Friday, December 17, 2010

ایک سودے کا سواد

کارا فلم فیسٹیول والوں کی طرف سے کراچی میں بین الاقوامی فلموں کا میلہ جاری تھا کہ ایک دن ہمیں ایک دوست کی دستاویزی فلم میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ حالات کچھ ایسے بنے کہ  کچھ مراعات کی وجہ سے ہمیں ایکدن کی فلمیں دیکھنے پہ رعایت بھی مل گئ۔ انکی دستاویزی فلم دیکھ کر فارغ ہوئے اور پھر کچھ اور فلمیں لگاتار دیکھ ڈالیں۔ اب ایک ایسا شخص جو دو ڈھائ گھنٹے کی فلم ٹکڑوں میں یا ٹہل ٹہل کر دیکھتا ہواسکے لئے سارا دن سینما اسکرین کے آگے گذار دینا ایک درد سر ہی بننا تھا۔ شام کو چار بجے جب ایک اور فلم دیکھنے کے لئے بیٹھے تھے تو میں نے دل میں فیصلہ کر لیا تھا کہ لائیٹس بند ہوتے ہی آنکھیں بند کر کے پڑ جاءونگی۔ یہ ایک دستاویزی فلم تھی اور نام بھی ایسا غیرروائیتی سا۔ باءولنگ فار کولمبائین۔  کون دیکھے گا۔ خدا جانے اس  میلے کے منتظمین کن بنیادوں پہ  فلمیں منتخب کرتے ہیں۔  صبح سے اب تک میں وہ بنیاد تلاش کرنے میں ناکام ہو چکی تھی۔
فلم شروع ہوئ اور لائیٹس بند ہونے کے بعد بھی میری آنکھیں بند نہ ہو سکیں۔
 کیا مزے کی فلم ہے۔ میلے کی منتظمین کی تمام خامیاں پس پردہ چلی گئیں۔ اور یوں لگا کہ سارے دن کی قیمت وصول ہو گئ۔ دستاویزی فلم اور اس قدر دلچسپ، کیا ممکن ہے اگر یہ دیکھنا ہو تو یہ فلم ضرور دیکھیں۔  جہاں فلم میکر امریکہ میں مار دھاڑ کے بڑھتے ہوئے جحانات کی چھان پھٹک کرتا ہے وہاں وہ اسے اتنے پر مزاح انداز میں پیش کرتا ہے کہ پردے پہ سے نظر ہٹانا ممکن نہیں۔  یہ جگتیں نہیں، نہ پھبتیاں بلکہ اس ساری چیز کے لئے خاصی ریسرچ کی گئ ہے جو فلم کا مواد دیکھ کر ہی پتہ چلتی ہے۔ جہاں فلم میکر اپنے موضوع کو اپنی گرفت میں رکھتا ہے وہاں وہ اس چیز کا پروپیگینڈہ کرتا بالکل نظر نہیں آتا کہ امریکی عظیم قوم ہیں۔ یہ فلم میکر مائیکل مور سے میرا پہلا تعارف تھا۔
 وہ ایک دستاویزی فلم میکر ہے اور انکے کریڈٹ پہ اسکے علاوہ بھی دیگر فلمیں جن میں وہ امریکن معاشرے کی سرجری کرتے نظر آتے ہیں۔
تو کیا میں مائیکل مور کا تعارف یا اس فلم کا ریویو لکھنے جا رہی ہوں۔ نہیں جناب ، ایسا کچھ نہیں ہے۔ بلکہ ہوا یوں کہ جب میں نے یہ خبر سنی کہ وکی لیکس کے بانی اسانژ نے خود کو  گرفتاری کے لئے پیش کر دیا ہے اس مقدمے کا سامنا کرنے کے لئے جسکے متعلق خیال یہی کیا جاتا ہے کہ انکی لیکس کو لگام دینے کے لئے گھڑا گیا ہے۔ تو ساتھ ہی یہ خبر بھی آگئ کہ اسانژ کی ضمانت ہو گئ ہے۔ اور اس  ضمانت  میں حصہ ڈالنے والے مائیکل مور بھی ہیں۔ بیس ہزار ڈالر ضمانت کی رقم میں ڈالتے ہوئے آخر مائیکل مور نے کیا سوچا؟
 مائیکل مور کہتا ہے کہ
I am publicly offering the assistance of my website, my servers, my domain names and anything else I can do to keep WikiLeaks alive and thriving as it continues its work to expose the crimes that were concocted in secret and carried out in our name and with our tax dollars. 
یعنی میں اپنی ویب سائیٹ، اپنے سرور، اپنے ڈومین اور ہر وہ چیز جو وکی لیکس کو زندہ اور متحرک رکھے اسکی پیش کش کرتا ہوں جب تک کہ یہ، ان جرائم کو سامنے لانے کا کام کرتی رہے گی جو کہ ہمارے نام اور ہمارے ٹیکس کے ڈالرز سے خفیہ طور پہ کئے جاتے رہے۔

وکی لیکس کیا چاہتے ہیں؟
WikiLeaks states that its "primary interest is in exposing oppressive regimes in Asia, the former Soviet bloc, Sub-Saharan Africa and the Middle East, but we also expect to be of assistance to people of all regions who wish to reveal unethical behaviour in their governments and corporations." 
 وکی لیکس کا کہنا ہے کہ انکی بنیادی دلچسپی   ایشیا، سابق سوویئت بلاک، صحرائ افریقہ اور مشرق وسطی کی جارحانہ حکومتوں کا پول کھولنے میں ہے۔ لیکن ہم تمام خطوں کے لوگوں کی مدد کرنے کی توقع کرتے ہیں جو کہ اپنی حکومتوں اور کارپوریشنز کے غیر اخلاقی رویوں کو سامنے لانا چاہتے ہیں۔

یہ سائیٹ وکی پیڈیا کی طرح ہے جس پہ کوئ بھی جا کر راز افشاء کر سکتا ہے اور افشا شدہ رازوں کا تجزیہ کر سکتا ہے۔ چاہے تو ایڈٹ بھی کر سکتا ہے۔ لیکن انکا وکی پیڈیا سے کوئ تعلق نہیں۔
 اسکے بانی جولین اسانژ کے بارے میں امریکی اراکین پارلیمنٹ اور سینیٹ اور امریکی معاشرے کے دیگر معززین کے بیانات اگر ہم پڑھیں تو حیران رہ جاتے ہیں۔ یہ بیان ویسے ہی ہیں جن سے بچنے کے لئے ہم اپنے بلاگ کے تبصروں میں کچھ اخلاقی نصیحتیں یا دھمکیاں لکھتے ہیں۔مثلاً اس کتیا کے بچے کو  غیر قانونی طور پہ شوٹ کر دینا چاہئیے۔ مزید یہ کہ وہ ایک ذہنی، نفسیاتی مریض ہے، دماغ چلا ہوا ہے اسکا، وہ ایک دہشت گرد ہے۔ اسکے ساتھ بالکل اسی طرح نبٹنا چاہئیے جیسا کہ القاعدہ اور طالبان کے ساتھ کیا گیا۔ وکی لیکس دہشت گردوں کی تنظیم ہے۔ 
مائیکل مور کے خیال میں وہ یقیناً دہشت گردہے جو ان  جھوٹے امریکیوں پہ دہشت لائے ہوئے ہے جنہوں نے امریکی قوم  کو تباہ کردیا اور دوسروں کو بھی۔ اب جنگ کے ان شیدائیوں کے لئے  اگلی جنگ کرنا اتنا آسان نہیں رہا۔ جھوٹ بولنا اب آسان نہیں رہا۔ مائیکل کے خیال میں وکی لیکس وجود میں آئ اس لئیے کہ امریکی مین اسٹریم جرنلزم نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔ حیرت ہے دنیا بھر کی صحافتی دنیا وہ کچھ نہیں کر سکی جو وکی لیکس نے کیا۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اگر آج سے دس سال پہلے وکی لیکس کا وجود ہوتا تو صدر بش عراق پہ اس بہانے سے حملہ نہ کر پاتے کہ وہاں بڑی تباہی کے اسلحہ کا ذخیرہ ہے۔
مجھے تویوں لگتا ہے امریکی سفیر ہالبروک پہ بھی وکی لیکس کی دہشت تھی۔ وکی لیکس کے دباءو کی وجہ سے انکے دل کی بڑی شریان سے خون لیک کر گیا۔ اور وہ چٹ پٹ چلے گئے۔
ادھر روسی میڈیا میں خبر گرم ہے کہ امن کا نوبل پرائز جولین اسانژ کو دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اس سال کسی صحیح شخص کو یہ انعام ملے گا۔
جولین اسانژ کو دنیا بھرکےپچاس با اثر لوگوں میں شامل کیا گیا ہے جبکہ اسے ان پچیس افراد میں بھی رکھا گیا ہے جو اپنی مستقبلیاتی ذہانت کی وجہ سے دنیا کو بدل کر رکھ سکتے ہیں۔
کیا دنیا کی تاریخ اور ترجیحات بدلنے کو ہیں؟ کیا جولین اسانژ اس بدلی ہوئ دنیا کا ایک نمائندہ ہے؟ کیا دنیا بھر کے انسانوں کو اب جنگ کی معیشت سے نجات مل جائے گی؟
اگر ان سب سوالوں کا جواب ہاں میں ہے تو مائیکل مور نے بیس ہزار ڈالر میں بڑا سستا سودا کیا۔ کیا خیال ہے؟    

Tuesday, December 14, 2010

زندہ روشنی-۲

بائیو لیئو می نیسنس سے جو روشنی پیدا ہوتی ہے وہ ٹھنڈی روشنی بھی کہلاتی ہے کہ یہ زیادہ توانائ نہیں رکھتی۔ بہت کم دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ یہ توانائ تھرمل اخراج سے ہو، جس سے کہ گرمی پیدا ہوتی ہے۔
گہرے پانیوں میں رہنے والی نوے فی صد مخلوقات یہ روشنی پیدا کرتی ہیں یا اسے استعمال کرتی ہیں۔ وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ گہرے سمندروں میں اتھاہ تاریکی ہوتی ہے۔ تو آخر اپنے ماحول اور آپس میں تعارف کیسے حاصل ہو۔ یوں یہ بزبان روشنی ہوتا ہے۔
سمندری مخلوقات زیادہ تر نیلی یا سبز روشنی پیدا کرتی ہیں کہ سمندر کا نمکین پانی انہیں آسانی سے منتقل کر دیتا ہے۔ لیکن کچھ جاندار، سرخ، پیلی اور انفرا ریڈ روشنی بھی پیدا کرتے ہیں۔
زمین پہ یہ عمل خاصے کم جانداروں میں ہوتا ہے۔ جگنو ، گلوورمز، کچھ حشرات، لاروا، اینیلڈز، ایرایکنیڈز اور کچھ بیکٹیریا اور پھپھوند بھی یہ روشنی پیدا کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ بعض مخلوقات اپنی اس خصوصیات کو صرف رات کے وقت ہی ظاہر کرتی ہیں اور ایک دوری عمل سے گذرتی ہیں۔ یعنی دن کے وقت کچھ اور رات کے وقت کچھ اور۔

گلو ورم


ایک اینیلڈ

اس عمل کا بنیادی مقصد تو توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔   پروین شاکر نے کہا کہ
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے
بچوں کی طرح دیگر جاندار بھی توجہ حاصل کرنے کا فن سیکھتے ہیں۔  کبھی اداءوں سے اور کبھی کچھ مختلف خصوصیات پیدا کر کے۔ روشنی  میں انسان کے لئے شاید سب سے زیادہ کشش ہے۔ حضرت موسی بھی جسے روشنی سمجھ کر بڑھے تھے وہ خدائے پاک کی تجلی تھی۔ مگر میرا یہ بیان غلط ہوگا اگر میں یہ نہ کہوں کہ دیگر جاندار بھی روشنی کے لئے رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ کچھ اس سے محظوظ ہوتے ہیں اور کچھ اس سے خوفزدہ۔ کچھ اسے گفتگو کی زبان کے طور پہ استعمال کرتے ہیں۔
 اس طرح بائیولومی نیسنس کے جو فائدے نظر آتے ہیں وہ یہ ہیں۔
اپنی برادری کے جاندار کو اپنی طرف راغب کرنا، اس طرح زوجگی کا مرحلہ آسان ہوتا ہے۔ اور بہت دور سے بھی ایک جاندار کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ اسکا جوڑی دار کہاں موجود ہے۔ تو یہ روشنی ملن کی روشنی ہوئ۔ یہ روشنی صرف ملن کی نہیں موت کی روشنی بھی ہو سکتی ہے اگر جاندار اپنے شکار کو رجھانے کے لئے اس روشنی کا اخراج کر رہا ہے تو وہ اپنے شکار کی نفسیات سمجھتا ہے۔ یوں ایسی روشنی کی طرف لپکنے والے جلد ہی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں اور جیت چالاکی کی ہوتی ہے۔ سو چمکتا جو نظر آتا ہے سب سونا نہیں ہوتا۔
کچھ جاندار اپنے بچاءو کے لئے اس روشنی کو خارج کرتے ہیں کہ انکے شکاری جاندار اس روشنی سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ جیسے ہی شکاری جاندار قریب آتا ہے۔ شکار ہونے والا جاندار یہ روشنی خارج کرتا ہے اور وہ بھاگ جاتا ہے۔ یہ عمل کچھ اسکوئڈز میں پایا جاتا ہے۔ یہاں ایک کیچوے کے بارے میں بھی یہی کہانی موجود ہے۔
کچھ جاندار خود تو یہ خاصیت نہیں رکھتے مگر انکے جسم پہ ایسے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں جو یہ روشنی پیدا کرتے ہیں۔ یہ جاندار اپنے بدن پہ موجود ان بیکٹیریا سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور دوسرے جانداروں کو دھوکے سے شکار کر لیتے ہیں۔اینگلر فش یہ تیکنیک  کیسے استعمال کرتی ہے۔  یہ ویڈیو حاضر ہے۔

 

کچھ جاندار مثلاً بلیک ڈریگن فش اس روشنی کو ٹارچ کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ اور اسکی مدد سے شکار تلاش کرتے ہیں۔
بیکٹیریا اس عمل کو کورم سینسنگ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ کورم سینسنگ جیسا کہ اصطلاح سے ظاہر ہوتا ہے بیکٹیریا کی ایک مخصوص تعداد یا کم از کم مخصوص تعداد ہوتی ہے۔ جو انہیں اپنی بقاء کے فیصلے ، ، مجموعی طور پہ کرنے کے لئے چاہئیے ہوتی ہے۔ اس سے یوں لگتا ہے کہ بیکٹیریا میں بھی جمہوری طرز عمل کسی حد تک پایا جاتا ہے۔ مذاق بر طرف، جب بیکٹیریا ایک مخصوص تعداد پہ پہنچ جاتے ہیں تو وہ روشنی کے اخراج سے ظاہر کرتے ہیں کہ اب ہم متفقہ فیصلے کرنے کے لئے تیار ہیں۔
 بائیو لیئومی نی سینس پیدا کرنے والی مخلوقات،اس سلسلے میں بھی اپنی انفرادی خصوصیات رکھتی ہیں۔ سو وہ مختلف طول موج کی روشنیوں کا اخراج کرتے ہیں، جن کی مدت اخراج، اور وقفہ ء اخراج مختلف ہوتا ہے۔
کیا ہمیں اپنے رب کی ان نشانیوں پہ حیرت کا اظہار کر کے سجدہ ء شکر بجا لانا چاہئیے اور اسکی صناعی کو تسلیم کر کے بیٹھ جانا چاہئیے۔ خدا نے انسان کو اس خمیر سے نہیں بنایا۔
اہل تحقیق، قدرت کے ان مظاہر کو انسانوں کی فلاح اور بہبود میں کام لانا چاہتے ہیں۔ یہ یقیناً نشانیاں ہیں کہ انسان مزید کیا کچھ کر سکتا ہے۔ سو اس عمل کو جان لینے کے بعد انسان میں یہ خواہش پیدا ہوئ کہ ہم خدا کی طرف سے عطا کردہ ان نشانیوں یا علامتوں کو بطور انسان اپنے کن مقاصد میں استعمال کر سکتے ہیں۔
انسان کا خیال ہے کہ وہ جینیٹک انجینیئرنگ سے مختلف جانوروں یا پودوں یا زندگی کی دوسری حالتوں میں روشنی پیدا کرنے والے جینز ڈال سکتا ہے۔ اس طرح وہ انہیں مختلف مقاصد کے لئے کام میں لا سکتا ہے۔
مثلاً ایسے درخت پیدا کئے جا سکتے ہیں جو روشنی پیدا کرتے ہوں اور انہیں سڑکوں کے کنارے لگایا جا سکے۔ اور اس طرح اسٹریٹ لائٹس کی شکل میں ضائع ہونے والی توانائ بچائ جا سکے۔


ایسی فصلیں اور گھریلو پودے جنہیں جب پانی کی ضرورت ہو روشنی خارج کریں۔ اس طرح پانی کی بچت ہوگی۔
غذائ اجناس میں جراثیم کی آلودگی  یعنی بیکٹیریا آسانی سے معلوم کیئے جا سکیں گے۔
قیدیوں اور ذہنی مریضوں میں ایسے شناختی نشان پیدا کئے جا سکیں جو فرار ہونے کی صورت میں انکی نشاندہی کر سکیں۔
اور ہاں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کرنے والی فلم میں 'اویٹار' میں  کیا آپ نے بائیو لومی نیسنس کا استعمال دیکھا، اگر یاد نہیں آرہا تو پھر سے دیکھیں۔ اس میں موجود خلائ مخلوق کے جسم پہ منور نشانات شاید اس خیال سے متائثر ہوں۔ ریسرچ کہتی ہے کہ انسان بھی ایک حد میں روشنی کا اخراج کرتا ہے۔ پڑھئیے یہ تحریر۔

 ۔
۔
۔
اقبال اپنی نظم جگنو کے آخر میں سوال رکھتے ہیں کہ
یہ اختلاف پھر کیوں ہنگاموں کا محل ہو
ہر شے میں جبکہ پنہاں خاموشی ازل ہو

اس سوال کا جواب آپ پہ چھوڑتے ہوئے، مزید مطالعے کے لئے دیکھئیے یہ لنکس۔
یہ کتاب

  http://www.oregonlive.com/environment/index.ssf/2009/08/flamboyant_deepsea_worms_disco.html
نیلی ٹائڈ
http://www.scientificamerican.com/slideshow.cfm?id=bioluminescent-avatar&photo_id=A2922CB3-A0F2-C2E4-154E3CF177F773FB
http://www.scientificamerican.com/slideshow.cfm?id=bioluminescent-avatar&photo_id=A2922CB9-D6FF-DE0E-E98AE3D4C9862ECF
http://www.quantum-immortal.net/physics/biolum.php

زندہ روشنی-۱

میری بچپن کی یادوں میں اقبال کی ایک نظم جگنو بھی ہے جسے میں خوب لہک لہک کر پڑھا کرتی تھی۔
جگنو کی روشنی ہے کاشانہ ء چمن میں یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں
کیا شب کی سلطنت میں دن کا سفیر آیا، یا جان پڑ گئ ہے مہتاب کی کرن میں
یہ ایک لمبی نظم ہے۔ آگے کسی بند میں اقبال لکھتے ہیں کہ
پروانہ ایک پتنگا، جگنو بھی اک پتنگا
وہ روشنی کا طالب، یہ روشنی سراپا
  اس حقیقت کو اسی طرح قبول کرنے کے بجائے کہ قدرت نے جگنو کو چمک دی اور پروانے کو بے نوری، اللہ کے کام اللہ ہی جانے۔ کچھ کیمیا دانوں نے اس عمل کو جاننے جی کوشش کی کہ دونوں میں یہ فرق کیسے پیدا ہوتا ہے۔ آخر خدا نےایسا کیا راز اس میں رکھا کہ جگنو ہمیں رات کے وقت چمکتا نظر آتا ہے۔
جگنو
معلوم ہوا کہ بعض جانداروں کو قدرت نے ایک خاص عمل پیدا کرنے کی صلاحیت دی ہے۔ جسکے نتیجے میں انکاجسم منور ہو جاتا ہے۔ سائینس کی زبان میں یہ عمل بائیو لومی نی سنس کہلاتا ہے۔
بائیو کا مطلب زندہ اور لومن کا مطلب روشنی یعنی زندہ روشنی یا زندگی سے پیدا ہونے والی روشنی۔ یہ روشنی جانداروں میں ایک کیمیائ عمل کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ جگنو، اینگلر فش اور دیگر کچھ جانداروں میں  موجود مرکب لوسی فیرن اور خامرے لوسی فیریز سے یہ کیمیائ عمل وجود میں آتا ہے۔،
 

اب یہ عمل تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوسی فیرن نامی مرکب، اس خامرے لوسی فیریز کی موجودگی میں زیادہ توانائ کا حامل مرکب آکسی لوسی فیرن بناتا ہے جو کہ روشنی کی ایک مخصوص مقدار کو خارج کرنے کے بعد کم توانائ والے آکسی لوسی فیرن میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ بات ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ ہر زیادہ توانائ والا نظام کم توانائ والی حالت کو پسند کرتا کیونکہ یہ اسے مستحکم بناتا  ہے، یہ اس کائینات کا ایک سادہ سا اصول ہے۔
لیکن جگنو ہی صرف ایک ایسا جاندار نہیں جو یہ روشنی پیدا کر سکتا ہے بلکہ گہرے سمندروں  کی اتھاہ تاریکیوں میں رہنے والی سمندری مخلوقات کی ے تقریباً نوے فی صد تعداد بائیولومینیسنس پیدا کرتی ہے۔ کیونکہ یہی وہ طریقہ ہے جس سے وہ ایکدوسرے کو اپنی موجودگی سے آگاہ کر سکتے ہیں۔
تو کیا  بائیو لومینیسنس کچھ مخلوقات میں گفتگو کا ایک طریقہ ہے؟


یہ ایک جیلی فش سے خارج ہونے والی روشنی کا کرشمہ ہے۔


Wednesday, December 8, 2010

بزرگ ہونا

پچھلے چند دن کچھ قریبی شادیوں کی مصروفیت میں گذرے۔ پھر کچھ دوستوں کی شادیاں بھی اس میں شامل ہو گئیں۔ اور یوں میں شادیوں کے ہاتھوں یرغمال ہو گئ۔ شادیوں کی اس بھاگ دوڑ سے ہٹ کر ایک نکاح کی تقریب دلچسپ رہی۔ 
کراچی میں اب یہ رواج ہو گیا ہے کہ نکاح کی تقریب ایک دو روز پہلے قریبی رشتے داروں کی موجودگی میں ہو جاتی ہے اور رخصتی بعد میں شادی ہال یا لان سے ہوتی ہے۔ فائدہ یہ کہ رخصتی کی تقریب میں کچھ دیر سویر ہو تو کوئ پریشانی نہیں ہوتی۔
یوں ایکدن ہم ایک نکاح کی تقریب میں بھی شامل تھے۔ نکاح کی یہ تقریب گھر پہ ہوئ اور تمام خواتین و حضرات ایک ہی جگہ موجود تھے۔
قاضی صاحب کے آنے کے بعد فارم بھرنے کا مرحلہ شروع ہوا۔ پہلے دولہا اور انکے گواہان کے نام پتے لکھے گئے پھر دولہن کی باری آئ۔ نام پوچھا گیا۔ جواب ملا رومیصہ احمد خان۔ قاضی صاحب نے کہا صرف دولہن کا نام بتائیں۔ جواب ملا کہ یہ صرف دولہن کا نام ہے۔ انہوں نے اسی سنجیدگی سے کہا یہ دولہن کا نام کیسے ہو سکتا ہے۔ میں صرف رومیصہ لکھ رہا ہوں۔ لیکن آپ صرف رومیصہ کیسے لکھ سکتے ہیں۔ دولہن کا پورا نام رومیصہ احمد خان ہے۔ دستاویزات میں یہی نام ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ احمد خان تو والد صاحب کا نام ہوگا۔ جبکہ اس وقت صرف دولہن کا نام چاہئیے۔ پھر حاضرین محفل میں سے کسی نے مداخلت کی یہ والد صاحب کے نام کے ساتھ بھی ہے اور دولہن کے نام کے ساتھ بھی ہے۔ دولہن کا نام شناختی کارڈ میں یہی ہے۔ چلیں جناب، عوام کے بے حد اصرار پہ قاضی صاحب بہ مجبوری رومیصہ احمد خان لکھنے پہ تیار ہوئے۔
 اب  باقی گواہان اور وکیل کے نام اور پتے لکھے گئے اور مہر کی مقدار لکھ کر باقی فارم کے بارے میں قاضی صاحب نے کہا اسے چھوڑ دیں اس سارے پہ ایک کراس لگ جائے گا۔
یہ سن کر میرے کان کھڑے ہوئے۔ کیونکہ دولہن صاحبہ نے نکاح سے پہلے مجھ سے کہا تھا کہ میں نکاح کے وقت وہاں موجود رہوں اور نکاح کی جو شقیں ہیں انہیں بھرنے پہ اصرار کروں۔ میں نے دولہن سے کہا مگر میں  یہ کیسے کر سکتی ہوں۔ جانے دو یار، سب کا نکاح ایسے ہی ہوتا ہے۔
کہنے لگیں میں نہیں جانے دے سکتی۔ مجھے یاد ہے آپکے نکاح پہ کیا ہوا تھا۔
دراصل میرے نکاح پہ ، دودن پہلے میرے سسر صاحب نے نکاح فارم کی ایک کاپی کروائ اور کہا کہ وہ پینسل سے بھر کر یہ کاپی دیں گے اور اصل نکاح فارم اسی طرح بھرا جائے گا۔ جب وہ فارم واپس آیا تو ہم سب کو ایک خوشگوار حیرت ہوئ کہ انہوں نے فارم کی ایک ایک شق کو پر کیا تھا۔ اور شق نمبر اٹھارہ جسکے تحت طلاق کا حق بیوی کو تفویض کیا جاتا ہے اس میں ہاں لکھا تھا۔ اسکے بعد ایک اور شق جس میں پوچھا گیا تھا کہ کس صورت میں بیوی طلاق کی درخواست کر سکتی انہوں نے لکھا کہ اگر وہ اپنے شوہر کو نا پسند کرتی ہو۔
ہم میں سے  کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ فارم اس طرح بھرا جائے گا اور ایک عمومی طریقہ یہی ہے کہ تمام شقوں پہ ایک کراس ڈال دیا جاتا ہے۔ خیر یہ میرے سسر صاحب کے کھلے دل کے ہونے کی ایک نشانی تھا۔   میرے گھر سے کسی نے ان سے یہ مطالبہ نہیں کیا تھا۔ یہ انکا مجھے سب سے پہلا تحفہ تھا۔
لیکن دولہا والوں سے اس چیز کا مطالبہ کرنا ذرا مشکل لگتا ہے۔ عمومی حالت یہ ہے کہ انکا پلّہ بھاری ہوتا ہے۔ خیر جب نکاح فارم بھرا جا چکا تو دولہن کی والدہ نے دستخط ہونے سے پہلے کہا کہ وہ اسے دیکھنا چاہتی ہیں اور فارم قاضی صاحب سے لے کر میرے ہاتھ میں دے دیا۔ میں تھوڑی دیر پہلے ہونے والی گفتگو سے یہ اشارہ سمجھ گئ کہ مجھے کیا کہنا ہے۔ ایک نظر اس فارم پہ ڈالی اور کہا کہ میں یہ درخواست کرنا چاہتی ہوں کہ چاہے سارے فارم پہ آپ کراس ڈال دیں لیکن شق نمبر اٹھارہ میں ہاں لکھ دیں۔ ایک دم محفل میں سنّاٹا  ہو گیا اور پھر بھنبھناہٹ۔ 
یہ شق نمبر اٹھارہ کیا ہے؟ میں نے پڑھ کر سنایا۔ کیا بیوی کو طلاق کا حق تفویض کردیا گیا ہے؟ باراتیوں میں سے ایک صاحب نے کہا یہ تو غیر شرعی ہے۔ اسکی کوئ اہمیت نہیں۔ یہاں ہمارے خاندان کی جتنی خواتین بیٹھی ہیں۔ انہوں نے سبکے نام گنوائے ان سے پوچھیں کسی کے نکاح میں ایسا نہیں کیا گیا۔ سب ہنسی خوشی رہ رہی ہیں۔
اس پہ میں نے ان سے کہا کہ چونکہ یہ فارم اور اسکی شقیں حکومت پاکستان کی منظورہ شدہ ہیں اور کسی بھی قانونی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں اس لئے انکا بھرنا ضروری ہے۔ اس وقت ہم اسکے شرعی اور غیر شرعی پہلو میں نہیں پڑ رہے۔ حکومت پاکستان نے اگر یہ رکھا ہے تو اسکا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک دفعہ پھر سب خاموش۔ 
پھر دوسرے باریش صاحب جو دولہا کے بھائ تھے بولے۔ یہ حق تو خلع کے برابر ہوتا ہے اور اسے غیر شرعی کہنا درست نہیں۔ میں تو نہیں سمجھتا کہ اسے ہاں کہہ دینے سے کوئ فرق پڑتا ہے۔ پھر ہنس کر کہنے لگے کہ آج ہی اخبار میں اسکے بارے میں ایک مضمون پڑھا  کہ تمام شقوں کو بھرنا چاہئیے۔ مگر ان رشتے دار نے پھر مداخلت کی، باقی تو کسی کا بھی نہیں ہوا۔ آخر وہ بھی تو رہ رہے ہیں۔ میں نے ان سے کہا فکر نہ کریں۔ پھر اپنے شوہر صاحب کی طرف اشارہ کیا۔ میرے نکاح کے فارم میں بھی یہ شق بھری گئ ، ہاں کے ساتھ۔ اتنا عرصہ ہو گیا ہماری شادی کو اور ہم خدا کا شکر ہے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ 
آخرطے ہوا کہ معاملہ دولہا پہ چھوڑ دیا جائے۔ دولہا نے کہا، مجھے تو کوئ اعتراض نہیں۔
 یوں ایجاب و قبول کا سلسلہ شروع ہوا۔ دعا ہے کہ دونوں اسی طرح ہم آہنگی اور سمجھ داری سے زندگی گذاریں۔
میں اپنے گھر واپس آتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ یہ میرے سسر صاحب کی وسعت قلبی اور سمجھداری تھی جس نے آج مجھے اتنا حوصلہ دیا کہ میں نے ایک اور لڑکی کو یہ حق لینے میں مدد کی۔
معاشرے کے بگاڑ اور سنوار میں بزرگوں کے روئیے،  فیصلے اور دور اندیشی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ وہ آنے والی نسل کو مضبوطی سے کھڑے ہونے کے قابل بناسکتے ہیں اور وہی انہیں کمزور کر کے بھٹکنے کے لئے چھوڑسکتے ہیں۔ آج میرے سسر صاحب  کو اس دنیا کو چھوڑےتین مہینے ہو رہے ہیں۔  دعا ہے کہ خدا ہمیں کردار اور عمل کی مضبوطی دے  تاکہ ہم انکے انسانی قدروں کے مضبوط بنانے کے عمل کو جاری رکھیں۔

Monday, December 6, 2010

یوریکا، میں نے پا لیا

سرکاری اسکول کی کارکردگی کے معائینے کو ایک انسپکٹرصاحب پہنچے اور ایک کلاس کا معائینہ کرتے ہوئے انہوں نے کلاس کے سب سے ذہین بچے سے پوچھا۔ 'ہمم، یہ بتاءو سومنات کا مندر کس نے توڑا؟'۔ گڈو میاں کا چہرہ فق ہو گیا۔ ایکدم روہانسے ہو گئےہکلاتے ہوئے کہنے لگے،' سر، قسم لے لیجئیے، میں نے  نہیں توڑا'۔
انسپکٹر حیران ہوا کلاس ٹیچر سے کہنے لگا یہ گڈو میاں کیا کہہ رہے ہیں۔ ٹیچر نے انکی شکل دیکھی اور فرمایا' گڈو ایک بہت ذہین اور تمیز دار بچہ ہے میں اسے ذاتی طور پہ جانتا ہوں۔ یہ کبھی کسی توپھوڑ یا شرارت میں شامل نہیں ہوتا'۔
انسپکٹر نے انہیں ترحم والی نظروں سے دیکھا اور ہیڈ ماسٹر کے پاس پہنچا۔ اور انہیں گڈو میاں اور انکے ٹیچر کے جوابات سے مطلع کیا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے پوری سنجیدگی سے انکی بات سنی اور ایک خاموشی کے بعد بولے۔' میں خود بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ گڈو ایسا بچہ نہیں ہے۔ میں اسے اور اسکے ٹیچر کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ گڈو نے آج تک ایسا توڑ پھوڑ کا کوئ کام نہیں کیا۔

اب تو انسپکٹر صاحب کو اور تاءو آیا۔ اپنے آفس پہنچے اور محکمہ ء تعلیم کے نام خط لکھ ڈالا۔ اور اس میں تمام واقعے کا تذکرہ لکھا۔جواب آیا۔ محترم ہمیں آپکا خط ملا۔ اس میں کچھ توڑ پھوڑ کا تذکرہ تھا۔ اس لئے ہم نے اسے محکمہ ء تعمیرات کو بھیج دیا۔ امید ہے وہ آپکو تسلی بخش جواب دیں گے۔
یہی گڈو جب  اسی تعلیمی نظام کے زیر سایہ پل کر بڑے ہوئے تو ملک میں ایک خاص نظریاتی ماحول تشکیل پا چکا تھا۔ اسکی رو سے ملک کے اندر مروجہ مذہبی  تاریخ اور چیدہ چیدہ واقعات کے علاوہ تمام باتیں قابل سزا ٹہریں۔ ان سزاءووں کی بھی مختلف سطحیں بنادی گئیں تھیں۔ ملک کے انتظامی معاملات ہوں یا خارجہ امور، باشندوں کا رہن سہن ہو یا میل ملاپ، تفریح ہو یا تحقیق، ادب ہو یا تخلیق کا کوئ بھی میدان، وہ اس اثر سے خالی نہ تھا۔ اور نظام ان گڈو میاءووں سے بھرا ہواتھا۔ یوں سب ہنسی خوشی رہ رہے تھے۔
مگر ایک دن ٹیکنالوجی اپنی ڈھٹائ کی وجہ سے ملک میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئ۔
گڈو میاں اور انکے ساتھیوں کے لئے یہ بڑا لمحہ ء فکریہ تھا۔ اس سے معاشرے کے تار پود بکھرنے کا اندیشہ تھا۔ سو وہ اپنی بساط بھر کوششیں کرنے میں مصروف ہو گئے۔ یعنی کسی طرح تار وپود بچ جائیں وہ جو اس نظام کے تحت بنائے گئے جس میں انکی پرورش ہوئ تھی۔
لیکن ٹیکنالوجی اتنی خبیث چیز تھی کہ وہ ایکدن اسکا سر کاٹ کر قلع قمع کرتے اور دوسرے دن پھر وہ سر پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتی۔ یہ ایک راز تھا۔ جو گڈو میاں اور ہمنواءووں کی سمجھ سے باہر تھا۔ اسکا حل انکے نزدیک بس اسکا سر کاٹنا ہی ٹہرا تھا۔ یوں ملک میں سر کاٹنے کے مختلف طریقوں پہ بحث  اور عملدر آمد شروع ہوا۔
ایک دفعہ، گڈو میاں اور ساتھیوں نے اس ساری صورت حال پہ تبادلہ ء خیال کے لئے میٹنگ بلائ۔ جس میں ظاہری سی بات ہے کہ صرف وہ لوگ شامل تھے جو سر کاٹنے کے عمل سے متفق تھے۔ اس میں کسی نے یہ خیال پیش کیا کہ چونکہ ٹیکنالوجی سرحد پار کسی علاقے سے آئ ہے اس لئے اسکا سر کاٹنے کے مناسب طریقے بھی انکے پاس ہونگے۔ یہ سوچنے کے بعد انہوں نے اپنے درمیان سے سب سے زیادہ سرگرم شخص کو ملک سے باہر بھیجا۔ تاکہ اس راز سے پردہ اٹھ سکے۔ 
وہ شخص ایکدن بعد ہی واپس آگیا۔ گڈو میاں خوش ہوئے انہیں اپنے ساتھی کی ذہانت پہ مکمل یقین تھا۔
لیکن ساتھی نے بتایا کہ وہ جیسے ہی سرحد سے باہر نکلا اسے ایک شخص ملا۔ اس نے جب اس سے بات کی تو اس شخص نے بتایا کہ وہ ٹیکنالوجی کے خالق ہیں۔ سو وہ وہیں رک کر اس سے معلومات حاصل کرنے لگا۔ اس نے بڑی عجیب بات کی اور کہا کہ  مسلسل فکر اور عقل کے استعمال سے عقل اس سطح تک پہنچ جاتی ہے جہاں یہ وجدان کا روپ دھار لیتی ہے۔ بس پھر اسکے بعد مسائل کے حل بھی سامنے آنے لگتے ہیں۔
پھراس شخص نے اپنے ایک دانشور کا قصہ سنایا کہ کس طرح وہ پانی کے ٹب میں بیٹھا نہا رہا تھا کہ ایک مسئلے کے بارے میں اس پہ ایکدم وجدان طاری ہوا۔ اور وہ فکر کی سر خوشی کے عالم میں یہ تک بھول گیا کہ وہ کپڑے نہیں پہنے ہوا اور اسی حالت میں گھر سے باہر نکل کر ناچنے  اور گانے لگا۔ یوریکا، یوریکا، میں نے پا لیا، میں نے پا لیا۔
وہ کہہ رہا تھا کہ جب تک انسان فکر میں اتنا نہ ڈوب جائے کہ اپنی ذات کو بھول جائے کسی کام کی چیز کا حاصل ہونا مشکل ہے۔ فکر کی اس گہرائ سے جب کوئ پردہ ہٹتا ہے تو انسان مست ہو کر ناچ اٹھتا ہے۔ اس کیفیت کو اب ہم یوریکا کہتے ہیں۔
گڈو میاں اور ہمنواءووں کا چہرہ فق ہو گیا۔ وہ روہانسے ہو کر بولے تو کیا اب ہمیں ننگا ہو کر گلی میں ناچنا پڑے گا۔
اسکے بعد کیا ہوا؟
کہانی ابھی جاری ہے۔ کیا گڈو میاں اور ہمنوا اصل راز جاننے میں کامیاب ہو  گئے؟ کیا ٹیکنالوجی کا قلع قمع ہو گیا؟ کیا وہ لوگ ایک دفعہ پھر ہنسی خوشی رہنے لگے؟  یہ جاننے کے لئے پڑھئیے گڈو میاں کے کارنامے۔