Wednesday, September 9, 2009

گند اور گند


اپنی چھوٹی سی بیٹی کی وجہ سے مجھے پچھلے ایک مہینے میں تین مختلف عوامی جگہوں پر بیت الخلاء جانے کی اذیت اٹھانی پڑی۔ بچوں کو احتیاطاًڈائپر میں رکھنے کے باوجود انہیں غلاظت میں زیادہ دیر نہیں چھوڑا جا سکتا ورنہ انکی جلد پر چھالے ہو جاتے ہیں تو لامحالہ اس مصیبت کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ تین جگہیں، کراچی سفاری پارک، باغ ابن قاسم اور قائد اعظم انٹرنیشنل ائر پورٹ ہیں۔
سفاری پارک کے واحد خواتین کے بیت الخلاء میں غلاظت سے بھرا کموڈ اور سارے میں پھیلا ہوا پانی اس بات کی عکاسی کررہا تھا  کہ صفائ ہمارے ایمان کا کتنا حصہ ہے۔ باغ ابن قاسم میں انتظامیہ نے اچھا انتظام کیا ہے اور یہاں کافی سارے بیت الخلاء ایک جگہ پر ہیں ساتھ میں ایک بڑا ھال ہے جس میں کافی سارےبیسن اور شیشے لگے ہوئے تھے۔  یہ ھال اور وہ سیکشن جہاں ٹوائلٹ اسٹالز موجود ہیں کافی ہوا دار ہیں۔یہاں خواتین کی بڑی تعدااپنے بچوں کے ساتھ موجود تھی ان میں سے بیشتر اپنے نک سک کو درست کرنے سے لگی ہوئیں تھیں۔ مجھے چار اسٹالز میں  کموڈ کھول کر بند کرنے کے بعد  پانچواں اس قابل لگا کہ اسے استعمال کیا جا سکے۔ اب منصوبہ ساز آپکو ایک چیز بنا کر تو دے سکتے ہیں لیکن وہ لوگوں کو یہ نہیں سکھا سکتے کہ جو گندگی آپ نے کموڈ کے نذر کی ہے اسے پانی سے فلش کر کے صاف کردیں۔ اسے دوسرے لوگ بھی استعمال کرتے ہیں اور یہ انکے لئے بالکل ضروری نہیں کہ آپکی چھوڑی ہوئ غلاظت کو پانی میں تیرتے دیکھیں۔ نتیجتاً باہر آکر میرا موڈ بالکل ختم ہو چکا تھا اور واپسی کے ایک گھنٹے کے سفر کو جو کسی وی آئ پی کی آمد کی وجہ سے ختم نہ ہو رہا تھا میں سختی سے منہ بند کئے گھر واپس آگئ۔
ائیر پورٹ کی حالت کچھ بہتر تھی لیکن کسی ڈٹر جنٹ کے استعمال نہ کرنے کی وجہ سے  یا مناسب طور پر صفائ کے اصولوں کو انجام نہ دینے کی وجہ سے وہاں شدید بدبو پھیلی ہوئ تھی۔ وہیں ایک کنارے پہ کلیننگ لیڈی اپنے سر کے نیچے دوپٹے کا تکیہ بنائے سو رہی تھی۔ اسے بالکل اس بدبو کا احساس نہ تھا۔
یہ تو اس شہر کا حال ہے جو پاکستان کا سب سے بڑا اور ترقی یافتہ شہر ہے۔ اگر یہاں سے باہر نکل جائیں تو بیت الخلاء کا جیسے کوئ تصور نہیں ہے۔ میں ایک دفعہ حیدر آبادکے ٹول پلازہ کے قریب واقع ایک اچھے خاصے ہوٹل میں گئ تو وہاں پر بھی غلاظت کا کم و بیش یہی عالم تھا۔
سندھ اور بلوچستان کے دیہاتوں میں جہاں تک میں گئ ہوں عام طور پر واش روم کا تصور نہیں ہوتا ۔ لیکن صفائ کے لئے جو لوٹا استعمال کیا جاتا ہے وہ بھی اتنا غلیظ ہوتا ہے کہ اسے استعمال کرنے سے کراہیت ہوتی ہے۔

کراچی سے لیکر گوادر تک ساڑھے چھ سو کلو میٹر کے راستے میں کوئ ایسی جگہ نہیں جہاں کوئ شخص اور  خواتین بالخصوص اس ضرورت کے لئے جا سکیں۔ اگر کوئ ہوٹل ہو تو اول تو وہاں یہ سہولت نہیں ہوگی اور ہوئ تو قدمچے پر سوکھی ہوئ یا گیلی  غلاظت اس تواتر سے ہوگی کہ آپ کئ دن تک اپنے آپ کو کسی بھی جمالیاتی تاءثر سے خالی سمجھنے لگتے ہیں۔
لوگوں کا خیال ہے کہ اس سلسلے میں جس گندگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے وہ تعلیم کی کمی سے جڑا ہوا ہے۔  واش رومز کو یا بیت الخلاء کو  اور ان سے منسلکہ چیزوں کو گندگی جمع کرنے کی جگہ سمجھ کر مزید گندہ رکھا جاتا ہے۔
  میرے ذاتی خیال میں صاف رہنے اور رکھنے کا احساس کسی بھی انسان کی جمالیاتی حس سے جڑا ہوا ہے۔  خوبصورتی اور صفائ ایکدوسرے سے جڑے ہوئے ہیں بلکہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ صفائ کسی جگہ، یا شخصیت کے حسن کو بڑھا دیتی ہے۔ اور یہ بدصورتی کے اندر بھی کشش پیدا کر دیتی ہے۔  یہ اس بات کا اشارہ بھی دیتی ہے کہ ہم اپنے ارد گرد کے لوگوں کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔ اگر شہروں میں کموڈ سے اٹھ کر جانےوالے اسکا فلش چلادیں تودوسرے آنیوالے کو اس ذہنی تکلیف سے نہیں گذرنا پڑیگا۔
اور اگر واقعی اسکا تعلیم آگہی کی کمی سے تعلق ہے تو جس طرح پولیو کی مہم چلائ جاتی اسی طرح اپنے آپ کو اور اپنے بیت الخلاء کو صاف رکھنے کے طریقے سکھانے کی مہم بھی چلانی چاہئیے۔ ہم تو اس مرحلے سے اپنی ابکائیوں کو روکتے ہوئے گذر جاتے ہیں کہ بس پاکستان میں یہی ہوتا ہے یا دوسری صورت میں ان جگہوں کے استعمال سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں لیکن اگر ہمارے ساتھ کوئ غیر ملکی ہو تو بڑی سبکی ہوتی ہے۔
اردو میں ایک شاعر چرکی کے نام سے گذرے ہیں جن کا غلاظت کے باب میں شاعری کرنے پر نام بہت مشہور ہے۔ میرے پاس انکا کوئ مطبوعہ کلام نہیں۔ نہ ہوئے چرکی اس طرح کے پبلک ٹوائلٹس میں جانا ہوتا تو پتہ نہیں کیا کیا لکھ کر ڈھیر لگا دیتے۔  

Monday, September 7, 2009

ایک پیشہ ورانہ ریسیومے

اپنی زندگی کے کسی حصے میں بھی آپ ملازمت کی تلاش کے لئے نکلیں۔ دیگر بنیادی ضروریات کے علاوہ جس چیز کی سب سے پہلے ضرورت پڑتی ہے وہ ہے آپکا ریسیومے، آپکا پیشہ ورانہ تعارف۔ ہمارے جونیئر ساتھی اس سلسلے میں خاصے پریشان نظر آتے ہیں۔ اکثریت ایکدوسرے کے ریسیومے چھاپ لیتی ہے۔ اور اس طرح سے اس میں کوئ انفرادیت نظر نہیں آتی۔ اور وہ دیگر ریسیومے کے ڈھیر میں دب جاتی ہے۔
آج میں اپنا علم اس سلسلے میں اپنے ان جونیئر خواتین حضرات کے ساتھ شیئر کرنا چاہونگی۔ 
سب سے پہلے تو یہ کہ اپنے ریسیومے کے مختلف حصے سوچ لیں اور ہر ایک کی مناسب ہیڈنگ بنا لیجیئے۔

صفحے کے شروع میں  آپ کا تعارف ہونا چاہئیے۔اس میں اپنا نام اسی تلفظ اور انداز میں لکھیں جو آپکی تعلیمی اسناد میں موجود ہے۔ کوئ تخلص یا کسی بھی اور قسم کی جمع یا تفریق نہ کریں۔ اسکے ساتھ اپنے رابطے کے مستقل اور ایسے ذرائع دیجئیے۔ جن پر آپ سے فوری رابظہ ممکن ہو۔ یعنی اپنے گھر کا پتہ، فون نمبر، فیکس یا ای میل پتہ اگر موجود ہے تو ضرور دیں۔ زیادہ سے زیادہ رابطے ڈالیں تاکہ آپ سے رابطہ ہونے میں آسانی رہے۔
پھر اسکے بعد آبجیکٹو ضرور بیان کریں۔ اس سے یہ مراد ہے کہ اگر آپ اس ملازمت کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آپکی موجودگی سے انہیں کیا فوائد حاصل ہونگے۔ کسی بھی بات کے لئے شاید کا استعمال نہ کریں۔ اپنی صلاحیتوں کے بارے میں مستحکم اندازہونا چاہئیے۔
ملازمت سے متعلق کوالیفیکیشن کو بیان کریں۔
اسکے بعد مختلف پیشہ ورانہ مہارت جو آپکو حاصل ہے اسے لکھئیے۔
پھر ا گر آپ نے مختلف جگہ  مختلف اوقات میں ملازمت کی ہے تو اسے سلسلے واراس طرح لکھیں کہ پہلا اپنا عہدہ، پھر اس جگہ کا نام اور پتہ اورآخر میں مدت ملازمت تاریخ کے حساب سے لکھیں۔  بہتر یہ ہے کہ آپ اسے کالم کے انداز میں لکھیں اس طرح کم جگہ میں زیادہ معلومات آجائیں گی۔سب سے پہلے اس جگہ کا حوالہ دیں جہاں آپ ابھی کام کر رہے ہیں یا جہاں آپ نے سب سے آخر میں کام کیا تھا۔ اسکے بعد اسی حساب سے پیچھے چلتے جائیں۔ اگر آپکا تجربہ مختلف ملازمتوں کا بہت زیادہ ہے تو صرف پچھلے پندرہ سالوں کا لکھنا کافی ہوگا۔ یا زیادہ اہم کو درج کریں۔
اب سب سے آخیر میں تعلیم کی باری آتی ہے۔ اسے بھی سب ے آخری والی ڈگری سے شروع کریں اور ہائ اسکول تک لیجانے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ صرف گریجوایشن تک بتانا کافی ہے۔ وہ بھی اگر آپکا مکمل نہیں ہوا ہے تو اسکی متوقع تاریخ اسکے ساتھ لکھ ضرور دیں۔ اپنی تمام ڈگریوں کے نام اور منسلکہ تعلیمی اداروں کے نام بھی ساتھ میں لکھیں اور آخر میں ڈگری حاصل کرنے کا سال اگر مناسب سمجھیں تو ڈالدیں۔
اسکا انداز ویسا ہی رکھیں جیسا کہ تجربہ ء ملازمت کا رکھا تھا۔
یہ تو ان مختلف حصوں کی بات ہو گئ۔ ان حصوں میں دی گئ تمام معلومات کو پوائنٹس بنا کر لکھیں۔ اور کہیں بھی لفظ میں یا میرا استعمال نہ کریں۔ 
  ذاتی معلومات دینے سے گریز کریں۔ جیسے تاریخ پیدائش، مذہب، شادی شدہ ہونا، بچوں کی تعداد، عمر، رنگ، نسل۔
اپنے نام کے ساتھ حضرات مسٹر اور خواتین مز لکھیں۔ خواتین مس یا مسز لکھنے سے اجتناب کریں۔ 
ریسیومے کے اوپر پھول پتیاں  اور رنگ برنگے حاشئیے بنانے سے گریز کریں۔
اپنے تجربے کو بڑھا چڑھا کر نہ بیان کریں کہ نوکری دینے والا سوچے کہ یہ تو کوئ بہت زبردست شخص ہے اسے ہم رکھ کر کیا کریں گے، یہ تو مصیبت بن جائے گا۔ یا یہ کہ اس عہدے کے لئے یہ کوالیفیکیشن زیادہ ہے۔ بہتر یہ ہے کہ آپ پہلے اس ملازمت کے تمام پہلو سمجھ لیں کہ انہیں کیا چاہئیے  اور آپکی متوقع ملازمت میں کیا ذمہداریاں ہونگیں،  پھر اپنا ریسیومے تیار کریں۔
اگر آپکے پاس تجربہ نہیں ہے تو بھی آپ اس سیکشن میں اپنی لائن آف سٹریٹجی بتا سکتے ہیں کہ آپ کس طرح اپنے ٹارگٹس کو پورا کریں گے۔ اور جو مہارت آپکو حاصل ہے اسے کسطرح بروئے کار لائیں گے۔
اگر آپ سے ریفرنس نہیں مانگے گئے ہیں تو انہیں ڈالنے کی کوئ ضرورت نہیں ہے۔
آپکا ریسیومے صرف چند سیکنڈز کے لئے دیکھنے والے کے سامنے ہوتا ہے اس لئے اپنی بات اس طرح لکھیں کہ کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ بات کہہ لیں۔ پیج پر اپنی اسپیس کو عقلمندی سے استعمال کریں بہتر تو یہ ہے کہ ایک صفحے پر مشتمل ہو لیکن اگر آپکی تفصیلات بہت زیادہ ہیں تو اسے دو صفحے کا کرلیں۔ دو صفحوں کا ہونے کی صورت میں اسے اگلے صفحے کے آدھے سے زیادہ حصے پر آنا چاہئیے اگر یہ آدھے سے کم پر ہے تو اسے کوشش کر کے ایک صفحے کا کر لیں۔

کچھ اور احتیاطیں یہ ہیں کہ کبھی اپنی پہلے والی ملازمت چھوڑنے کی وجہ نہ لکھیں۔ اپنے کسی بھی سابق یا موجودہ ایمپلائر کا نام نہ لکھیں اور نہ ہی اسکا پتہ۔
ریسیومے تیار کرنے کے بعد اچھی طرح پروف ریڈ کر لیں۔ اسے ہر طرح سے غلطی سے پاک ہونا چاہئیے۔ نہ ہجوں کی اور نہ گرامر کی کوئ بھی غلطی ہو۔
یہ ذہن میں رکھیں کہ آپ اپنا علم اور مہارت بیچنے کے لئے پیش کر رہے ہیں۔ اسے متوقع ملازمت کے مطابق بنا کر پیش کریں۔ اگر آپ کو بحیثیت کوالٹی کنٹرولر مقرر کیا جانا ہے تو آپ جتنے بھی اچھے سسٹم انالسٹ ہوں، انہیں اس سے کوئ غرض نہ ہوگی۔ اس لئے ملازمت سے منسلکہ علم اور مہارت کو بالخصوص توجہ سے لکھیں۔
میں نے اب سے چند سال پیشتر ایک بہت اچھا اور جمالیاتی تاثر رکھنے والا ریسیومے دیکھا تھا جس میں پیج پر مختلف چھوٹی بڑی ونڈوز بنا کر اس میں اپنی معلومات اس طرح لکھ دی گئ تھیں کہ ایک صفحے میں کوزہ بند ہو گیا تھا۔  اسکے لئے انہوں نے ایم ایس ورڈ استعمال نہیں کیا ہوگا۔ اسکی ایک کاپی میں نے سنبھال کر رکھی تھی مگر وہ گھر بدلنے میں ادھر ادھر ہو گیا۔
ورنہ میں اسے اسکین کر کے لگا دیتی۔ یقیناً آپ میں سے بہت سوں کو بہت سی باتوں کا پہلے سے علم ہوگا۔ مگر یہ میرے ان ساتھیوں کے لئے بالخصوص ہے جو ابھی عملی زندگی میں قدم رکھنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔  اپنے تخلیقی جوہر یہاں بھی دکھائیے۔ اس بارے میں کوئ الجھن ہوتو ضرور تبصرہ کریں۔ میں یا میرے کوئ اور بلاگر ساتھی اس سلسلے میں آپکی حتی المقدور مدد ضرورکریں گے۔ خدا آپکا حامی و ناصر ہو اور آپ میں آگے بڑھنے کا جذبہ برقرار رکھے۔

ریفرنس؛

ریسیومے، ایک سوال

ریسیومے کی تیاری


نتیجہ:
اب جب کہ یہ تحریر آپکے سامنے ہے اور اس سے منسلکہ ےتبصرے بھی تو مزید کسی الجھن میں پڑنے کے بجائے ہم اس ساری چیز کا ایک خلاصہ نکال لیتے ہیں۔ جیسا کہ تبصروں کی ضمن میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اعتراض ذاتی اطلاعات کے لئے ہیں۔ اسے متنازعہ رکھنے کے بجائے آپ اگر سمجھتے ہیں کہ اسے ضرور ڈالا جانا چاہئیے تو اس سیکشن کو سب سے آخر میں رکھیں۔ اگر آپ پاکستان میں ہیں تو مذہب اور قومیت کی کوئ ضرورت نہیں ہے۔ مذہب کے لئے بھی پاکستان سے باہر بھیجنے میں احتیاط کریں کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بعد روئیے خاصے تبدیل ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ڈگری کا سال لکھنے سے ایک اندازاً عمر پتہ چل جاتی ہے پھر بھی اگر آپ تاریخ پیدائش ڈالنا چاہیں تو اسے ڈالدیجئیے۔ خواتین اگر غیر شادی شدہ ہیں تو وہ چاہیں تو اپنا اسٹیٹس لکھ دیں۔ غیر شادی شدہ خواتین کے لئیے میرا مشورہ تو یہی ہے کہ نہ لکھیں۔ اگر ڈیمانڈ ہی غیر شادی شدہ خواتین کی ہے تو پھر ظاہر ہے کہ آپ اسکے لئے اپلائ نہیں کریں گیں۔ ریفرنس ڈالنے سے پہلے جن کا ریفرنس ڈال رہے ہیں انہیں اطلاع کر دیں تو بہتر ہے۔
ہابیز کا سیکشن اسی صورت میں رکھیں جب کوئ بہت غیر معمولی کارکردگی کھیل میں ہو۔ اس سے آپکے اندر لیڈر شپ خصوصیات اور ٹیم اسپرٹ کے ساتھ کام کرنے کا پتہ چلتا ہے۔ باقی اسکی کوئ ضرورت نہیں ہے۔ مزید مشوروں اور تبصروں کے لئے پوسٹ کھلی ہے۔ تمام تبصرہ نگاروں کی رائے کا بے حد شکریہ۔
نوٹ؛ چونکہ اس بلاگ سے جہاں کے لئے یہ میں نے لکھا ہے انہوں نے ریسیومے لکھا ہوا تھا۔ یہ میں نے اردو کے خیال سے ریسیومے لکھ دیا ہے انگریزی میں اسے ریزیومے ہی بولا جاتا ہے۔   

Sunday, September 6, 2009

رقیب اور جدید ٹیکنالوجی

 دعوی محبت ایک اچھا شغل ہے۔ ورنہ یہ سننے میں نہ آتا کہ
ہزار کام مزے کے ہیں داغ الفت میں
جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں
اگر اس میدان میں بھی روکھی پھیکی گذر رہی ہے تو امکان غالب ہے کہ ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا جہاں رقیب رو سیاہ کی اینٹری ہوتی ہے۔ کچھ نا معلوم وجوہات کی بناء پر رقیب کس قدر بھی گورا ہو اسے کہا رو سیاہ ہی جاتا ہے۔ اگر اب نہیں ہے تو یقیناًآپ کا سامنا ہونے پہ اسکا چہرہ ایسا ہی ہو جائے گا۔
رقیب کی یہ اینٹری عام طور پر اس قدر غیر متوقع ہوتی ہے کہ آپ  دہل جاتے ہیں اور ہر شخص پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہےاور پھر ایسی پیاری اور معصوم باتیں سننے میں آتی ہیں کہ
ناصح بھی ہے رقیب، یہ معلوم ہی نہ تھا
کس کو صلاح کار کیا، ہم نے کیا کیا
بعض اوقات آپ کو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ  دوسروں سےاپنے محبوب کی زیادہ تعریفیں بھی کوئ اچھی بات نہیں، لیکن اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اب آپ لاکھ اپنی سادگی  کی داستان کسی کو  سناتے پھریں کہ
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
 سب لوگ آپکو اول درجے کا بے وقوف ہی سمجھیں گے
یہاں یہ مت بھولیں کہ چونکہ آپ دونوں کے درمیان رشتہ ءرقابت ہے اس لئے آئنسٹائن کےنظریہ ء اضافیت کے تحت آپ بھی اسکے رقیب قرار پائیں گے۔ رقابت کی اس جنگ میں سب جائز ہے۔ اس لئے کافی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ رقیب اگر آپ کو ایک اچھا کمپیوٹر ایک اچھے انٹرنیٹ کنکشن کے ساتھ لیکر تحفتاً دینے پر بضد ہے تو آپ کو اسکی نیت کا فتور فوراً سمجھ لینا چاہئیے۔
رقیب کے داخل ہوتے ہی زندگی کے شب وروز تبدیل ہو جاتے ہیں۔ رقیب اور محبوب کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے احوال جاننے کے لئے مختلف لوگوں سے دوستی گانٹھنی پڑتی ہے۔ اس سے سوشل ریلیشنز خوب پھلتے پھولتے ہیں۔  یہاں گر کی بات یہ بھی ہے کہ ان مخبروں کی وجہ سے آپکی محبت کی شہرت جتنی دور تک جائے اتنا ہی رقیب کے پیچھے ہٹنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ 
وہ بھی سن لیں گے یہ کبھی نہ کبھی
حال دل سب سے برملا کہئیے
یہاں وضاحت کے لئے یہ بتا دوں کہ یہ شعر ہمارے کسی بلاگ کے عنوان کے بارے میں نہیں کہا جارہا۔ کیونکہ داغ کے زمانے میں بلاگنگ کا وجود نہ تھا اور بس کچھ ایسے ویسے طریقے ہی آزمانے پڑجاتے تھے۔
کچھ  مخبروں کو تو لین دین کے بعد راضی کرنا پڑتا ہے کہ بالکل مصدقہ خبر ملے۔ اس بہانے آمدنی کے دیگر ذرائع بھی تلاش کرنے پڑجاتے ہیں۔ کچھ مخبروں کو پیار اور محبت سے راضی رکھنا پڑتا ہے اور صورت حال ایسی ہو جاتی ہے کہ تجھ سے کی ہے کہ زمانے سے محبت میں نے۔
اگر محبوب کوئ مشہور شخصیت ہے تو آپ  رقیب اور انکے تعلقات کی تفصیلات جاننے کے لئے روزانہ باقاعدگی سے اخبار پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ کوئ اچھی علامت نہیں اس سے کسی بھی دن اگر نظریں پھسلتے ہوئے ملکی حالات کی خبروں پر چلی گئیں تو آپ اچانک تلوار سونت کر رقیب کے دئیے ہوئے کمپیوٹر پر  بلاگ لکھنے بیٹھ جائیں گے، اور حاصل ہونے والے تبصروں کی تابڑ توڑ لہر آپکو اس کنارے پر لے جائے گی جہاں آپ ہونگے اور آپکا کی بورڈ اور آپکی حب الوطنی کی شان میں کہے گئے الفاظ کا سرور۔ اسی کے لئے تو رقیب نے اتنی منصوبہ بندی کی تھی۔   رقیب اس مرحلے پر بلاگنگ سے سخت بیزاری کے باوجود اسکی تعریف میں دو حرف لکھوا کر دوبارہ پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ڈالکر بیٹھ جائے گا وقتاً فوقتاً وہ آپکے تبصرہ نگاروں کو ہوا دینے کے لئے اپنا تبصرہ بھی فرضی نام سے ڈالتا رہے گا۔۔ اور آپ کاٹھ کے الو بنے ساری ساری رات کھٹ کھٹ کرکے کی بورڈ بجاتے رہیں گے۔
اسکے علاوہ رقیب اگر گورا ہے تو آپکو گورا کرنے والی کریموں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنی پڑجائیں گی۔ بعد از بسیار خرابی جب محبوب امریکہ والی مصیبت کے ساتھ روانہ ہوجائے گا تو آپ جمع کی ہوئ معلومات کو کام میں لاتے ہوئے اسکا کاروباکر سکتے ہیں۔ محبت ایک شغل ہو سکتی ہے لیکن علم کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔
رقیب اگر ہر وقت آئنسٹائن  اور غالب کے حوالے دیتا ہو۔ تو ان دو افراد پر ہزار لعنتیں بھیجنے کے بعد بھی آپ کو انکے متعلق پڑھنا پڑ جاتا ہے لیکن خیال رہے کہ رقیب کے سامنے اپنی علمیت بگھارنے کی کبھی کوشش نہ کریں۔ مرفی کا قانون اس موقعے کے لئیے اچھی پیشن گوئ نہیں کرتا۔ اور ہو سکتا ہے کہ رقیب اس موقع پر کارل ساگاں اور فرائڈ کے محفوظات سے آپکا بھرتہ بنادے۔ ثانی الذکر دو افراد بھی اول الذکر سے کچھ کم پیچیدہ نہیں۔
رقیب کو کھلا خط بھیجنے سے گریز کریں وہ اسے محبوب کے آگے ڈالدے گا اور کہے گا
تمہیں رقیب نے بھیجا کھلا ہوا پرچہ
نہ تھا نصیب لفافہ بھی آدھ آنے کا
اس سے آپ کی بیستی بڑی خراب ہوگی۔
  رقیب میں ہر وہ عادت ہونے کے امکانات ہوتے ہیں جن سے آپکی جان جاتی ہے اور آپ حیران ہوتے رہتے ہیں کہ اس چمپو میں کیا ہے جس پر محبوب اسے اپنے حلقہ احباب میں رکھتے ہیں۔ وہ اللہ کی شان تنکے میں جان اور ہم تیغوں کے سائے میں پلے جوان۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئیے کہ اس میں رقیب کا کوئ قصور نہیں یہ سب کچھ محبوب کے دل اور آپکی قسمت اور محبوب اور آپکے  دماغ کی خرابی سے جڑا ہوا ہے۔
رقیب کا مکمل سماجی بائیکاٹ آپکے عشق کے لئے اچھا نہیں۔اس سے وہ آپکے عشق کی جڑیں کاٹنے میں تندہی سے مصروف رہے گا۔  اسکی توجہ بانٹے رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اسکے ساتھ لگے رہیں اور اسکا حربہ اسی پہ لگا دیں۔ اگر اسے بلاگنگ سے دلچسپی نہیں تو فیس بک یا دیگر کمیونٹی سائیٹس کی افادیت کے بارے میں پوشیدہ و غیر پوشیدہ معلومات بہم پہنچا ئیں۔ اور کوئ آپ سے اتنی قربت کی وجہ دریافت کرے تو کہہ دیں آپ درست کہہ رہے ہیں
گو محفل رقیب میں جانا نہ چاہئیے
دیکھیں گے ہم بلا سے تماشہ تو کچھ نہ کچھ
جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد رقیبوں سے بھنائ ہوئ رہتی ہے۔ وہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو رقیب سے مل کر ایک پریشر گروپ بنا لیتے ہیں۔اور محبوب کوبد دعائیں دینے لگتے ہیں کہ
اللہ کرے تو بھی ہو بیمار محبت
صدقے میں چھٹیں گے تیرے گرفتار محبت
کچھ کاہل اتنا بھی بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہوتے اور پٹھان کے ہوٹل پر رقیب کے ساتھ پڑے دودھ پتی کی چائے کی سڑکیاں لگاتے ایکدوسرے سے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ
ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم الفت کے
اتنے احسان کہ گنواءوں تو گنوا نہ سکوں
ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جز ترے اور کو سمجھاءوں تو سمجھا نہ سکوں
اور اگر دنیا انہیں اٹھتے بیٹھتےکچھ ایسے طعنے دینے لگے جس میں لفظ غیرت بھی آتا ہو تو وہ ہونٹوں پہ بعد از نروان حاصل ہونے والی مسکراہٹ سجائے بے نیازی سے کہتے ہیں
دنیا میں دو ہی تو با ذوق آدمی ہیں عدم
ایک میں اور ایک میرا رقیب
 
   رقیب کی تاریخ اتنی پرانی ہے جتنی کہ ہابیل اور قابیل کا قصہ۔ یعنی کہ بہت پرانی ہے۔ اور تب سے اب تک کسی بھی عشق کو اسکے بغیر مکمل نہیں سمجھا گیا ۔اگرآپ کی اب تک اس راستے پر رقیب سے ملاقات نہیں ہوئ تو یا تو راستہ بدل ڈالیں یا قاصد۔ تاکہ آپ بھی محبوب کی  محفل میں بآوز بلند یہ کہہ سکیں کہ
تیری محبت نے مار ڈالاہزار ایذا سے مجھ کو ظالم
رلا رلا کر، گھلا گھلا کر،جلا جلا کر، مٹامٹا کر
محبوب کو مار ڈالا والے اشعار کافی پسند آتے ہیں۔ امید ہے آپکا رقیب فیس بک پر مصروف ہوگا۔ لیکن یہ کیا،
  آپ ایک عدد نیا بلاگ لکھنے بیٹھ گئے۔ دھت ترے کی۔
ریفرنس؛

Friday, September 4, 2009

ایک اور فرزند کراچی

اب جبکہ انیس سو بیانوے کے کراچی آپریشن کا چرچا اٹھا ہوا ہےاور اس سے متاثر ہونے والے تو اتنا نہیں جتنا اس سے نہ متاثر ہونے والے اس پر اپنے گراں خیالات کا اظہار کر رہے ہیں تو اپنی پرانی کتابوں میں سے گذرتے ہوئے میری نظر اس کتاب پر پڑی ، اسکا عنوان ہے کراچی۔ یہ ایک شاعر کا مجموعہ ء شاعری ہے جنکا نام ہے ذی شان ساحل۔ جسے شائع کیا ہے ادارہ 'آج کی کتابیں' نے۔اسکے تقسیم کار کراچی میں ویلکم بک پورٹ، مکتبہ ء دانیال، اور ٹامس اینڈ ٹامس  جبکہ لاہور میں گورا پبلشرز، دستاویز مطبوعات اور کلاسیک تھے۔ تاریخ اشاعت ہے ستمبر ۱۹۹۵۔
اسکا انتساب معروف صحافی اور ادیب جناب ضمیر نیازی کے نام ہے۔ اور انکے انتساب کے ساتھ ڈان میں چھپنے والی ایک خبر کا تراشہ ہے۔ جسکے مطابق انہوں نے پرائڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ وہ کراچی سے شائع ہونے والے  بیک وقت چھ اخبارات کے بین کے خلاف احتجاجاً یہ ایوارڈ نہیں لیں گے۔ خبر کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت جب کراچی جل رہا ہے اور اسکے شہریوں کو بندوق سے ختم کیا جا رہا ہے۔ صدر، وزیر اعظم ، انکی اسمبلی اور انکی انتظامیہ کے افسران اور ہماری افواج کے افسران اعلی ڈنر پارٹیز میں محفل موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔یہ سب عوام کے خرچے پہ کیا جا رہا ہے اور کراچی کے عوام کے منہ پر ایک طمانچہ ہے کہ یہ لوگ انکی رہنمائ کرتے ہیں۔
یہ خبر ہے تین جولائ انیس سو پچانوے کی جو کہ ڈان میں شائع ہوئ۔
یہ ایک نظم ہے جو اس کتاب سے لی گئ ہے۔ اسکا عنوان ہے کراچی۔  اس کتاب میں بہت خوبصورت  نثری نظمیں ہیں اور ہر نظم سے میرا شہر سانس لیتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
کراچی
ایک جنگل ہے
جہاں تاریکی، شور
اور خوف کے ہزاروں درخت
آسمان سے باتیں کرتے نظر آتے ہیں
اتنی اونچی آواز میں کہ
کراچی کے اندر یا باہر رہنے والوں 
کسی کی چیخ بھی
سنائی دیتی نہیں
اصل میں اب کراچی
کوئ شہر نہیں
بلکہ خطرے کی حالت میں 
حلق سے نکلنے والی چیخ ہے
جو چاروں طرف گونج کر رہ گئ ہے
کسی کو اس بات کا احساس تک نہیں 
کہ یہ چیخ مدد کے لئے بلانے والے
کسی تنہا شخص کی بھی ہوسکتی ہے
مدد کے لئے نہ آنے والوں نے 
کراچی کو
ایک غیر انسانی ہجوم سمجھ لیا ہے
یا اندھوں کی ایسی بھیڑ
جس کو بھوک لگنے پر
صرف کھیر کھلائ جا سکتی ہے
آواز نکالنے پر صرف تقریر سنائ جا سکتی ہے
اور ایکدوسرے کا ہاتھ تھام کر 
یا تھامے بغیر
حرکت کرنے پر فائرنگ کی جا سکتی ہے
مگر کراچی میں اب فائرنگ محض ہوا تک محدود نہیں رہی ہے
 گولیاں اور انکی آوازیں
شہریوں کے خوابوں تک پہنچ رہی ہیں
 مگر کراچی خوابوں کا شہر نہیں
خوابوں کے لئیے صرف ایک انتظار گاہ ہے
اپنی آسانی کے لئیے
ہم اسے بندر گاہ
یا ایک عارضی تجربہ گاہ کے طور  بھی
استعمال کرتے ہیں
اس تجربہ گاہ میں ہم
انسانی جسموں پر کوئ تجربہ نہیں کرتے
جیسا کہ سب جانتے ہیں
اس مقصد کے لئے خرگوش کام آتے ہیں
یا سفید چوہے
جن کی افزائش نسل
خطرے کی حد کو چھو لینے پر
چوہے مار دوائیں
اور بلیاں
دارالحکومت سے آتی ہیں

ریفرنس؛
ضمیرنیازی

Wednesday, September 2, 2009

ہوس ثواب

میں ہمیشہ یہ سمجھتی رہی کہ زکوِٰت اس زائد مال پر فرض ہوتی ہے جو آپکے پاس سال بھر پڑا رہا ہو۔ یہاں زائد سے میری مراد صاحب نصاب ہونا ہے۔ اپنی شادی والے دن جب مختلف حاصل ہونے والے تحائف کی وجہ سے میں صاحب نصاب ہو گئ تو میں نے فیصلہ کیا کہ ہر سال اپنی شادی کے سالگرہ کے دن کو زکوٰت کا حساب لگانے کا دن بنا لیا جائے۔ اور اگر اس درمیان خدا کسی اور چیز کی توفیق دے تو اسکی زکوٰت وقت خرید پر ادا کر کے اسے باقی چیزوں کے حساب کتاب میں ڈالدوں۔ یعنی اب اسکی زکوٰت بھی باقی چیزوں کے ساتھ ادا کی جائے گی۔
کچھ عرصے بعد رمضان آگیا۔ گھر میں نئے پرانے کام کرنے والے زکوٰت کا مطالبہ کرنے لگے۔ اس وقت ابھی سال ہونے میں کافی عرصہ تھا۔ اس لئے میں نے زکوٰت سے تو معذرت کر لی البتہ جو کچھ اور ممکن ہوا وہ کر دیا۔
لیکن اب ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ آخر رمضان میں کیوں اتنے جوش و خروش سے زکوٰت دی جاتی ہے۔ کسی نے ہمیں کہا کہ ارے اپنی علامیت ایک طرف رکھ دیں۔ آپ نے بے شک پڑھا لکھا ہے لیکن آپ سے بہتر اسلامیات ہمیں معلوم ہے جو بات آپ کہہ رہی ہیں اسکے حساب سے تو صاحب حیثیت شخص کو ایک رجسٹر رکھنا پڑ جائے گا کہ کونسی چیز کب خریدی۔ ہاں تو،  میں نے دلیل دی مال جمع کرنا آسان کام تو نہیں۔ اسکی ذمہ داری ہوتی ہے۔جواب ملا،' اور  اسکا کیا کیا جائے کہ آپکو صحیح سے علم نہیں  کہ زکوٰت رجب اور رمضان میں دی جاتی ہے'۔ لیجئیے، کہاں تو رمضان کا عقدہ نہ حل ہو رہا تھا۔ کہاں یہ رجب بھی آگیا۔یہ شرمندگی الگ کہ اتنا پڑھنے کے باوجود یہ چیز آج تک کیوں نہ پتہ چلی کہ رجب سے بھی زکوٰت کا تعلق ہے۔
اس لمحہ ء غور وفکر میں اپنی ایک سینئیر دوست کا خیال آیا کہ وہ ان دنوں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد ادارہ الھدی میں قرآنی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ یعنی تفسیر کے ساتھ پڑھنے میں مصروف تھیں۔ انہیں فون کھڑکھڑایا۔
باتوں باتوں میں، میں نے انہیں اپنا مسئلہ بتایا۔ کہنے لگیں، 'آج ہی زکوٰت والا سبق ختم کیا ہے۔ رجب کی کہانی یہ ہے کہ اس حکم سے پہلے عرب اپنے دیوی دیوتاءووں کے نام سے پیسے نکالا کرتے تھے جس کے لئے انہوں نے رجب کا مہینہ مقرر کیا تھآ۔ جس سال زکوٰت فرض ہوئ اس سال رسول اللہ نے رجب کے مہینے اپنے قاصد تمام قبائل کو بھیجے تاکہ انہیں نئے حکم کا پتہ چل جائے اور جو رقم انہوں نے اس سال اپنے  بتوں کے لئے نکالی تھی اسے وصول کر لیا جائے۔ بس اس سال اس مہینے وصولی کے بعد یہ چیز ختم ہو گئ۔ کیونکہ زکوٰت سال بھر رکھے رہے زائد مال پر فرض ہے'۔
اچھا، میں نے مزید کہا۔ 'اب لگے ہاتھوں یہ بھی بتا دیں کہ رمضان سے اسکا کیا تعلق ہے'۔ اب وہ تھوڑا سا جھجھکیں۔' ویسے تو کوئ تعلق نہیں ہے۔ لیکن دیکھو ناں رمضان میں ہر نیکی کا ثواب کئ گنا بڑھ جاتا ہے۔ اور پھر عید پر لوگوں کو پیسے چاہئیے ہوتے ہیں اس لئے لوگ رمضان میں زیادہ زکو٘ دیتے ہیں'۔
 یہ جو ثواب کمانے کی ایک نئ لہر پاکستانی مسلمانوں میں نظر آتی ہے۔ کیا واقعی اس سے انہیں اتنا ہی ثواب ملتا ہے۔اگر آپ پر محرم کے مہینے زکوٰت فرض ہوتی ہے تو آپ نو مہینے رمضان کےمہینے کا انتظار کریں گے تاکہ زیادہ ثواب ملے۔
میں گاڑی سگنل پہ روکے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہوں۔ ہر طرف بل بورڈز لگے ہیں۔ خوب بڑے۔ 
ایک طرف عمران خان کالی شیروانی پہنے کھڑے مسکرا رہے ہیں.  انہیں زکوٰت چاہئیے اپنے ہسپتال کے لئے۔  دوسری طرف ایک بورڈ پر ایک غریب بچی کا چہرہ سوال کر رہا ہے، زکوٰت مجھے نہیں دیں گے کیا۔ ایک اور جانب کسی اور ادارے کا اشتہار لگا ہے، ہم ہیں اسکے صحیح مستحق۔گاڑی کے شیشے پر تین چار لوگ ہاتھ مار رہے ہیں، زکوٰت، زکوٰت۔ میری چھوٹی سی بچی پیچھے اپنی کار سیٹ میں بندھی مجھ سے سوال کرتی ہے۔ اماں، یہ کیا کر رہے ہیں۔ میں گاڑی آگے بڑھاتی ہوں اور سوچتی ہوں۔ یہ سب زیادہ ثواب حاصل کرنے والوں کی مدد کر رہے ہیں۔