Friday, June 11, 2010

پیریاڈک ٹیبل یا دوری جدول کی تاریخ-۱

کسی بھی کیمسٹری کی لیبارٹری میں داخل ہو جائیں وہاں آپکو ایک چیز ضرور نظر آئے گی اور وہ ہے پیریاڈک ٹیبل یا دوری جدول۔ میں اسکے لئے پیریاڈک ٹیبل کی اصطلاح ہی استعمال کرنا چاہونگی۔  سائینسی اصطلاحات ساری دنیا میں ایک جیسی رہیں تو مزید معلومات کا حصول آسان رہتا ہے۔
بظاہر تو پیریاڈک ٹیبل ایک حاضری کے رجسٹر کی طرح لگتا ہے۔ جہاں تمام عناصر کے حاضر ہونے یا موجود ہونے کی اطلاع ہو۔ لیکن ایسا نہیں ہے یہ ٹیبل اس سے کہیں زیادہ معلومات رکھتا ہے اور اسکی وجہ اس میں عناصر کو ترتیب دیتے وقت انکی خصوصیات کے اتار چڑھاءو کو مد نظر رکھنا ہے۔
انسان نے زندگی کے ہر شعبے میں ارتقائ طریقے سے چیزیں سیکھیں اور انہیں آگے بڑھایا ۔ یہی ، سب کچھ پیریاڈک ٹیبل کو ترتیب دینے کے دوران ہوا۔
لوائزے وہ پہلا شخص ہے جس نے ایسی اشیاء کی لسٹ دی جنہیں مزید نہیں توڑا جا سکتا تھا۔ اس نے انہیں عناصر کہا۔ اس لسٹ میں نائٹروجن، ہائیڈروجن، فاسفورس، مرکری یعنی پارہ، زنک یعنی جست اور سلفر یعنی گندھک کے علاوہ روشنی اور حرارت بھی شامل ہیں۔ جنہیں اس نے مادہ اشیاء سمجھا۔ اس لسٹ میں عناصر کو صرف دھات یا غیر دھات کے طور پہ لیا گیا اس لئے  یہ ایک مکمل تجزیہ نہیں تھا۔ اس وقت کے دیگر کیمیاء دانوں نے اس میں دلچسپی نہیں لی۔
ڈابیرینر نے نے ایک ابتدائ کوشش کی کہ عناصر کی جماعت بندی کر دی جائے۔ اپنی اس کوشش میں اس نے معلوم کیا کہ بعض بنیادی خواص بعض عناصر دوہراتے ہیں۔ اس طرح سے ایک جیسے خواص دوہرانے والے عناصر کے اس نے گروہ بنادئیے۔ ہر گروہ میں تین ارکان تھے۔ ہر گروہ کو اس نے ٹرائیڈاز کا نام دیا۔
ہر ٹرائیڈز کے درمیانی رکن کا ایٹمی وزن باقی دو کے اوزان کا اوسط تھا۔
اسکے کچھ گروہوں کی مثال ذیل میں ہے۔
۱
کلورین، برومین، آئیوڈین
۲
کیلشیئم، اسٹرونشیئم، بیریئم
۳
سلفر، سیلینیئم، ٹیلیریئم
۴
 لیتھیئم، سوڈیئم، پوٹاشیئم


سن اٹھارہ سوانہترتک تریسٹھ عناصر دریافت ہو چکے تھے۔ عناصر کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ہی ان میں دوہرائے جانے والے رجحانات بھی زیادہ واضح ہوو کر سامنے آئے اور اس طرح سائینسدانوں نے انکی درجہ بندی پہ غور کرنا شروع کیا۔
الیکزینڈر ایمائیل وہ پہلا شخص تھا جس نے اس چیز پہ توجہ کی کہ مختلف عناصر اپنی خصوصیات کو دوہراتے ہیں۔ اور اگر انہیں انکے ایٹمی وزن کے حساب سے ترتیب دیا جائے تو ایک خاص وقفے کے بعد ایسا عنصر آتا ہے جو اس خاص وقفے سے پہلے والے عنصر جیسے خواص رکھتا ہے۔ اس نے پیریاڈک ٹیبل کی ایک ابتدائ شکل بنائ۔ جو پیچ دار تھی۔ اس طرح ترتیب دیتے ہوئے ایک جیس خصوصیات رکھنے والے عناصر ایک عمودی قطار میں آگئے۔ اسکے اس چارٹ میں عناصر کے علاوہ آئینز اور دیگر مرکبات بھی تھے۔ اسکا پیپر اٹھارہ سو باسٹھ میں شائع ہوا۔ چونکہ اس میں کوئ تصویر بھی نہ تھی تو اسے اتنی پذیرائ بھی نہ مل سکی۔
اٹھارہ سو پینسٹھ میں جان نیو لینڈز نے چھپن عناصر کو جو کہ دریافت ہو چکے تھے گیارہ گروپس میں بانٹ دیا۔ اس نے دیکھا کہ اگر عناصر کو ایک فہرست میں لکھ لیا جائے انکے ایٹمی اوزان کے مطابق تو ہر آٹھواں یا آٹھ کا ضربی نمبر یا ملٹی پل عنصر سب سے پہلے والے عنصر جیسے خواص رکھتا ہے۔









اسکی وضاحت کے لئے ہم  دوسری والی تصویر میں ایل آئ یعنی  لیتھیئم سے گننا شروع کریں

تو اسکے بعد بی ای یعنی بریلیئم، بی یعنی بورون، سی یعنی کاربن، این یعنی نائٹروجن، او یعنی

آکسیجن، ایف یعنی فلورین  کے بعد  آٹھویں عنصر این اے یعنی سوڈیئم پہ پہنچیں تو یہ لیتھیئم کے بعد ٹھیک آٹھواں عنصر ہے اور اسکے کیمیائ خواص لیتھیئم جیسے ہونگے۔ اس طرح پہلے ٹیبل میں  این اے یعنی سوڈیئم سے گننا شروع کریں تو پھر آٹھویں عنصر پوٹاشیئم پہ پہنچیں گے یعنی لیتھیئم کے حساب سے آٹھ کا دوضربی نمبرسولہواں عنصرتقریباً لیتھیئم جیسے کیمیائ خواص رکھتا ہوگا۔
 
علی ہذالقیاس۔
 
جان کا مذاق اڑایا گیا کہ کیا موسیقی کے سروں سے گن کر آٹھ کا گروہ بنادیا۔ دراصل اس وقت تک ویلینس بانڈ نظریہ بھی سامنے نہ آیا تھا اور نہ آٹھ کا نظریہ یعنی آکٹیٹ رول بھی دریافت نہ ہوا تھا۔

جاری ہے

نوٹ؛ اس تحریر میں دئیے گئے سائنسدانوں کے پورے نام انگریزی ہجوں میں ذیل میں درج ہیں۔ آپکا ہوم ورک یہ ہے کہ انکا صحیح تلفظ معلوم کریں۔
 
لوائزے  
Antoine Lavoisier

ڈابیرینر
Johann Wolfgang Döbereiner

الیکزینڈر ایمائیل
 Alexandre-Emile Béguyer de Chancourtois
 

Tuesday, June 8, 2010

اگر

یہ کسی دوست نے مجھے ایک انگلش تحریربھیجی ، مجھے تو مزے کی لگی۔ آپ کے لئے اسکا کچھ حصہ ترجمہ کیا  اور اسکی روح برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اصل تحریر یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

اگر طوفان پیٹ پاکستان میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ داخل ہو جاتا تو ہمارے انگریزی اخبار اسے کس طرح رپورٹ کرتے؟ یہ ہیں چند نمونے۔

روزنامہ 'ڈان'؛
طوفان نے سندھ، بلوچستان میں تباہی مچا دی، ساحلی علاقوں میں بہت سے افراد مر گئے اور کئ لاپتہ، زرداری، اسماء جہانگیر، بیلجیم کے وزیر اعظم کی تعزیت۔

روزنامہ 'دی نیوز'؛
کیا طوفان سے ہونے والی تباہی کے ذمہ دار زرادری؟ افتخار چوہدری کی وارننگس کو با بار نظر انداز کیا گیا، این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں کے مزے جبکہ لوگ مصیبت میں، جیو وہ پہلا چینل جس نے اس تباہی کو رپورٹ کیا۔

روزنامہ ڈیلی ٹائمز؛
سندھ، بلوچستان  میں ہونے والی تباہی سے سلمان تاثیر صدمے میں؛ پی پی پی کا تباہی سے نمٹنے کا عزم ، نواز شریف لندن روانہ، رانا ثناءاللہ کا طالبان کے ملوث ہونے سے انکار ،حامد میر کی نئ جاری ہونے والی ریکارڈنگز میں اسکے لنک، سارا تاثیر شعیب کی جیولری کی دوکان ایک دن کے سوگ میں بند ، پوچو کی سالگرہ پارٹی ملتوی ، امریکہ کے تھنک ٹینکس کا پاکستان پہ زور 'ڈو مور'۔

روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون؛
کراچی میں ڈی ایچ اے میں تباہی ، طوفان کا بہت سارے فیزز پہ ہلّہ ، ہر طرف خوف پیٹ کی وجہ سے بے شمار ڈرائیوروں، ماسیوں، چوکیداروں، نامعلوموں،  ٹوئٹروں، بلاگروں اور فیس بکروں کا باقی دنیا سے رابطہ منقطع ، دور ددراز کے علاقوں جیسے کیماڑی، نیلم، اور شیریں جناح کالونی میں سینکڑوں جاں بحق، خوبصورت مگر محروم ماہی گیری کے گاءوں میں بچوں کے حقوق مزید متائثر ہونے کا خطرہ، ، کراچی گرامر اسکول کے  سابق طلباء کی ملن پارٹی ملتوی۔،

روزنامہ دی نیشن؛
طوفان سے سندھ، بلوچستان عدم استحکام کا شکار، بالآخر انڈین اور بلیک واٹر کی سازشیں بارآور ، سینکڑوں مر گئے مگر نیوکیئر اثاثے ہندءووں اور یہودیوں کی دسترس سے محفوظ، کیانی اور حمید گل کو صدمہ، نواز شریف کا اپنا دورہ ء لندن  کلثوم کی صحتیابی کی صورت میں مختصر کرنےکا ارادہ، نظریہ ء پاکستان اور ماجد نظامی محفوظ۔۔
یہ تو تھے چند انگریزی اخبارات کے متوقع بیانات۔

لیکن خیال آیا کہ  طوفان آنے کے بعد ہماری بلاگنگ کی دنیا میں مبصروں کے متوقع تبصرے کیا ہوتے؟
پہلے طالبان، اب طوفان، کیا کرے پاکستان۔
خبردار جو کسی نے طالبان کے بارے میں کچھ کہا۔ یہ سب خدا کا عذاب ہے جو کراچی پہ نازل ہوا، ٹارگٹ کلنگ میں پٹھانوں کو مارتے ہوئے کسی کراچی والے یعنی اردو اسپیکنگ کو تکلیف نہ تھی اب طوفان  میں سندھی، پٹھانوں کے مرنے کا طوفان اٹھایا ہوا ہے۔
کراچی والے صرف اردو اسپیکنگ نہیں۔ یہاں دوسری زبانوں کے لوگ بھی بستے ہیں۔ اس شہر پہ سب کا حق ہے۔
لیکن یہ بات کراچی والے میرا مطلب اردو اسپیکنگ یعنی بھائ لوگ مانیں تب ناں۔
اس سارے طوفان کے پیچھے ایم کیو ایم کا ہاتھ ہے۔ وہ امدادی کام کر کے اپنا نام  بھی بنانا چاہتے ہیں اور پیسے بھی ہتھیانا چاہتے ہیں۔ اسکے ساتھ ہی تیسرے درجے کے اخبارات سے سنسنی خیز خبروں کی فہرست کا حوالہ۔
طوفان میں متائثرین کی بڑی تعداد سندھی، بلوچی اور پٹھان قومیت سے تعلق رکھتی تھی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کراچی کی فاشسٹ جماعت ایم کیو ایم نے اس طوفان کی تربیت کی تھی۔
الطاف بھائ کب اپنا لندن کا دورہ مختصر کر کے آ رہے ہیں۔ اب تو بھابھی بھی  وہاں نہیں رہیں۔
سب طوفان کے مرنے والوں کو رو رہے ہیں انکے بارے میں کوئ نہیں سوچتا جو بارہ مئ کو مارے گئے۔
تعصب نہیں کرنا چاہئیے۔  عصبیت کرنے والا ہم میں سے نہیں۔ ایسے سنگین مواقع پہ ہمیں استغفار کرنی چاہئیے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہئیے۔ خدا ہم سب کو صراط مستقیم پہ چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔ اردو بولنے والوں کو میرا مطلب بھائ لوگوں کو  بھی اپنی دنیا سے باہر دیکھنا چاہئیے۔
بلوچستان میں درجنوں لوگ لاپتہ ہو گئے، یہ ہندءووں اور یہودیوں کی سازش بھی ہو سکتی ہے۔ سنا ہے کہ اب یہودیوں کی سائینس اتنی ترقی کر گئ ہے کہ دشمن ممالک پہ طوفان بھی لا سکتی ہے۔ آخر یہودی ہولوکاسٹ کے دوران اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا بدلہ ہم سے کیوں لے رہے ہیں۔  
یہ سب روشن خیالوں کے کرتوتوں کا نتیجہ ہے ان سب کو جہنم رسید کر کے  ہمیں خدا سے اجتماعی استغفار کرنی چاہئیے۔ اس خدا سے جو صرف فلاں فلاں فقہے سے تعلق رکھتا ہے۔ اور فلاں فلاں سے نظریاتی تعلق۔
یہ سب پنجابیوں کا کیا دھرا ہے، وہ سمندر کراچی میں ہونے کا مزہ کراچی والوں کو چکھانا چاہتے ہیں۔ خدا کرے انکے دریاءووں میں سیلاب آجائے۔
جھوٹ کیندا اے سالا۔ او نئیں چائیے سمندر شمندر۔ جا رکھ اپنے کول تے آپی ڈبکیاں کھا۔ سمندر کا پانی، او پی کے تو وکھا سمندر کا پانی۔ نوی ای سنائ اے۔ غارت ہو جا کے سمندر وچ۔
کسی مسلمان کو بد دعا نہیں دینی چاہئیے۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ اللہ ہم سبکو گناہوں سے بچائے۔ استغفار کریں۔
مرنے والوں میں خواتین کم مری ہیں اور مرد زیادہ، اسکا مطلب ہے کہ خدا نے مرد کو افضل بنایا ہے اور وہ مرنے کے بعد بھی انکی بالادستی چاہتا ہے۔ طوفان میں مرنے والے سب شہید ہیں۔ آئیے انکی مغفرت کے لئے دعا کریں۔ اور اپنے لئے استغفار۔
طوفان کا شکار ہونے والی عورتوں کو امداد پہنچانے کے دوران پردے کا خیال نہیں رکھا گیا، یہ کیسا اسلامی ملک ہے، کیا پاکستان اسی دن کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ ایسے کافر نما مسلمانوں پہ خدا کی مار۔
کسی مسلمان کو کافر نہیں کہنا چاہئیے۔ اس پہ سخت عذاب ہے۔ استغفار کریں۔ خدا ہمیں ہدایت دے۔
یہ سب تعیلم یافتہ لوگوں کی بے کار کی  منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ ان تعلیم یافتہ لوگوں کے پاس ایک کاغذ کے ٹکڑے کے سوا ہوتا کیا ہےجو یہ کچھ کرسکیں۔ گمان ہے کہ طوفان کسی پی ایچ ڈی کے کراچی میں بچے رہنے  کے باعث آیا۔ ان سب کو فوراً کسی اور ملک کی شہریت دے کر یہاں سے فارغ کیا جائے۔ اور ہاں، ہولوکاسٹ کی کہانیاں سب جھوٹ ہیں۔ یہودیوں پہ کوئ ظلم نہیں ہوا۔ یہ زمانہ آگیا ہے۔ پڑھے لکھے بہت ہیں مگر یہودیوں کی اصل تاریخ سے بے بہرہ۔ ایسی تعلیم کا کیا فائدہ، جو یہودیوں کے بارے میں بھی صحیح سے پتہ نہ ہو۔ ہمارے زمانے میں-----۔
تعلیم کو برا نہ کہیں، یہودیوں کو برا کہیں۔
یہودیوں نے ہی تعلیم کا شوشہ چھوڑا ہے، اس سلسلے میں ہمارے پاس بہت اہم شواہد ہیں۔ جن پہ ہم بعد میں تفصیل سے لکھیں گے۔ یہودیوں نے ----۔
ایم کیو ایم
طوفان
مرنے والے
استغفار
مغفرت
تعلیم یافتہ لوگ
کاغذ کے ٹکڑے
طوفان
ایم کیو ایم
فاشسٹ
طوفان
یہودی
دیسی گالیاں
طوفان

اور ہماری بلاگنگ کی دنیا کا ایک اہم تبصرہ تو رہ گیا جو کچھ اس طرح ہوتا۔
مزہ آیا طوفان میں آنٹی۔
Lets see if you mind it.

Sunday, June 6, 2010

وہ آیا، اس نے دیکھا اور چلا گیا

رات کے ایک بجے جب بجلی کی پہلی کڑک سنائ دی تو میں نے ذرا جوش میں ہی اسکی آواز سنی۔ تو یہ ہے وہ 'طوفان پیٹ' جو اپنے آنے کی گرج سنا رہا ہے۔ لیکن رپورٹ تو یہ تھی کہ کل دوپہر کو پہنچے گا۔ جواب ملا، یہ تو اسکا ہراول دستہ ہے۔ طوفان ابھی بہت پیچھے ہے۔ صبح اٹھ کر چیک کیا۔ شام کو متوقع ہے۔ لیکن بارش ساری رات وقفے وقفے سے ہوتی رہی۔ 
صبح سے موسم خاصہ سہانا تھا اور وقفے وقفے سےہلکی بارش کا سلسلہ بھی چل رہا تھا۔ مگر طوفان، نہیں آیا۔ دن میں مشعل نے بارش میں نہانے کا شور مچایا۔ میں نے سوچا بارش اس وقت خاصی ہلکی ہے شام کو جب طوفان آئے گا تو ہو سکتا ہے اس میں  تیزی ہو، اس میں بھیگنے کا کچھ مزہ بھی آئے گا۔ مشعل کو تسلی دی کہ ابھی کچن کے کام نبٹا لوں تو آپ کے ساتھ میں بھی بارش کا مزہ لونگی۔ بس اسکے بعد بارش بالکل ہی رک گئ۔
اب شام سے کیا مراد ہے، اب تو ساڑھےچھ ہو رہے ہیں۔ باہر ہوا تھوڑی تیز ہو گئ ہے۔ شاید طوفان گذر رہا ہے۔ مگر یہ طوفان ہے  یا ساجن کے ساتھ وقت گذار کر واپس آنے والی سجنیا۔ کیا خراماں خراماں اپنی مستی میں چل رہا ہے۔ اتنا شور مچا کہ بس اب آیا اور یہ طوفان

چلیں جناب، کچھ میڈیا نے اپنا  وقت نکالا، کچھ قائم مقام سٹی گورنمنٹ نے اس بہانے اس ' متوقع تباہ کن ایمرجنسی' کو دور کرنے کے لئے فنڈز حاصل کر کے اپنا الّو سیدھا کیا۔ ایمرجنسی فنڈز کے لئے نہ ٹینڈر چاہئیے ہوتا ہے، اور نہ زیادہ چھان پھٹک ہوتی ہے۔ باقی کے لوگ کاٹھ کے الّو بنے جنوب کی طرف منہ کئے بیٹھے گانے سنتے اور پوری پکوڑے کھاتے رہے، اس میں ہم بھی شامل ہیں کہ کاٹھ کا الّو بننے کے لئے بس کاہل ہونا ضروری ہے اور کاہلی چھوت کا مرض ہے۔ کراچی سے باہر والوں کی وضاحت کے لئے سمندر ہمارے جنوب میں ہے۔
اصل میں ایک دلچسپ خبر بھی ٹوئٹر پہ ملی آپ کے لئے حاضر ہے۔ عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے ایک طرف کی دیوار گر گئ اور سترہ افراد زخمی ہو گئے انکے ایک معتقد کا کہنا ہے کہ طوفان بہت طاقت والا تھا اسے روکنے میں، سارا لوڈ دیوار پہ گیا۔ خیر ہم، انکے بھی شکر گذار ہیں کہ ان پہ اعتماد ہمیں طوفان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والا بنائے رکھتا ہے۔ ورنہ کیا ہو؟
  اس سہانے موسم میں جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شاید اب بھی طوفان ، طوفان بن جائے چھوٹا ہی سہی۔ ایک گانا میں سن رہی تھی، دل چاہے اور وقت ہو تو آپ بھی سن لیں۔

Friday, June 4, 2010

کراچی میں سمندری طوفان

دو دن سے جتنے فون بیرون ملک سے آرہے ہیں۔ سبھی ہماری خیریت کے بعد کراچی میں 'پیٹ' یعنی آنےوالے سمندری طوفان کے متعلق معلوم کر تے ہیں۔ ادھر کراچی میں لوگوں میں خاصہ جوش و خروش پایا جاتا ہے  جو ساحل تک پہنچ سکتے ہیں وہ، روزانہ وہاں کے چکر لگا رہے ہیں۔ وہاں کے رہائیشی اپنی کھڑکیوں سے باہر کے منظر پہ نگاہیں جمائے بیٹھے ہیں کہ دیکھیں کس وقت 'پیٹ' طوفان اپنی پہلی جھلک دکھاتا ہے۔ پیٹ تھائ زبان کا لفظ ہے اور اسکا مطلب ہے 'ہیرا'۔


ہماری ایک عزیزہ کا کہنا ہے کہ ایک دفعہ اسی طرح کے طوفان کی اطلاع پہ وہ بھی کراچی کے ساحل سی ویو پہ اہل خانہ کے ہمراہ پہنچیں تو کیا دیکھتی ہیں کہ ساحل پہ رینجرز تعینات ہے۔ اور گنوں کا رخ سمندر کی طرف ہے۔ تو کیا گنوں کا رخ شہر کی طرف ہونا چاہئیے تھا۔ پھر آپکو اعتراض ہوتا کہ شہریوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔ میں نے کہا تو انہوں نے چبانے والی نظروں سے دیکھا اور کہنے لگیں تو کیا طوفان ان سے ہراساں ہو رہا تھا۔ انکی برستی ہوئ نظروں کی تاب نہ لاکر ہم فوراً صراط مستقیم پہ رواں ہوئے اور فرماںبرداری سے کہا کہ وہ دراصل لوگوں کو سمندر میں جانے سے روکنے لئے ہوگا۔ اس وقت بھی ساحل پہ دفعہ ایک سو چوالیس لگی ہوئ ہے۔ اور صرف دو افراد ایکدوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالکر چل سکتے ہیں اس سے زیادہ کی ممانعت ہے۔

آپ میں سے کچھ کے بے حد پسندیدہ 'بھائ صاحب' نے بھی شہر میں جنگی بنیادوں پہ طوفان سے نبٹنے کی تیاری پہ زور دیا ہے۔ انکا تذکرہ میں نے بہ احتیاط کر دیا ہے کہ میری پوسٹ پہ انکے نام کے مصالحے کا تڑکا کوئ اور نہ لگا پائے۔ ویسے بھی چونکہ انکا تعلق ہمارے شہر اور ہماری 'برادری' سے ہے تو مناسب یہی ہے کہ ہم انکا تذکرہ کریں۔ کوئ اور کرے تو رقابت کی بو آتی ہے۔
میں بھی گھر میں سبزیوں کا ذخیرہ جماکر کے فارغ ہوئ ہوں۔ ابھی جا کر آٹا چاول لانے کے بارے میں بھی سوچ رہی تھی کہ  معلوم نہیں طوفان کے آنے کے بعد کیا ہوگا۔
تین سال پہلے کراچی میں آنے والا طوفان دو سو کلومیٹر کے فاصلے سے گذر گیا۔ شہر میں تین دن تک بجلی غائب ہو گئ، سڑکیں اڑ گئیں اور پگڈنڈیاں باقی رہ گئیں، اگلے دن شہر میں ہو کا عالم تھا۔  لگتا تھا کہ کوہ قاف کا کوئ دیو ابھی سارے آدم زادوں کو کسی بوتل میں بند کر کے لے گیا ہو۔ 
 آج صبح محکمہ ء موسمیات والوں نے اطلاع دی کہ طوفان کا زور عمّان کے ساحل سے ٹکرانے کے بعد خاصہ ٹوٹ گیا ہے۔ اس محکمے کی یاد بھی ایسے ہی موسم میں آتی ہے۔ رویت ہلال کے سربراہ اعلی کا پتہ رمضان کے مہینے میں چلتا ہے، نیب کے عالی مقام کا پتہ نئ حکومت کے آنے کے بعد، دیگر اور بہت سے محکموں کا انکے چیئرمین کے گرفتاری کے چھاپوں  یا استعفی کے بعد پتہ چلتا ہے۔ محکمہ ء موسمیات والوں کے بھاگ بارش کے موسم میں کھلتے ہیں۔ اطلاع ہو کہ انکے ڈائیریکٹر جنرل کا نام ڈاکٹر قمرالزماں چوہدری ہے۔
ہاں تو جب یہ اطلاع پہنچی کہ طوفان کا زور کم ہو گیا ہے تو لوگوں کو خاصی مایوسی ہوئ۔ اسی وقت ایک فون آِیا۔ انہیں معلوم کرنا تھا کہ طوفان کی آمد کے لئے ہم نے کچھ تیاری کر لی کے نہیں۔ ہم نے انہیں مطلع کیا کہ کراچی میں طوفان ہمیشہ آنے کی اطلاع دیتا ہے۔ اور پھر نجانے کیوں چپ چپاتے پتلی گلی سے نکل لیتا ہے۔ اب ایسے توانائ سے خالی کسی اور کے ساحل پہ الہڑ پن دکھا کر فارغ ہونے والے پھسپھسے طوفان کا کیا استقبال کریں ۔ اس لئے ہم تو چلے ذخیرہ کی ہوئ سبزیوں میں سے آلو پالک پکانے۔
توقع تھی کہ ساحل پہ براجمان لوگ بھی اپنے خیمے اکھاڑ کر گھرواپسی کا رستہ لیں گے۔ اور ساحل کے نزدیک کلفٹن کے مزار میں رہائیش پذیر عبداللہ شاہ غازی کے اور معتقد ہو جائیں گے کہ انکی وجہ سے کراچی میں طوفان آنے کی ہمت نہیں کر پاتا۔ لیکن نہیں جناب، قمرالزماں صاحب نے نئ اطلاع بھجوادی کہ طوفان اب بھی خطرناک حد میں ہے اور طوفانی بارشوں کا سلسلہ کراچی میں ہفتے سے شروع ہونے کی توقع ہے۔
طوفان نہ ہوا باغیوں کا کوئ گروہ ہو گیا، ادھر کچلا اور دوبارہ تیار۔ یہاں میں جان بوجھ کر طالبان کا نام نہیں استعمال کرنا چاہ رہی کہ میری یہ پوسٹ سیاسی اثرات سے بالا، غیر جانبدار اور آفاقی مزاج کی حامل رہے۔
لوگوں کو اس جذبے سے طوفان کے لئے سرشار دیکھ کر، بس یونہی دل میں ایک شیطانی خیال آیا کہ اگر کبھی کراچی میں سچ مچ کا سمندری طوفان آگیا تو کراچی کا جو ہوگا سو ہوگا،  عبداللہ شاہ غازی کے معتقدین کیا کریں گے۔ اب میں اس خیال کو شیطانی خیال کے علاوہ کیا کہہ سکتی ہوں۔ خدا مجھے معاف کرے۔

Wednesday, June 2, 2010

مرمت یا مذمت

میں اپنے ایک ساتھی کے بلاگ پہ تبصرہ کرتے کرتے رک گئ۔ امید ہے کہ برا نہیں مانیں گی، تبصرے کا نہیں، یہاں لکھنے کا۔ لکھنے جا رہی تھی کہ پاکستان کا نام تبدیل کر کے مرمتستان رکھ لیتے ہیں۔
جس کسی کی مرمت لگانی ہو  یا لگوانی ہو ہم حاضر ہیں۔ سروس میں اعلی، خدمت میں آگے۔ ایسی مرمت لگائیں گے کہ اسے اور ہمیں دونوں کو اپنی پیدائش کا وقت یاد آجائے گا۔ نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے ہم مرمت لگا کر رہیں گے۔ ہم سے ایک دفعہ مرمت لگوانے کا معاہدہ کر کے دیکھئیے۔ پھر آپ اپنے معاہدے سے پھر بھی جائیں لیکن ہم مرمت لگاتے رہیں گے۔ ہماری اعلی سروس کی مثال کے لئے، ہم نے اپنے ہی ملک میں مرمت لگانے کے شو روم کھول رکھے ہیں۔ یہاں آنے کی ضرورت نہیں، اپنے اخبار کھولیں اور ہماری اعلی کار کردگی ملاحظہ فرمائیے۔ مرمت لگانے کے معاملے میں ہم اتنے جذباتی ہیں کہ وہ سارے الفاظ جو م کی پیش والی آواز سے شروع ہوتے ہیں جب تک انکی اچھی طرح چھان پھٹک نہیں کر لیتے انہیں قابل مرمت ہی سمجھتے ہیں جیسے محبت ، مروت  وغیرہ وغیرہ۔
نہیں ، پھر خیال آیا کہ ایسا تو نہیں ہے ابھی بھی پاکستان میں ایک قابل ذکر تعداد ان لوگوں کی ہے جو عدم مرمت کے قائل ہیں۔ اور وہ مرمت نہیں بلکہ مذمت پہ اکتفا کرتے ہیں۔ اس لئے پاکستان کا نام مذمتستان ہونا چاہئیے۔
یہ بھی ہمارے ملک کی خوبصورتی ہے کہ ہر تھوڑے دن پہ کسی کی ایسی مرمت ہوتی ہے کہ پھر مذمت کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یوں صورت حال ایسی بنتی ہے کہ
پھر ایک مذمت کا سامنا تھا مجھے
میں ایک مذمت کے پار اترا تو میں نے دیکھا
اس میں مذمت کو مرمت سے تبدیل کر لیں اور دوہرا مزہ لیجئے۔ یاد رکھئیے کہ بہرحال اثر میں مرمت ، مذمت سے کہیں برتر ہے۔ یہ لگنے والے پہ جو بھی اثر چھوڑے لگانے والے کا مورال کافی بلند ہو جاتا ہے۔ اور بہت دنوں تک رہتا ہے۔ اگر کوئ مذمتی سلسلہ شروع نہ ہو جائے تو پھر مرمت لگانے والے کی تسلی نہیں ہوتی یوں مرمت کا ایک اور چکر چلنے کا اندیشہ رہتا ہے تو مرمت کی تیزی کو مذمت کے دف سے مارا جاتا ہے یوں مرمت کے بعد مذمت سے ، مرمت لگانے والا ٹن ہو کر کچھ دنوں تک انٹاغفیل رہتا ہے۔
لیکن یہاں کہانی میں ایک ٹوئسٹ آتا ہے۔ اور وہ یہ کہ جب مرمت لگانے والے کی ، مرمت لگتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟  پھر ہم فوراً ہی کرکٹ کے میدان میں اپنا بلا چھوڑ کر بھاگتے ہیں اور واشنگٹن جا کر حاضری دیتے ہیں۔ ڈیئر سر، ہمارے سپہ سالار کا دماغ خراب تھا۔ اس نے ہمارے علم میں لائے بغیر ہمارے دشمنوں کی مرمت کرنی چاہی۔ ڈیئر سر اسکی مذمت کرتے ہیں۔ وہ بھی چاہتے ہیں کہ سپہ سالار کی ایسی مرمت لگائیں کہ یاد رکھے۔ مگر قسمت کی ستم ظریفی دیکھیں، ڈیئر سر اس بد تمیز سپہ سالار کو کچھ عرصے بعد ملک کا صدر بنا دیتے ہیں اور بلّا چھوڑ کر حاضری دینے والے حیران پریشان اسکی مذمت کرتے ہیں۔ اب انکی مرمت کی باری شروع ہوتی ہے۔
خیر رات کو جب تابکاری والی تحریر کو توڑ کر تین ٹکڑے کر کے پوسٹ کیا، ایک بوجھ اتارا تو سوچا کہ اب اپنی سونے کی باری آئ۔  ٹی وی لاءونج سے گذرتے ہوئے، میری نظر ٹی وی پہ پڑی۔ ایک جملہ لکھا تھا۔ کیا اسلام میں لونڈی کی اجازت ہے؟ اور لقمان صاحب چند مولانا صاحبان سے گفتگو فرما رہے تھے۔  میں نے سوچا موضوع اچھا ہے مجھے بھی سننا چاہئیے۔ میری ایک مبصر نے اس بارے میں سوال بھی کیا تھا۔ میں خاموش ہو گئ تھی کہ کیسے اسکا جواب دیا جائے۔ تو اس کیسے کا جواب ملے گا۔ یہ الگ بات کہ پروگرام تقریباً اپنے خاتمے پہ تھا۔ چونکہ چار معزز صاحبان گفتگو فرما رہے تھے۔ تو اب میں ان میں سے ہر ایک کی تفصیلات نہیں لکھ سکتی۔
ایک مولانا صاحب نے اس وقت کا نقشہ کھینچا کہ کس ضرورت کے تحت جنگ میں گرفتار خواتین کو لونڈی بنایا جاتا تھا اورچونکہ ان مردوں کی پہلے سے چار بیویاں موجود ہوتی تھیں اس لئے ان گرفتار خواتین کو لونڈی بنا کر مرد ان سے بغیر نکاح کے تعلقات رکھتے تھے۔ قرآن اور سنت کے تحت یہ بالکل صحیح ہے۔ بقیہ دو نے بھی انکی تائید کی۔ ان میں سے تو ایک صاحب بہت جوش سے گردن ہلا رہے تھے۔ لقمان صاحب نے ان سے دریافت کیا تو پھر اگر پاکستان کشمیر کی آزادی کے سلسلے میں مقبوضہ کشمیر پہ حملہ کرے اور اسے فتح ہو تو کیا حاصل ہونے والی خواتین کو لونڈی بنانا درست ہوگا۔ مولانا صاحب تھوڑا سا رکے اور کہنے لگے کہ جن ممالک سے ہمارے سفارتی تعلقات ہیں ان سے اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق بات چیت ہو گی اور اقوم متحدہ اس چیز کی اجازت نہیں دیتی کہ گرفتار خواتین کو لونڈی بنایا جائے۔
اس پہ لقمان صاحب نے کہا کہ اچھا چلیں اسرائیل سے ہمارے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ اس پہ حملہ کریں اور ہمیں فتح حاصل ہو تو ایسا کرنا درست ہوگا۔ جواب ملا کہ اس صورت میں یہ درست ہوگا۔
تو اے مرد مومن، اب اسرائیل  کی مرمت کرنے میں دیر کس بات کی ہے۔ امریکہ کی ناجائز اولاد کو ایسی ہی سزا دینی چاہئیے جس سے انکی غیرت کا جنازہ نکل جائے۔ لیکن سنا ہے کہ وہ غیرت کے معاملے میں ایسے ہی ہیں جیسا کہ کسی کی نزاکت کے بارے میں سن کر ایک صاحب نے حیرانی سے کہا کہ
سنا ہے کہ انکی کمر ہی نہیں
تو وہ ازار بند کہاں باندھتے ہیں
یعنی سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر بے شمار قتل و غارت گری جو ہمارے یہاں غیرت کے نام پہ کی جاتی ہے وہ اسکے لئے کیا بہانہ کرتے ہونگے۔  یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔
 انکے یہاں غیرت کی عدم موجودگی کے شک کی بناء پہ ایک نامعلوم راوی کہتا ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد انکی خواتین نے بلا فرق جائز اور ناجائز بچے پیدا کئے کہ انکی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوکیونکہ ہولوکاسٹ کے بعد انکی آبادی بہت کم ہو گئ تھی۔ سو معلوم نہیں کہ اس صورت میں وہ خواتین  اور وہ خود کیا کریں گے۔
کیونکہ  اس اسرائیلی مملکت کی نظریاتی بنیاد ہی 'مرمت کرو اور مذمت کرواءو'  کے نعرے پہ رکھی گئ تھی تو پیدا ہونے والے ہر بچے کو ریاست نے ایک کارآمد شہری بنانے کے لئے مکمل منصوبہ بندی کی۔ اور اس طرح سے وہ بڑے ہو کراتنے اچھے طریقے سے مرمت لگانے کے قابل ہو گئے کہ چنگیز خان بھی انکے سامنے پانی بھرے۔ کون سا پانی، یہ بتانے میں حد ادب مانع ہے۔ 
 وہیں پہ ایک مبصر کا خیال ہے کہ اگر اسرائیل کی مرمت لگانے کے نتیجے میں جوابی مرمت ہو گئ تو کیا ہوگا۔ ایسا تبصرہ کرنے والے افراد ہی مرمت لگانے کا حوصلہ رکھنے والوں کی ہمت شکنی کرتے ہیں۔ ہم انکی مذمت کرتے ہیں۔ایک مرمت لگانے والا ہی دوسرے مرمت لگانے والے کی نفسیات سمجھ سکتا ہے۔
دعا کرتے ہیں کہ ہمارے یہاں دن رات مرمت کی دھما چوکڑی مچانے والے اسرائیل کے صحن میں کود جائیں تاکہ ہم بھی کسی دن مرمت اور مذمت کے چکر سے باہر نکل کر آرام سے سوچیں کہ آج کیا پکے گا۔