا نظام؟

Monday, August 23, 2010

تشدد اور چند سوال

میں اب تک اس ویڈیو کو دیکھنے کی ہمت نہیں مجتمع کر پائ۔ جسکی  مذمت اس وقت ہر کوئ کر رہا ہے۔ شاید میں ایسا کبھی نہیں کر پاءونگی۔ مجھے اپنی اس کمزوری پہ ندامت ہے۔ میں ایک پر تشدد معاشرے کا حصہ تو ہو سکتی ہوں مگر اس سے سرزد ہونے والے ایسے حیوانیت کے مظاہروں کو دیکھنے سے کیوں گریز کرتی ہوں۔ 
اب جبکہ تمام لوگ اس واقعے کی کما حقہ مذمت کر چکے تو ہمیں اس سے اگلے مرحلے میں داخل ہونا چاہئیے۔ اور وہ ہے اسکی وجوہات کا تعین۔ کیونکہ ان دو لڑکوں کی جگہ کل آپ یا میں بھی اس مقام پہ ہو سکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے قتل ہونے والوں میں یا ہو سکتا ہے تماشہ دیکھنے والوں میں۔ ایک غلط وقت میں اگر آپ غلط جگہ پہ، غلط لوگوں کے ساتھ  موجود ہوں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہجوم کا پر  تشدد ہونا اپنی نوعیت کا پاکستان میں پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ واقعات ہوئے البتہ انکی ویڈیوز اس طرح سامنے نہیں آ سکیں۔
وجوہات کے جاننے سے قبل ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے اور وہ ہے اپنے آپ سے سوالات۔
یہ مندرجہ ذیل چند سوالات ہیں جو میرے ذہن میں آتے ہیں ہو سکتا ہے آپکے ذہن میں اور مختلف سوالات بھی ہوں۔ تو ان  سوالوں اور انکے جوابوں میں ایکدوسرے کو شریک کرتے ہیں۔
 
کیا ایسے واقعات کی روک تھام ہونی چاہئیے یا مذمت کرنے کے چھوڑ دینا چاہئیے؟ 
کیا بد دعائیں لوگوں کو انکے انجام تک پہنچا دیں گی، کیا ان واقعات کا سد باب بد دعاءووں سے کیا جا سکتا ہے؟ کیا بد دعا دینے والے اپنی کم ہمتی کو ظاہر نہیں کرتے؟
کیا یہ واقعات محض معاشرے میں موجود کچھ لوگوں کی پر تشدد فطرت کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں یا ہم من حیث القوم ایک اخلاقی تنزلی کا شکار ہیں؟ ہماری اس اخلاقی تنزلی کا باعث مذہب سے ہماری دوری، یا تعلیم کی کمی یا  ہماری ایک مہذب قوم کے طور پہ تربیت نہ ہونا ہے؟
ہماری مذہب سے ظاہراً گہری وابستگی بھی ہمیں کیوں تشدد سے دور نہیں رکھ پاتی؟
کچھ لوگوں کے خیال میں مذہب سے دوری ، ان واقعات کا باعث ہے۔ تو وہ ممالک جو بالکل سیکولر ہیں وہاں ایسے واقعات کیوں اس تسلسل سے پیش نہیں آتے؟
جب ہم اس چیز پہ یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے ایسے افعال ہمارے اوپر عذاب کا باعث بنتے ہیں تو پھر بھی ہم کیوں انکو کرنے میں ذرا تامل نہیں کرتے؟
کیا کچھ لوگ موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنی بالا دستی کے جذبے کو کمزوروں پہ ظلم کر کے تسکین دیتے ہیں اس لئے یہ واقعات ہو پاتے ہیں؟
کیا تشدد پسند فطرت، فیوڈل نظام کی دین ہے؟
کیا ایسا اجتماعی بہیمانہ تشدد، معاشرتی نا انصافیوں کا حصہ ہے؟ تو پھر ہم اسے اپنے اوپر ظلم کرنے والے طاقتور طبقے کے خلاف کیوں استعمال نہیں کرتے؟
کیا تشدد انسانی فطرت ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا اسے سدھار کر کسی مثبت جذبے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟


Sunday, August 8, 2010

ناراض کیوں ہوتے ہو

جیو چینل بند کر دیا گیا اور پی پی کے جیالوں نے اسکے آفس پہ حملہ کیا۔ 
کیوں؟
یہ بتانے کی مجھے ضرورت تو نہیں کہ زرداری صاحب انگلینڈ میں ڈیوڈ کیمرون سے 'کامیاب ملاقات' کے بعد  اپنے حمائتیوں سے کنونشن ہال میں خطاب کر رہے تھے کہ ان پہ ایک ادھیڑ عمر شخص نے جوتے پھینکنے کی کوشش کی۔ واقعے کے فورا بعد،  انکے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اس واقعے کے پیش آنے سے انکار کیا۔ جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات قمرزماں کائرہ نے پہلے اقرار اور پھر انکار کی پالیسی اپنائ۔
بش پر پڑنے والے جوتے نے اتنی مقبولیت حاصل کی کہ اب ہر ناراض شخص یہ کرنے کو تیار نظر آتا ہے۔ اس واقعے کے پیش آنے کے بعد لوگوں کے ہاتھ ایک نئ دلچسپی لگی۔ مغرب جہاں جوتوں کا یہ استعمال پہلے نہ تھا اس سے روشناس ہوا۔ اور نیٹ کی دنیا میں کئ گیمز آئے جن میں جوتوں کو استعمال کیا گیا تھا۔ یہی گیمز اس وقت زرداری صاحب کے لئے بھی آگئے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد پی پی کی ایک خاتون نے سابق وزیر اعلی سندھ ارباب رحیم کو سندھ اسمبلی کی عمارت کے اندر جوتوں سے مارا۔ اسکے بعد، وہ جا کر دبئ میں بیٹھ گئے۔ ایسی روائیتوں کی بنیاد پڑنے کے بعد تو یہی ہونا تھا۔ اس واقعے سے بھی لوگوں نے لطف لیا تھا۔ کل رات ارباب غلام رحیم نے ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اسے مکافات عمل سے تعبیر کیا۔ معلوم نہیں صدر صاحب واپس پاکستان آئیں گے یا وہ بھی دبئ میں رہنا پسند کریں گے۔
تازہ ترین واقعے کے منظر عام پہ آتے ہی پاکستان میں کھلبلی مچ گئ۔ صدر صاحب کا یہ دورہ پہلے ہی حد سے زیادہ تنقید کا شکار رہا، ملک میں اسے عالمی پیمانے پہ پاکستان کی بے عزتی اور صدر صاحب کے بے حسی سے تعبیر کیا جا رہا تھا۔ 
جیو چینل بند کر دیا گیا، کیونکہ انہوں نے جوتا مارنے والے شخص شمیم خان کا انٹرویو حاصل کر لیا تھا۔ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے چیلینج کیا تھا کہ اگر اسکی کوئ فوٹیج موجود ہے تو لائیں۔  کیونکہ ہال کے اندر کسی کو کیمرہ یا موبائل لےجانے کی اجازت نہ تھی۔ لیجئیے جناب شمیم خان نے تو پورا انٹرویو دے دیا۔

You need to install or upgrade Flash Player to view this content, install or upgrade by clicking here.


یہ ہے پاکستان میں جیالوں کے ناراض ہونے کی وجہ۔
ناراض نہ ہو تو عرض کروں، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔  آج ہم کل تمہاری باری ہے۔ برا ماننے کی ضرورت نہیں، شاید کل آپکی باری آجائے یہ کہنے کی کہ یہ مکافات عمل ہے۔


Saturday, July 31, 2010

قدرتی عذاب یا قدرتی عمل

ایک دفعہ پھر ہم قدرتی آفات کی زد میں ہیں اور ملک کا بڑا حصہ  شدید بارشوں اور سیلاب سے متائثر ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد جاں بحق ،  متعدد لوگ لاپتہ ہیں اور ہزاروں بے گھر۔ لیکن ایک دفعہ پھر ہم یہ سوچتے ہیں کہ یہ اللہ کا عذاب ہے ہمارے اوپر، آزمائش یا قدرتی عوامل کی پرواہ نہ کرنے کی سزا۔
اگر یہ اللہ کا عذاب ہے اور ہمارے سیاہ کرتوتوں کی سزا ہے تو کیا وجہ ہے صرف غریب غرباء ہی اسکا شکار بن رہے ہیں۔ ہمارے طبقہ ء اشرافیہ کے تمام لوگ زندگی کی تمام نعمتوں سے بہرہ مند ہوتے اپنے آرام دہ ، سہولتوں سے آرستہ محلوں میں سٹیلائٹ ٹی وی پہ کوئ دل بہلانے والا پروگرام دیکھ رہے ہونگے۔ جبکہ نوشہرہ فیروز شہر ڈوب رہا ہے۔ اور اسکے غریب اور مسکین لوگ شاید سارے سارے دن بھوکے رہ کر اپنے لئے جائے پناہ تلاش کر رہے ہونگے۔ اقبال  اپنی نظم شکوہ  میں کہتے ہیں کہ برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پہ۔  اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تو پچانوے فی صد مسلمان ہیں ۔ لیکن یہاں بھی برق گرتی ہے اور برق ہمیشہ بے آسرا، کمزور لوگوں پہ گرتی ہے۔
کون زیادہ گنہگار ہے۔ شاید غریب ہونا سب سے بڑا گناہ ہے۔ لیکن کیا یہ پھر یہ خدا کی نا انصافی نہیں کہ وہ غریب پیدا کرے، غریب رکھے اور غریب ہی  کی پکڑکرے۔
اس لئے میں تو اس خیال کو خاطر میں نہیں لاتی۔
یہ سوچ لینا آسان ہے کہ یہ آزمائش ہے۔ لیکن پھر سوچ وہیں جاتی ہے کہ ایسی آزمائش کا سامنا معاشرے کے کمزور طبقے کو ہی کیوں کرنا پڑتا ہے اور وہ لوگ جو پہلے سے اللہ کی طرف سے نوازے ہوئے ہیں انہیں کیوں خدا محفوظ رکھتا ہے اور انکی آزمائش نہیں لیتا۔ بلکہ مزید نوازے جاتا ہے۔
اس لئے یہ چیز بھی عقل میں نہیں آپاتی۔ در حقیقت، جس وقت تک ہم اس چیز پہ یقین رکھتے ہیں کہ خدا کسی پہ اسکی قوت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اس وقت تک ہمیں اس چیز پہ یقین آ نہیں سکتا۔
کیا یہ تباہ کاریاں، قدرتی عوامل کا نتیجہ ہیں؟
ساری دنیا میں موسموں میں تبدیلی کو عمل آتا محسوس ہو رہا ہے۔ تحقیق دانوں کے نزدیک اسکی وجہ گرین ہاءوس ایفیکٹ بھی ہو سکتا ہے کہ اسکے نتیجے میں زمین پہلے کی نسبت گرم ہو رہی ہے۔ زمین پہ موجود برف کا ذخیرہ اس گرمی سے گھل رہا ہے۔ فضا میں پانی کی مقدار زیادہ ہو رہی ہے۔ سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ بارشیں پہلے سے زیادہ ہو رہی ہیں اور امکان ہے کہ اب بارشیں زیادہ سے زیادہ ہوتی چلی جائیں گی۔
یعنی دنیا میں بیشتر ممالک کو جلد یا بدیر سیلاب کا سامنا کرنا پڑے گا اور اسکے بعد خشک سالی کا۔ کارخانہ ء قدرت کا ایک نظام اور کاز اینڈ ایفیکٹ کا نظام بھی خدا نے مقرر کیا ہوا ہے۔  خدا نے یہ مقرر کیا ہوا ہے کہ اگر آپ سرد موسم میں اپنے بدن کو گرم نہیں رکھتے تو آپکو سردی لگے گی اور آپ بیمار ہونگے۔ اس صورت میں بیماری خدا کا عذاب نہیں بلکہ کاز اینڈ ایفیکٹ کے کھاتے میں جائے گی۔
گرین ہاءوس ایفیکٹ کو کم کیا جا سکتا ہے؟
جی ہاں اسے کم کیا جا سکتا ہے اسکے لئے دنیا کے تمام ممالک کو ان گیسوں کی مقدار کو کنٹرول کرنا پڑےے گا جو اس ایفیکٹ کو بڑھانے کی ذمہ دار ہیں۔ دنیا کے غریب ممالک کو متحد ہو کر دنیا کے امیر ممالک پہ دباءو ڈالنا ہوگا کہ وہ اپنی ترقی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ان مضر گیسوں کی مقدار کو کم کرنے میں انکا ساتھ دیں۔
ہم اس سے کیسے نمٹیں؟
ہمیں سیلاب کی پیشگی اطلاع کو موءثر بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنے عوام کی تربیت کرنی ہوگی کہ وہ اپنے گھر کیسے بنائیں تاکہ سیلاب کے نتیجے میں انہیں کم سے کم نقصان پہنچے۔ سیلاب آنے کی صورت میں وہ کس طرح جانی نقصان کو کم سے کم رکھ سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ محلے کی سطح پہ کیا احتیاط کی جا سکتی ہے۔ سیلاب کے بعد وبائ امراض کا اندیشہ رہہتا ہے اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ ان سب کے لئے میڈیا کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حکومتی سطح پہ اس سے نمٹنے کے لئے ماہرین کی ایک ٹیم موجود ہونی چاہئیے۔ خاص طور پہ ان علاقوں میں جو سیلاب کے لئے رسکی ہیں۔ ان ماہرین میں اس علاقے کے لوگ بھی شامل ہونے چاہئیں تاکہ علاقے کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے میں دشواری نہ ہو۔
یہ ایک دستاویز کا لنک ہے۔ چاہیں تو آپ میں سے کوئ اسکے اہم نکات کا ترجمہ کر کے اپنے بلاگ پہ ڈالدے۔ یا پھر ایک دو روز میں، میں ہی وقت نکالتی ہوں۔

Friday, July 9, 2010

محافظ

مظفر گڑھ، میر والا میں دو خواتین جو کہ ماں بیٹی تھیں۔ چودہ افراد نے برہنہ کر کے سر بازار پھرایا اور پھر انکی اچھی طرح پٹائ لگائ۔ ماں کی عمر پچاس کے قریب اور بیٹی کی عمر محض چودہ سال تھی۔
یہ واقعات یا اس سے ملتے جلتے واقعات تیسری دنیا کے غریب ممالک میں پیش آتے رہتے ہیں۔
 اس قسم کا پہلا واقعہ جس نے شہرت حاصل کی ضیاء الحق کے زمانے میں نواب پور میں پیش آیا۔ پچھلے چند سالوں میں اس قسم کے واقعات کی شدت میں اضافہ ہو اہے۔ آخر خواتین کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس ضمن میں اگر ہم دیکھیں تو  بھارت میں بھی ایسے واقعات پیش ہوتے نظر آتے ہیں۔ خاص طور پہ ان ممالک میں جہاں زمینداری کا نظام قائم ہے ہے یا کچھ عرصے پہلے تک قائم تھا۔ خواتین کے ساتھ اس ہتک آمیز سلوک کی بنیادی وجہ انہیں مال مویشی کی طرح جائداد کا حصہ سمجھنا ہوتا ہے۔ جس طرح ایک زمیندار اپنی زمین کے بارے میں، اپنے مویشیوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنی عورتوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور ٹھیک اسی طرح اگر کسی زمیندار کو اسکی زمین پہ کھڑی فصل کو تباہ کر کے نقصان سے دوچار کیا جا سکتا ہے اسی طرح ایک مرد کو زیادہ بہتر طور پہ ذلت سے دوچار کرنے کے لئے انکی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی سے لیکر برہنہ پھرانے کے واقعات سمیت تک ہر چیز روا رکھنا جائز ہے بلکہ افضل ہے کہ مخالف پہ ایسی چوٹ لگتی ہے جس کے عذاب سے وہ ساری زندگی کیا کئ نسلیں نہیں نکل سکتا۔
ہمارے یہاں اسے غیرت اور عزت کے ساتھ وابستہ قرار دیا جاتا ہے اور یوں قبیلے اور خاندان کی عزت کی ضامن عورتیں ہو جاتی ہیں۔ اغوا ہونے والی عورت اگر رہائ بھی پالے تو اسکا احسن انجام موت ٹہرتا ہے کہ اسکی زندگی پورے قبیلے اور خاندان کی غیرت کی موت ہوتی ہے۔ عصمت کا تصور خالصتاً ایک عورت کے ساتھ وابستہ ہے، مرد اس سے مبرا ہیں۔ اور اس وجہ سے مرد جتنے چاہے ناجائز جنسی تعلقات رکھیں،یہ انکی امارت کی علامت یا مردانگی کی تعریف تو ہو سکتا ہے مگر اس سے خاندان کی نیک نامی پہ دھبہ نہیں آتا۔ اسکی شادی کے مسائل یا معاشرے میں با عزت زندگی گذارنے کے خواب چکنا چور نہیں ہوتے۔  اسکے اس جرم کی وجہ سے کوئ اور قبیلہ یا قوم انہیں موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے لیکن اسکے اپنے قبیلے والے ایسا نہیں کریں گے۔ وہ جواں مرد اپنے قبیلے کی آنکھ کا تارا ہوتا ہے۔
یہ سوچ، زمینداری کے نظام سے اس لئے جنم لیتا ہے کہ ایک جسمانی طور پہ طاقتور مرد اپنی زمین سے زیادہ پیداوار حاصل کر سکتا ہے۔ جسمانی طور پہ زیادہ طاقتور مرد، زیادہ خوشحالی کا باعث بنیں گے جبکہ خواتین نئے مرد بچے پیدا کر کے زیادہ خوشحال میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ اس لئے ایک مثالی زمیندار نظام میں اس عورت کی آءو بھگت بھی زیادہ ہوتی ہے جو زیادہ مرد بچوں کو پیدا کر چکی ہو۔ یا کم از کم ایک وارث مرد بچہ تو رکھتی ہو۔
اگر افریقی ممالک کی طرف نظر کریں ۔ جہاں کچھ قبائل میں عورت اور مرد کی تخصیص نہیں ہے وہاں مجھے ایک افریقن ملک کیمرون کی خاتون نے بتایا کہ شادی کے لئے ہمارے یہاں اس لڑکی کو ترجیح دی جاتی ہے جسکے شادی سے پہلے بچے ہوں۔ چاہے کسی بھی مرد سے ہوں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بچے پیدا کر سکتی ہے۔ اس طرح اس سوچ سے متائثرہ نظام میں ایک ایسی عورت کی اہمیت نہیں رہتی جو بچے پیدا نہیں کر سکتی۔ کسی بھی قدرتی وجہ سے۔ خیر یہ اایک الگ موضوع ہے۔
سر دست، ہمیں معاشرے کے اس اٹھان پہ غور کرنا ہے جہاں خواتین کو بھی انسان تصور کیا جائے۔ ایسا انسان جسے سر بازار، بقائمی ء ہوش و حواس، بزور قوت برہنہ گھمائے جانے پہ نفسیاتی اور روحانی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ صرف عورت کے اوپر عزت اور غیرت کی بھاری ذمہ دریاں نہ ڈالی جائیں  جسکے نتیجے میں اسے زندگی جیسی مسحور کن نعمت سے محروم کر دیا جائے۔ زندگی کی مسرتوں پہ ہر ایک کا حق ہے۔ انسان ہونے کا احترم اور شرف ہر ایک کو حاصل ہے۔ 

Wednesday, May 26, 2010

انکار یا فرار

گوگل سرچ انجن نے انیس سو چھیانوے میں کام کرنا شروع کیا۔ اس تحریر کو پڑھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس بات سے واقف ہوگی کہ اس سے پہلے معمولی سی بات کو جاننے کے لئے لائبریریوں کے چکر لگانے پڑتے تھے۔ اور اگر وہاں متعلقہ مواد موجود نہ ہو تو کسی بھی سنی سنائ بات سے آگے بات بڑھ نہ پاتی تھی۔ اس نئ ٹیکنیک نے دنیا میں معلومات کی ترسیل کا انداز ہی بدل دیا۔ اور آج دنیا کے کسی حصے میں کیا ہو رہا ہے اسکا علم صرف چند سیکنڈز میں ہمارے پاس ہوتا ہے۔ لیکن جس طرح سے یہ علم عام انسان کی فلاح کے لئےکام آرہا ہے وہاں شر پسند بھی اسکے مناسب استعمال کے طریقے ڈھونڈھتے رہتے ہیں یوں طبل جنگ اب  میدان جنگ میں نہیں بلکہ ایک ایسے مجازی میدان جنگ میں بھی ہو سکتا ہے جہاں ہمارا حریف دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے۔ اگر ہم اسکی سواری کے ماہر نہیں تو یہ ممکن ہے کہ ہم آگے بڑھنے سے پیشتر خود ہی ناکام ہو جائیں۔ اور نتیجے میں میدان بلا مقابلہ ہمارے حریف کے ہاتھ رہے۔
لیکن نہیں ایک صورت یہ بھی ہے کہ ہم اس ٹیکنیک کو استعمال کرنے سے انکار کر دیں اور نتیجے میں رضاکارانہ طور پہ یہ میدان اپنے حریف کے حوالے کر کے خود بغلیں بجائیں۔
ٹیکنالوجی کی  اس ترقی سے ملکوں کے سیاسی معاملات میں دوسری طاقتوں کے نفوذ و اثر کا امکان زیادہ بڑھ گیا۔ اور ایسا بھی ہوا کہ مختلف ممالک میں انکی دسترس پہ پابندی لگائ گئ۔ جیسے فیس بک پہ پابندی۔ اب تک پانچ ممالک اس پہ پابندی لگا چکے ہیں۔ ان میں چین، ایران، شام، ویتنام اور پاکستان شامل ہیں۔ پاکستان کے علاوہ باقی تمام ممالک نے مختلف اوقات میں اپنے اندرونی معاملات میں بیرونی عناصر کے اثر کو کم کرنے کے لئے یہ انتہائ قدم اٹھایا۔
  چین وہ واحد ملک ہے جہاں  سن دو ہزارنو میں لگائ جانیوالی فیس بک پہ پابندی آج بھی موجود ہے۔ چین کی آبادی اس وقت سوا ارب کے قریب ہے۔ اس پابندی سے چین میں ایک عام انٹر نیٹ صارف کے متائثر نہ ہونے کی وجوہات میں جو چیزیں اہم ہیں وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کی خود انحصاری ہے۔ وہ انٹر نیٹ کے سلسلے میں اپنا انفرا اسٹرکچر رکھتے ہیں۔ دوسری اہم وجہ چین میں چینی زبان کی ترویج ہے یوں بیرونی ذرائع جو کہ زیادہ تر انگریزی میں ہوتے ہیں وہاں زیادہ پذیرائ حاصل نہیں کر پائے۔ اس سب کے باوجود آزاد ذرائع کہتے ہیں کہ پروکسی سرور کے ذریعے فیس بک تک رسائ حاصل کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد چین میں اب بھی فیس بک سے مستفید ہو رہی ہے۔ اور یوں فیس بک کو اس سلسلے میں کوئ بہت زیادہ نقصان نہیں ہے۔

دنیا بھر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت انٹر نیٹ استعمال کر ہی ہے۔ اگر ہم اپنے ملک میں ہی دیکھیں تو اس وقت اسے استعمال کرنے والوں میں نوجوان ہی زیادہ شامل ہیں۔ یہ بھی ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے مختلف حصوں کو نوجوانوں نے ہی ترتیب دیا۔ یوں ثابت ہو گیا کہ ہر عہد اپنے نوجوانوں کا ہوتا ہے۔

مارک ایلیئٹ زکربرگ، نیویارک میں انیس سو چھیاسی میں پیدا ہوا۔ نسلاً یہودی اور مذہباً دہریہ ہے۔ فیس بک کے بانیوں میں سے ایک ہے۔ شاید اسی وجہ سے مسلمان فیس بک کو یہودیوں کی سازش قرار دیتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ہمارے مایہ ناز کرکٹر عمران خان نے ایک یہودی النسل خاتون کو  مسلمان کر کے شادی کی۔ اس طرح یہودیوں سے بننے والے تعلقات کے نتیجے میں انکے کینسر کے لئے قائم ہسپتال کو کافی ڈونیشنز ان ذرائع سے ملیں۔ لیکن اسے یہودیوں کی سازش نہیں سمجھا جاتا۔ اس وقت مارک کی ذاتی جائداد کی مالیت چار ارب امریکی ڈالر ہے۔ اسکے دیگر ساتھیوں میں شامل ہیں، ایڈوآرڈو سیورن ، ڈسٹن ماسکووٹس، کرس ہیوز، یہ سب لوگ اسّی کی دھائ میں پیدا ہونے نوجوان ہیں۔

انیس سو اٹھتر میں پیدا ہونے والا اسٹیون شی چن، آٹھ سال کی عمر میں تائیوان سے ہجرت کر کے امریکہ پہنچا۔ پےپل میں دوران ملازمت  اسکی ملاقات چیڈ ہرلے اور جاوید کریم سے ہوئ اور یوں سن  ۲۰۰۵ میں یو ٹیوب وجود میں آئ۔
چیڈ ہرلے، امریکہ میں انیس سو چھتّر میں پیدا ہوا۔ جاوید کریم، انیس انّاسی میں جرمنی میں پیدا ہوا۔ اسکے والد کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا جو جرمنی میں ایک تحقیقداں کے طور پہ کام کر رہا تھے۔ جبکہ اسکی ماں ایک جرمن سائینسداں تھی۔
جب یوٹیوب کو گوگل کے حوالے کیا گیا تو اسٹیون کو تین سو پچاس ملین امریکی ڈالر مالیت کے شیئرز ملے۔ چیڈ ہرلے کو تین سو چھبیس ملین امریکی ڈالر اور جاوید کریم کے حصے میں چونسٹھ ملین امریکی ڈالر کی مالیت کے شیئرز آئے۔

گوگل ویب بیسڈ سرچ انجن کی بنیاد دو پی ایچ ڈی کرنے والے اسٹوڈنٹس نے انیس سو چھیانوے میں رکھی۔ یہ انکا پی ایچ ڈی کا پروجیکٹ تھا۔ جسکا مقصد ایک یونیورسل ڈیجیٹل لائبریری کا قیام تھا۔ یہ دو طالب علم تھے لارنس اور سرجے۔ لارنس لیری پیج انیس سو تہتر میں امریکہ میں پیدا ہوا۔ اسکا ساتھی سرجے برن بھی انیس سو تہتر میں،  روس میں پیدا ہوا اور چھ سال کی عمر میں امریکہ ہجرت کر گیا۔ فوربس کے مطابق وہ دونوں اس وقت دنیا کے چوبیسویں امیرترین اشخاص ہیں۔ اور انکی ذاتی دولت کا شمار ساڑھے سترہ ارب امریکی ڈالر لگایا جاتا ہے۔ یہ دولت انکے پاس اپنے پروجیکٹ میں کامیاب ہونے کی صورت میں آئ جسکا نتیجہ آج ہم گوگل کی صورت دیکھتے ہیں۔
ان نوجوانوں نے نہ صرف  اپنی صلاحیتوں کو بہترین طور پہ استعمال کیا، دولت کمائ بلکہ آج کی دنیا میں انسانی ترقی اور تاریخ کا رخ اور رفتار موڑ دی۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہیں یہ قوت حاصل ہے کہ وہ آجکی دنیا پہ اثر انداز ہو سکیں۔
اب ہم اپنے یہاں ستر اور اسّی کی دھائ میں پیدا ہونے والے لوگوں کو دیکھتے ہیں ۔ کیا واقعی انہیں ان نوجوانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار کیا گیا۔ جنکا تذکرہ میں نے اس طویل تحریر میں کیا ہے۔ یہ جو موجودہ رویہ ہمیں اپنے نوجوانوں کا نظر آتا ہے۔ یہ کسی احساس محرومی کی وجہ سے ہے، احساس ذمہ داری سے بھاگنے کی وجہ سے ہے یا مقابلے کی فضا میں فرار حاصل کرنے کی وجہ سے ہے۔

Monday, May 17, 2010

اسلام کے کارٹونز

اگر ایک خاتون ساڑھی پہنے گذر رہی ہو اور اسکا پیٹ نظر آئے تو یہ ایک بہت قابل اعتراض بات ہے۔ ایسی عورت عورت کہلانے کے لائق نہیں چہ جائیکہ مسلمان عورت۔ لیکن یہی عورت جب ایک حیاتیاتی عمل سے گذرتی ہے اور ماں بننے کے عمل میں داخل ہوتی ہے تو یہ بڑی چٹخارےدار بات ہے اور اس پہ ہر طرح کا مذاق کرنا ایک اعلی مذاق ہے۔ اب اسکے پیٹ پہ نظر رکھنا اور محفل میں اسکا مزے لے لے کر تذکرہ کرنا کہ اس میں کیا ہو رہا ہے اس پہ بات کرنا ہر ایک کا بنیادی حق ہے اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں ساڑھی پہنی ہوئ یا بغیر آستین کی یا نیکر پہنی ہوئ عورت مجسم بے حیائ لگتی ہے اور یہ بھی انکا ایک قدرتی اور بنیادی حق بن جاتا ہے کہ وہ اس پہ جملے کسیں اور اسکا مذاق اڑائیں۔ اور مزے لے لے کر اسکی ان چیزوں کا تذکرہ کریں۔  مانع حمل ادویات اور کنڈومز  اور حمل گرانے کی تراکیب ان سے زیادہ مزے کی کوئ بات ہو سکتی ہے۔ آخر ٹی وی پہ بھی تو ان چیزوں کی تشہیر کی جاتی ہے بس ذرا مزہ نہیں ڈالتے، تو مزہ بھی نہیں آتا۔ اگر یہی اشتہارات ذرا 'مزیدار طریقے ' سے بنائیں جائیں تو دیکھتے ہیں کہ کون کافر ان میں دلچسپی نہیں لیتا۔ پھر وہ اسکا ایک نمونہ خود بنا کر دکھائیں گے۔
  یہ کوئ جاہل اجڈ نہیں ہیں۔ اور نہ ہی بڑے آزاد خیال لوگ ہیں کہ سگار کے ساتھ شراب پی رہے ہوں اور پرائ عورتوں کی کمر میں ہاتھ ڈالکر رقص کر رہے ہوں۔  یہ وہ لوگ ہیں  جو اسلام کی سر بلندی میں اتنے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں کہ اپنے علاوہ کوئ مسلمان بھی مشکل سے ملتا ہے۔ آپ انکے سامنے صرف طالبان کا کسی بھی انداز سے منفی تذکرہ کر دیں اور پھر دیکھیں کیسے کف بہتا ہے اور کیسے کشتوں کے پشتے لگتے ہیں اور زبان اور بیان کی کتنی ارزاں صورتیں سامنے آتی ہیں۔ 
لیکن انہیں ارزاں مت کہیں یہ تو اعلی مذاق اور طنز ہے جو کسی کسی کی سمجھ میں آتا ہے۔ یہ سارے 'کسی' ایک جیسے ہیں۔ ایک ہی جسم میں کئ مختلف اور متضاد شخصیات رکھنے والے لوگ۔ لیکن انہیں منافق مت کہیں، یہ تو اس طرح معاشرے کی سدھار کرتے ہیں۔ کیا ہوا ، جو تھوڑا سا نفسانی لطف خود اٹھایا اور دوسروں کو بھی اٹھوانے دیا۔ اعمال کا دارومدار تو نیت پہ ہوتا ہے ناں۔
باقی لوگ چاہے کتنی اچھی نیت کے ساتھ اچھآ کام کریں، انکے دین و مذہب کی چھان بین سے پہلے کچھ کہنا کفر ہے۔ البتہ یہ دنیا کا گھٹیا ترین کام بھی کریں تو واہ، واہ۔ ہاں یہ الگ بات کہ ابھی کوئ روشن خیال اسی  گھٹیا کام کو کر ڈالے جس پہ شیخ صاحب ثواب دارین کما چکے ہوں تو اس پہ کتنی لعنتیں پڑیں اور معاشرہ کس قدر اخلاقی زبوں حالی کا شکار ہو جائے۔ یوں شیخ کے ہاتھ میں شراب بھی آب زم زم ہو جاتی ہے۔ 
ابھی کچھ دنوں پہلے مجھے فیس بک پہ ایک صاحب کی طرف سے دوستی کی درخواست موصول ہوئ۔ اکثر لوگوں کو ہوتی ہے اور خواتین پہ یہ مہربانی زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن اس دوستی کے پیغام کے ساتھ ایک اور پیغام بھی تھا جس کا متن اس طرح تھا کہ پانچوں وقت نماز پڑھتی ہو۔ میرے کچھ مبصروں نے کہا آپ ان سے فقہ کے بارے میں بھی دریافت کر لیتیں کہ کس فقہ کے تحت دوست کے قوانین رکحنا چاہیں گے۔ کچھ کا خیال تھا کہ شاید نمازی کم پڑ گئے ہونگے اس لئے پوچھا۔ کچھ کو یہ فکر لاحق ہو گئ کہ آیا میں واقعی پانچ وقت نماز پڑھتی ہوں یا نہیں۔ 
ایک مسلمان مرد کی ایک خاتون کو دوستی کی یہ درخواست اتنے نیک طریقے سے۔ یہ ایک عجیب سی صورت حال ہے ایسے لوگوں کے لئے ایک طرف اسکا گھر اک طرف میکدہ۔
لطف بھی لینا چاہتے ہیں لگے ہاتھوں ثواب بھی حاصل ہونا چاہئِے۔ سوچتی ہوں ایسے چٹخارے دار اسلام سے کیوں دور رہتے ہیں لوگ۔ ایسے مسلمان بننے کے لئے تو ہم ہر وقت تیار ہیں ۔ لعنت ہو روشن خیالوں پہ، خدا کی مار ان پہ، دوزخی خود دوزخ میں جائیں گے ہم کیوں انکے ساتھ گھسیٹے جاویں۔ طالبان آوے ہی اوے۔ اب آج سے میں اس نئے مسلمان کی حیثیت سے حلف لینا چاہونگی جو رند کا رند رہے اور ہاتھ سے جنت بھی نہ جائے۔ تو اب میں بھی اسی طرح کی اعلی مذاق کی حامل تحریروں کی تیاری کرتی ہوں۔ الحمد اللہ، خدا نے مجھے بروقت ایک اعلی مسلمان بننے کا موقع عطا فرما دیا۔ بلکہ سمجھا دیا کہ ایک بہترین اعلی حس مذاق کے ساتھ ایک اسلام کا نام سر بلند کرنے والا مسلمان کیسے بنا جا سکتا ہے۔ اور کیسے میرے اس تبدیل شدہ چولے سے مجھے وفادار ساتھیوں کی ایک قطار ملے گی۔ 
اور ہاں ابھی بیس مئ کو پیغمبر اسلام سے محبت ظاہر کرنے کے لئے ہولوکاسٹ ڈے بھی تو منانا ہے۔ اس میں رسول اللہ کے کارٹون بنانے والی اقوام سے اپنی نفرت ظاہر کرنے کے لئے جواباً پاکستانی مسلمان ہولوکاسٹ ڈے منائیں گے۔ تاکہ انہیں بھی کچھ پتہ چلے کہ ہم ان سے کتنی نفرت کرتے ہیں۔ انشاءللہ، اس نئے منافقت کے خول کے ساتھ ان میں شامل ہونگی۔ خدا ہمیں اسکا اجر دے۔ نیکی کے اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہئیے۔ شیطانیت اور ملعونیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دینا چاہئیے۔ وہ دن دور نہیں جب خدا کی مدد ہمارے شامل حال ہوگی۔ اللہ اکبر۔
مگر یہ دل اندر سے ہلکے سے پوچھ رہا ہےکہ مذہب اسلام کے کارٹونز کے خلاف کون سا دن منایا جائے گا اور کب؟ 

Saturday, April 24, 2010

کون لوگ ہو تسی

آسٹریلیا پہلی دنیا سے تعلق رکھنے والا ملک ، پاکستان کے مقابلے میں تقریباً سات گنا زیادہ رقبہ رکھتا ہے۔ پاکستان کی آبادی اس وقت تقریباً سترہ کروڑ ہے اور آسٹریلیا کی آبادی تقریباً بائیس ملین یعنی دو کروڑ ہے۔ آسٹریلیا کی فی کس سالانہ آمدنی تقریباً انتالیس ہزار  ڈالر بنتی ہے۔ اور پاکستان کی فی کس سالانہ آمدنی ایک ہزار ڈالر سالانہ بنتی ہے۔ 
اب آپ سوچیں گے کہ اس وقت مجھے آسٹریلیا کیوں مل گیا ہے پاکستان سے مقابلے کے لئے۔ اسکی دو وجوہات ہیں ایک تو میں ابھی کچھ ہی مہینے پہلے وہاں ایک قلیل مدتی قیام کے لئے موجود تھی۔ اس سے  کچھ سال پہلے بھی میں وہاں ذرا زیادہ عرصے کے لئےرہ چکی ہوں اور اسکی دوسری بڑی وجہ لوڈ شیڈنگ سے نبٹنے کے لئے نئے حکومتی منصوبے کا اعلان ہے۔
ان دونوں میں ایک بات مشترک ہے۔ آسٹریلیا میں تمام صنعتی ادارے شام کو پانچ بجے بند ہو جاتے ہیں جس میں بازار بھی شامل ہیں۔ اور تمام کھانے پینے کی جگہیں شام کو سات بجے بند ہوجاتی ہیں۔ سوائے کچھ مخصوص جگہوں کے جن میں کھانے پینے کی کچھ جگہیں اور کچھ اور مثتنشیات شامل ہیں جو کہ رات کو دس بجے تک کھلی رہتی ہیں۔ شام کو سات بجے تمام سرگرمیاں ماند پڑ جاتی ہیں۔ بازاروں کے اس طرح سر شام بند ہونے سے وہ لوگ جو آفسز میں کام کرتے ہیں انہیں مسئلہ ہو سکتا ہے اسکے لئے ہفتے میں ایکدن ایسا ہےجسے شاپنگ نائٹ کہتے ہیں اس دن بازارزیادہ سے زیادہ نو  بجے رات تک کھلے رہتے ہیں۔ تمام مارکیٹس صبح سات بجے کھل جاتی ہیں۔ اور یہ بالکل ممکن ہے کہ آپ اپنے بچے کو اسکول چھوڑتے ہوئے واپسی میں خریداری کرتے  ہوئے آجائیں۔
کم و بیش یہی حال میں نے تھائ لینڈ میں دیکھا۔ تمام بازار سات بجے بند۔ شام ساڑھے چھ بجے سے شاپنگ مالز میں اعلان رخصت کی سیٹیاں بجنا شروع ہو جاتی ہیں۔ حتی کہ پہلے دن میرے ساتھیوں کے اس چیزکو سنجیدگی سے نہ لینے کی وجہ سے ہمیں تقریباً رات کو بھوکا رہنا پڑا،محض ڈبل روٹی سے کس کا بھلا ہوتا اور اتنی رات کو سوائے کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے جو ہماری جگہ سے خاصہ دور تھا کہیں سے حلال کھانا  تو دور حرام بھی ملنے کا کوئ امکان نہ تھا۔ تمام مارکٹ صبح آٹھ بجے کھل جاتی ہیں۔
اب پاکستان آئیے، کراچی میں مارکیٹ دن کے ایک بجے کھلنا شروع ہوتی ہے جو رات کو گیارہ بارہ بجے تک بند ہوتی ہے۔ گویا عملی طور پہ دن آدھے دن کے بعد شروع ہوتا ہے کہ کاروباری طبقہ اس وقت سو کر اٹھتا ہے۔ پھر رات کے بارے میں کہہ دیا جاتا ہے کہ رات تو اپنی ہوتی ہے۔
اب سے چند مہینے پہلے، جب تک شادی کے اوقات کی پابندی مقرر نہ ہوئ تھی۔ عالم یہ تھا کہ خواتین دس بجے رات کو درزی کے پاس کھڑی کپڑوں کا انتظار کرتی تھیں کہ یہ کپڑے پہن کر تیار ہو کر انہیں بارہ بجے کسی شادی میں پہنچنا ہوتا تھا اور اس شادی کا کھانا رات کو دو بجے کھایا جاتا تھا۔اور اس شادی کی تقریب کا اختتام صبح چار بجے ہوتا تھا۔
ترقی یافتہ ممالک تو اپنی بجلی بچانے کے اتنے سخت قوانین بنا کر ان پہ عمل کر ہے ہیں۔ لیکن ہم جیسے غریب ممالک میں کیا ہوتا ہے۔  پاکستانی حکومت کے اس اعلان کے بعد کے کاروبار رات کو آٹھ بجے بند کر دیا جائے تاجروں نے اسکی عدم تعمیل کا اعلان کیا ہے۔ ایک طرف ہم بجلی کی کمی کا رونا رو رہے ہیں ہمارے کارخانوں میں، ہسپتالوں میں، اسکولوں میں بجلی نہیں ہے۔ اور دوسری طرف ہم بطور حکمران یا بطور عوام اپنی کاہلی، نکمے پن اور عیاشی سے بھی نجات نہیں پانا چاہتے ہیں۔ کون لوگ ہو تسی؟

Friday, February 12, 2010

فلائینگ کوئین، نسیم حمید

مجھے انڈین فلم چک دے انڈیا بہت پسند ہے۔ وجہ اسکی فلم میں شاہ رخ خان کی موجودگی نہیں ہے بلکہ فلم کی کہانی ہے جو انڈیا کے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کھلاڑیوں  کی کہانی ہے۔ جن میں ایک مرد کوچ اپنی تربییت سے  وہ مہارت اور جذبہ پیدا کر دیتا ہے کہ وہ ہاکی کے ورلڈ کپ میں ایک ٹیم کے طور پہ اپنے ملک کی پہچان بن جاتی ہیں اور دنیا بھر میں اسکے فخر کا باعث۔
یہ کہانی شاید فلمی ہی لگتی، اگر نسیم حمید یہ ثابت نہ کر دیتی کہ دراصل دنیا میں کچھ بھی نا ممکن نہیں ہوتا اور اگر انسان اپنے ہدف جانتا ہو اورانکے حصول کی کوشش کرے تو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اپ پاکستان جیسے ملک کے پسماندہ علاقے میں رہتے ہیں۔ جہاں خواتین کی تعلیم کو عیاشی سمجھا جاتا ہے اور انکے کھیلنے کو غیر اسلامی۔
مجھے یاد ہے کہ اب سے چند سال پہلے لاہور میں ایک میراتھن ہونے والی تھی جس میں بھاگنے والوں کے تمام اہل خانہ کی شرکت متوقع تھی۔ لیکن اسکے خلاف ایک مہم چلادی گئ۔ معاشرے کے ایک طبقے کے نزدیک یہ وطن میں اخلاقی قدروں کے لئے لڑنے والا جہاد بن گیا۔ حالانکہ یہ صرف ایک دوڑ تھی۔ معاشرے میں اگر صحتمندانہ سرگرمیوں کے لئیے جگہ نہ چھوڑی جائے تو یہ توانائیاں نہ صرف کسی غیر پیداواری سرگرمی میں خرچ ہونے لگتی ہیں۔ بلکہ نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرتی ہیں۔ تمام ترقی یافتہ ممالک میں کھیل تعلیم کا حصہ ہوتے ہیں اور ہر طالب علم کو کسی نہ کسی کھیل میں حصہ لینا ہوتا ہے۔
 کھیل انسانی توانائیوں کو نہ صرف مثبت طریقے سے سے خرچ کرنے کا نام ہے۔ بلکہ یہ انسان میں دیگر خواص بھی پیدا کرتے ہیں جیسے جہد مسلسل، برداشت، باہمی تعاون،اور باہمی میل جول کے طریقے۔
بہر حال کراچی سے تعلق رکھنے والی اس فلائنگ کوئین نے نہ صرف اس شہر کے باسیوں کا سر اونچا کیا ہے بلکہ وہ پاکستانی خواتین کے لئیے کامیابی کا ایک نیا نشان بن کر ابھری ہیں۔ انہیں ہم سب کی طرف سے اس کامیابی کی مبارکباد۔ اسکے ساتھ ہی وہ تمام لوگ بھی مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اس بائیس لڑکی کو وہ آسانیاں فراہم کیں کہ وہ ہم سبکی فخر کا باعث بنی۔
 اگرچہ کہ یہ حق نسیم حمید کا ہے کہ وہ پیغامات دیں۔ میں انکی کامیابی کی ترجمان بن کر نوجوانوں سے یہ کہنا چاہتی ہوں  کہ کچھ کرنے کا موقع آج ہی کا ہے۔ ہر عہد اپنے نوجوانوں کا ہوتا ہے۔ ہم سے پہلے کے لوگ اپنے حصے کا کام کر گئے۔ یہ ہمارا عہد ہے اور ہمیں یہ ثابت کر دینا چاہئیے کہ ہم تمام ترمشکلوں کے باوجود اسے بدل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم انسانی فکر کی اس آزادی پہ یقین رکھتے ہیں جو انسانوں کو اپنے ماحول سے آگاہ کرتی ہے اور جو اسے دوسرے انسانوں کے لئیے آسانیاں پیدا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ ہم اس قابل ہیں کہ اپنے لوگوں کو اپنے ملک کو ایک نئ پہچان دیں۔
تندی ء باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ توچلتی ہیں تجھے اونچا اڑانے کے لئیے
تو پھر اپنے پر، پرواز کے لئیے کھول دیں۔ بلندی کی کوئ حد نہیں ہے۔

حوالہ؛
نسیم حمید

نسیم حمید کی کہانی

Wednesday, January 27, 2010

دو سوال

 ویسے تو کھانے کی میز پہ گفتگو ہوتی ہی رہتی ہے لیکن ناشتے کے وقت اسکی رونق کچھ اور ہوتی ہے۔ جہاں ایک طرف ہر تھوڑی دیر بعد اس قسم کے ڈائیلاگ سنائ دیتے ہیں کہ مشعل تمہارا ناشتہ  کوئ کھا جائیگا۔ کھاءوگی نہی تو عقل نہیں آئے گی۔ اب اپنی جگہ سے ہلنا نہیں۔وہاں اخبار بھی درمیان میں گردش کرتا رہتا ہے اور اسکی خبروں پہ مختلف لوگوں کے تاثرات اور تبصرے بھی۔
آج کسی نے کہا کہ یہ کیا خبر ہے کہ ایوان صدر میں روزانہ کالے بکروں کی قربانی دی جا رہی ہے۔ الف نے حیرانی کا اظہار کیا مگر بکروں کا وہ بھی کالے بکروں کا کیا قصور ہے کہ وہ ذبح ہو رہے ہیں۔۔ لگتا ہے ان کالے بکروں کی بد دعا انہیں لے ڈوبے گی۔ خبر سنانے والے نے کہا کہ کالا جادو اتارنے کے لئیے کالے بکروں کی قربانی دی جاتی ہے۔ الف نے کہا لیکن یہ کالا جادو کون کر رہا ہے۔ ب نے کہا ، وہی کرائے گا جسکا دل کالا ہو اور دل انکا کالا ہوتا ہے جنکی نیت خراب ہو۔  شاید حزب اختلاف یا چیف جسٹس یا کوئ اور کالا شخص ۔۔ اس پہ خبر سنانے والے نے مزید مطلع کیا کہ کالا جادو کرنے کے لئیے کرنیوالے کا کالا ہونا ضروری نہیں ہے۔
 میں نے پوچھا، تو آپکا خیال ہے کہ یہ ان دو گروہوں میں سے کوئ ہے۔ جواب میں شانے اچکا کر ان کی طرف اشارہ کر دیا گیا جنہوں نے ممکنات ظاہر کئیے تھے۔ ان کی طرف سوالیہ نظریں اٹھائیں۔ پہلے گھورا پھر فرمایا، آجکل سب سے مشہور کالا کون ہے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے اندازہ لگایا۔ اوبامہ۔ پھر میں صرف ایک ہنکارے کی آواز سن سکی۔ مشعل نے ایک جذباتی چیخ ماری اورکہا کہ اسکے منہ کا نوالہ پیٹ میں جا چکا ہے اور اب منہ خالی ہے اور میں چاہوں تو موقع سے فائدہ اٹھا سکتی ہوں۔ اس وقفے کے بعد کسی نے ایک سوال پوچھا کہ یہ بتائیں کہ کوئٹہ میں ہونے والی حالیہ پولیس بغاوت کے بعد اب حالات کے مزید خراب ہونے کی پیشن گوئ کی جا سکتی ہے پھر انہوں نے میز پہ موجود ان لوگوں سے جو پاکستان سے سچی محبت کرتے ہیں۔  معذرت کرتے ہوئے کہا  کہ اگرچہ میرا کوئ برا ارادہ نہیں لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ان سب حالات کے بعد پاکستان جب اتنا کمزور ہو جائے گا کہ کوئ بھی اس پہ قبضہ کر لے تو کون سا پڑوسی ملک اس پہ قبضہ کریگا؟ سب سے پہلے میں نے ہاتھ اٹھایا۔ اور مجھے موقع بھی دیا گیا بولنے کا۔ 'افغانستان'۔ یعنی آپکا خیال ہے کہ افغانستان پاکستان پہ قبضہ کریگا۔ وجہ؟ اچانک سب اس سوال میں دلچسپی لینے لگے وہ بھی جو منہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے۔
اس لئیے کہ وہ ہمارا برادر اسلامی ملک ہے۔ اپنا مارے گا بھی تو سائے میں رکھے گا، اور پھر آجکل ہماری خارجہ پالیسی طالبان کا مزاج دیکھ کر بنائ جاتی ہے۔ جنکے ساتھ دائیں بازو والوں کی ہمدردیاں بھی ہیں۔ اور اگر آپ ذرا غور سے دیکھیں تو ہم وہیں جائیں گے جہاں طالبان ہمیں لیجائیں گے۔ وہ یقیناً افغانستان کا چناءو کریں گے۔
یعنی آپکا خیال ہے کہ پاکستان اور افغانستان کا فیڈریشن بن جائے گا۔ کسی نے بڑی مسرت سے پوچھا۔ 'گریٹر افغانستان'۔ اچھا، میں نے اپنی بات پہ  غور کرنا چاہا۔
مشعل نے پھر نعرہ مارا، 'میں نے اپنا آخری نوالہ بھی کھا لیا'۔ ایک بات مشعل کو سمجھا دی گئ ہے کہ وہ اگر آخری نوالہ کھائے گی تو طاقت آئے گی۔ کیونکہ ساری طاقت آخری نوالے میں ہوتی ہے۔ اسکے بعد وہ ہم سب کے ہاتھوں پہ زور آزمائ کرتی ہیں اور ہم سب تھوڑی سی ایکٹنگ کرتے ہیں کہ اف کس قدر طاقتور لڑکی ہے یہ اب، ہاتھ ہی توڑ دیا۔ بچے کتنے سادہ ہوتے ہیں۔ہاں، مگر اس سارے چکر میں بات کیا ہو رہی تھی یہ تو ہم بھول گئے۔
  آپ میں سے کوئ اس تحریر میں موجود سوالوں کے جواب دینا چاہے تو بصد شوق۔ سوال دو ہیں
جادو کون کروا رہا ہے؟

Wednesday, January 20, 2010

تین احمق، کہانی بالکل فلمی ہے

میں اپنے ہمراہیوں کے ساتھ سی ویو میں واقع ایک سینما ہاءوس جسے سینے پلیکس کہتے ہیں  کی طرف چلی جارہی تھی۔ یہ مت سمجھیےگا کہ این آر او سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے اتنی رقم جمع کرلی کہ ایسے مہنگے سینماءوں میں فلمیں دیکھنے لگی۔ میں تو صرف غالب کی اس نصیحت پہ عمل کر رہی تھی کہ مفت ہاتھ آئے تو برائ کیا ہے۔ ویسے بھی اس فلم کے بڑے چرچے ہو رہے تھے تو جیسے ہی یہ منصوبہ پردہ ء غیب سے ظہور میں آیا۔ میں نے اپنی ڈرائیونگ کی مہارت کو پیش کرکے یہ ڈیل پکی کرلی۔ سچ ہے ہنر رائیگاں نہیں جاتا۔
یہ فلم تھی 'تھری ایڈیٹس'۔ اگرچہ فلموں پہ ریویو لکھنے کا میرا کبھی کوئ ارادہ نہیں رہا۔ اور اسکے باوجود کہ اس فلم کی کہانی بالکل فلمی تھی۔ یہ مجھے خاصی پسند آئ۔ اور میں نے اردو کے ایک محاورے 'گو میں پڑی کوڑی کو دانتوں سے کھینچتے  ہیں' کے تحت اسکی خوبیاں بھی پیشاب بھری اسٹوری سے نکال ہی لیں۔
بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ فلم کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئیر بننے کا سبق نہ پڑھائیں بلکہ انہیں وہ کرنے دیں جسکی طرف انکا رجحان ہے۔ لیکن اس فلم کی خوبیاں اس سے ہٹ کر ہیں۔ اور یہ وہ خوبیاں ہیں جو مجھے انسانوں میں بھی پسند آتی ہیں۔ یعنی زندگی کو زندہ رہنے کے احساس سے گذارنا۔ جہاں کہانی ہمیں یہ احساس دلانے کی کوشش کرتی ہے کہ کامیابی کوئ چیز نہیں ہوتی اور اہمیت محض منزل کی نہیں راستوں کی بھی ہوتی ہے۔ وہاں یہ اپنے دیکھنے والے میں جوش اور لگن بھی پیدا کرتی ہے۔ ایسا جذبہ جسکے بعد ہم اپنے آپکو دیکھتے ہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں، اس وسیع  وعریض کائنات، اس کھلے آسمان اور اس رنگ برنگی دنیا میں زندگی ہمیں کن چیزوں کی دعوت دے رہی ہے۔
طالب علموں کے لئے اس میں پیغام ہے کہ محض ڈگری کوئ چیز نہیں ہوتی اس سے وابستہ علم کی اہمیت ہوتی ہے۔ علم کی طاقت کے آگے بڑے بڑے سر نگوں ہو جاتے ہیں۔ اسی لئیے تو آدم کو پہلے اسماء کا علم دیا گیا تھا۔
فلم میں گانے خاصے کم، رومانس قابل گذارہ اور آئٹم سونگ کوئ نہیں ہے۔
تو جناب سینما ہال سے باہر آکر بھی دنیا کافی دیر تک اچھی لگتی رہی۔  لیکن اس اچھائ کو محسوس کرنے کے لئے آپکو اپنی یاد داشت کو اچھا انتخاب کرنے والا بنانا پڑیگا۔ ورنہ آپ کہیں گے لا حو ل ولا قوت۔ یہ فلم تھی کہ موری خانہ۔ مجھے نہیں معلوم کہ فلم کے بنانیوالوں نے اسے کمرشلی بیچنے کے لئے اس میں یہ مذاق ڈالے یا عام انڈینز کامذاق اب اسی سطح پہ پہنچ چکا ہے۔
سنا ہے پاکستان میں بھی ایک فلم اسی ٹائٹل کے ساتھ بن رہی ہے اور اسکی شوٹنگ آخری مراحل میں ہے۔ مجھے تو اس فلم کا صرف پرومو فوٹو ہی ملا ہے جو حاضر ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ یہ پاکستانی فلم اپنے مقابل کی انڈین فلم کے چھکے چھڑآ دیگی۔ لاج رکھ لیجیو مولا میرے۔ دیکھیں کیا ہوتا ہے فلم کے ریلیز ہونے تک۔



 اس فلم کا پرومو دیکھ کر ہی لگ رہا ہے کہ کہانی بالکل فلمی ہے۔ اس پہ مجھے اعتراض نہیں۔ سینما ہاءوس میں کوئ اصل زندگی دیکھنے تو جاتانہیں۔ خیر، اس میں ملک کے نامی گرامی اداکار موجود ہیں اور سنا ہے کہ اسکرپٹ بھی دیسی رائٹر کا لکھا ہوا ہے۔ اس لئیے اس میں کچھ ڈائیلاگ اس طرح کے ہونے کے امکان ہیں کہ جج صاحب،  میرے بیس سالہ لوٹے کو اتنا تو بڑا ہونے دو کہ وہ وزیر اعظم بن جائے۔ کہانی کا کلائمیکس یہی ہے کہ لوٹا وزیر اعظم بن سکتا ہے کہ نہیں۔ کہانی میں ایک مولا جٹ بھی موجود ہے جو مشکل وقت میں قوالی گاتا رہتا ہے مجھ کو جدہ بلالے مولا میرے۔ دیسی کہانی میں ایک ریمبو بھی ہے۔ جو ہیرو کے لئیے تندہی سے  مشکل وقت لاتا ہےاور ساتھ ہی  انتہائ تندہی سے اسے ہٹانے کی مہم میں لگ جاتا ہے۔ یہ کردار خاصہ غیر واضح ہے اور کہا جاتا ہے کہ اسے فلم کی کمرشل ویلیو بڑھانے کے لئے ڈالا گیا ہے۔ اور اس کردار سے آمدنی بڑھنے کے امکان ہیں۔ کہانی زیادہ تر فلیش بیک میں چلنے کے امکان ہیں۔ اگرچہ فلم کی ہیروئین کے لئیے جس فنکارہ کو لیا گیا ہے وہ کچھ عرصے قبل ہی آنجہانی ہو چکی ہیں۔ یعنی کہ مر گئ ہیں۔ لیکن امید ہے کہ انکی میسر فوٹیج اور آواز اس کمی کو محسوس نہیں ہونے دیگی۔۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام 'گو میں پڑی کوڑی کو دانتوں سے کھینچتی 'ہے کہ نہیں۔  ویسے تو عوام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انکی یاد داشت بس ایویں ہی ہوتی ہے لیکن پھر بھی ایسا نہ ہو کہ فلم کے اختتام پہ کچھ لوگ کہیں کہ فلم تھی یا موری خانہ۔ اور ہاں، اس فلم کا پیغام کیا ہوگا۔ یہ تو عوام ہی بتا سکتی ہے یا اسکرپٹ رائٹر۔


Saturday, July 11, 2009

بات وہ آدھی رات کی

آدھی رات کو جب یہ دنیا والے خوابوں کی سیج سجاتے ہیں تو ایسے میں ہم شہروں کے رہنے والے ایکدوسرے کے فون کھڑ کھڑاتے ہیں۔ کیا کریں یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اپنے آپ سے ملاقات کرنے کا موقع ملتا ہے اورپھرکسی بہانے دوسرے ساتھیوں کو یادکرنے لگتے ہیں ۔یہ کچھ اوکھی سی گفتگو کا خلاصہ ہے۔ آنکھوں پر عقیدت کی پٹی باندھ کر پھرنے والے اور انسانی محبوبوں کو خدا سمجھنے والے اگر نہ پڑھیں تو انکا کچھ نقصان نہیں ہوگا۔ یہ دوسرا شخص، ایک ہمراہی ہیں۔ انکی اور میری ہم آہنگی ایسی ہے کہ باوجود مختلف طرز فکر رکھنے کے میں انہیں غدار پاکستان اور کافر نہیں سمجھتی اور وہ بھی مجھے اس وطن کے وفاداروں میں اور مسلمانوں میں خیال کرتے ہیں۔ یاد رہے اردو گرامر میں اگر تانیث ظاہر کرنا مقصود نہ ہو تو مذکر کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔ تو یہ کوئ بےوقوف خاتون بھی ہو سکتی ہیں اور عقلمند مرد بھی۔

شش،آرام سے سنیں۔

میں؛ کیا ہو رہا ہے سونا تو یقیناً نہیں چل رہا ہوگا۔
ہمراہی؛ نہیں کل کی تیاری چل رہی ہے۔ کس لئے یاد فرمایا آپ نے۔
میں: بھئ ایک موضوع چھڑا ہوا ہے۔قاضی صاحب کے حوالے سے۔
ہمراہی ؛ کون سے قاضی؟
میں؛ جناب قاضی حسین احمد، انہوں نے اقبال اور قائد اعظم کے حوالے سے اپنے ایک مضمون میں جس کے اقتباسات ڈان میں بھی کچھ دنوں پہلے شائع ہوئے تھے۔ یہ کہا ہے کہ اس ملک کو دراصل اسلامی مملکت بننا ہے ورنہ یہاں کا مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ انہوں نے اقبال کی نظم وطنیت کے ان اشعار کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات کہی کہ اقبال وطنیت کے سخت مخالف تھے۔
ان تازہ خداءوں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیراہن ہےاس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے

میرے ہاتھ میں اس وقت کلیات اقبال ہے۔ انکی نظم وطنیت بانگ درا میں موجود ہے اور اس نظم سے کوئ سو صفحے پہلے انکی نظم ہندی ترانہ موجود ہے جس میں انہوں نے ہندوستاں کو اپنا وطن قرار دیتے ہوئے اسے اپنی محبتوں کا مرکز قرار دیا ہے۔

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اسکی یہ گلستاں ہمارا
غربت میں ہوں اگر ہم، رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو وہیں ہمیں بھی، دل ہو جہاں ہمارا
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستاں ہمارا

میں الجھن میں ہوں۔ علامہ کی بات میں تضاد کیوں ہے۔

ہمراہی؛ دراصل علامہ ابتدائ طور پر تو نہیں البتہ بعد میں پین اسلام ازم کی طرف مائل ہو گئے تھے ان کی دوسری نظم وطنیت اسی دور کی ہے اور اپنے انتقال کے وقت تک وہ اسی پر قائم رہے۔ جبکہ نظم ہندی ترانہ پہلے دور سے تعلق رکھتی ہے۔

میں؛ مزید بات قائد اعظم کی اس پالیسی ساز تقریر کے حوالے سے جو انہوں نے قیام پاکستان سے دو دن قبل دی تھی۔
’آپ آزاد ہیں عبادت کے لیے اپنے مندروں میں جانے میں آزاد ہیں ،آپ اپنی مسجدوں میں جانے میں آزاد ہیں آپ مملکت پاکستان میں اپنے عقیدے کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں جانے میں آزاد ہیں آپ خواہ کسی مذہب،فرقے یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں امور مملکت کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ۔ ۔ ہم سب ایک ہی مملکت کے شہری ہیں اوربرابر کے شہری۔ ۔ ۔ پس ہمیں اس نصب العین کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور آپ وقت کے ساتھ ساتھ دیکھیں گے کہ نہ ہندو،ہندو رہے گا اور نہ مسلمان ،مسلمان ،مذہب کے معنوں میں نہیں کیونکہ یہ تو ذاتی عقیدت کا معاملہ ہے بلکہ سیاست کے معنوں میں جب ہر شخص مملکت کا شہری ہوتا ہے ‘‘۔

اسکے بارے میں قاضی صاحب کا کہنا ہے کہ صرف اس تقریر کے پیچھے سب پڑ گئے ہیں حالانکہ اس سے پہلے اور اسکے بعد انہوں نے کتنی دفعہ ایسی باتیں کیں جس سے یہ نتیجہ نکالنا چاہئے کہ وہ ایک اسلامی مملکت چاہتے تھے۔ ایک اسلامی مملکت جہاں اسلامی قوانین کا نفاذ ہو۔ مجھے تو قاضی صاحب کی یہ بات صحیح لگتی ہے۔

ہمراہی؛ تو ان سے آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ خود قائد اعظم کسطرح کے مسلمان تھے اور وہ اسلام کو کیسا سمجھتے تھے۔ محترمہ شاید آپ نے وہ واقعہ نہیں سنا کہ جناح صاحب کو نماز پڑھنا نہیں آتی تھی۔ ایکدفعہ کسی اجلاس کے دوران جب انہیں جماعت نماز پڑھنی پڑی تو عین نماز کے دوران جب سب لوگ رکوع میں چلے گئے تو وہ کھڑے رہ گئے اور انتہائ حیرت سے بولے کہ واٹ اے ڈسپلن۔

میں؛ یہ تو ایکدم مذاق ہے گھڑا ہوا۔
ہمراہی؛ جب انسان صدمے سے زیادہ حیرت میں ہو تو اسے چیزیں یونہی مذاق لگتی ہیں۔ وہ تو کہتے تھے کہ رسول اللہ نے آج سے تیرہ سو سال پہلے جمہوری طرز حکومت کی بنیاد رکھ دی تھی۔ وہ خودتو سرتاپا ایک سیکولر انسان تھے۔امیر اتنے کہ اصلی ریشم کی ٹائ بھی ایکدفعہ کے بعد دوسری نہیں پہنتے تھے۔مغربی پینٹ کوٹ کے ہاتھ کے سلے ہوئے سینکڑوں سوٹ انکے پاس اس وقت موجود تھے۔
میں؛ انہوں نے مسلمانوں کے لئے پاکستان حاصل کرنے کی جنگ لڑی آپ کو معلوم ہے انکے جلسوں میں لوگ نعرے لگایا کرتے تھے کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ۔
ہمراہی؛ اول تو انہوں ے یہ نعرہ کبھی خود نہیں لگایا اور دوئم انہوں نے یہ نعرے بھی کبھی نہیں لگوائے۔ مختلف تحریکوں میں جذبہ پیدا کرنے کے لئے نعرے تخلیق کئے جاتے ہیں۔ انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں نام نہاد جیت میں بھی ملکہء ترنم نورجہاں کے گانوں کا بڑا حصہ ہے۔ کیا آپ اس سے واقف نہیں۔ اب آپ کہیں جنگ اور اسکے لوازمات جیسے کھڑاگ کی کیا ضرورت ہے۔ دو چار نورجہانوں سے کام چل جائے گا۔ اور مزید یہ کہ حکومت وقت نے جنگ کو اسی مْصد کے لئے جیتا کہ نورجہاں اور گانے گائیں۔
میں؛ تو آپ سمجھتے ہیں کہ وہ سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔
ہمراہی؛ میرا خیال ہے کہ وہ مسلمانوں کے لئے ایک ایسی مملکت چاہتے تھے جس کے قاعدے قوانین مسلمان اپنے فائدے، نقصان اور اپنی ثقافت کو مد نظر رکھ کر بنائیں۔ آپ یا دوسرے لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ پاکستان محض جناح کی کوششوں سے نہیں بنا۔ کوئ بھی تحریک صرف لیڈر کے بل بوتے پہ نہیں چل سکتی بلکہ ان لوگوں کا عزم بھی اس میں کام کرتا ہے جو اس سے متاثر ہوتے ہیں جن کے لئے وہ تحریک چلائ گئ ہوتی ہے۔ اب آپ بتائیں۔ پاکستان کی تحریک کی اصل جنگ ان علاقوں میں لڑی گئ جو آج پاکستان میں شامل نہیں۔ وہاں کے مسلمان، مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ مسلمان خود جیسی زندگی گذار رہے تھے ویسی ہی زندگی گذارنا چاہتے ہونگے یا اپنے مزاج سے الگ کسی نئے اسلام کی طلب کر رہے تھے۔ وہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے تھے ناں۔ یا پاکستان بننے کے بعد سب نئے سرے سے مسلمان ہونا چاہتے تھے۔ انکی پریشانی یہ نہیں تھی کہ انگریز حکومت انہیں انکے مذہب پر عمل پیرا نہیں ہونے دے رہی تھی بلکہ انکی پریشانی یہ تھی کہ انگریزوں کے جانے کے بعد وہ ہندو اکثریت کے رحم و کرم پہ رہ جائیں گے۔ اور اس صورت میں انہیں معاشی اور ثقافتی طور پہ ہراساں کیا جائے گا۔ مسلمان کمیونٹی کے مفادات کو ضرب لگتی تھی نہ کہ اسلام کو۔ اب جناح صاحب شراب بھی پیتے تھے، غیر مسلمانوں کے ساتھ ہوتے تو ایسا کوئ حلال حرام کا بھی خیال نہ رکھتے تھے۔ کوئ ایسے نماز روزے کے پابند نہ تھے۔ اب وہ کیسا اسلامی ملک چاہتے ہونگے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلا وزیر قانون ایک ہندو کو اور پہلا وزیر خارجہ ایک قادیانی کو بنایا۔ آج لوگ انہیں ایک مذہبی شخصیت بنانے پہ تلے ہوئے ہیں۔ مجھے حیرت ہے قاضی صاحب ایسا کہہ رہے ہیں۔ انکی جماعت کے جد اعلی مولانا مودودی تو کہتے تھے کہ جس جماعت کی قیادت ’جناح جیسے آدمی‘ کے ہاتھوں میں ہے اس سے ایک اسلامی ریاست کے قیام کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
میں؛ انہوں نے آخری عمر میں شراب چھوڑ دی تھی۔ باقی چیزوں کے بارے میں مجھے معلوم نہیں اور نہ کوئ خواہش ہے معلوم کرنے کی۔ انکی شخصیت پاکستان کی تخلیق کی جدوجہد میں سب سے نمایاں اور اہم ہے۔ میں نے تو کسی کی رائے یہ بھی پڑھی کہ اگر کانگریس کے پاس جناح جیسا ایک بھی لیڈر ہوتا تو پاکستان نہ بن پاتا۔ تو پاکستان کی تخلیق انکی دانائ اور زیرک شخصیت کی وجہ سے ممکن ہوئ۔

ہمراہی؛ انکا انتقال پھیپھڑوں کی ٹی بی کی وجہ سے ہوا تو وہ تو ڈاکٹری ہدایت ہوگی کہ ترک کر دیں۔ البتہ میں آپکی بات سے متفق ہوں کہ کسی شخص کی ذاتی زندگی کو اسکی قابلیت اور اہلیت سے الگ رکھنا چاہئیے۔ لیکن آپ اسی دنیا میں رہتیں اور دیکھتی ہونگیں کہ جب کسی کے خلاف کچھ بن نہیں پڑتا تو پھر ایسے ہی باتیں کی جاتیں ہے کہ وہ شراب پیتا ہے وہ یہ غیر اسلامی کام کرتا ہے وہ، وہ غیر اسلامی کام کرتا ہے اور پھر آخر میں یہ کہ وہ تو مسلمان یہ نہیں ہے کافر ہے۔۔ میرا سوال تو یہ ہے کہ جناح بھی یہ کرتے تھے اب انکی شخصیت کو اتنا مذہبی کیوں بنایا جارہا ہے۔ جناح کی پیدائش ایک کھوجے شیعہ گھرانے میں ہوئ اور وہ بعد میں اثناء عشری شیعہ میں چلے گئے۔ پاکستانیوں کی اکثریت سنی فقے سے تعلق رکھتی ہے۔ اب یہاں پہ کس فقہ کی حکومت ہوگی۔ وہ جس پر عوام کی اکثریت رضا مند ہے یا وہ جس پہ ہمارے قائد عمل پیرا تھے۔
میں: مجھے تو نہیں معلوم۔
ہمراہی؛ توپھر آپ جا کر بھنڈی پکائیں۔ ایک تو عورتیں، مردوں کی سیاست سے واقف ہوتی نہیں ہیں۔ اور چلی آتیں ہیں بیچ میں لقمہ دینے۔ اب ناراض ہونگی کہ مجھ جیسی علامہ کو یہ کہہ دیا۔
میں؛ آپ مجھے زیادہ طعنے نہ دیں۔ کبھی کبھی معاملات کو قابو میں رکھنے کے لئے بھی لاعلمی کا ڈرامہ کرنا پڑتا ہے۔ سنا نہیں آپ نے لا علمی ایک نعمت ہے۔مجھے معلوم ہے یہ قرار داد مقاصد کا بھی اس میں کچھ چکر ہے۔ اب میں اتنی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتی۔ میں صرف یہ جاننا چاہتی تھی کہ یہ تضاد ان بڑے ناموں کے کردار کا حصہ تھا یا اب کچھ لوگ معاملات کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لئے انکا نام استعمال کرتے ہیں۔
ہمراہی؛ تو آپ نے مجھے عام لوگوں میں سے نکال کر قاضی صاحب کے مد مقابل کھڑا کر دیا۔
میں؛ جی، میری خواہش ہے کہ ہر عام آدمی ان خاص لوگوں کے سامنے کھڑا ہو جائے۔
ہمراہی؛ اس طرح تو بڑی مشکل ہو جائے گی۔ عام آدمی کے لئے بھی اور خاص آدمی کے لئے بھی۔ سو میری دعا ہے تیری آرزو بدل جائے۔


ریفرنس؛

قاضی حسین احمد کا مضمون

قائد اعظم کی سوانح حیات ۱

قائد اعظم کی سوانح حیات
۲
پاکستان ایک مذہبی ریاست

فیصلے کا مرحلہ