Wednesday, June 29, 2011

انقلاب کا اسقاط

آپکو بتاءووں یہاں مجھے کینیڈا آ کر اندازہ ہوا کہ ہمارا نظام تعلیم کتنا ناقص ہے۔
کیوں ایسا کیا ہو گیا؟
بس یہاں آکر مجھے اتنا وقت مل جاتا ہے کہ اپنا کتاب پڑھنے کا شوق پورا کروں یا دستاویزی فلمیں دیکھوں۔ پاکستان میں تو نوکری کے نام پہ غلامی کراتے تھے۔ گھر آکر بھی کام جاری رہتا تھا۔  ابھی چند دن پہلے میں نے فرانس کی ایک ملکہ ماریا اینٹونیٹ کے بارے مِں ایک دستاویزی فلم دیکھی۔
وہی ملکہ جسکے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے قحط کے دنوں میں روٹی نہ ملنے پہ کیک کھانے کا مشورہ دیا؟
ہاں وہی۔
لیکن اسکے بارے میں یہ بات غلط منسوب ہے۔
ہاں آپکا کہنا صحیح ہے۔ یہ بات خاصی متنازعہ ہے۔
لیکن ایسے افسانے ہی تاریخ کو دلچسپ بناتے ہیں، اچھا پھر کیا ہوا؟
تین چار دن بعد لنچ بریک میں ہم لوگ گپ شپ کر رہے تھے تو میں نے اس کا تذکرہ چھیڑ دیا۔ ادھر سے ایک چینی لڑکی آئ کہ تم لوگ اس ملکہ کا تذکرہ کر رہے ہو جسکے سولہ بچے تھے۔ میں نے اسکی تصحیح کی کہ اسکے سولہ نہیں چار بچے تھے۔ سولہ بچے اسکی ماں کے تھے۔ پھر ایک انڈیئن اس میں شامل ہوا کہ کس طرح اس ملکہ پہ مظالم ہوئے۔ اتنے میں ایک کیوبا کی لڑکی آگئ وہ بھی انقلاب فرانس کے بارے میں بات کرنے لگی۔ آپ سوچیں، میں نے اب تک کی زندگی میں انقلاب فرانس کے بارے میں تفصیل سے چار دن پہلے پڑھا تھا۔
تو ایسا کیوں ہوا کہ آپ نے محض چار دن پہلے یہ چیز پڑھی؟
وہ اس لئے کہ اسکول میں ہمیں سوشل استڈیز یا جغرافیہ نہیں پاکستان اسٹڈیز پڑھائ جاتی تھی۔ اسکول سے لیکر ہائیر کلاسز تک ہم پاکستان اسٹڈیز پڑھتے رہے جس میں سارا زور دو قومی نظرئیے پہ رہا۔ اور سچ بتاءووں اتنا عرصہ کینیڈا میں رہنے کے بعد میرا اس نظرئیے سے یقین اٹھ سا گیا ہے۔
اچھا، ایسا کیوں ہوا؟
آپ سوچیں یہاں اتنی قومیتوں کے لوگ رہتے ہیں بالکل ہم آہنگی کے ساتھ۔ ایک ہی میز پہ تین لوگ بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایک سوءر کا گوشت کھاتا ہے دوسرا حلال اور تیسرا سبزی خور۔ سب مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ایک جگہ رہ رہے ہیں ناں۔ اس لئے کہ سب کی اقتصادیات صحیح ہیں۔ سب کو پیسہ مل رہا ہے؟
ہمم، میں نے اسے غور سے دیکھا۔ ایک چوبیس ، پچیس سال کا شخص جس نے اپنی تمام تعلیم پاکستان میں حاصل کی۔ پاکستان سے باہر نکل کر چند برس دوسری قوموں کے ساتھ رہا اور ایسا ہو گیا۔  برسوں سب گھول کے پلایا گیا تو ضائع ہو گیا؟
اس نے اپنی گفتگو جاری رکھی۔ مجھے اس وقت اتنی شرمندگی  ہوئ ان لوگوں کی معلومات ہر چیز کے بارے میں مجھ سے کہیں بہتر ہیں۔ آخر ہمیں یہاں کیا  پڑھایا جاتا ہے۔ ادب ہمیں نہیں معلوم ہوتا کیا بلا ہے، جغرافیہ ہمارا کمزور، تاریخ میں ہمیں صرف تحریک پاکستان پڑھائ جاتی ہے وہ بھی اپنے مطلب کی۔ حتی کہ اسلامیات میں ہمیں پچاس ، سو صفحوں کی ایک کتاب پوری زندگی پڑھائ جاتی  رہی۔ وہ بھی اپنے مطلب کی۔  دنیا کے مختلف ادیان کا تعارف تو چھوڑیں ہم اسلامی تاریخ سے بھی جان بوجھ کر لا علم رکھے جاتے ہیں۔ موسیقی، مصوری سے ہم نا آشنا۔ ہم ایک لگے بندھے علم کے علاوہ کچھ نہیں جانتے، ارد گرد پھیلی دنیا کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔  سوچیں ذرا، چوبیس ، پچیس سال کی عمر میں، سوفٹ ویئر انجینیئر ہونے کے باوجود مجھے انقلاب فرانس کے بارے میں کھکھ بھی نہیں پتہ تھا۔ اور یہ  چین ، ہمارے پڑوسی انڈیا اور حتی کہ کیوبا تک کے لوگوں کو پوری کہانی ازبر تھی۔
لیجئیے یہ انقلاب فرانس کی کہانی ہمیں اگر ازبر ہوتی تو ہم آنے والے انقلاب کی راہیں تک رہے ہوتے؟ بس یہی تو چلن ہیں، اسی طرح انقلاب کا اسقاط ہوتا ہے۔ 

Monday, June 27, 2011

ایسے کیوں؟

آج کا دن کوئ پوسٹ لکھنے کا ارادہ نہیں تھا۔ اگلے سات آٹھ دن کے لئے مصروفیات کا تناسب کچھ نکل آیا ہے کہ بلاگ کی طرف زیادہ نظر نہ ہو پائے۔ بہر حال، اطلاع ملی کہ مکی صاحب نے اپنے بلاگ کو سیارہ سے الگ کرنے کی درخواست کی ہے۔ کیوں کی ہے ، یہ وہ بہتر جانتے ہونگے۔ لیکن میں اپنی ذاتی حیثیت میں انکے اس فعل سے مطمئن نہیں۔
کوئ آئیڈیئل معاشرہ وہ نہیں ہوتا جہاں سب ایک جیسی سوچ رکھتے ہوں۔ ایک مقولہ ہے کہ جہاں سب ایک جیسی سوچ رکھتے ہوں وہاں کسی کے پاس کرنے کو کچھ خاص نہیں ہوتا۔ دنیا میں وہی معاشرے ترقی کی طرف جاتے ہیں اور مثبت  طرز زندگی کی طرف گامزن ہوتے ہیں جہاں تنوع ہوتا ہے۔ انسانوں کا، بنیادی فکرات کا اور بنیادی اعمال و کردار کا۔
اگر ایک خاص سوچ کسی معاشرے پہ طاری کر دی جائے تو ایک شدت پسندی کو جنم دیتی ہے۔  اس شدت پسندی کو قابو میں رکھنے کے لئے اسکی مخالف قوت کا موجود رہنا ضروری ہے اور معاشرے کی ایک قوت کو مہمیز رکھنے کے لئے دوسری  مخالف قوت کو حاضر رہنا چاہئیے۔
جمہوریت کی ساری خوبی یہی ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے کو آواز اٹھانے کی اجازت ہوتی ہے جو آمریت یا مارشل لاء میں نہیں ہوتی۔
اگر آج ہمارے ملک میں عدم برداشت کا رویہ اپنے عروج پہ ہے تو اسکی جڑیں ضیاء الحق کی اس گیارہ سالہ حکومت میں ملتی ہیں جب پاکستان کے بد ترین مارشل لاء میں ایک نظرئیے کو پروان چڑھانے کے لئے تمام ریاستی وسائل بروئے کار لائے گئے۔ اسکے نتیجے میں دوسرا مخالف گروہ ختم کر دیا گیا یا خاموش کرا دیا گیا۔ اور اب یہ عالم ہے کہ نہ لوگوں میں علم ہے، نہ برداشت، ترقی تو دور۔ ترقی اور فلاحی ریاست ایک مبہم خواب کے سوا کچھ نہیں۔ ہم معاشی اور معاشرتی سطح پہ دن بہ دن تنزلی کا شکار ہیں۔
ہم مسلسل آمریت کے زیر سایہ رہنے سے مزاجاً خود بھی آمر ہو چکے ہیں۔ رہی سہی کسر، متعارف کرائے گئے جذبہ جہاد نے پوری کی اور اب ہماری اکثریت میں یہ اہلیت ہے کہ وہ ظلم میں ہٹلر اور چنگیز خاں کو بھی مات دے دے۔
ہماری ایک پوری نسل نہیں جانتی کہ اسکے باہر کی دنیا میں کیا ہوتا ہے، اس دنیا میں کیسی کیسی ثقافتیں، مذاہب موجود ہیں۔ اور اسی دنیا میں کیسے کیسے ممالک ہیں جہاں مختلف النوع مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں مگر سکھ چین کے ساتھ، زندگی میں آگے کی سمت چلے جا رہے ہیں۔
عدم برداشت کا رویہ آخر کیسے ختم ہوگا؟ ایسے کہ لوگوں کو اپنے مخالف کی بات سننے کی عادت پڑے۔ ایسے کہ انہیں معلوم ہو کہ وہ کوئ پھنّے خان نہیں ہیں۔ دنیا میں عظیم لوگ انکے مذہب، فرقے، ذات ، برادری، نسل اور لسان سے الگ ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ وہ سب اسی دنیا کے دسترخوان سے اپنا روزی روزگار حاصل کرتے ہیں۔ ایسے کہ انہیں معلوم ہو کہ وہ خود کتنے حقیر ہو چکے ہیں۔ جس سوچ پہ انہوں نے اپنے آپکو کھڑا کیا ہے وہ حضرت سلیمان کی وہ دیمک کھائ ہوئ لاٹھی بن چکی ہے۔ کہ جب گرے گی تو پتہ چلے گا کہ وہ مر چکے ہیں۔
بلاگستان کی اکثریت، اس پاکستانی نسل سے تعلق رکھتی ہے جو خود کچھ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ سوائے دوسروں پہ کیچڑ اچھالنے کہ وہ بھی مذہب کے نام پہ۔ دیکھنے کو انکی زندگیاں بھی ان مسائل سے بھری پڑی ہوئ ہیں جن سے ایک عام پاکستانی دوچار ہے۔ مگر اسے حل کرنے کی طرف تو دور انکا تذکرہ تک کرنے میں انکی دلچسپی نہیں۔ ان کا غم اگر ہے تو یہ کہ ہمارے ملک میں ہم جنس پرست کیا کیر رہے ہیں؟ یہ ہم جنس پرستی ایک علاقے کی ثقافت کا سینکڑوں برس سے حصہ ہے مگر اس پہ روشن خیال کا نام لے کر ماتم کرنے میں ایک عجیب مزہ آتا ہے۔ یہ نہیں جانتے کہ اس علاقے میں خواتین کو حقیر بنائے جانے سے ہم جنس پرستی کے مسئلے نے وہاں شدت پکڑی ہے۔
یہی لوگ ، یہ نہیں جاننا نہیں چاہتے کہ پاکستان کی عورتوں کی ایک بڑی تعداد اوسٹیو پوریسس کی وجہ معذوری کا شکار ہو رہی ہے ، بچے پولیو کی وجہ سے معذور ہو رہے ہیں۔ دنیا کے تقریباً دو سو ممالک میں پاکستان ان آخری ممالک میں شامل ہے جہاں مرنے والوں بچوں کی تعداد سب زیادہ ہے۔ یہ سوچ کر انہیں اپنے اوپر شرمندگی نہیں ہوتی کہ پاکستان کے ایک دیہات میں ایک عورت اپنی چھاتی کا زخم چھپائے چھپائے پھرتی رہی، شرم کی وجہ سے حتی کہ اسکی چھاتی کینسر کی وجہ سے پھٹ گئ ۔ تشویشناک بات یہ نہیں ہے کہ ایک پچاس سالہ عورت کو اسکے دس سال کے بچے کے سامنے برہنہ گلیوں میں پھرایا گیا۔ انکے نزدیک انکے ملک کی اہم اور تشویشناک خبر یہ نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ کسی جگہ  منافقوں کے پیدا کردہ نام نہاد مجاہدین کو متوقع تباہی پھیلانے میں متوقع کامیابی کیوں حاصل نہیں ہو پائ۔
ہم جنس پرستی کیا ہے؟ قدرتی طریقوں سے منہ موڑ کر ایسی طرز کو اختیار کرنا، جس میں نسل انسانی کو کوئ فائدہ نہیں۔ جس سے نسل انسانی آگے  نہیں بڑھتی۔ ایک ایسی بے سمت عیاشی جس سے بدلے میں کوئ مثبت چیز نہیں بر آمد ہوتی۔
فدائیوں اور نام نہاد مجاہدین کی فتح کی دعائیں مانگنا بھی فکراً ہم جنس پرستی سے الگ چیز نہیں۔ قدرتی طرز زندگی سے انحراف۔ ایسے عمل کا حصہ بننا جس میں نسل انسانی کی ہماری پاکستانی نسل کی بقاء نہیں تباہی ہے۔
یہ ہے ہماری موجودہ نسل کی اکثریت جو اس وقت اس بلاگستان کا حصہ ہے۔
اس عالم میں اگر کوئ اس روش سے ہٹ کر بات کہنا چاہ رہا ہے تو اسے اختیار ملنا چاہئیے۔ اسے اپنا اختیار استعمال کرنا چاہئیے۔ ہم سب کی تربیت ہونی چاہئیے کہ ہم ایکدوسرے کی غلط ترین بات کو سنیں ، اسے برداشت کریں۔ اس پہ سوچیں اور ہمیں نہیں پسند تو تو آگے بڑھ جائیں۔ ہمیں اب لوگوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کو دبانے سے روکنے کی کوشش میں حصہ ڈالنا پڑے گا۔ اس لئے نہیں کہ ہم بعیّنہ وہی خیالات رکھتے ہیں جیسے کہ وہ رکھتے ہیں بلکہ اس لئے کہ ہم ایک متوازن معاشرے کے طور پہ پنپ سکیں۔
توازن، کسی ایک قوت کے حاوی ہونے میں نہیں۔ توازن تمام قوتوں کے ایک ساتھ موجود رہنے سے پتہ چلتا ہے۔ کم از کم کائینات اپنے مظاہر میں یہی کہتی نظر آتی ہے۔




تو مکی صاحب ، میں تو نہیں سمجھتی کہ آپکو بلاگستان سے علیحدہ ہونے کی ضرورت ہے۔    باقی کچھ لوگوں کا یہاں رد عمل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ برصغیر میں اسلام محمد بن قاسم لے کر آیا کیا انکی اس غلط فہمی کی تصحیح ضروری نہیں ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ محمود غزنوی ایک عظیم مسلمان فاتح تھا۔ کیاانکی اس غلط فہمی کی تصحیح ضروری نہیں کہ وہ ایک بہترین جنگجو تھا۔ اور بس۔ 
وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اگر ایک اسلامی ملک بن گیا تو یہاں عورتیں جسم فروشی نہیں کریں گی، لوگ ہم جنس پرست نہیں ہونگے، شراب نہیں پی جائے گی، زنا نہیں ہوگا، جھوٹ نہیں ہوگا،  چوری نہیں ہوگی۔ امن وامان ہوگا، شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پئیں گے۔ یہاں سے وہاں تک صرف  مسلمان پائیں گے وہ بھی کسی ایک فرقے کے۔  فرقہ واریت پہ جنگ ختم ہو جائے گی۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اگر لوگوں کے گروہ خدا کا انکار کریں تو اس سے انکا ایمان خطرے میں پڑ جائے گا۔ حالانکہ انکاا کرنے والے بھی ہزاروں سال سے موجود ہیں اور ایمان والے بھی اپنے ایمان پہ جمے ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب، کمزوری انکے ایمان میں ہے یا مضبوطی انکار کرنے والے کے بیان میں۔ اسکا ایک اور مطلب ہے کیونکہ وہ اپنے ایمان کا دفاع کرنے سے آگاہ نہیں اس لئے انہیں انکار کرنے والے سے ڈر لگتا ہے۔ اسکی ایک اور وجہ ہے وہ اپنے ایمان میں کشش نہیں پیدا کرتے بلکہ ہیبت پیدا کرتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ ہیبت سے دل مسحور کئے جا سکتے ہیں۔
کیا انہِیں اس چیز پہ مجبور نہ کیا جائے کہ اصل کتابوں کی طرف رجوع کرو۔ اور اپنے ایمان کو مضبوط۔ جو ایمان ایسے ہر کس و ناکس کے بیان پہ ڈول جائے اسے سپلیمنٹس کی بے حد ضرورت ہے۔ اسے یہ معلوم ہونے کی بے حد ضرورت ہے کہ وہ کیوں کمزور ہے اور اسے کیسے مضبوط ہونا ہے۔ اسے معلوم ہونا چاہئیے کہ انکار کرنے والا کیا دلائل رکھتا ہے جسکی بناء پہ وہ اسے، مضبوط ایمان والے کو چت کر دیتا ہے۔ اور مضبوط ایمان کا دعوی کرنے والے یہ کہنے کے علاوہ کچھ نہیں کہہ پاتے کہ اپنا علاج کرائیے۔ حالانکہ  انہیں دوسروں کو یہ مشورہ دینے کی نہیں اپنے علاج کی آپ ضرورت ہے۔ اور انکا علاج اپنے دین سے خود آگہی حاصل کرنے میں ہے جو وہ نہیں کر پاتے اور نہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ دین اس سلسلے میں خاصہ کڑا ہے۔
کیا انہیں یہ نہیں بتایا جائے کہ جب تک معاشرے میں انصاف نہیں ہوگا اور معاشی خوشحالی نہیں ہوگی ان میں سے کوئ چیز ختم نہیں ہوگی اور نہ کوئ نئ مثبت چیز جنم لے گی۔  سوائے اسکے کہ ہم منافقین کے گروہ در گروہ تخلیق کریں۔
انہیں معلوم ہونا چاہئیے کہ جب تک انسان زندہ ہے، ان کے خیالات اور زندگی سے انکے مطالبات ایک دوسرے سے الگ رہیں گے۔ یہی اس دنیا کا حسن ہے، آزمائیش ہے،اور مقصود۔
جب ہی  کائینات میں تین قوتیں بر سر پیکار نظر آتی ہیں۔ خدا ، انسان اور شیطان۔ اگر ان میں سے صرف ایک قوت بچ جائے تو کائینات میں نہ نمو ہوگا نہ استحکام۔

Friday, June 24, 2011

جلوے کا حلوہ

بدلتے وقت کے ساتھ الفاظ اپنے معنی بدل دیتے ہیں ۔ الفاظ ایکسٹرنل یو ایس بی ہوتے ہیں۔ یہ وہ انسانی عضو ہوتے ہیں  جو جسم کے ساتھ جسمانی طور پہ منسلک نہیں ہوتے۔ سو انسان کی ذہنی سوچ کے ساتھ یہ بھی بظاہر وہی ہوتے ہیں مگر معنوں میں وہ نہیں رہتے۔ مگر عطاءالحق قاسمی صاحب شاید اس سے واقف نہیں۔ اس لئے جب صدر زرداری نواز شریف کو مولوی  نواز شریف کہتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ کیونکہ نواز شریف شراب نہیں پیتے، ڈانس نہیں کر سکتے اور خواتین کے ساتھ تعلقات نہیں بناتے اس لئے زرداری نے انہیں مولوی کہا ہوگا۔ عطاء صاحب الفاظوں سے پیچھے رہ گئے۔ در حقیقت عطاء الحق قاسمی صاحب، حرم کا مطلب بھی بھول گئے ہیں۔ حالانکہ یہ اب تک اپنے اصل معنوں کے ساتھ رائج ہے۔
ڈانس تو پپو سالا بھی نہیں کر سکتا ، لیکن وہ مولوی پپو سالا نہیں کہلاتا۔  شراب پینے والے کہتے ہیں کہ بات شراب نہ پینے میں نہیں  بلکہ پی کر نہ لڑکھڑانے میں ہے۔  اب کیا کیا جائے، وہ بن پئیے ہی  بد مست ہاتھی بنے ہوءے ہیں پی لیں تو خدا جانے کیا حشر ڈھا دیں۔ گمان ہے کہ اکثر لوگوں کو گناہ کرنے پہ عذاب ہوتا ہے اور کچھ کو نہ کرنے پہ۔ خواتین کے متعلق میں کچھ نہیں کہتی۔ ایک انگریز خاتون صحافی نے بہت کچھ کہا ہے مگر سب بکواس ہوگی۔ خواتین ایسی باتیں مردوں کی نفرت میں کہتی ہیں۔ خاص طور پہ گوری عورتیں تو پاکستانی مرد رہ نماءووں کی کم آمیزی کا بدلہ اسی طرح لیتی ہیں۔
صدر زرداری نے اپنے تازہ بیان سے قوم کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے اور لگتا ہے کہ ہر ایک دو تصویریں لے کر بیٹھا ہوا ہے اور مقامات فرق معلوم کر رہا ہے۔ نواز شریف اور مولوی نواز شریف میں۔ حالانکہ آج کل نواز شریف اس حالت میں ہیں کہ مقامات آہ فغاں بآسانی معلوم کئے جا سکتے ہیں۔ مگر یہ تو ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی کوئ آسان کام نہیں کرتے۔ اگر قسمت کوئ آسان کام ہمارے اوپر ٹھونس ہی دے تو کوشش کرتے ہیں کہ  اسے پہلے مشکل بنادیا جائے پھر ہم اس سلسلے میں کچھ کریں۔ لوگ بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑاتے ہیں اور اس پہ فخر کرتے ہیں ہم گھوڑوں میں بحر ظلمات نکالتے ہیں ، اور پھر بھی کوئ نعرہ ہائے تحسین بلند نہ کرے تو اسے گھوڑا بلکہ گدھا بنا دیتے ہیں۔
خیر، تازہ ترین سوال یہ ہے کہ صدر زرداری نے مولوی نواز شریف کا لقب انہیں کیوں دیا؟
کیا اس لئے کہ ایک زمانے میں وہ بڑے ہو کر  وزیر اعظم نہیں امیر المومنین بننا چاہتے تھے۔
اس لئے کہ وہ ہمارے مقدس مقامات پہ اتنا عرصہ گذار چکے ہیں اور وہاں انکے اتنے قلبی تعلقات ہیں کہ انہیں اب مولوی نہ کہا جائے تو اس ناہنجار قوم پہ ہتک عزت کا دعوی کر دینا چاہئیے۔
اس لئے کہ  وہ رائے ونڈ جیسے مقدس مقام کے پہلو میں اپنے فارم ہاءوس میں رہتے ہیں۔ اس فارم ہاءوس کو کچھ بد طینت بادشاہ کا محل کہتے ہیں  جبکہ وہ نہییں جانتے کہ فارم ہاءوس پہ تو ٹیکس بھی واجب نہیں ہوتا۔ اور مولوی صاحب کو بالآخر جنت میں جانا ہے تو دنیا میں کیا وہ جنت کا مزہ چکھ نہیں سکتے۔ جبکہ کسی سُرخے شاعر نے یہ مسئلہ بھی کھڑا کر رکھا ہے کہ
آپکو جنت اور مجھے دوزخ عطا ہوگی
بس اتنی سی بات پہ کیا محشر بپا ہوگی
ایسے عقل کے اندھوں کے لئے تو محشر دنیا میں ہی بپا ہونی چاہئیے۔ یہ ہے نئے مولوی صاحبان کا ایجینڈا بمعہ ایک ڈنڈا۔
 اچھا تو کیا اس لئے کہ وہ مرد مومن مرد حق  مولوی ضیاءالحق کی ان سائینسی کوششوں کا کامیاب نتیجہ ہیں جس میں وہ ایک ماں اور ٹیسٹ ٹیوب کے بغیر ایک نظریاتی اولاد پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔انکی اس دانش سے حیران ہو کر بعض ان دیکھی قوتوں کو انکا جہاز فضا میں پھاڑنا پڑا۔ ناکام لوگ ، کامیاب لوگوں کے ساتھ یہی سلوک روا رکھتے ہیں۔
کیا اس لئے کہ وہ اپنے آقائے سیاست کے فلسفے اور باقیات کو کمال صبر اور جراءت سے سنبھالے ہوئے ہیں۔ اور انکی وفاداری کا ثبوت یہ ہے کہ وہ پاکستان کی سالمیت تو کیا خود پاکستان کو کسی خاطر میں نہیں لاتے۔
میں ان پیش کئے گئے نظریوں سے کسی طور مطمئن نہیں۔ بھلا یہ بھی کوئ باتیں ہیں جن پہ کسی کو مولوی کہہ دیا جائے۔ میں تو آج تک مولوی، حلوے وغیرہ سے شغف رکھنے والے اس بے ضرر شخص کو سمجھتی رہی جس سے اگر کوئ خار کھاتا ہے تو وہ بچے جو قرآن ناظرہ کی تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ اماں مولوی صاحب کو حلوہ بنا کر بھیجتی ہیں اور مولوی صاحب ڈنڈے یا پائپ سے بھی پٹائ لگا دیں تو اماں جان فرط عقیدت سے انکے دست و بازو کو دیکھتی ہیں۔ کیا محنت کی ہے میرے بچے پہ۔ ماں صدقے ، ماں واری۔ اور مزید حلوہ نذر کرتی ہیں۔ مولوی صاحب  اپنی سادگی کے باعث حلوے اور عقیدت سے بہلے رہتے تھے۔ ادھر بچے کے سینے میں انتقام کا ایک الاءو روشن رہتا ہے اور حلوے کی محبت۔ یہ روائیتی مولوی صاحب تھے اور یہی روائیتی مولوی صاحب بنانے کا طریقہ۔
مگر اب لگتا ہے امتداد زمانہ سے مولوی کے معنی تبدیل ہو گئے ہیں۔


سو کچھ کا کہنا ہے کہ بچپن میں مولوی صاحب کے ڈنڈے کو زرداری صاحب اب تک نہیں بھولے۔ اور اس کا تعلق کچھ کچھ اڈیپس کمپلیکس سے ملتا ہے۔ فرائڈ کو کیونکہ مولوی صاحب میسر نہیں تھے اس لئے وہ اسکا کوئ مناسب سا نام نہ رکھ پایا۔ مولوی صاحب کا ڈنڈا، طالب علم کی پیٹھ اور اماں جان کا حلوہ وہ بھی مولوی صاحب کے لئے۔ اس مثلث کے کیا اتنے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس پہ تو ایک فلم بن سکتی ہے۔
کوئ کہہ رہا تھا کہ مولوی اب ایک شخص نہیں کیفیت کا نام ہے. یہ کچھ خاص لوگوں پہ جن میں خاص جینیاتی ریسپٹر ہوتے ہیں کسی بھی وقت طاری ہو سکتی ہے۔ اس وقت آپکو پتہ چلتا ہے کہ ایسے ویسے لوگ کیسے کیسے ہو گئے۔ یہ عجیب اثر ہے کہ اس کیفیت میں  لوگ ہر قسم کی غیر اسلامی حرکات اور سکنات کے لئے اپنے آپکو آمادہ پاتے ہیں۔  لیکن منہ سے اسلام اسلام ہی نکلتا ہے۔
کچھ اور لوگوں کا خیال ہے کہ مرد مومن اپنے کامیاب تجربے کے بعد اسکے سائینسی رازوں سے کسی مرد ناداں کو مطلع کر گئے تھے۔ وہی والے جنکے متعلق اقبال بہت عرصہ پہلے با خبر کر چکے تھے کہ مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک بے اثر۔ لیکن اس وقت بھی ہماری انٹیلیجنس ایجنسیز کے یہی لچھن تھے۔  اقبال نےخفگی میں کہا بھی کہ تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن۔ انٹیلیجنس والوں نے اسے پیش سے پڑھکر سازشوں کے جال بننا شروع کر دئیے۔ اور اپنے پرائے ہر ایک کے لئے بُن ڈالے۔ آجکل اپنے والے ادھیڑنے کی کوششوں میں ہیں۔ سو اسکے بعد  عام لوگوں میں مولوی کیفیت کو ابھارنا اور پھیلانا  نیت اور فتور نیت کے ساتھ جڑ گیا۔ جب جب نیت میں فتور آئے کوئ شخص تب تب مولوی بن جاتا ہے۔ 
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فوج کے خلاف محاذ آرائ کی وجہ سے انہیں یہ عظیم لقب ملا۔ اگرچہ کہ ہمیں اب تشویش ہو چلی ہے کہ ایک تو طالبان کے لئے نرم گرم جذبہ رکھنے پہ ہی نواز شریف کو لوگوں کے طعنے سننے پڑ رہے تھے اور حالت یہ تھی کہ جب سے تونے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے۔ وہاں نواز شریف نے یقیناً کسی بد خواہ کے کہنے پہ فوج سے اڑنگا لے لیا۔ اگر انہوں نے کبھی دھوبی کے کتے کی زندگی دیکھی ہوتی تو اس  مرحلہء سودوزیاں پہ انہیں سمجھنے کی آسانی بہم ہوتی ہے۔  یہ فارم ہاءوس میں رہنے کا نقصان ہے۔
دوسری طرف وہ لوگ جو  طالبان اور فوج کو ایک ہی سکے کے دو رخ سمجھتے رہے اور بیک وقت ان دونوں کی زلف کے اسیر ہیں اور اس وجہ سے نواز شریف کو بھی عزیز رکھتے تھے۔ اب  انکے لئے مرحلہ ء سخت ہے کسے عزیز رکھیں کس کو مستعفی چاہیں۔  
لیکن بات وہیں آکر رک جاتی ہے کہ یہ تمغہ  نواز شریف کو کیوں دیا گیا ہے۔ نورجہاں یا معین اختر کو کیوں نہیں دیا گیا۔
کچھ اور کھوجی، اسکے تانے بانے پنجابی طالبان کی پنجاب حکومت کے ساتھ خوشگوار تعلقات میں دیکھتے ہیں۔ یہ بری بات ہے۔ حاسدی ہی ایسا کر سکتے ہیں و من شرّ حاسد اذا حسد۔ جذبہ ء مفاہمت کو عام کرنے والے لوگوں کو یہ بات کرنا زیبا نہیں۔
کچھ اور لوگ اسکی وجہ مفتی رانا ثناءاللہ کو گردانتے ہیں۔ یعنی طویلے کی بلا بندر کے سر۔ اس پہ رانا ثناء اللہ  صاحب کے عقیدت مند مجھ سے ناراض نہ ہو جائیں میں نے انہیں قطعاً بندر نہیں کہا۔ یہ محاورہ بنانے والے کی نیت کی خرابی ہے۔ وہ ہر مسکین کو بندر سمجھانا چاہتا ہے۔
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ایک ایسا مفتی جو لوگوں کے واجب القتل ہونے پہ فتوی دینے کو تیار رہتا ہو۔ اور قتل ہو بھی جاتا ہو تو اس کا گرو تو مولوی ہی کہلائے گا۔ زرداری صاحب، سلمان تاثیر کا غم کھائے بیٹھے تھے اور ابھی رانا ثناء اللہ  کے فتوے اور سلمان تاثیر کے قتل کے مابین گتھیاں سلجھ بھی نہ پائں کہ رانا ثناء اللہ نے اس دفعہ بابر اعون کو بھی واجب القتل قرار دے دیا۔ بابر اعوان صاحب کا نہیں معلوم کس کھوہ میں بیٹھے ہیں البتہ رانا ثناء اللہ سنا ہے مونچھوں کی اصلی گھی سے مالش کراتے ہیں۔ مونچھیں ہوں تو رانا ثناء اللہ جیسی ہوں ورنہ نہ ہوں۔
دیکھا آپ نے حلوہ کھانے والے مولوی صاحب، خدا غارت کرے زمانے کی بد چلنی وغیرہ کو کہ  قتل وغیرہ سے بھی پہچانے جانے لگے ہیں۔ حلوے سے اٹھنے والے مولوی صاحب کا خمیر اب خدائ جلوے کے برابر ہو چکا ہے۔ جسکے بارے میں خدا کہتا ہے کہ تاب نہ لا سکو گے ہمارے جلوے کی۔
عطاء الحق قاسمی صاحب، نے آخر میں صدر زرداری کی اس تقریر کو غیر صدارتی قرار دیا ہے۔ میں اس سے اتفاق کرتی ہوں۔ صدر زرداری کو اسکا حل ، حلوے میں نکالنا چاہئیے تھا جلوے میں نہیں۔ ہو سکتا ہے مولوی صاحب کی یادداشت کام کرنے لگ جاتی۔ لیکن ایسا ہوتا تو عطاء الحق قاسمی جیسا سینیئر قلم کار اور مجھ جیسا نو آموز لکھنے والا  کس چیز کے متعلق لکھتے۔  انہی کے دم سے ہیں آباد یہ قلم کے مے خانے۔ یہ مصرعہ ابھی تخلیق کیا ہے۔ میں اسکا دوسرا مصرعہ جوڑتی ہوں۔ آپ حلوہ  سوچئیے اور قسمت میں ہو تو جلوہ۔

Wednesday, June 22, 2011

ٹھرکی

شادی کے پندرہ دن بعد ہم دونوں سیر وتفریح کی غرض سے ترکی روانہ ہوئے۔  ہمارا وہاں قیام پندرہ دن کے لئے تھا۔ اس لئے ایک گائڈڈ ٹور لے لیا جس میں چھ شہر شامل تھے۔ یوں ہم ان پندرہ دنوں میں گھڑی پہ نظر رکھے، بسوں اور ٹور گائیڈز کے پیچھے دوڑتے رہے اور ان شہروں میں جابجا بکھری ہوئ تاریخِ کو ازبر کرتے رہے۔  یہ ہمارا ہنی مون نہیں بلکہ اسٹڈی ٹور ثابت ہوا۔
استنبول پہنچنے کے دوسرے دن جب ہم نیلی مسجد، آیہ صوفیہ اور ٹوپ کاپی کا محل دیکھ کر فارغ ہوئے تو سہ  پہر کو ہم استنبول کے گرانڈ بازار کی طرف نکل گئے۔ یہ سب جگہیں ہماری رہائش گاہ اور ایکدوسرے سے اتنے قریب تھیں کہ ہم پیدل ہی چکر لگا رہے تھے۔
جیسے ہی ہم گرانڈ بازار میں داخل ہونے لگے میرے شوہر صاحب نے کہا کہ آپ ذرا اس گلی کو چیک کریں میں ابھی آتا ہوں۔ میں گلی میں سیدھی چلتی چلی گئ۔ گرانڈ بازار خاصہ بڑا بازار ہے کہا جاتا ہے کہ اس مِں چار ہزار سے زائد دوکانیں ہیں۔ خوبصورتی اس بازار کی یہ ہے کہ ایک چھت تلے دور تک پہلا ہوا ہے اسکی چھت میں گنبد اور محرابیں بنی ہوئ ہیں۔ جن پہ خوبصورت، رنگین نقش و نگار ہیں۔ جو کہ ترک قدیم تعمیری ثقافت کا حصہ ہے۔
صراط مستقیم پہ کوئ زیادہ دور مستقل مزاجی سے چل پائے یہ کم ہوتا ہے۔ راستے کے  موڑ کے اسرار اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں۔
میں بھی ایک گلی میں مڑ گئ۔
دوکاندار آوازیں لگا لگا کر اپنی جانب متوجہ کرانا چاہتے تھے۔ لیکن انہیں اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ میں ہوں کہاں کی۔ انکی اکثریت نجانے کیوں مجھے عرب سمجھ رہی تھی اور وہ بار بار کہہ رہے تھے اسماء، اسماء۔ جیسے ہمارے یہاں پٹھان ہر نوجوان لڑکی کو شمائلہ کہتے ہیں۔
اسی شور میں ایک دوکاندار نے کہا آر یو فرام پاکستان، کراچی۔ میں خوشی میں رک گئ۔ ترکی میں زبان بڑا مسئلہ ہے۔ یوروپی نقوش رکھنے والے ترک انگریزی سے تقریباً نابلد ہیں۔ استنبول، ترکی کا ایک بڑا سیاحتی شہر ہے اس سمیت باقی پانچ شہروں میں بھی زبان ایک مسئلہ رہی۔ خریداری کے لئے کیلکولیٹر استعمال ہوتا ہے۔ بیشتر لوگ انگریزی گنتی بھی نہیں جانتے۔ یہ دوکاندار دو تین دفعہ کراچی آ چکا تھا۔ اس نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں جو بتایا وہ یہ تھا کہ وہ کراچی سے قالین لا کر یہاں بیچتا ہے۔ اسکے علاوہ زینب مارکیٹ ، کراچی سے چیزیں لے کر آتا ہے اس سے انہیں بڑی آمدنی ہوتی ہے۔
خیر جناب، اس دوکاندار سے باتیں بگھارنے کے بعد جب میں پلٹی تو وہی ہوا ، جسکی توقع کی جانی چاہئیے تھی۔ میں راستہ بھول چکی تھی۔
کوئ انگریزی نہیں جانتا تھا، زیادہ لوگوں سے راستہ پوچھ کر میں اپنے آپکو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی اس لئے طے کیا کہ باہر جانے کے لئے کسی ایک سیدھے راستے پہ چلتے چلے جانا چاہئیے۔ ترکیب کامیاب رہی۔ میں بازار سے باہر نکل آئ۔ لیکن یہ وہ دروازہ نہیں تھا جہاں سے اندر داخل ہوئے تھے۔
تھوڑی دور چلنے کے بعد کوشش کی کہ نیلی مسجد کے مینار نظر آجائیں۔ استنبول کی پہچان خوب صورت نیلی مسجد ہے۔ لیکن زمین آسمان کی سرحدیں اس نظارے  سے محروم تھیں۔ یعنی میں خاصی دور نکل آئی تھی۔
اب رسک لینا ہی پڑے گا۔ میں نے ایک جوس کارنر قسم کی دوکان پہ رک کر ایک جوس کا ڈبہ لیا اور اس بہانے دوکاندار سے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ نیلی مسجد کس طرف ہے۔ اسے انگریزی بالکل نہیں آتی تھی۔ اس نے ایک اور شخص کی طرف اشارہ کیا۔ وہ بھی اشاروں ہی سے سمجھا ۔ اور پھر اشاروں میں اس نے ایک طرف اشارہ کیا۔ سمجھ میں آئ کہ اس طرف سیدھے چلتے رہنا ہے۔
کوئ دس منٹ چلنے کے بعد نیلی مسجد کے مینار نظر آئے۔ اب میں ہوٹل تک پہنچ سکتی تھی۔ خاصی دیر ہو چکی تھی اور میرا خیال تھا کہ موصوف ہوٹل پہنچ چکے ہونگے۔ ریسیپشن سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ ابھی نہیں آئے۔ چابی میرے پاس نہیں تھی۔ متعلقہ شخص بھی وہاں نہیں تھا۔ میں لابی میں رک گئ۔
وہاں ایک پندرہ سولہ سال کی لڑکی اپنی ماں کے ساتھ موجود تھی۔ ان سے باتیں شروع ہوئیں۔ جب انہیں پتہ چلا کہ میں اپنے شوہر کو گرانڈ بازار میں کھو آئ ہوں تو بے اختیار زور زور سے ہنسنے لگیں۔ پندرہ دن کی دولہن شوہر گم کر کے آرہی ہے۔ ماں اپنی بیٹی کی ایسی ہی باتیں بتانے لگی وہ یہودی النسل خواتین اسرائیل سے گرمیوں کی چھٹیاں  گذارنے آئے ہوئے تھیں۔
پاکستان میں تو ہم نے صرف را کے ایجنٹوں کا نام سنا ہے کبھی کسی یہودی سے ملاقات نہ ہونے پائ۔
تھوڑی دیر میں متعلقہ شخص آیا اور مجھے کمرے تک چھوڑ گیا کہ وہ چابیوں کا نچارج تھا۔
میں جا کر بالکونی میں کھڑی ہو گئ۔ تاکہ شوہر صاحب کو آتے ہوئے دیکھ سکوں۔ عقل مندی کا تقاضہ تھا کہ وہ ہوٹل واپس آئیں۔ نیچے سڑک پہ نظر جمائے جمائے مجھے احساس ہوا کہ ترکی ہمارے ملک سے کس قدر مختلف ہے حالانکہ یہاں کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے۔ سڑک پہ خواتین مغربی مختصرلباس میں گھوم رہی ہیں۔ ایک لڑکی منی اسکرٹ، گہرے گلے اور بغیر آستین کی ٹی شرٹ پہنے اپنے ساتھی مرد کی کمر میں ہاتھ ڈالے جا رہی ہے۔ اسی روڈ پہ ایک لڑکی عبایہ اور اسکارف پہنے اپنے ساتھی مرد کا ہاتھ پکڑے چل رہی ہے جبکہ مرد کا ہاتھ اسکی کمر میں حمائل ہے۔ سر عام اپنی خواتین سے التفات دکھانا چاہے وہ حجاب میں ہوں یا بے حجاب، محرم ہوں یا نامحرم ترکی میں برا نہیں سمجھا جاتا۔ روڈ کے کنارے گھنے درختوں کے نیچے نوجوان جوڑے ایک دوسرے کی بانہوں میں گم ہیں۔ وہ اتنے گم تھے کہ، انکے چہرے نظر نہیں آرہے تھے۔
ایک  گھنے درخت کے نیچے ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ نظر آرہا ہے۔ ایسے رسیٹورنٹ استنبول میں بہت ہیں۔ جن میں اچھی شراب اور جوس سب دستیاب ہیں۔ ارد گرد کی میزوں پہ لوگ اپنے مطلب کے مشروب سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ 
یہ اتنی عجیب جگہ ہے کہ ٹوپ کاپی محل جسے ایک میوزیم میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ اور اسکے ایک حصے میں اسلامی نوادرات کا مجموعہ ہے۔ جس میں رسول پاک کے موئے مبارک سے لیکر وہ قرآن پاک موجود ہے جسکی تلاوت حضرت عثمان وقت شہادت کر رہے تھے۔ اور اس حصے میں احترام کے پیش نظر ہر وقت قرآن پاک کی تلاوت ہوتی رہتی ہے۔ باہر اس سے چند گز کے فاصلے پہ ریسٹورنٹ میں لوگ ترکی کے مشہور ڈونلڈ اور شیش کباب بیئر اور سرخ شراب کے ساتھ بیٹھے کھا رہے ہیں۔ ادھر نیلی مسجد کے اردگرد پھیلے پارک میں نوجوان انگوروں کی بیلوں تلے ایک دوسرے کو فسانہ ء عشق سنانے میں مصروف۔
شاید اسی کے لئے شاعر نے کہا کہ 
بھوں پاس قبلہ ء حاجات چاہئیے
مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہئیے
ترکی تو ٹھرکی ہے۔ کسی نے ترکی جانے سے پہلے میرے کان میں سرگوشی کی تھی۔
 یہیں ایسی دوکانیں بھی نظر آتی ہیں جہاں دیواروں پہ اسلامی طغرے نصب ہیں اور جہاں کسی بھی قسم کا نشہ آور مشروب نہیں ملتا۔ اذان تمام مساجد سے ایک وقت میں ہوتی ہے اور اسکا وقت مقرر ہے۔ تمام مساجد میں خواتین کے لئے جگہ موجود ہے۔ تمام مساجد کے ساتھ صاف ستھرے وضو خانے موجود ہیں۔ تمام وضو خانوں کے ساتھ صاف ستھرے بیت الخلاء موجود ہیں۔
چھ مختلف شہروں کو بسوں کے سفر کے ذریعے دیکھا۔ ترکی ایک جدید ترقی یافتہ ملک ہے۔ ترکی ترقی میں کسی مغربی ملک سے کم نہیں۔ سیاحتی نظام اتنا مضبوط ہے کہ کسی جگہ ہمیں ایک منٹ کی بھی دیر نہیں ہوئ۔ کوئ افراتفری نہیں۔ ٹرانسپورٹ انتہائ منظم،  روڈ صاف ستھرے، ہوٹلز صاف ستھرے ، کھانا بہترین، جو انکے ٹور میں موجود ہے وہ سب مہیا ہوگا۔
  سوائے کونیہ کے جہاں مولانا رومی کا احترام بہت زیادہ ہے۔ کسی اور شہر میں سر عام شراب پینے پہ کوئ منادی نہیں۔ اور اناطولیہ کا گائڈ کونیہ کے لوگوں کو منافق کہتا ہے۔ گھروں میں شراب پیتے ہیں باہر نہیں۔
آج مجھے ترکی پھر یاد آیا۔ جب میں دیکھتی ہوں کہ پاکستان کے شدت پسند مذہبی عناصر ترکی کے حالیہ الیکشن میں اسلام پسندوں کی لگاتار تیسری بار کامیاب ہونے کی خوشی کواپنی فتح سمجھتے ہیں ۔
ترکی کی اسلام پسند حکومت اپنے عوام کی مذہبی طرز زندگی پہ زور زبردستی نہیں دکھاتی۔ وہ مسجد کے زیر سایہ خرابات دینے کو معیوب نہیں سمجھتی۔ کیا ایسی اسلام پسندی ہمارے مذہبی حلقوں کے حلق سے نیچے اتر سکتی ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ ترکی میں تیسری بار اسلام پسندوں کی آنے والی حکومت کا منشور کیا ہے۔
جسٹس پارٹی کے طیب اردگان ،  ترکی کے موجودہ وزیر اعظم اپنا ویژن ۲۰۲۳پیش کرتے ہیں۔ 
اس کے تحت وہ ترکی کو دنیا کا بے مثال ملک بنانا چاہتے ہیں۔ وہ ترکی کو دنیا کی پہلی دس معیشتوں میں لا کر کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ برآمدات میں اضافہ، اوسط آمدنی میں اضافہ، غیر ملکی تجارت میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ جسکے نتیجے میں توقع ہے کہ مزید تین کروڑ نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ اس منصوبے میں توانائ بڑھانے اور بچانے کے منصوبے شامل ہیں۔ خارجہ پالیسی کے لئے ترکی کو یوروپی یونین کا فعال ترین کارکن بنایا جائے گا۔ وہ یوروپی یونین جو ترکی کو یوروپ کا حصہ تسلیم کرنے سے ہچکچاتی ہے۔ ترکی عالمی امن و استحکام کو بڑھانے میں اپنا فعال ترین کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ اسکے تحت عوام کے لئے معالجین یعنی ڈاکٹرز  کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا اس ویژن میں یہ چیز شامل ہے کہ کوئ ایک ترک شہری بھی ایسا نہ ہو جسےہیلتھ انشورنس حاصل نہ ہو۔ٹرانسپورٹ کے شعبے میں گیارہ ہزار کلو میٹر ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ ہے۔ایسی بندرگاہ بنانے کا منصوبہ ہے جو دنیا کی پہلی دس بندر گاہوں میں شامل ہو۔ ہوائ جہاز کہ صنعت میں خود کفالت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دو ہزار تئیس تک ترکی کو دنیا کا پانچوں بڑا سیاحتی مرکز بنایا جائے گا۔ جس سے اسے پچاس ارب ڈالر کا ریوینیو ملے گا۔
یہ پورا ویژن، ترکی کو معاشی، سطح پہ مضبوط بنانے کے ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔ کساد بازاری کے اس دور میں جب دہشت گردی اور جنگ کی وجہ سے ہماری معیشت بد حالی کا شکار ہے۔ ترکی اس وقت دنیا کی بلند ہوتی ہوئ معیشتوں میں سے ایک ہے۔
اس ویژن دو ہزار تئیس میں جو ترکی کی اسلام پسند جماعت کی طرف سے پیش کیا گیا ہے ایسی کوئ ایک شق نظر نہیں آتی جس میں ملک میں نظام شریعت کے قیام زور دیا گیا ہو۔ جس میں جہاد اور جہادی قوتوں کی پشت پناہی کا عزم کیا گیا ہو۔ جس میں دفاعی طاقت کو بڑھانے کا اظہار ہو۔  جس میں اسکولوں یا تعلیمی سطح پہ نصاب کو اسلامی بنانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا۔ جس میں خواتین کو چادر اور چار دیواری میں بند کرنے کا عندیہ دیا گیا ہو۔ جس میں مغربی قوتوں سے نفرت کا اظہار کیا گیا ہو۔
ایک ایسے ترکی میں جو اب سے چند سال پہلے میں نے دیکھا اور جو اب بھی کم و بیش ایسا ہی ہے کہ میرے ایک عزیز پچھلے سال وہاں گئے اور اسے ویسا ہی پایا۔ جیسا میں نے دیکھا تھا۔ اسلام پسندوں کی کامیابی کیا وہ معنی رکھتی ہے جو ہمارے یہاں کے شدت پسند سمجھ رہے ہیں اور سمجھانا چاہتے ہیں۔ میرا تو خیال ہے کہ ہمارے مذہب پرست وہاں کی عام زندگی کو دیکھیں تو ترکوں کے اسلام پہ لعنت بھیج کر فی الفور انہیں کافر قرار دے دیں گے۔
میں تو سمجھتی ہوں کہ ہم میں سے ہر وہ شخص جو ترکی جانے کے وسائل برداشت کر سکتا ہو اسے ضرور صرف چار دن ہی سہی استنبول میں ضرور گذارنے چاہئیں۔ بالخصوص وہ جو شدت پسندوں سے ہمدردی کا رجحان رکھتے ہیں۔ انہیں وہاں جا کر اندازہ ہوگا کہ باوجود تمام آزادی اور مذہب کے عدم پروپیگینڈے کے ترکی میں مذہب پسند اپنی مرضی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ اور غیر مذہب پسند اپنی مرضی کی۔ ترکی ایک سیکولر ملک ہے۔
کہیں پر بھی لوگوں نے ہمیں اس وجہ سے اہمیت نہیں دی کہ ہم پاکستانی مسلمان ہیں۔ کسی نے ہم سے ہمارا فقہ نہیں پوچھا۔ کسی نے ہم سے دینی مسائل پہ بات نہیں کی۔ کسی کو فکر نہیں تھی کہ ہم نماز پڑھتے ہیں یا نہیں، ہم شراب پیتے ہیں یا نہیں۔ میں سر پہ دوپٹہ اوڑھتی ہوں یا نہیں۔ کوئ میری نماز کی وجہ سے مجھ پہ صدقے واری نہیں ہو رہا تھا۔ کوئ مجھے شراب نہ پینے کی وجہ سے ستائشی نظروں سے نہیں دیکھ رہا تھا۔  کسی کو ملت اسلامیہ کے پارہ پارہ ہوجانے کا صدمہ نہیں تھا۔ کسی کو خلافت کی تجدید سے دلچسپی نہیں تھی۔
یہ بھی حیرانی کی بات ہے جسٹس پارٹی نے الیکشن کے دوران مذہب کو اپنی تشہیری مہم میں استعمال نہیں کیا۔ بلکہ انکا موٹو ترکی کی مجموعی ترقی رہا۔
کیا یہاں مجھے یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہمارے یہاں مذہبی جماعتیں کیا رول ادا کرتی ہیں اور وہ ملکی سطح پہ کسی بھی قسم کے ویژن سے کیسے بالکل محروم ہیں۔ اتنی محروم ہیں کہ ایسا کوئ قانون بنانے میں مدد نہیں کر سکتیں جسکی رو سے خواتین کو سر عام برہنہ پھرانے والے کے لئے عبرت ناک سزا رکھی جا سکے یا خواتین پہ تیزاب پھینکنے والوں کو خوفناک انجام کے سامنے کا ڈر ہو۔ درحقیقت وہ اور انکے پیروکار ایسے واقعات کی مذمت تک کرنے سے گھبراتے ہیں۔ یہ مذہبی جماعتیں نوجوانوں کو ملک کی ترقی کی توانائ بنانے کے بجائے اپنے مفادات کی جنگ کو جہاد کا نام دے کر ان نوجوانوں کو اس کا ایندھن بناتی ہیں۔ 
میں حیران ہوتی ہوں۔ جب یہ لوگ ترکی کے اسلام پسندوں کی ترکی میں فتح پہ تالیاں بجاتے ہیں تو آخر یہ کیا سوچ رہے ہوتے ہیں۔ کیا سوچتے ہیں یہ لوگ؟  سمجھ میں نہیں آتا کہ ٹھرکی کون ہے؟

Tuesday, June 21, 2011

چھاتی کا کینسر

میں خواتین کے خاص ملبوسات کے اسٹور پہ ایک ساتھی خاتون کے ساتھ موجود تھی۔ جب میری ساتھی خاتون نے مجھے ٹہوکا دیا۔ ان خاتون کو کچھ خاص چیز چاہئیے۔ انہوں نے سرگوشی کی۔ اسکی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ لڑکی عبایہ پہنے ہوئے تھی اور سر پہ سختی سے اسکارف باندھا ہوا تھا۔ لیکن اس چھبیس ستائیس سال کی پیلاہٹ مائل سفید رنگت والی لڑکی کے چہرے پہ نظر پڑتے ہی میری نگاہ اسکی آنکھوں کے گوشوں  میں گم آنسوءووں پہ ٹہر گئ۔
میری چھٹی حس نے کہا ، وہ چھاتی کے کینسر کا شکار ہے۔ اسکی ایک چھاتی کو آپریشن کر کے کاٹ کر نکالا جا چکا ہے ۔ ابھی اسکی کیمو تھراپی یا چل رہی ہے یا حال میں ختم ہوئ ہے۔ جسکی وجہ سے اسکے سر کے سارے بال جھڑ چکے ہیں اس لئے اس نے اتنی سختی سے اسکارف لپیٹ رکھا ہے۔
یہ سب باتیں،  پلک جھپکتے میں  میرے ذہن میں آگئے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ میں اس بارے میں تفصیل سے پڑھ چکی ہوں جو معلومات مجھے حاصل ہوتی ہیں انہیں یاد رکھتی ہوں۔ جبکہ میری ساتھی خاتون کو اس بارے میں اتنا علم نہیں تھا  اس لئے وہ سمجھیں کہ وہ لڑکی اپنے جسم کی ساخت کو بہتر بنانے کے لئے کوئ خاص قسم کا زیر جامہ چاہتی ہے۔
ہم دونوں، اپنے علم کی بنیاد پہ دو مختلف رائے  پہ پہنچے۔ اس اثناء میں اسٹور کا دروازہ کھلا اور ایک اور لڑکی اندر داخل ہوئ۔ وہ اس لڑکی کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئ اور ایک دم گلے لگ گئ۔  وہ دونوں دوستیں بہت عرصے بعد مل رہی تھیں۔ لیکن اسکے گلے لگتے ہی عبایہ والی لڑکی رونے لگ گئ۔ اسے اسٹول پہ بٹھا کر دوست اس کا احوال پوچھنے لگی۔
یوں انکی ہلکی ہلکی باتوں سے پتہ چلا کہ اس لڑکی کی شادی کو پانچ سال ہوئے ہیں ۔ تیسرے بچے کی پیدائش کے تین مہینے بعد اسے لگا کہ چھاتی میں گٹھلی ہے۔ ڈاکٹر کو دکھایا ٹیسٹس ہوئے اور پتہ چلا کہ اسے چھاتی کا کینسر ہو گیا ہے۔
 وہ نوجوان لڑکی اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اپنی دوست سے کہہ رہی تھی۔ ابھی تو میرے بچے بہت چھوٹے ہیں۔ حالانکہ وہ خود بھی اس مرض کے لئے چھوٹی تھی۔ پچھلے چھ مہینے میں ، میں چھ خواتین کے بارے میں سن چکی ہوں کہ وہ اس کا شکار ہو گئیں۔
 پاکستان میں ہر نو میں سے ایک خاتون اس جان لیوا بیماری کا شکار ہوتی ہے۔ لاحق ہونے کی صورت میں کسی ترقی یافتہ ملک کی نسبت جان سے گذرنے کا امکان بھی کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
کسی بھی قسم کا کینسر ہونے کی سب سے بنیادی وجہ زندگی گذارنے کا انداز ہے اور دوسری اہم وجہ خاندان میں  اس مرض کا پایا جانا ہے۔
بریسٹ کینسر جن خواتین میں پائے جانے کا زیادہ امکان ہے وہ یہ ہیں۔
جن کے خاندان میں یہ مرض پہلے کسی کو ہو چکا ہو، ماں اور باپ دونوں کی طرف سے۔ ایک غلط خیال یہ ہے کہ صرف ماں کے خاندان میں  پایا جائے تو ہی امکان ہوتا ہے۔
وراثتی طور پہ ہی منتقل نہیں ہوتا۔ بلکہ  دیگر خواتین بھی زیادہ رسک پہ ہوتی ہیں۔ ان میں وہ جو بے اولاد ہوں۔ یا جنکے بچے تیس سال کی عمر کے بعد ہوئے ہوں۔
جنکے مخصوص ایام کم عمری میں ہی شروع ہو گئے ہوں جیسے دس گیارہ سال کی عمر میں۔
جنکے مخصوص ایام زیادہ عرصے تک چلتے رہے ہو۔ جیسے پچپن سال کی عمر کے بعد بھی۔
سن یاس یعنی ایام بند ہو جانے کے بعد اسکے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس طرح نوجوان خواتین کے مقابلے میں زیادہ عمر کی خواتین زیادہ شکار ہوتی ہیں۔
جو خواتین اپنے بچوں کواپنا دودھ نہیں پلاتی ہیں  وہ  زیادہ خطرے میں ہوتی ہیں۔
وہ خواتین جو شراب نوشی کرتی ہیں۔

امکان زیادہ ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ ایسی خواتین کو معمولی علامتوں کو بھی سنجیدگی سے لینا چاہئیے۔ یہ بالکل ضروری نہیں کہ اگر خاندان میں کسی کو ہو چکا ہو تو لازماً دوسری خواتین کو بھی ہوگا ۔  اسی طرح جنکے اولاد نہیں یا جنہوں نے اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلایا انہیں ضرور ہوگا۔ انہیں نہیں  بھی ہو سکتا اور اسکو ہو سکتا ہے جس کے ایک درجن بچے ہوں جن میں سے ہر ایک کو اس نے دودھ پلایا ہو۔  جنکے خاندان میں کسی کو کبھی نہیں ہوا انکو بھی ہونے کے امکانات ہوتے ہیں اور اس طرح ایک اور وجہ طرز زندگی نکل آتی ہے۔
آپ کس طرح زندگی گذارتے ہیں اس پہ آپکی صحت کا دارومدار ہوتا ہے۔ بریسٹ کینسر کے سلسلے میں وہ خواتین جو  غذا کو رکھنے کے لئے پلاسٹک کی اشیاء کا استعمال کرتی ہیں زیادہ اس کا شکار ہوسکتی ہیں۔ پانی کی بوتل جو دھوپ میں دیر تک رکھی رہے زہر بن جاتی ہے۔ ان دوکانوں سے جہاں یہ باہر دھوپ میں رکھی ہوتی ہیں لینے سے گریز کریں اور دوکانداروں کو نصیحت کریں کہ پانی کی بوتلوں کو اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء جو پالسٹک پیکنگ میں ہوتی ہیں دھوپ میں نہ رکھیں۔ اسی طرح مائکرو ویو اون میں کھانا گرم کرنے کے لئے پلاسٹک کی اشیاء کا استعمال، ہوٹل سے کھانے یا روٹی لانے کے لئے پلاسٹک کی تھیلوں یا پلاسٹک کے برتن کا استعمال یہ سب ایک خطرہ ہے آپکی صحت کے لئے۔
تنگ زیر جامہ کا استعمال، چھاتیوں میں خون کی ترسیل کو آہستہ کر دیتا ہے۔ جس سے زہریلے مواد کے جمع ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ یہ یاد رہنا چاہئیے کہ خواتین میں تولیدی ہارمون کا سب سے زیادہ ذخیرہ چھاتیوں اور بچہ دانی میں پایا جاتا ہے۔ یہ ہارمون دیگر  زہریلے مرکبات کو بھی آسانی سے دوست بنا لیتا ہے۔ یوں آہستہ آہستہ ان میں کینسر کے خلئیے جنم لینے لگتے ہیں۔ صرف چھاتی ہی نہیں اکثر لوگوں کو ازار بند ٹائیٹ باندھنے کی عادت ہوتی ہے یہ بھی کینسر کو جنم دے سکتا ہے۔ کوشش کریں رات کو سوتے وقت ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنیں۔
ہم وہ ہوتے ہیں جو ہم کھاتے ہیں۔ ایک کہاوت ہے۔ لیکن درست ہے۔ سادہ کھانوں کی عادت ڈالیں۔ کھانا جتنا بھونا جاتا ہے، تلا جاتا ہے، بیک کیا جاتا ہے یا کوئلوں پہ سینکا جاتا ہے اتنا اس میں زہریلے مرکبات زیادہ بنتے ہیں۔ یعنی ایسے مرکبات جو کینسر پیدا کر سکتے ہیں۔ 
سادہ کھانا کھائیے، تازہ پھل اور سبزیوں کو اپنی روز کی خوراک کا حصہ بنائیے۔ بازار سے لانے کے بعد سبزی اور پھلوں کو اچھی طرح دھولیں۔ تاکہ ان پہ موجود کیمیائ کھاد اور جراثیم کش ادویات  اچھی طرح صاف ہو جائیں۔

تیل یا چکنائ کا ستعمال کم کریں۔ تیل یا چکنائ میں زہریلے مرکبات جذب کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ اسے جسم میں زیادہ دیر تک رکھ سکتے ہیں۔ یوں خلیوں کے عمل میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔

اپنے وزن کو مقررہ حدوں کے اندر رکھنے کی کوشش کریں۔ سو بیماریوں کی ایک بیماری موٹاپا ہے۔

لائف اسٹائل میں سب سے اہم چیز ورزش ہے۔  اگر ہم ایک ایسی زندگی گذارتے ہیں جس میں حرکت کم ہوتی ہے تو ہمارے جسم کے تمام حصوں تک خون کی ترسیل مناسب نہیں ہو پاتی۔ وہ حصے جہاں خون کی ترسیل آہستہ ہوتی ہے وہاں زہریلے مرکبات کے جمع ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ورزش ہمیں یہ فائدہ دیتی ہے کہ جسم کے تمام اعضاء حرکت میں آتے ہیں۔ اور بہتر خون اور آکسیجن حاصل کرتے ہیں۔
خواتین عام طور پہ سمجھتی ہیں کہ گھریلو امور کو انجام دینا ہی ورزش ہے۔ یہ خیال اتنا درست نہیں ہے۔ ورزش کے نتیجے میں آپکے دل کی دھڑکن بڑھنی چاہئیے۔ اور جسم کے تمام اعضاء کو کام کرنا چاہئیے۔ چھاتی کے کینسر سے بچاءو کے لئے ایسی ورزشیں کیجئیے جسکے نتیجے میں آپکے بازو اور چھاتیوں میں کھنچاءو پیدا ہو۔
خواتین کی ورزش کے حوالے سے ہم کسی اگلی پوسٹ میں بات کریں گے۔
چھاتیوں کی جانچ ہر مہینہ ایام مخصوصہ ختم ہونے کے بعد ایک خاتون خود بھی کر سکتی ہے۔ اسکے لئے چھاتیوں اور اپنی بغل کے غدودوں کو چیک کرنا ہوتا ہے۔ ان میں کسی بھی قسم کی گٹھلی کی موجودگی یا درد کی صورت میں قابل اعتماد ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بیشتر خواتین خاص طور پہ وہ جو شادی شدہ نہیں ہوتیں  بے جا شرم کی وجہ سے اتنا بڑھا لیتی ہیں کہ پھر یہ علاج سے باہر ہو جاتا ہے۔ اگر کینسر کا اثر لمف نوڈز یا ہڈی کے گودے تک بڑھ جائے تو یہ ایک خطرناک حالت ہوتی ہے۔
 چھاتی ایک خطرناک جگہ ہے۔ یہاں ایسٹروجن اور چربی سب سے زیادہ موجود ہونے کی وجہ ایک معمولی عام گٹھلی بھی اگر اسکا علاج نہ کیا جائے تو کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔
چھاتی میں اگر گٹھلی محسوس ہو تو اسکی گرم سینکائ کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ گرم سینکائ جسم کے اندرونی زخم کو کینسر کے زخم میں تبدیل کر سکتی ہے۔  مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اگر ڈاکٹر میمو گرافی ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دے تو بلا تاخیر کرائیے۔ 
چھاتی میں موجود تمام گٹھلیاں کینسر نہیں ہوتیں۔ اس لئے گٹھلی موجود ہونے کی صورت میںجب تک ٹیسٹس کی رپورٹ نہ آجائیں اور ڈاکٹر کوئ حتمی رائے نہ دے دے۔ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔
چھاتی کے کینسر کی تشخیص میمو گرافی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس میں خاص ٹیکنیک کے ذریعے چھاتی کا ایکسرے اور الٹرا ساءونڈ ہوتا ہے۔ اور مٹر جتنے چھوٹے سائز کی گٹھلی کا بھی پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ میموگرافی ایک مہنگا ٹیسٹ ہے اسکی فیس تین سے پانچ ہزار روپے تک ہو سکتی ہے۔ ہر جگہ یہ سہولت میسر بھی نہیں ہے۔ پاکستان میں تیزی سے پھیلتے اس جان لیوا مرض کی تشخیص کے لئے اس ٹیسٹ کوجہاں سستا کرنے کی ضرورت ہے۔ وہاں اس امر کی بھی ضروت ہے کہ ایسی موبائل وینز ہوں جو دیہی علاقوں میں جا کر وہیں پہ یہ ٹیسٹ انجام دے سکیں۔
کراچی میں ، میں نے سنا کہ ڈاکٹر شیر شاہ کی زیر نگرانی سول ہسپتال میں ایک ایسی وین بنائ جا چکی ہے۔
کچھ گٹھلیاں ایسی جگہ موجود ہوتی ہے جہاں سے وہ اس ایکسرے میں بھی نہیں آپاتیں۔ لیکن ایسے کیسز بہت کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تر حالات میں اس ٹیسٹ سے خاصی مدد مل جاتی ہے۔
پینتالیس سال کے بعد احتیاطاً میمو گرافی کرا لینی چاہئیے۔ وہ خواتین جو سن یاس میں داخل ہو چکی ہیں انہیں ۔ میموگرافی کرانی چاہئیے۔ تاکہ اس قسم کی کسی صورت حال کو ابتداء ہی میں پکڑا جا سکے۔
مرض اگر زیادہ پھیل گیا ہو تو سی ٹی اسکیننگ بھی کی جاتی ہے۔ تاکہ مزید متاثرہ حصوں کی تفصیلات سامنے آجائیں۔ اس کا درست مشورہ ایک ڈاکٹر ہی دے سکتا ہے۔
ایک دفعہ گٹھلی کا مقام پتہ چل جائے تو اسکی حتمی تشخیص کے لئے بائیوپسی کی جاتی ہے۔ اسکے لئے گٹھلی میں سرنج داخل کر کے تھوڑا سا مواد حاصل کرتے ہیں جسے بعد ازاں کینسر سیلز کی موجودگی معلوم کرنے کے لئے چیک کیا جاتا ہے۔ یہ نیڈل بائیوپسی بھی کہلاتی ہے۔ اسکے علاوہ اوپن بائیوپسی بھی کی جاتی ہے۔
اسکے علاج کا انحصار مرض کی شدت اور مریض کی حالت پہ ہوتا ہے۔ اگر مرض ابتدائ حالت میں ہو تو ریڈیو تھراپی یعنی شعاعوں کے ذریعے علاج،  کیمو تھراپی یعنی دواءوں کے ذریعے علاج  یا لمپیکٹومی یعنی گٹھلی کو آپریشن کے ذریعے الگ کردیتے ہیں۔ زیادہ محفوظ صورت حال میں رہنے کے لئے بعض اوقات  میسٹیکٹومی یعنی متائثرہ حصے کو مکمل طور پہ کاٹ کر الگ کر دینے  سے مرض سے چھٹی حاصل کی جا سکتی ہے۔  بعض اوقات دو مختلف طریقے ایک ساتھ استعمال کئے جاتے ہیں۔ اگر یہ بعد کے مراحل میں داخل ہو جائے تو مریض کا عرصہ ء حیات ہی بڑھانے کی کوشش کی  جا سکتی ہے۔
کیمو تھراپی یا ریڈیو تھراپی کے ذیلی اثرات خاصے شدید ہوتے ہیں۔ اسکے لئے پہلے سے ذہنی طور پہ مریض اور گھر والوں کو تیار رہنا چاہئیے۔
علاج کے لئے ایک ڈاکٹر جو بھی مشورہ دے بہتر ہے کہ اسے شروع کرنے سے پہلے کسی اور ڈاکٹر سے بھی مشورہ لے لیا جائے۔ صرف بریسٹ کینسر ہی نہیں بلکہ کسی بھی سنگین مرض میں ایک سے زائد ڈاکٹر سے مشورہ ایک مریض کا حق ہے۔ 
جن مریضوں کی چھاتی الگ کر دی جائے انکے لئے یہ خاصہ مورال کم کر دینے والا سانحہ ہوتا ہے۔ عورت کی ظاہری خوب صورتی میں اسکی ظاہری ساخت کو ہر معاشرے میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ چھاتی کاٹ کر الگ کر دینے کی صورت میں  ایک عورت کی ظاہری خوبصورتی اس سے خاصی متائثر ہوتی ہے۔  بعض آپریشن کے ذریعے چھاتی کی ساخت کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔ اسکے علاوہ اب ایسے زیر جامے موجود ہیں جو دیکھنے  میں اسکی ظاہری شخصیت کو کم نہیں کرتے۔ لیکن بہر حال اسکا نفسیاتی اثر رہتا ہے۔
کسی بھی قسم کے کینسر کے مریض کو ہماری توجہ، محبت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔  ایک عورت جب اس سانحے سے گذرتی ہے تو اسکا خاصہ امکان ہوتا ہے کہ اس کا جیون ساتھی اس سے منہ موڑ جائے، علاج کا خرچہ گھرانے پہ بوجھ بن جاتا ہے۔ خاص طور پہ ہمارے معاشرے میں جہاں عورتیں معاشی طور پہ خود کفیل نہیں ہوتیں اور اپنے تمام مسائل اور وسائل کے لئے اپنے گھر والوں کی طرف دیکھتی ہیں۔  خواتین کو اس نظام میں وہ اہمیت حاصل نہیں جو ایک مرد کو حاصل ہوتا ہے تو ایک بیمار ، اور جسمانی ساخت سے محروم عورت کا یہ مہنگا علاج کروانے کی ہمت بھی ہر کسی میں نہیں ہو پاتی۔
یہ بھی ہوتا ہے کہ مریض کے ڈپریشن سے دیگر لوگ گھبرا جائیں اور وہ بھی حوصلہ چھوڑ دیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اس صورت حال سے نبٹنے کے لئے رضاکاروں کے گروپ ہوتے ہیں یا ہسپتال ہی میں ایسے یونٹ ہوتے ہیں جہاں مریض اور اس  کے اہل خانہ کی بھی نفسیاتی  تربیت ہوتی ہے۔
یہاں یہ بات جاننا ضروری ہے کہ بریسٹ کینسر کا شکار، مرد بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان میں اسکی شرح غیر معمولی طور پہ کم ہوتی ہے۔
چھاتی کے کینسر کی مریض عورت کو  بھی توجہ، محبت اور حوصلہ چاہئیے ہوتا ہے۔ اسے بے جا شرم  کی وجہ سے اس سے محروم نہ کریں۔

نوٹ؛ اس مضمون کی تیاری میں مختلف ذرائع سے مدد لی گئ ہے۔ پھر بھی کسی قسم کی غلطی کی نشاندہی یا مزید معلومات کے لئے مشکور ہونگی۔