Saturday, February 27, 2010

تقدیر کی تدبیر

نجانے یہ کس نےکہا کہ تقدیر کو بدل دیتی ہے دعا بھی دوا بھی۔ اب ذرا ان خاتون کے بارے میں سوچیں جو ایک رکشے میں ولادت کی تکلیف سے گذر رہی ہو اور موقع پہ موجود حکام اسے ہسپتال تک نہ جانے دیں کیونکہ صدر صاحب  اس وقت شہر میں تشریف لانے والے ہیں۔ ملک کی نہایت اہم شخصیت، صدر پاکستان کے اعزاز میں دنیا میں آنیوالے اس نئے بچے کو احترماً اپنی پیدائش میں کچھ تاخیر ہی کردینی چاہئیےتھی۔ لیکن اس ناہنجار نے ایسا نہ کیا۔ یقیناً اس خاتون نے بڑی دعائیں کی ہونگیں۔ لیکن تقدیر نہیں بدلی۔ بقول وزیر اعظم گیلانی جس بچے کو جہاں پیدا ہونا ہوتا ہے وہ وہیں پیدا ہوتا ہے۔ تو یہ اسکی تقدیر تھی۔ اس بچے کو وہیں پیدا ہونا تھا۔ صدر صاحب کی تقدیر یہ تھی کہ وہ انتہائ اہم امور نبٹانے کوئٹہ پہنچیں۔  ائیر پورٹ پہ موجود انکے استقبال کے لئیے آنیوالے وزراء کی تقدیر یہ تھی کہ وہ ائیر پورٹ پہ صدر صاحب کا انتظار کرتے رہ جائیں اور بعد میں انہیں کوئ اطلاع دے کہ ارے صدر صاحب، تو ہیلی کاپٹر سے جہاں انہیں جانا تھا، چلے گئے۔
تقدیر کی جلوہ گری یہیں نہیں ختم ہوتی۔ جس وقت وہ خاتون خدا سے دعا کر رہی ہوگی کہ کسی طرح وہ ہسپتال پہنچ جائے اور موقعے پہ موجود سیکیورٹی حکام نےاسے سیکیوریٹی کی بلو بک کے حساب سے روک رکھا  ہوگا عین اس وقت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی محفوظ قومی اسمبلی کی تقدیر میں اس بات پہ بحث کرنا لکھا تھا کہ اسمبلی میں موجود مرد اراکین میں سے اسی فی صد مردوں نے دوسری شادی کی ہوئ ہے اور یہ کہ دوسری شادی کرنا اتنا برا نہیں جتنا برا بنا کر اسے پیش کیا جاتا ہے اور اسلام نے اسکی اجازت دی ہوئ ہے۔
اب واپس اسی کیفیت میں ان خاتون کے پاس جائیے۔ پوچھئیے کیا مردوں کو دوسری شادی کرنا چاہئیے۔ وہ کیا کہے گی۔ ارے خدا کی مار ہو تم پہ۔ مجھے پہلے اس تکلیف سے تو نجات دلاءو۔ ارے خدا کے واسطے مجھے ہسپتال لے چلو۔
لعنتیوں۔ میں بہت تکلیف میں ہوں۔ وزیر اعظم کہتے ہیں بچے پیدا ہونا تو روزمرہ کی بات ہے بچے تو ہوائ جہاز میں بھی پیدا ہوتے ہیں۔ جس بچے کو جہاں پیدا ہونا ہوتا ہے وہیں پیدا ہوتا ہے۔
اقبال کہتے ہیں کہ
پابندی تقدیر کہ پابندی احکام
یہ مسئلہ مشکل نہیں ہے اے مرد خرد مند
اسکی وجہ بتانے سے پہلے یہ دیکھتے چلتے ہیں کہ تقدیر پہ اتنا بھروسہ کرنے والے، سجادہ نشیں خاندان سے تعلق رکھنے والے مختلف روحانی سلسلوں میں گھرے ہوئے گیلانی صاحب اس تقدیر پہ اس وقت بھروسہ نہیں کرتے جب وہ نواز شریف کے پاس جا کر رائے ونڈ میں ناشتہ کرتے ہیں۔ ڈیل کرکے حالات کو اپنے حق میں کرنے کے لئیے وہ سب کچھ کر سکتے ہیں تقدیر سے لڑ بھی سکتے ہیں اس لئیے اقبال مزید کہتے ہیں کہ
اک آن میں سو بار بدل جاتی ہے تقدیر
ہے اسکا مقلد ابھی ناخوش، ابھی خور سند
تقدیر کی مزید خوبی دیکھیں، رکشے میں پیدا ہونے والی بچے کو صدر مملکت کی طرف سے پانچ لاکھ روپے ملے۔ اور اسکے باپ نے صدر کا یہ احسان یاد رکھنے کے لئیے اپنے بچے کا نام آصف خان رکھ دیا ہے۔ یہ سب تقدیر کے کھیل ہیں صرف پانچ لاکھ میں آصف نام دو نسلوں میں تو یاد رکھا جائے گا۔ غریب آدمی جب زندگی میں پہلی بار ایک ساتھ پانچ لاکھ روپے کا چیک لے گا تو اپنا نام بھی تبدیل کر کے آصف رکھنے پہ تیار ہو جائے، نوزائیدہ بچہ کس کھاتے میں ہے۔ تقدیر کی یہ ادا بھی دیکھنے والی ہے کہ وہ بچہ خوش قسمت ٹہریگا اور پاکستان بد قسمت۔
ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ تقدیر کو بدل دیتی ہے دعا بھی دوا بھی، میں نے یہ بسوں کے پیچھے لکھا ہوا پڑھا ہے۔ اس میں دوا سے کیا مراد ہے؟

حوالہ؛
ٹریفک جام، رکشے میں بچے کی ولادت

پاکستانی قومی اسمبلی میں دوسری شادی پہ بحث
پاکستانی قومی اسمبلی میں دوسری شادی پہ بحث-2

Thursday, February 25, 2010

میرا پیغمبر عظیم تر ہے

میں یہاں اس نبی کا تذکرہ کرنے نہیں جا رہی، جسکا سایہ نہ تھا، جو اپنے لعاب دہن سے امراض کو اچھا کر دیتا تھا  جس کی انگلیوں سے پانی کی دھاریں بہیں، جس کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور جسکی پیدائش پہ  ایوان کسری کے چودہ کنگورے گر گئے، مجوس کا آتش کدہ ٹھنڈا ہو گیا، بحیرہ سادہ خشک ہو گیا اور اسکے گرجے منہدم ہو گئے۔
یہ ایک انسان کے بارے میں ہے جسے قرآن کے الفاظ میں انسانوں کے درمیان سے نبوت کے عہدے پہ فائز کیا گیا۔ تاکہ دوسرے  انسان اسکی تعلیمات سے اسی طرح سیکھیں جیسے اور انسانوں سے سیکھتے ہیں اور انہیں یہ اعتراض نہ ہو کہ  یہ تو ہے ہی ایک مافوق الفطرت شخص ہم بھلا کہاں اسکے جیسے کام کر سکتے ہیں۔
یہاں میں ایک کتاب کا حوالہ دینا چاہونگی  جسکے مصنف مائیکل ہارٹ ہے یہ میرے کتابوں کے مجموعے میں دس سال پہلے شامل ہوئ۔ انیس سو اٹھتر میں شائع ہونے والی اس کتاب میں دنیا کی تمام تاریخ سے سو افراد کو چنا گیاہے۔ سو ایسے افراد جنہوں نے انسانی تاریخ کا دھارا بدل دیا اور جنکے اثر سے دنیا آج بھی آزاد نہ ہو سکی ان سو افراد کو ترتیب دیتے ہوئے مائیکل نے جس شخصیت کو سب سے پہلا نمبر دیا وہ رسول اللہ کی ذات ہے۔
وہ کہتا ہے میرا یہ انتخاب کچھ پڑھنے والوں کو حیران کر دیگا۔ لیکن در حقیقت محمد[صلعم]  دنیا کی تاریخ میں وہ واحد شخص ہیں جنہوں نے  مذہبی اور سیکولر دونوں سطحوں پہ بے انتہا کامیابی حاصل کی۔ محمد [صلعم] نے دنیا کے عظیم مذاہب میں سے ایک کی تبلیغ کی اور ایک انتہائ پر اثر سیاسی رہ نما ثابت ہوئے۔
 تاریخ کی بہت اہم شخصیات کے بر عکس محمد[صلعم] کو دنیا کے کسی اہم  تہذیبی مرکز یا ثقافتی سطح پہ یا سیاسی طور پہ اہمیت کی حامل قوم میں موجود ہونے کا فائدہ نہیں ملا۔ بلکہ وہ علاقہ جہاں وہ موجود تھے اس وقت دنیا کا ایک پسماندہ علاقہ تھا۔ انکی اپنی زندگی آسانیوں سے مرقع نہ تھی اسلامی تعلیمات کے مطابق وہ پڑھے لکھے نہ تھے۔ عرب کے مختصر حالات یہ تھے کہ وہ بہت سارے خداءووں پہ یقین رکھتے تھے۔ کچھ یہودی اور عیسائ بھی وہاں موجود تھے لیکن وہ بھی اتنا اثر نہ رکھتے تھے۔ عرب قبائل آپس کی جنگوں میں الجھے رہتے تھے اور انہیں  بے تحاشہ معاشی مسائل کا سامنا تھا۔
 وہ مزید کہتا ہے کہ اگرچہ دنیا میں عیسائیوں کی تعداد مسلمانوں سے تقریباً دوگنی ہے تو یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ پھر محمد [صلعم] کو نمبر ایک کیوں دیا۔  اسکی وجہ اسکے مطابق  یہ ہے کہ اسلام کو مرتب کرنے میں اور اسے پھیلانے میں محمد[صلعم] نے جتنا کام کیا۔  وہ کرائسٹ یعنی حضرت عیسی نے نہیں کیا۔

حتی کہ مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن کو لکھوانے  اور محفوط رکھنے کا جو کام محمد[صلعم] نے کیا
وہ حضرت عیسی بلکہ انکے نائیبین  نے بھی نہیں کیا۔
 اسی طرح کی اور مثالیں دیتے ہوئے مائیکل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تاریخ کی سب سے زیادہ کامیاب اور پر اثر شخصیت قرار دیتا ہے۔
مائیکل وہ واحد شخص نہیں جو اس چیز کا اعتراف کرتا ہے۔ یہ اعتراف ہر وہ شخص کرتا نظر آتا ہے جو رسول اللہ کی جدو جہد کی داستان کو بغیر کسی جانبداری اور عقیدت کے پڑھتا ہے۔ انہیں اپنے ماحول کے لحاظ سے اتنے انقلابی فیصلے کرتے دیکھتا ہے۔ انہیں جنگیں لڑتے دیکھتا ہے۔ حاصل ہونے والی فتح سے بردباری سے نبٹتے دیکھتا ہے۔ اور شکست ہونے پہ اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دیکھتے ہے۔ انہیں اپنی خاندانی زندگی گذارتے دیکھتا ہے، خوشی اور غم کو برتتے دیکھتا ہے اور لوگوں  کیساتھ دیکھتا ہے اور پھر خلوت میں دیکھتا ہے۔ اپنے عزم پہ جمے دیکھتا ہے اور لوگوں کی ہمتیں باندھتے دیکھتا ہے ، ایک سپہ سالار کو دیکھتا ہے اور ایک واعظ کو دیکھتا ہے، مسلمانوں کیساتھ دیکھتا ہے اور غیر مسلموں کیساتھ دیکھتا ہے اور ان سب چیزوں کو دیکھنے کے بعد انکی ذات سے متائثر ہونا ، پھر ان دیکھے خدا پہ ایمان لے آنا کتنا ہی آسان اور صحیح کام  لگتا ہے۔ محمد مصطفی سے آشنا ہونے کے بعد کیا کوئ خدا سے نا آشنا رہ سکتا ہے۔
کشف الدجی بجمالہ 
حسنت جمیع خصالہ
صلو الیہ وٰاٰلہ

 نوٹ؛ سیرت طیبہ پہ آج ڈان میں اصغر علی انجینیئر صاحب کی ایک تحریر چھپی ہے۔ اسے ضرور دیکھیں۔ لنک یہ ہے
حوالہ؛


                                                               

Tuesday, February 23, 2010

تین سو ساٹھ خدا

میں شہر کے وسط میں ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کرنے کے لئیے گھر سے نکلی تو راستے میں، میں نے نوٹ کیا کہ شہر میں مختلف چو رنگیوں پہ سیمنٹ کے بنے ہوئے ایسے آرائشی ٹاورز مختلف جگہوں پہ لگائے جا رہے ہیں جن پہ اللہ کے ننانوے نام لکھے ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے طارق روڈ کے قریب اللہ کا ایک تعمیری نمونہ لگایا تھا جو اتنا مقبول ہوا کہ کہ میں نے اسے بعد میں متعدد جگہوں پہ حتی کہ گھروں کے داخلی دروازے پہ لگا ہوا دیکھا۔  شہر میں مختلف روڈز پہ دور تک اللہ کے ناموں کی تختیاں جڑی ہیں۔ کیا یہ ان ناموں کی حرمت کا تقاضہ ہے کہ انہیں اس طرح ہر جگہ لگا دیا جائے۔ کیا انکی وجہ سے ہم زیادہ مسلمان نظر آتے ہیں۔ کیا ان نمائشی اشیا کو مستقبل مین انکی جگہ سے ہٹانے پہ اسے اسلام کیخلاف کارروائ نہیں قرار دیا جائےگا۔  کیا ہم ہندوءووں اور عیسائیوں سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنے خدا کو یہ روپ دے رہے ہیں۔
ان ٹاورز کو دیکھ کر مجھے یہ خیال آتا ہے کہ اسلام نے  خدا کا جو تصور دیا وہ  کوئ ان دیکھی، اور تصور میں نہ آنے والی چیز تھا جسے صرف اسکی صفات سے پہچانا جاتا تھا۔ اور جو سب کا خدا تھا۔ آخر کس جذبے کے تحت اسے اتنا زیادہ وجود دینے کی کوشش ہو رہی ہے حالانکہ ہمارے ایمان کی خصوصیت تو غیب پہ ایمان لانا ہے۔
  میں آگے بڑھتی ہوں اور صدر کےقریب نمائش سے گذرتی ہوں یہاں نمائش کے سگنل پہ کان پڑے آواز نہیں سنائ دے رہی۔ ایک طرف امام بارگاہ ہے جہان سوگ کے دن ختم ہونے کی تیاریاں ہیں۔ اور دوسری طرف ربیع الاول کی تیاریاں عروج پہ۔ نوجوان سر پہ امامہ باندھے ہوئے خانہ ء کعبہ پہ چڑھے کالا کپڑا چڑھا رہے ہیں یہ وہ خانہ ء کعبہ نہیں بلکہ اصل کی نقل ہے۔ اور اسکے بالکل برابر میں ایک خاصہ بڑا نمونہ مسجد نبوی کا بھی رکھا ہے جو روشنی سے جگمگا رہا ہے۔ روڈ پہ دور تک سنی تحریک کے رہ نماءووں کی بڑی بڑی تصویریںآویزاں ہیں۔
 مجھے یہ سب دیکھ کر ایک اور منظر یاد آیا کہ فتح مکہ کے بعد رسول خدا خانہ کعبہ میں داخل ہوتے ہیں جہاں ہر قبیلے نے اپنے خدا لا کر رکھے ہوئے ہیں اور اس طرح سے انکی تعداد تین سو ساٹھ تک پہنچ جاتی ہے۔ اور رسول خدا ان بتوں کو توڑتے جاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں۔ حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔ بے شک باطل مٹنے ہی کے لئیے تھا۔ ہر چیز ختم ہو گئ۔ باقی رہ گیا اللہ کا نام۔، وہی باقی رہ جانیوالا ہے۔
اور لگتا ہے کہ اب ہم پھر سے اس مہم پہ لگ گئے ہیں کہ ان تین سو ساٹھ خداءووں کوجمع کر لیں۔

Sunday, February 21, 2010

اجازت ہے؟

میری اماں بہت ناراض ہو رہی تھیں۔ کہنے لگیں یہ جو ہم اس مسجد میں ہر جمعرات کو درس سننے جاتے ہیں تو آجکل یہاں جماعت اسلامی کی خواتین درس دے رہی ہیں۔ بالکل دماغ خراب ہو گیا ہے انکا۔ میں نے تو جانا چھوڑ دیا۔ میں اطمینان سے انکے روحانی ڈائجسٹوں کے مجموعے کی ورق گردانی کرتی رہی کہ روحانی ڈائجسٹ انہیں بہت پسند ہے۔  اور ویسے بھی ہم سب جانتے ہیں کہ وہ جب ایک دفعہ بولنا شروع کریں تو پھر وہی بولتی ہیں۔
کہنے لگیں یہ ان لوگوں نے اب ایک نیا تماشہ نکالا ہے۔ میں نے سر اٹھا کر انکی طرف دیکھا۔ اب یہ لوگ کہنے لگے ہیں کہ اپنے شوہروں کی دوسری اور تیسری چوتھی شادی کراءوو جبھی یہ شادی کا مسئلہ حل ہوگا۔ ارے انکی عقل تو ہمیں لگتا ہے کہ گھاس چرنے چلی گئ ہے۔
یہ وہ پہلا دن تو نہیں تھا جب میں نے یہ نظریہ سنا  اس سے پہلے بھی میں نے اس طرح کی بات سنی کہ یہ اسلامی احکامات سے رو گردانی کی وجہ سے ہے۔ حالانکہ اسلام میں دوسری شادی ک حکم نہیں اجازت ہے۔ البتہ یہ پہلا رد عمل ضرور تھآ جو مجھے ڈائریکٹ حاصل ہوا۔
اور اب جناب  پنجاب اسمبلی میں ہماری ایک محترم خاتون ممبر نے اس نظرئیے کی ترویج کی اور وہ بھی اسمبلی کے پلیٹ فارم سے کہ مردوں کی ایک سے زائد شادیوں پہ انکی بیگمات کو انہیں ترغیب دینا چاہئیے۔ یہی شادی کے مسئلے کا حل ہے۔ اور میں اپنی اماں کے الفاظ استعمال نہ کرنا چاہوں تو کہوں کہ انکی عقل کولہو کے بیل کی طرح ایک کولہو پہ گھومے جارہی ہے۔ یہ تو اتنی معذور ہیں کہ انکی عقل گھاس تک چرنے نہیں جا سکتی۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جن  سے قوم یہ توقع کرتی ہے کہ وہ ملک کے بہتر مستقبل کے لئیے قانون سازی کریں گے۔ کچھ ساز کرنے کے لئیے محض آواز کا ہونا کافی نہیں اس کے لئیے انسانی دماغ کو اسکی متوازن حالت میں استعمال کرنا  آنا ضروری ہے۔
اب میں بغیر کسی حدیث اور قرآنی حوالوں کے کے اس بات کو اس طرف لیجاتی ہوں جو آجکے پاکستان کے بنیادی حقائق ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی انیس سو اٹھانوے کی مردم شماری کے نتائج کے مطابق مردوں کی تعداد عوتوں سے زیادہ ہے اور سو عوتوں کے لئیے تقریباً ایک سو آٹھ مرد موجود ہیں۔ جبکہ اسلامی رواج کے مطابق ایک عورت اور ایک مرد کی شادی ہوتی ہے تو دراصل پاکستان میں خواتین کی قلت ہو گئ ہے۔ اس قلت کے اپنے اسباب ہیں جو اس وقت ہمارا موضوع نہیں ہے۔ لیکن جہاں پہلے ہی خواتین کی تعداد کم ہو وہاں مردوں کو ایک سے زائد شادی کے مشورے دینا اور اسے شادی نہ ہونے کی وجہ سمجھنا، سوائے جہالت کے اور کسی چیز کو ظاہر نہیں کرتی۔ یہاں یہ بھی جاننا چاہئیے کہ قدرتی حیاتیاتی نظام میں تقریباً ہر اسپیشی میں مادہ کی تعداد عام طور سے زیادہ ہوتی کہ اسی میں نظام کی بقا ہوتی ہے۔
یہ وہ شدت پسند روئیے ہیں جو مسائل کے صحیح اسباب جاننے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ کسی نہ کسی طور اسے مذہب سے منسلک کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس سے ثواب جو حاصل ہوتا ہے۔ شاید پاکستانی عوام کو ایک لمبے عرصے تک انتظار کرنا پڑیگا کہ کب ہمارے قانون سازی کرنیوالے ادارے اور لوگ اتنا شعور حاصل کر پائیں کہ گناہ اور ثواب کے دائروں سے نکل کر مسائل کی اصل وجوہات کو جانیں اور لوگوں کی فلاح کے لئیے کچھ کر پائیں۔
معاشرے میں شادی نہ ہونا اور خاص طور پہ خواتین کی شادی کا مسئلہ، ہمارے حرص، لالچ، نمو د و نمائش اور انسانی قدرتی ضروریات کو نظر انداز کرنے سے جڑا ہوا ہے۔ اور اسے اسکے صحیح تناظر میں دیکھ کر ہی اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ ورنہ تو ہم عوام حکومت سے اس بات کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہونگے کہ اسمبلی کی سطح  سے ایسے لطیفوں کی آمد روکی جائے اور اس قسم کے احمقانہ مشوروں کو پیش کرنے سے پہلے ممبران پہ یہ پابندی عائد کی جائے کہ وہ اعداد و شمار کو ان میں ضرور شامل کریں۔ معزز ارکان پارلیمنٹ وہاں اپنا وقت خوشگوار طریقے سے گذارنے نہیں جاتے۔ بلکہ ایک لمبے چوڑے خرچے کے بعد انہیں وہاں اس لئیے عیاشی کرائ جاتی ہے کہ وہ ملکی مسائل کا اجتماعی طور پہ کوئ حل نکالیں۔

حوالہ جات؛

Friday, February 19, 2010

ڈونٹ ٹیل می

میں گھر میں داخل ہوئ تو صرف فرد حاضر ہی میسر تھے کہ انہیں آجکی پیش آنیوالی داستاں سنائ جائے۔ چنانچہ میں نے سامان اٹھا کر کچن میں رکھا اور فرد حاضر کو  سنانا شروع کیا۔
میں؛ آج جب میں گھر سے نکل کر نکڑ والے راءونڈ اباءوٹ پہ پہنچی تو وہاں تو ٹریفک پولیس والوں کا پوار جلوس موجود تھا۔ ایک ٹریفک کار کھڑی تھی ، چار پانچ ٹریفک پولیس والوں کی موٹر سائیکلز اور آٹھ دس ٹریفک پولیس والے۔
فرد حاضر جو اپنے کام میں مصروف تھے میری بات میں ایک مصنوعی دلچسپی لیتے ہوئے بولے، کیوں کوئ وی آئ پی گذرنے والا تھا۔
میں؛ ہاں، پہلا خیال تو مجھے یہی آیا پھر میں نے دیکھا کہ وہ اکثر گاڑیوں کو روکے کھڑے تھے۔ اور تب مجھے اندازہ ہوا کہ وہ دیہاڑی بنانے سے لگے ہوئے ہیں۔
فرد حاضر؛ آپکو تو کچھ نہیں کہا ہوگا۔ خواتین کی تو ایسے موقعوں پہ بچت ہوجاتی ہے۔
میں؛جی میرا بھی یہی خیال تھا۔ لیکن ان میں سے ایک نے انتہائ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے سائیڈ میں لگنے کا اشارہ کیا۔
فرد حاضر؛ ڈونٹ ٹیل می، پھر کیا ہوا۔ آپ نے کسی ٹریفک رول کی خلاف ورزی کی ہوگی۔
میں؛ جی نہیں، یہی میں نے اس سے پوچھا تو اس نے اسی سنجیدگی سے ونڈ اسکرین کے اوپر والے حصے پہ لگی ایک تین انچ چوڑی پٹی کی طرف اپنی انگلی سے اشارہ کیا کہ آپکا اسکی وجہ سے چالان ہوگا۔
مجھے تو یہ سن کر غصہ آ گیا۔  اتنے عرصے میں پہلی دفعہ مجھے پتہ چلاکہ ونڈ اسکرین پہ ایک ایسی پٹی لگی ہے جو قانوناً جرم ہے۔
فرد حاضر؛ اسے معلوم نہیں ہوگا کہ پی ایچ ڈی کی کیا نشانیاں ہوتی ہیں۔ حالانکہ اسے آپکو رعایت دینی چاہئیے تھی۔
میں انکی اس بات کو نہیں سنتی اور قصہ جاری رکھتی ہوں۔ وہ کہنے لگا مجھے گاڑی کے کاغذات اور اپنا لائسنس دکھائیں۔
میں نے تو صاف کہہ دیا۔ یہ پیسہ بنانے کا دھندہ ہے۔ نہ میں اپنے کاغذات دکھا رہی ہوں اور نہ آپ میرا چالان کر سکتے ہیں۔ کہنے لگا ایسا کیسا ہو سکتا ہے۔ اگر چالان کا ڈر ہے تو چالان تو ہوگا۔
فرد حاضر؛  آپکے پاس لائسنس نہیں ہوگا اس لئیے اتنا طیش دکھا رہی تھیں۔ اکثر آپکا موبائل فون اور لائسنس گھر میں ہی پڑے ملتے ہیں۔
میں انکی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے۔ پھر وہ اپنے افسر بالا کو بلا لایا۔
فرد حاضر؛ اچھا پھر۔ اب آپکو مزہ آنا شروع ہوا ہوگا۔
میں ایک دفعہ پھر انکی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے۔ افسر بالا نے آکر یہی کہا کہ چالان ہوگا۔ میں نے کہا کس بات کا ۔ اس پٹی کے لگے ہونے کا۔  اسے اتار لیں۔
افسر بالا نے کہا کہ نہیں یہ تو اب آپ گھر جا کر اتارئیے گا۔ اب تو مجھے اور غصہ آنا ہی تھا۔ میں نے کہا دہشت گرد اپنے زخمی لیڈر کو وزیرستان سے لیکر کراچی تک پہنچ جاتے ہیں آپ لوگوں کو نظر نہیں آتے۔ میری گاڑی کے اندر کا منظر دیکھنے میں اس پٹی کی وجہ سے کوئ رکاوٹ ہے کیا؟ یہی قانون ہے ناں کہ میری گاڑی کے اندر کا منظر صاف نظر آنا چاہئیے۔ اس سے آپکو کوئ مشکل ہے۔ میری گاڑی میں کوئ بم یا اسلحہ ہے۔ میں نے ٹریفک کا کوئ اصول توڑا ہے۔اس پہ وہ چڑ گیا اور کہنے لگا اچھا جی آپکا چالان نہیں کرتے۔ صرف اپنا لائسنس دکھا دیں۔ اپنے طور پہ انہوں نے اب میری دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا۔
فرد حاضر نے  بھی اپنا کام چھوڑ کرمسکراتے ہوئے ہاتھ اپنے سینے پہ باندھے۔ اور اس منظر کو سننے کی تیاری کرنے لگے جس میں میرے پرزے اڑنا متوقع تھے۔ 
میں نے انکے تجسس کو دیکھتے ہوئے ایک ادائے بے نیازی دکھائ اور بیان جاری رکھا۔ 'میں نے اپنا والٹ کھولا اور لائسنس نکال کر اسے دکھا دیا۔ بس اسکا چہرہ اتر گیا۔  کھسیانی مسکراہٹ کیساتھ کہنے لگا۔ ٹھیک ہے بس آپ جائیں۔ اتنی سی بات تھی'۔
فرد حاضر؛ ڈونٹ ٹیل می۔ قسمت سے پڑا رہ گیا ہوگا۔
میں؛ جی نہیں،آپ جانتے نہیں خواتین کی چھٹی حس تیز ہوتی ہے۔ میں نے جاتے وقت سوچا کہ پرس لینے کی کیا ضرورت ہے صرف والٹ سے کام چل جائے گا۔ اور میرے والٹ میں اکثر لائسنس ہوتا ہے البتہ موبائل فون کی اس میں جگہ نہیں۔
فرد حاضر؛ اچھا چلیں، آپکے لئیے ایک مزے کی خبر ہے۔
میں؛ وہ کیا؟
فرد حاضر؛ پشاور میں ویلنٹائن ڈے ایکدن پہلے یعنی اتوار کے بجائے ہفتے کو منایا گیا۔
میں انتہائ حیرانی سے انکا چہرہ دیکھتی ہوں۔ لیکن کیوں؟
فرد حاضر؛ کیونکہ سعودی عرب میں ہفتے کو ویلنٹائن ڈے تھا۔
میں: ڈونٹ ٹیل می۔


حوالہ؛
پشاور میں ویلنٹائن ڈے