Monday, September 12, 2011

پاکستانی سینی میں چین کی چینی

کل صبح بارہ بجے تک میری چائینیز کی کلاس ہے جو بھی کام ہوگا اسکے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ میرے ایک دوست نے اطلاع دی۔ زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم۔ کیا ہوا کسی چائینیز کو اپنا محبوب بنا لیا ہے۔ کیونکہ ہمارے خطے میں مادری زبان کے علاوہ اگر کسی زبان کو لوگ دل سے سیکھنا چاہتے ہیں تو وہ انگریزی ہے نہ کہ چائینیز۔  جواب ملا نہیں چین جا کر کچھ کاروبار کرنے کا ارادہ ہے۔
سو میں  نے ان سے کچھ ابتدائ معلومات لیں۔ کراچی میں چند ایک ادارے ہیں جہاں یہ سکھائ جاتی ہے۔ پانچ چھ استاد ہیں جنہوں نے یہ فریضہ اٹھایا ہوا ہے۔ اور وہ آجکل بڑے مصروف ہیں۔ ان کی زیادہ تعداد چین سے تعلق رکھتی ہے۔
پھر اس کے بعد کسی اور سے بات ہو رہی تھی۔ پتہ چلا کہ وہ اپنے بچے کو کالج کی تعلیم کے لئے ہانگ کانگ بھیج رہے ہیں۔ ایک دفعہ پھر حیرانی سے گذرنا پڑا۔ لوگ لندن، کینیڈا، امریکہ بھیجتے ہیں آپ ہانگ کانگ بھیج رہے ہیں۔ جواب ملا، وہ زمانہ گیا جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے آجکل انہوں نے فاختائیں آزاد کر کے اس خطے میں ڈیرہ ڈال لیا ہے۔  چین ، ہانگ کانگ۔
نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے میں اپنا سرمایہ لگایا، ذہن لگایا۔ لیکن کہنے والے اسے ستم گر کہتے رہے۔ مغربی ممالک نے دہشت سے نبٹنے کے لئے دہشت زدہ پالیسیز بنائیں۔  یوں آج اس واقعے کے دس سال بعد دنیا میں سرمائے  اور اعتماد کے سفر میں ایک واضح تبدیلی نظر آتی ہے۔ یہ مغرب سے مشرق کی طرف چل پڑا ہے۔ مغرب کا عالم یہ ہے کہ یہ اڑی اڑی سی رنگت، یہ کھلے کھلے سے گیسو، تری صبح کہہ رہی ہے تیری رات کا فسانہ اور مشرق آخر مشرق ہے۔
ان مشرقی ممالک میں اسلامی ممالک شامل نہیں۔ اگر ہم بہت کوشش کریں تو ترکی، ملائیشیا یا انڈونیشیا کا نام لے سکتے ہیں۔ جنکی معیشت بہتر حالت میں ہے۔ ان میں سے ترکی نسبتاً  مضبوط ہے اور بہتر مستقبل کی طرف دیکھتا ہے۔
پاکستان کے دگرگوں سیاسی حالات اور حکمرانوں کی عدم دلچسپی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم کیا ہے۔ ایک طرف بجلی کی کمی ہے دوسری طرف شفاف نظام کا رونا۔ بالخصوص کراچی میں کاروبار کو چلانے کے لئے جس اعتماد اور تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے وہ پچھلے تین سال میں ناپید ہو گیا ہے۔
 ہمارے سرمایہ کار اپنا سرمایہ تیزی سے ملک سے باہر منتقل کر رہے ہیں جیسے ملائیشیا ۔ سرمائے کی اس منتقلی سے ہمارے ملک میں روزگار کے مواقع کم ہونگے اور مہنگائ مزید بڑھے گی۔ جس سے ایک عام انسان جس کا جینا مرنا اسی زمین سے وابستہ ہے متائثر ہوگا بلکہ ہو رہا ہے۔ اس لئے جب کراچی میں کاروباری استحکام کی بات ہوتی ہے تو یہ دراصل ہر گروہ کی بقاء کی بات ہوتی ہے۔
عالمی کساد بازاری میں، امید کی ایک کرن چین میں سرمایہ کاری ہے۔ چین اس وقت معاشی طور پہ مستحکم ہے ایک ابھرتی ہوئ نئ معاشی طاقت۔  میں نگینہ گلی، صدر میں موجود تھی۔ وہاں ایک نگینہ فروش نے بتایا کہ وہ آجکل چین سے نگینے لے کر آ رہا ہے پہلے وہ بنکاک جاتا تھا۔  اس وقت جو چین سے کاروبار کرے وہ فائدے میں ہےاس نے ایک راز مجھ سے شیئر کیا۔ چین چھا رہا ہے۔ انکی تجارتی اور سرمایہ کاری کی پالیسیاں حوصلہ افزاء ہیں۔ ویزہ بھی آسانی سے مل جاتا ہے۔ آپکا پاسپورٹ مہینوں قطار میں نہیں پڑا رہتا۔ چند دن لگتے ہیں۔ آپ وہاں آفس لے سکتے ہیں۔ کمپنی کھول سکتے ہیں۔ بس صرف ایک خرابی ہے پاکستانیوں کو چینی زبان نہیں آتی اور چینی کوئ اور زبان نہیں بول سکتے۔ چینی نہ صرف کاروباری ذہانت رکھتے ہیں بلکہ وہ اس میں خاصے چالاک ہیں۔ اس چالاکی سے نبٹنے کے لئے زبان آنا ضروری ہے۔
آپکو بچپن میں سنی ہوئ وہ کہانیاں یاد ہیں جس کا مرکزی خیال اس نکتے کے گرد گھومتا  ہے کہ زمین کے نیچے دفن خزانے کسی ایک جگہ نہیں رہتے یہ چلتے رہتے ہیں اور آواز دیتے ہیں ہم یہاں ہیں۔ انکی آواز پہ  دھیان دینے والا اور انہیں سمجھنے والا انہیں حاصل کر لیتا ہے۔ یہی حال زمین کے اوپر موجود خزانوں کا ہے۔ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں مزید سرمایہ ہوتا ہے اور جہاں یہ گردش کی حالت میں رہے۔ مایا کو مایا ملے کر کے لمبے ہاتھ، حرکت میں برکت ہے۔
اب اس سارے قصے سے کیا ہم یہ سمجھیں کہ پاکستان کے صوبے سندھ میں اسی مستقبل کا ویژن رکھتے ہوئے اسے تمام اسکولوں میں سال دو ہزار تیرہ سے چھٹی کلاس سے لازمی مضمون کے طور پہ پڑھایا جائے گا۔ یاد رہے اسی کی دہائ میں مرد مومن کے ویژن پہ اسکولوں میں عربی زبان بھی پڑھانے کی کوشش کی گئ تھی۔
  اس حکومتی فیصلے کے بارے میں لوگوں کی رائے مختلف ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ  کیا اسے بھی اسی طرح سکھایا جائے گا جس طرح صوبے میں اردو، انگریزی یا سندھی زبانیں سکھائ جاتی ہیں۔ جو اول تو سکھائ نہیں جاتیں بلکہ پڑھائ جاتی ہیں۔ دوئم جہاں جہاں پڑھائ جاتی ہیں وہاں مقصد امتحان پاس کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے ساری زندگی اردو پڑھنے والوں کو اردو لکھنا پڑھنا نہیں آتی، انگریزی کے چند مضامین اور خطوط یاد ہوتے ہیں اور سندھی رسم الخط سے نقطوں کی وجہ سے آشنائ ہو جاتی ہے۔ یہ سندھی زبان، صوبے کے اسکولوں میں پانچ سال تک لازمی پڑھائ جاتی ہے۔
پھر یہ کہ چینی زبان سکھانے کے لئے اساتذہ کہاں سے آئیں گے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے لئے چین سے اساتذہ لئے جائیں گے۔ اور پاکستان میں بھی اساتذہ کو تربیت دی جائے گی۔ یقیناً ان چینی اساتذہ کوجان کا تحفظ دینے پہ بھی حکومت کو  وسائل خرچ کرنا پڑیں گے۔ ادھرسال بھر کے عرصے میں کیا تربیت کے بعد ایسے ماہر اساتذہ تیار کر لئے جائیں گے جو دوسروں کو زبان سکھانے کے قابل ہوں۔ یہاں کچھ لوگ ہو سکتا ہے کہ کچھ اس قسم کے ڈائیلاگ بولنا چاہیں کہ ہمت کرے انسان تو کیا کام ہے مشکل۔ جس سے میں اپنے ہم وطنوں کی حد تک اتفاق نہیں کرتی۔ جو محض ڈائلاگز بول کر ہر پیچیدہ صورت حال سے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔ یوں مسائل اپنی جگہ رہتے ہیں اور کاغذ کے پلندے وزن حاصل کرتے رہتے ہیں۔ یہاں ڈائیلاگز نہیں ٹھوس عمل چاہئیے۔
مزید یہ کہ کیا تمام طالب علموں کے لئے چینی زبان سیکھنے کا کوئ فائدہ واقعی  ہے بھی یا نہیں۔ اسکا جواب میں آپ پہ چھوڑتی ہوں۔
میں اپنے پالیسی سازوں کے شر پسند ذہن سے سوچوں  تو یہ کہتا ہے کہ اس میں بھی سرمائے کی منتقلی کا چکر ہے۔ بس یہ کہ مشرق یا مغرب میں جانے کے بجائے یہ کچھ حکومتی اراکین کی جیب کا رخ کرے گا۔ اور وہ یہ کہہ کر فارغ ہونگے، ٹک دیکھ لیا، دل شاد کیا، خوش وقت ہوئے اور چل نکلے۔

Saturday, September 10, 2011

محب وطن پاکستانی کے نام

جہاز کے لمبے سفر اکثر سوتے ہوئے گذارتے ہیں۔ رات کا وقت ہو تو باہر دیکھنے کے لئے ہوتا ہی کیا ہے۔ اس لئے اندر دیکھنے کے لئے خاصہ وقت ہوتا ہے۔ وہ بھی اگر آپ جہازی سفر میں نہ سونے کے عارضے میں مبتلا ہوں  تو پھر وقت بچھآ رہتا ہے۔  
میں نے جب سفر شروع کیا تو ذوالفقار مرزا جنہیں کھلبل مرزا کہنا زیادہ مناسب لگتا ہے اپنے نئے بیانات سے نہ صرف خود رو کر فارغ ہو چکے تھے بلکہ  پاکستان جیسی ایک بکھری ہوئ قوم کو سمٹ چکے تھے۔ اور اسے ایک نکتہ ء اتحاد دے چکے تھے۔ اس لئے جب کراچی واپس پہنچ کر لوگوں سے ملنے کی فرصت ملی تو ایک کے بعد ایک مریضِ جنگ انہی کا فسانہ سناتا رہا۔
یہ وہی مرزا صاحب ہیں جنہوں نے محض تین چار مہینے پہلے کراچی کے مہاجروں کو بھوکے ننگے کہہ کر ایک بڑے حلقے کی طرف سے داد پائ تھی پھر متحدہ کے احتجاج پہ انکی معذرتی ویڈیو آئ۔ انکی شہرت صرف پاکستان کے متعصب ماحول  کے پسندیدہ جاندار ڈائلاگ اور ان پہ بے مثال ایکٹنگ ہی نہیں۔ بلکہ یہ  بھی ہے کہ وہ اپنی پسماندہ قوم کو با عزت ذریعہ روزگار، دنیا سے لڑنے کے لئے علم یا ہنر دینے کے بجائے اسلحہ دیتے ہیں۔ تین سال میں تین لاکھ اسلحے کے لائسنس انہوں نے شاید انڈیا یا امریکہ سے جنگ کے لئے کراچی میں  عنایت فرمائے۔ کچھ لوگ تو یہ کہتے ہوئے ملے کہ ذوالفقار  بھٹو نے پہلی دفعہ پاکستان توڑنے میں اپنا بہترین حصہ ڈالا اور ذوالفقار مرزا دوسری دفعہ پاکستان کو توڑنے کی طرف کامیابی سے لے جارہے ہیں۔
ایسے میں میری نظر سے ایک اسٹیٹس گذرا کہ کراچی میں لبرل اور سیکولر جماعتوں نے یہ حشر کیا ہے اس وجہ سے قوم لبرلزم اور سیکولیرزم سے نفرت کرتی ہے۔ کراچی ملک کے جنوب میں واقع ہے اور ملک کے شمال میں مذہب پرست جماعتوں نے جو بہشت قائم کی ہے وہ ہمارے بھولے ساتھی کی نظر سے پوشیدہ ہے۔ شاید اس لئے کہ انہوں نے ابھی بہشت جانے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔
کون ہے پاکستان میں لبرل اور سیکولر۔  عوامی نیشنل پارٹی یا پیپلز پارٹی ؟
پاکستان میں جناب صرف دو طاقتیں ہیں ایک قبائلی نظام کی پروردہ اور دوسری غیر قبائلی نظام کی پروردہ۔ ان میں سے اول الذکر اکثریت میں ہے اور موءخر الذکر اپنا ایک بہت کمزور وجود رکھتی ہے۔ جس پہ کبھی لبرلزم کی مہر لگائ جاتی اور کبھی سیکولیرزم کی۔ پاکستان کے ٹوٹ جانے کے بعد یعنی بنگلہ دیش بن جانے کے بعد باقی کے پاکستان کا نام بدلنا چاہئیے تھا۔ لیکن بہر حال اسے ایسے ہی رہنا دیا گیا۔ اس موجودہ پاکستان کی حدوں میں رہنے والی اقوام ایک قبائلی مزاج رکھتی ہیں۔ اسے کبھی مذہبی جماعتیں استعمال کرتی ہیں اور کبھی ان کی سیاسی جماعتیں۔ ان مذہبی جماعتوں یا ان سیاسی جماعتوں کے درپردہ مقاصد ہمیشہ ایک رہتے ہیں اور وہ یہ  کہنظام چند ہاتھوں اور خاندانوں  کے سامنے سر نگوں رہے۔ اور اسکی فلاح کے لئے انہیں کسی کے سامنے جوابدہ نہ ہونا پڑا۔ اس لئے اپنے روئیے میں اے این پی، پیپلز پارٹی یا جمعیت علمائے اسلام کچھ مختلف نہیں۔
کراچی باقی ماندہ ملک سے الگ کیوں لگتا ہے۔ اس لئے کہ یہاں لوگوں کی کثیر تعداد اس طبقے سے تعلق رکھتی ہے جو اس قبائلی نظام پہ یقین نہیں رکھتی بلکہ اس پہ  تنقید کرتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تقسیم ہندوستان کے بعد سنٹرل انڈیا سے یہاں آکر آباد ہوئے۔ آباد اس لئے ہوئے کہ انہوں نے حدود پاکستان سے باہر آزادی کی جنگ لڑ کر حدود پاکستان کے اندر رہنے والی اقوام کو آزاد ملک کا تحفہ دیا۔ اور اسکے بعد یہ سمجھا کہ اب اس ملک پہ ہمارا بھی حق ہے۔  اپنے اس حق کی راہ ہموار کرنے کے لئے انہوں نے بھی مذہب کا سہارا لیا۔  اسلام ہمارے درمیان تعلق کی  مضبوط وجہ ہے انہوں نے بیان کیا۔ وہ اسلام جو حدود پاکستان میں رہنے والی اقوام کی ترجیح اس وقت نہیں تھا۔ وہ تو اپنے چند سرداروں کی پسند نا پسند دیکھتے تھے۔ جب نیت درست نہ ہو تو کبھی اچھا نتیجہ نہیں نکلتا۔ کم سے کم تریسٹھ سال کے بعد اتنا تو تسلیم کرنا چاہئیے۔

کراچی کا مسئلہ لبرل ، سیکولر یا مذہب نہیں۔ قبائلی اور غیر قبائلی نظام کا ٹکراءو ہے۔
یہ بات عجیب لگتی ہے کہ کراچی سے باہر کے لوگ اپنے تجزئیے کو درست قرار دیتے رہیں اور وہ کبھی کراچی کے اندر رہنے والے اردو اسپیکنگ لوگوں کی بات پہ غور کرنے کو تیار نہ ہو۔ اسکی دو دلچسپ مثالیں میں نے حال میں دیکھیں۔ ایک جاوید چوہدری صاحب کا ایک مضمون کراچی کے بارے میں جو انہوں نے کراچی سے سینکڑوں میل دور بیٹھ کر لکھا جس میں فراہم کی گئ معلومات ایک ایسے ایس ایچ او کی تھیں جو ملتان سے تعلق رکھنے والا محب وطن شخص تھا۔ یہ معلومات اگر کراچی کے اورنگی ٹاءون سے تعلق رکھنے والا اردو اسپیکنگ شخص فراہم کرتا تو انہیں شاید یقین نہیں آتا۔ یا پھر انہوں نے اس قوم کی نفسیات ستعمال کرتے ہوئے ایک ملتانی شخص کی معلومات دیں کہ اگر غیر کراچی ، غیر اردو اسپیکنگ ہوگا تو لوگ اسکی بات پہ زیادہ دھیان دیں گے اور یوں اس پہ میں نے ایک تبصرہ پڑھا جو کچھ اس طرح تھا کہ یقین نہیں آتا مگر کرنا پڑتا ہے۔ یہ تبصرہ کرنے والے بھی بڑے صوبے سے تھے۔ انہیں یقین کی اس منزل تک جاوید چوہدری ہی پہنچا سکتے تھے۔ عنیقہ ناز کراچی والا نہیں۔
جاوید چوہدری صاحب نے اس میں راز یہ کھولا تھا کہ کراچی میں اس وقت اے این پی، پی پی اور ایم کیو ایم کی مافیاز طاقت کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ میں اس میں کچھ اور چیزیں اپنے سینیئر صحافی کی معلومات کے لئے ڈالنا پسند کرتی مگر مسئلہ وہی کہ میں ملتان سے تعلق نہیں رکھتی۔
اسکی دوسری دلچسپ مثال میں نے اس وقت دیکھی جب ٹی وی پہ پاکستان میں انسانی حقوق  تنظیم کے چیئر مین جناب اقبال حیدر نے اکشاف کیا کہ کہ ایم کیو ایم روز اول سے ایک فاشسٹ جماعت ہے۔ میں تناءو کے اس ماحول میں ایسے شخص سے ایسے غیر ذمہ دارانہ بیان کی امید نہیں رکھتی جبکہ پاکستان کے بڑے شہر کو لاحق خطرات ملک کی سلامتی کا مسئلہ بن گئے ہوں۔
 تاریخ تو کہتی ہے کہ انیس اسی کی دہائ کے آخیر میں جب ایم کیو ایم کا جنم ہوا تو اس وقت مہاجروں کے طبقے کے بڑے جید دانشوروں ، ادباء ، شعراء اور علماء نے اس میں حصہ لیا اور اسکے لئے کام کیا تو کیا وہ سب فاشزم کے لئے کام کر رہے تھے یعنی اس میں رئیس امروہوی جیسے نام بھی آتے ہیں۔  تو ان سب لوگوں کو کیا اچانک یہ خناس بھا گیا تھآ کہ انکی ایک علیحدہ سیاسی جماعت ہونی چاہئِے۔ وہ سب فاشسٹ بن گئے تھے اور ان میں اگر کوئ محب وطن بچا تو وہ اقبال حیدر جیسے لوگ تھے۔
  اب جاوید چوہدری صاحب پھر کسی نان کراچی ذریعے کو استعمال کرتے ہوئے یہ لکھیں کہ در اصل ایم کیو ایم کو اس وقت زبردست عوامی طاقت حاصل تھی تو پھر کچھ صاحبان کو یقین نہ کرتے ہوئے بھی یقین کرنا پڑے گا۔
سو جاوید چوہدری صاحب ایک نظر اس طرف بھی۔
ایک پروپیگینڈہ یہ بھی کیا جاتا ہے کہ ہم یعنی کراچی سے بنیادی تعلق نہ رکھنے والے کراچی میں امن اور استحکام چاہتے ہیں۔ میں اسے پروپیگینڈہ ہی سمجھتی ہوں۔ اس میں کوئ سچائ نظر نہیں آتی۔ اس لئے کہ جب مرزا صاحب یہاں کے مہاجروں کو بھوکے ننگے آنے والے لوگ قرار دیتے ہیں تو ان میں سے کوئ انکی تصحیح نہیں کرتا کہ ان بھوکے ننگے لوگوں نے آپکی ابتدائ اکنامکس چلائ تھی ، جب مرزا صاحب امن کمیٹی والوں کو اپنے بچے قرار دیتے ہیں اور انکے یہ لاڈلے شیر شاہ میں جا کر نہتے لوگوں کو فائرنگ کا نشانہ بنا کر زندگی سے محروم کر دیتے ہیں تو بھی وہ فاشسٹ قرار نہیں پاتے۔ حتی کہ خود انکی پارٹی کے نبیل گبول صاحب ایک ٹی وی انٹرویو میں کہتے ہیں کہ اس وقت لیاری میں کم از کم دو ہزار گھروں میں اسلحہ بڑی تعداد میں موجود ہے تب بھی انہیں پاکستان توڑنے کی سازش کرنے والوں میں شامل نہیں سمجھا جاتا۔ بلکہ ایک داد و تحسین کا سلسلہ ہے کہ تھمنے میں نہیں رہا۔ کیوں ایسا ہوتا ہے کہ پشتون رہ نما شاہی سید جب زیر لب مسکراہٹ کے ساتھ فرماتے ہیں کہ کراچی کا تالا کسی کے پاس بھی ہو اسکی چابی ہمارے پاس ہے۔  کوئ اسکی مذمت نہیں کرتا کہ یہ پاکستان کی توڑنے کی سازش ہے۔ انیس سو چھیاسی اور دو سو گیارہ میں علی گڑھ کالونی اور قصبہ کالونی پہ حملہ کرنے والے فاشسٹ نہیں کہلاتے۔
ایسا فرق کیوں ہے؟
جب ایک زمین کو اپنا ساجھا سمجھنے والے  قبائلی ایک  دوسری زمین سے تعلق رکھنے والےغیر قبائلی سے ٹکراتا ہے تو ایک قبائلی کی ہمدردی دوسرے قبائلی کے لئے ہوتی ہے۔ ایک قبائلی اپنے آپکو اپنی زمین کا زیادہ وفادار سمجھتا ہے، وہ اپنے آپکو زیادہ زمین کا حاکم سمجھتا ہے۔ اس وقت وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اسے کس طرح بنیادی انسانی حقوق سے اسکے رہنما محروم رکھ رہے ہیں۔  اس زمین کے کسی گوشے کی اسے حاکمیت نصیب نہیں ۔ بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ کہیں اس کا قبیلہ طاقت کی اس جنگ میں کم نہ ثابت ہو۔ اس لئے کراچی میں سیکولر کہلانے والی اے این پی کے زیر سایہ مزہبی شدت پسند تحریک طالبان والے بھی ہنسی خوشی رہتے ہیں۔ اس لئے کراچی میں پنجاب کے رہنے والے اپنے قبائلی ساتھی پشتونوں کی ہر کمزوری سے صرف نظر کرتے ہیں، اسی لئے کراچی میں نہ صرف پنجابی پختون اتحاد نامی سیاسی جماعتیں بنتی ہیں بلکہ دہشت کی فضا کو ہموار رکھنے کے لئے پی پی اور اے این پی اتحاد بھی سامنے آتا ہے۔ یعنی بلوچ ، سندھی اور پٹھان اتحاد۔
پھر اسکے بعد لبرل اور سیکولر اور مذہب کا نکتہ اٹھانا کس کھاتے میں۔  ایک قبائلی ملک کے شمالی علاقوں میں مذہبی شدت پسندوں کے فاشزم کو پسندیدگی سے دیکھتا ہے۔ مگر وہی قبائلی ملک کے جنوبی حصوں می نام نہاد سیاسی فاشزم کا شور مچاتا ہے۔
نیت درست نہ ہو تو انجام درست نہیں ہوتا۔ ملک بننے کے تریسٹھ سال بعد بھی اس ملک کی حدوں میں رہنے والی اقوام یہ نہیں سیکھ سکیں۔ اس پہ دعوی ہے حب الوطنی اور غیرت مند ہونے کا۔ جو اپنی شکست سے نہ سیکھ سکے اسے بے غیرت کہا جاتا ہے۔ یقین نہ ہو تو کسی بھی لغت میں اٹھا کر دیکھ لیجئیے۔
جاوید چوہدری یہ بھی کہتے ہیں کہ کراچی بیروت بننے جا رہا ہے۔ ایک دفعہ پھر ان سے معذرت۔ پاکستان ایک لمبے عرصے سے بیروت بن چکا ہے تو کراچی کے بیروت بننے میں کیا مسئلہ۔
کیا کراچی کے حالات درست ہو پائیں گے۔ مستقبل قریب میں اس کا جواب ہے نہیں۔ قبائلی جنگیں سینکڑوں سال جاری رہتی ہیں۔ جب تک اسلحہ سرد نہ پڑ جائے اور لڑنے والے ہاتھ ختم نہ ہو جائیں یا کوئ اور بیرونی طاقت اس سے فائدہ نہ اٹھالے۔
جب تک اسلحہ کچھ قوموں کا زیور قرار پاتا رہے گا۔ ان حالات میں کوئ بہتری نہیں آنے والی۔ اسلحے پہ کون پابندی لگائے گا۔ مذہبی جماعتیں جو جہاد کی پرچاری ہیں یا پی پی اور اے این پی جیسی جماعتیں جنکے ثقافتی پس منظر میں اسلحے کی اہمیت آکسیجن جیسی ہے۔
آج ہی میں نے سنا کہ ٹی وی کے ایک اینکر پرسن نے ایم کیو ایم کے لوگوں کو نتھ بریگیڈ قرار دیا۔ پھر مجھے کسی اور نے یہ قصہ سنایا کہ انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں جہاں اور جنگی ترانے مشہور ہوئے وہاں ایک اور گانا بڑا چلا پاکستان میں اور وہ تھا جنگ کھیل نہیں زنانیاں دا۔ معاہدہ ء تاشقند کے وقت ہندوستانی وزیر اعظم شاستری نے اس گانے کو نا پسند قرار دیتے ہوئے اس پہ پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔
نصرت جاوید کے اس کمنٹ پہ پاکستان ہی میں لوگوں نے بڑا جراءت مندانہ فعل کہا۔ کیا آپ نے کبھی ببول میں انگور لگے دیکھے ہیں۔ ایسے  غیر ذمہ دار اور چھچھورے لوگ جب حب الوطنی کا نعرہ لگاتے ہیں تو کس قدر جعلی لگتے ہیں۔ یہ پاکستان کے استحکام کی دعائیں بھی مانگتے ہیں مگر کچھ اور تو چھوڑیں اپنے آپکو نسلی تعصب کے اظہار سے نہیں روک پاتے۔ یہ اس ملک کے باسی ہیں جو اپنی آزادی کے محض پچیس سال بعد دو ٹکڑے ہوا۔ اور اندرا گاندھی نے اس دن کہا کہ آج نظریہ ء پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا گیا۔
اگر کوئ واقعی کراچی کے حالات بہتر کرنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے اوپر پابندی لگانی ہو گی۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اس ملک کے  معاشی استحکام کے لئے کام کریں۔ موجودہ حالات میں اگر ہوش کے ساتھ دیکھیں تو کراچی میں سب سے زیادہ کس کا نقسان ہوا ہے۔ سندھی اور بلوچ اقوام تو ابھی اپنے ہونے نہ ہونے سے واقف نہیں۔ کراچی میں بسنے والے ان چالیس لاکھ پشتونوں کا سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ جو تعلیمی سطح پہ کم ترین ہیں، اور معاشی لحاظ سے کمزور۔ وہ یہاں سبزی بیچتے ہیں، چوکیداری کرتے ہیں، مالی بنتے ہیں ، ڈرائیوری کرتے ہیں ان مکی اکثریت روزانہ کی تنخواہ پہ کام کرتی ہے۔ جب کراچی بند ہوتا ہے، جب تندور بند رہتا ہے ، جب بازار میں کاروبار نہیں ہوتا تو سب سے زیادہ اس کمیونٹی کو نقصان ہوتا ہے۔ نسلی تعصب نے ان لوگوں کو کیا دیا ہے۔  ذوالفقار مرزا نے اگر تین سال میں تین لاکھ اسلحے کے لائیسنس دئیے تو کیا یہ لائیسنس سندھی اور بلوچی عوام کی تمام زندگی کا آسرا بن گئے۔ کیا یہ انکی نسلوں کی بقاء کی ضمانت بن گئے۔ یہاں میں ایم کیو ایم کا تذکرہ نہیں کر رہی کہ اسکے ووٹ بینک میں شامل لوگ ایک دفعہ نہیں کئ دفعہ تبدیلی کے عمل سے گذر چکے ہیں۔
اگر نسلی تعصب کو اسی طرح جواں رکھنا ہے تو استحکام پاکستان کو بھول جائیے۔ اور اپنے آپکو محب وطن کہنے سے گریز کریں۔
دوسری طرف یہ کیسے ممکن ہے  کہ ایک سیاسی جماعت کے دہشت گرد تو آپ سے شاباش حاصل کریں اور دوسری جماعت کے دہشت گرد کو آپ فاشسٹ کہیں۔ اگر ایک قوم پہ آپکی پسندیدہ اقوام راکٹ لانچر لے کر حملہ آور ہو جائیں تو لازمی طور پہ وہ قوم مڑ کر کسی فاشسٹ سے ہی مدد لے گی یا آپکی منتیں سماجتیں کرے گی۔ آپ جو کسی ایسے واقعے کے ظہور پانے کے ہی قائل نہیں ہوتے۔
یہ کہنا بھی اب بےکار لگتا ہے کہ یہ سب سیاسی جماعتوں کا کیا دھرا ہے۔  ذوالفقار مرزا یا نصرت جاوید کو شاباش دینے والا منہ ایک عام آدمی کا ہے کسی سیاستداں کا نہیں۔
 یہ کیسے ہو سکتا ہے  کہ وزیرستان میں اسلحہ بنانے کی فیکٹریاں قائم ہوں اور کراچی میں ایک سیاسی جماعت کو فاشسٹ قرار دیا جاتا رہے۔
اگر کوئ شخص اپنے آپکو محب وطن کہتا یا سمجھتا ہے تو اسے غیر قانونی اسلحے کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہئیے۔ اسلحہ رکھنے کا حق صرف فوج کو ہے یا پولیس کو اسکے علاوہ کسی کو نہیں۔
لیکن  میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ کم از کم میری زندگی میں کوئ ایسا قانون بننے والا نہیں اور اگر بن جائے تو کاغذ کی حدوں سے باہر نکلنے والا نہیں۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ حب الوطنی کے دعوے کرنے والوں میں سے کوئ اسکے لئے نہیں اٹھ کھڑا ہوگا۔
میں نصیحت کرنے کے عمل میں نہیں، نہ خواہش کرنے کی حالت میں۔  میں صبر سے بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرتی ہوں، اس میدان میں جہاں کھیل ، کھلاڑی اور تماش بینوں کے درمیان کچھ زیادہ فرق نہیں۔ اس افراتفری میں، میں احساس خوف سے باہر ہوں۔ اس لئے نہیں کہ میں افتخار عارف کی نظم بارہویں کھلاڑی کا بارہواں کھلاڑی ہوں۔ بلکہ اس لئے کہ اس کھیل کا اختتام میرے کہیں بعد ہے۔ قبائلی جنگیں بڑا خون بہا لیتی ہیں۔ ان میں صرف کسی نامعلوم کا نہیں میرا اور آپکا خون بھی شامل ہوگا۔

Saturday, August 27, 2011

دوران پرواز

تمہیں اس سے کیا یہ میری زندگی ہے۔ یہ وہ جملہ ہے جو ہم چاہے کتنی ہی بے غرضی اور مہربانی سے زندگی گذاریں ہمیں ایکدن بولنا ہی پڑتا ہے۔ ہماری یہ زندگی جسے ہم یا دوسرے کامیاب سمجھیں یا ناکام۔ 
ناکام زندگی گذارنے کے طریقوں پہ نجانے کیوں توجہ نہیں دی جاتی۔ کامیاب زندگی گذارنے کے طریقوں پہ دنیا میں خدا جانے کتنی کتابیں اور تحاریر لکھی گئیں۔ زیادہ تر ہاتھوں ہاتھ لی گئیں۔ پُر جوش قارئین انہیں پڑھ کر کہتے ہیں۔ یہ کیا بکواس ہے یہ تو ہمیں پہلے سے معلوم تھا۔ انہیں پہلے سے معلوم ہوتا ہے مگر پھر بھی وہ حسب خواہش کامیابی حاصل نہیں کر پاتے ۔ لکھنے والے کو بھی پہلے سے معلوم ہوتا ہے مگر پھر بھی وہ خاصہ کامیاب رہتا ہے۔ اپنے بتائے ہوئے گروں پہ عمل کر کے نہیں، انہیں لکھ کر۔
خیر۔ میں آجکی ڈیل کارنیگی نہیں ہوں۔ اس لئے آگے چند باتیں جو لکھنے جا رہی ہوں ان پہ عمل کرنے سے پہلے مزید چار لوگوں سے مشورہ کر لیجیئے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنے کی کوشش نہ کریں کہ ایک ڈیل کارنیگی چار افراد کے برابر ہوتا ہے۔ مجھے ڈیل کارنیگی کا صحیح وزن معلوم نہیں ہے۔
اگر وہ چار لوگ اس پہ عمل نہ کرنے کا مشورہ دیں تو بھی انکی بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دینے میں کوئ حرج نہیں کیونکہ انہیں اس سے کیا یہ آپکی زندگی ہے۔ یاد رکھیں مشورہ سب سے کریں مگر کریں وہی جو آپکا دل چاہے۔ ویسے تجربے کی بات ہے کہ اگر آپ یاد نہیں رکھیں گے تو بھی آپ یہی کریں گے۔
 اس تحریر میں پیش کئیے گئے خیالات قطعی طور پہ عام، افراد کے لئے ہیں۔ مجرمانہ جھکاءو رکھنے والے یا ذہنی بیمار اسے پڑھنے سے گریز کریں یہ مفاد عامہ کے لئے کہا جا رہا ہے۔   
ہاں تو ، پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ کیجئیے جو آپکا دل چاہے جو آپکو پسند ہو۔ اور اسے اکثر کیجئیے۔ اس میں لوگوں کو دھمکانا، گلی کے نکڑ پہ لڑکیوں پہ سیٹیاں بجانا، بم مارنا اور اس قماش کی دیگر حرکات شامل نہیں۔ اگر ایسا کرنے کا دل بہت زیادہ چاہ رہا ہے تو کرنے سے پہلے لڑکیوں کے والدین یا کسی مافیا سے رابطہ کریں۔
اگر آپکو کوئ چیز یا صوت حال پسند نہیں آرہی تو اسے بدل دیں۔ اسمیں دوسروں کا ایمان، نظریات ، دل، کپڑے اور گھر  ، آپکے والدین اور معاشرہ وغیرہ شامل نہیں۔ کیونکہ ان میں سے اکثر چیزیں آپکی دسترس سے باہر ہیں۔ لیکن آپ اپنی جاب بدل سکتے ہیں، اپنا دل بدل سکتے ہیں۔ اپنا گھر، کپڑے، شوہر، بیوی، شیمپو کا برانڈ یا برش بدل سکتے ہیں بچے نہیں بدل سکتے انکا اسکول بدل سکتے ہیں، مستقبل بدل سکتے ہیں اماں یا ابا بدل سکتے ہیں ۔ بیک وقت دونوں نہیں بدل سکتے۔ حتی کہ اپنا نظریہ بدل سکتے ہیں مگر ایمان نہیں۔ کم از کم دوسروں کو دکھانے کے لئے اسے ویسا ہی رہنے دیں بلکہ اس بارے میں زیادہ سخت ہو جائیں۔
اپنی محبت کو گلیوں ، چوباروں، تعلیمی اداروں میں ڈھونڈھنا بند کر دیں۔ وہ آپکے منتظر ہیں مگر اسی وقت ملیں گے جب آپ وہ کام کریں گے جو آپکو دل سے کرنا پسند ہیں۔ وہ آپکی پسند کے راستے پہ موجود ہیں۔
زندگی کو ہر وقت تجزئیے کے ترازو پہ نہ رکھے رہیں۔ یہ بہت سادہ ہے اور اسکی خوب صورتی سادگی میں ہے۔ دل کو کبھی کبھی تنہا چھوڑنے کو اسی لئے کہتے ہیں۔ جتنا چھانتے ہیں اتنا کرکرا ہوتا ہے۔  بالخصوص جہاں مٹی ہو وہاں اس سے گریز کریں۔
اپنے دل، دماغ اور بازءووں  کو زندگی میں نئ چیزوں کو گلے لگانے کے لئے ہمیشہ تیار رکھیں۔ اس میں صنف مخالف کے انسان شامل نہیں۔
اختلاف سے مت گھبرائیں، اسی میں ہی نئے امکان ہیں اگرکوئ سمجھے۔
لوگوں سے دریافت کریں کہ انکی زندگی میں کون سا خواب انہیں مہمیز رکھتا ہے، پر جوش بناتا  ہے۔ خود وہی خواب  دیکھنے کی ضرورت نہیں اپنے خواب بنئیے اور دوسروں کو اس میں شریک کریں۔ اپنے خواب بیان کرنے سے نہ جھجھکیں۔ یہ آپکو سمت دیتے ہیں اور دوسروں کو حوصلہ۔
سفر کریں، گم ہو جانے سے، کھو جانے سے نہ ڈریں۔ سفر کی سنسنی اور ان دیکھے کو جاننے کا جوش کیا ہوتا ہے اسے جاننے سے محروم نہ رہیں۔ یہ بھی ایک موقع اور تجربہ ہوتا ہے۔  زندگی صرف آپکے متعلق ہی نہیں ان سے بھی تعلق رکھتی ہے جن سے آپ ملتے ہیں جنکے ساتھ آپ زندگی میں نئے امکانات تخلیق کرتے ہیں۔ اس لئے لوگوں سے ملئیے اور زندگی کے نئے پہلو تخلیق کیجئیے۔ سفر کیجئے جیسے ہوا کرتی ہے۔ ہر باریک سوراخ سے گذر جائیں۔ چٹانوں کو چھو ڈالیں اور پانی کو اڑا لے جائیں۔
زندگی میں اکثر چیزیں صرف ایک دفعہ آتی ہیں انہیں ضائع نہ کریں۔ اس لئے جب کوئ موقع ملے اس سے مستفید ہوں۔ کل ہو یا نہ ایک بات ہے اور  یہ کہ کل اسکے ساتھ ہو یا نہ ہودوسری بات۔
زندگی بہت مختصر ہے۔ اپنے خوابوں کے لئے گذارئیے اپنے جنون اور جذبوں کے لئے گذارئیے اس سے پہلے کہ یہ آپکو گذار دے۔ اور اس جنون ، جذبے اور خواب میں گم ہو جانے سے کون روک سکتا ہے یہ زندگی آپکی ہے۔ اڑیں بغیر خوف کے یہ اڑان، نئے آسمانوں اور جہانوں کی طرف لے جائے گی جہاں اس سے پہلے کوئ نہیں گیا ہوگا۔ دکھا دیں ٹھینگا ان سب کو جو اڑنا نہ جانیں۔
یہ ساری تقریر اس وقت بیان کرنے کا مقصد کیا ہے۔ کچھ نہیں صرف یہ کہ یہ گانا سننے کا دل چاہ رہا تھا۔ چاہیں تو آپ سن لیں اور چاہیں تو نہیں۔ ورنہ مجھے اس سے کیا یہ آپکی زندگی ہے۔

  


Wednesday, August 24, 2011

تکلف بر طرف

کراچی میں حالات اتنے خراب ہیں۔ میں اپنے شوہر صاحب سے  بات کرنا چاہ رہی تھی مگر رابطہ نہ ہو سکا۔ انہیں ای میلز بھیجیں ، جواب ندارد۔ دو دن بعد تنگ آکر  دوبارہ انہیں فون کیا۔
یہاں کینیڈا کی وسعت اتنی ہے کہ ایک ملک میں کئ ٹائم زون ہیں۔ پہلے ہم ٹورنٹو میں تھے تو ٹائم زون الگ تھا۔ جب ہم سسکاچوین پہنچے تو ٹائم زون تبدیل ہو گیا۔ یہ ٹورنٹو سے دو گھنٹے پیچھے ہے۔ جب میں نے فون کیا تو اس وقت یہاں اگرچہ عین دو پہر کا وقت تھا مگر کراچی میں رات کا ایک بج رہا تھا۔
موصوف نے فون اٹھایا تو آواز سے لگ رہا تھا کہ سوتے ہوئے اٹھے ہیں۔ خیریت کے چند جملوں کے بعد میں نے فون بند کر دیا۔  میزبان پاکستانی خاتون وہیں موجود تھیں۔ کہنے لگیں بڑی جلدی بند کر دیا آپ نے۔ میں نے کہا ہاں، جب میں نے ان سے کہا کہ آپ نے تین دن سے پریشان کیا ہوا ہے۔ ادھر شہر کے حالات اتنے خراب ہیں۔ کم از کم انٹر نیٹ تو جاری حالت میں رکھیں۔ فرمانے لگے، انٹر نیٹ کی لائن خراب ہے۔  آپ نے مجھے رات کو ایک بجے نیند سے جگا کر پریشان کر دیا۔ بس میں نے انکی نیند کا خیال کرتے ہوئے خدا حافظ کر دیا۔
میری میزبان خاتون کہنے لگیں۔ یہ آپ دونوں ایکدوسرے سے کچھ زیادہ ریزروڈ نہیں رہتے۔ میں نے حیران ہو کر انکی طرف دیکھا۔ آپکو یہ شبہ کیوں ہوا؟  جواب ملا، کیونکہ آپ دونوں ایکدوسرے سے آپ کر کے بات کرتے ہیں۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ کیسے نکل سکتا ہے؟ میں نے حیرانی سے دریافت کیا۔
دیکھیں ناں، میں اپنے شوہر کو آپ کہتی ہوں اور وہ مجھے تم کہتے ہیں۔ لیکن آپ دونوں ایکدوسرے کو آپ کہتے ہیں۔ اوہ، مجھے ہنسی آئ۔ ہم نے اپنی شادی کی ابتداء میں کچھ چیزیں طے کی تھیں۔ مثلاً یہ کہ ایکدوسرے کو بہتر ین  اور برابر کے طریقے پہ مخاطب کریں گے اور یہ کہ ایکدوسرے کو ایکدوسرے کے خاندان کے طعنے نہیں دیں گے اور نہ اپنے رشتے داروں کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑائیاں کریں گے۔ ہمیں جب بھی لڑنے کی خواہش ہوئ تو اپنے زور بازو پہ لڑیں گے۔  بس اس وجہ سے لڑنے کی نوبت نہیں آ سکی۔
اب انہیں لازماً ایک اور سوال کرنا چاہئیے تھا کہ پھر آپ دونوں ایکدوسرے سے کیا باتیں کرتے ہیں۔ اور اس طرح تو ثابت ہوتا ہے کہ آپ لوگ ایک دوسرے سے کافی ریزروڈ ہونگے۔ کیونکہ ایک  مشاہدہ یہ ہے کہ ان لوگوں کے درمیان زیادہ گہرا رشتہ اور تعلق ہوتا ہے جنکے درمیان کی جانے والی غیبت کسی مشترکہ شخص کے بارے میں ہو۔ اپنے اس مشاہدے سے میں دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔
اگر بات سمجھ نہیں آ رہی ہو تو آزما لیجئیے۔ کوئ شخص، جس سے آپکے تعلقات بس یونہی سے چل رہے ہوں۔ اسکے ساتھ کسی دن گپ شپ کریں اور جان بوجھ کر کسی ایسے شخص کی برائیاں شروع کر دیں جو اسے نا پسند ہو۔ بس چند دنوں میں ہی اسکے اور آپکے درمیان تکلفات کی بڑی دیواریں گر جائِں گی۔
 یہ بھی ایک عام سا مشاہدہ ہے کہ پاکستان میں اکثر شوہر حضرات اپنی بیویوں کو تم کہہ کر مخاطب کرتے ہیں جبکہ بیویاں اپنے شوہروں کو آپ کہتی ہیں یا کسی احترام کے نام سے مخاطب کرتی ہیں مثلاً شوہر اگر پی ایچ ڈی ہے یا طب سے تعلق رکھتا ہے تو ڈاکٹر صاحب، انجینیئر ہے تو انجینیئر صاحب جیلر ہے تو جیلر صاحب۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ شوہر کی طرف سے زیادہ قربت اور محبت کی وجہ سے ہے یا بیوی کی طرف سے جھجھک ہے  یا  روایت اور رواج یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف نئ نسل کے بیشتر شادی شدہ جوڑے ایسے بھی ہیں۔ جو ایکدوسرے کو تم سے مخاطب کرتے ہوئے بھی ملتے ہیں۔ کیا یہ انکے درمیاں زیادہ قربت کی نشانی ہے۔ ہمم شاید نہیں، کیونکہ لڑتے ہوئے بھی وہ ایکدوسرے کو تم ہی کہتے ہیں بلکہ بعض دفعہ حقارت کے لئے تو سے بھی مخاطب کرتے ہیں۔
میاں بیوی سے ہٹ کر آجکل میں دیکھتی ہوں کہ ہم عمر ٹین ایجر دوست چاہے لڑکے ہوں یا لڑکیاں جب اپنی قربت کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو ایکدوسرے کو تُو سے مخاطب کر کے بڑا خوش ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات تو بے تکلفی میں گالیاں بھی استعمال ہوتی ہیں کہ جیسے گالیاں چاٹ مصالحہ ہیں۔ اور یوں وہ زمانے گئے جب شاعر اپنے محبوب سے شکوہ کرتا نظر اتا تھا کہ یوں ہر بات پہ کہتے ہو کہ تو کیا ہے، تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے۔ آج کا شاعر مسکراتا ہے اور بتاتا ہے کہ پہلے آپ پھر تم ہوئے پھر تُو کا عنواں ہو گئے۔ 
سو، کیا انداز تخاطب سے لوگوں کے درمیان تعلقات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یا یہ طرز معاشرت اور انسان کے ماحولیاتی رکھ رکھاءو کو ظاہر کرتا ہے۔ ایکدوسرے کو اچھے الفاظ سے مخاطب کرتے ہوئے کیا ہم ایکدوسرے کے قریب نہیں ہو سکتے؟
قومیں آپس میں جب ملتی ہیں تو زبان میں نئے انداز آتے ہیں۔ لیکن زبان کی تہذیب سے ایک قوم کی ذہنی سطح بھی سامنے آتی ہے۔ حضرت علی نے کہا تھا کہ ہر شخص اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوتا ہے بولو تاکہ پہچانے جاءو۔ جس لمحے ہم بولنا شروع کرتے ہیں چاہے وہ دنیا کا کوئ اعلی ترین موضوع ہو یا گھٹیا ترین۔ ہماری زبان ہمارے پس منظر کو کھول دیتی ہے۔
لیکن اتنی سنجیدہ اور بھاری  بات سے الگ یہاں اصل بات تو یہ پوچھنی تھی کہ کیا ایکدوسرے کو احترام کے الفاظ سے مخاطب کرنے سے اجنبیت پیدا ہوتی ہے، برقرار ہتی ہے  یا بے تکلف الفاظ استعمال کرنے سے قربت جنم لیتی ہے دل کھل جاتے ہیں۔

Monday, August 22, 2011

آتشی شہرکے خاک خیالات

سوال یہ ہے کہ کراچی کی آگ کیسے بجھ سکتی ہے۔ میرے نزدیک اسکے چند حل ہیں جو اتنے آسان ہیں جتنا حلوے کا کھانا۔ اس نازک موقع پہ حلوے کی تاریخ میں جانا صحیح نہیں ہے۔ اس لئے آگے چلتے ہیں۔
پہلے مرحلے میں آپ اخبار پڑھنا چھوڑ دیں اور ٹی وی کی خبروں اور ملکی حالات پہ آنے والے شوز سے اجتناب کریں۔ جب زندگی اتنی ہی بے وقعت ہے تو وقت گذارنے کے لئے کھانے کی تراکیب والے چینلز دیکھیں۔ کسی سیانے نے کہا ہے کہ کچھ نہ کھا کر مرنے سے کچھ کھا کر مرنا بہتر ہے۔ اگر اس صورت کا سامنا کرنا ہی پڑ رہا ہے تو لخت جگر کودوسرے جہاں بھیجنے سے پہلے جگر بھوننے کا طریقہ سیکھ لیجئیے۔
بیشترآگ تو اسی سے بجھ جائے گی۔
اگر ابھی بھی نظر آرہی ہے تو  یہ نظر کا فتور ہے۔ کسی ماہر امراض چشم سے رجوع کریں۔ لیکن ماہر امراض چشم سے ملنے کے لئے جانے سے پہلے اپنی تمام اہم چیزوں کے بارے میں وصیت لکھ دیں۔ اہم دستاویزات کے متعلق گھر والوں کو بتا دیں کہ کہاں رکھی ہیں۔ قرضداروں کے نام اور قرض کی مقدار کسی مناسب جگہ لکھ کر رکھ دیں۔ تاکہ آپکے بعد اسے کوئ وصول کر سکے۔
اگر آپ ایک بلاگر ہیں تو اپنا پاس ورڈ کسی قریبی عزیز کو بتا دیں تاکہ بعد ناگہانی اطلاع کے وہ آپکے متعلق اپ ڈیٹ دے سکے۔ گھورئیے نہیں، سو بار چمن اجڑا، سو بار بہار آئ، دنیا کی سڑی رونق تیری یاد نے بڑھائ، شاعر سے معذرت۔ 
اگر آپ اردو بلاگر ہیں تو اردو سیارہ پہ دعا کے لئے ایک پوسٹ لکھنا نہ بھولئیے گا۔ فیس بک پہ ایک اسٹیٹس کافی ہے۔ ٹوئٹر پہ ٹوئیٹ کرنے سے پرہیز کریں۔ مبادا جو کام گھر سے دس میل دور ہونا ہے وہ گلی کے نکڑ پہ ہو جائے۔
گھر والوں سے کہا سنا معاف کروا لیجئِے۔ اپنے اوپر آیۃ الکرسی کا دم کر لیجئے اور سارے راستے یا حفیظ دوہراتے رہیں۔ مایوسی کفرہے امید رکھیں کہ آپ اپنا چشمہ بنوا کر پہننے کے قابل ہو جائِں گے۔ جس سے آپکو کراچی کی بجھی ہوئ آگ نظر آئے گی۔
اگر آپ مذہبی رجحان رکھتے ہیں تو رمضان کا مقدس مہینہ ہے اعتکاف میں بیٹھ جائیے۔ ابھی تک یہ اطلاع نہیں آئ کہ کسی مسجد سے اغواء کی کوئ واردات ہوئ اور مغوی کسی بوری میں بغیر سر کے پایا گیا۔ اس سے کچھ بد گمانی پالنے والے یہ نہ سمجھیں کہ میں کراچی کے دہشت گردوں کو کوئ نیا خیال دے رہی ہوں۔  آپ مانیں یا نہ مانیں، کراچی میں بحران پیدا کرنے سے پہلے نامعلوم دہشت گرد ہر آئیڈئیے کو خوب اچھی طرح چھان پھٹک چکے ہیں۔ لیکن بے گناہ مرنے پہ آمادہ  افراد اس ساری چھان پھٹک سے ناواقف ہیں اس لئے دہشت گردوں کے ذہن رسا کو پانے تک انہیں اپنے طور پہ یہ ساری مشق کرنی پڑے گی تاکہ اگر مارے جائِں تو کسی گناہ کے عیوض۔
اگر آپ اخبار پڑھنے کی علت سے جان نہیں چھڑانا چاہتے کیونکہ اس میں حکیموں ، ضرورت رشتہ اور ٹیوشن کے اشتہارات بھی آتے ہیں یا آپ ٹی وی کے ٹاک شوز سے منہ نہیں موڑ سکتے کہ اس سے آپکے ہمیشہ کم رہنے والے بلڈ پریشر کو خاصہ افاقہ رہتا ہے تو کراچی کی آگ بجھانے کے لئے روزانہ صبح اٹھ کر دس سرد آہیں بھرا کریں یہ سرد آہیں اگر اجتماع کی صورت بھری جائیں تو زیادہ بارآور ثابت ہونگیں۔آہ بھرتے وقت سب لوگ ایک قطار میں اس طرح بیٹھیں کہ آمنے سامنے نہ ہوں۔ منہ کو گول کھولیں اور اپنے جسم کی ساری ہوا باہر پھینک دیں۔ دس دفعہ اس طرح کرنے کے بعد ایک نعرہ بلند کریں خس کم جہاں پاک۔ اس طریقے پہ دس منٹ تک عمل کریں۔ عمل کے بعد خاموشی سے اپنے اپنے گھر کی راہ لیں۔
اگر آپ دس ایسے عام  افراد جمع کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو مختلف قرآنی آیات اور احادیث کے حوالے دئیے بغیر پانچ منٹ تک خاموش رہ سکتے ہوں تو امید ہے اسے کامیابی سے کر پائیں گے۔ ورنہ اس سے پہلے ہی آپکے گھر میں دھے پٹاس شروع ہو جائے گی۔ یہ آگ چاہے بجھے یا نہ بجھے، کچھ اور آتش اگلتے ڈریگون سامنے آجائیں گے۔ آپ اپنی زندگی میں ہی جہنم کے نظارے دیکھ لیں گے۔ اس سے ایمان تو مستحکم ہوتا ہے مگر جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس وقت ہمارا ممتح نظر کراچی کی آگ ہے جہنم کی نہیں تو اس سے بچنے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیں عمل کے دوران خاموش رہنا بے حد ضروری ہے۔
اسکے علاوہ لسی کا جگ بنا کر ہمیشہ اپنے پاس رکھیں۔ ٹاک شوز کے درمیان اسکے ہلکے ہلکے گھونٹ لیتے رہیں۔ ایسے لسوڑے حالات پہ تبادلہ خیال سنتے ہوئے لسی ہی سکون دے سکتی ہے۔
اگر آپ کراچی میں رہتے ہوئے اپنی زندگی کے بارے میں فکرمند ہیں تو یہ جان تو اک دن جانی ہے، اس جاں کے زیاں کا افسوس ہی کیا۔ حق بحقدار رسید۔
اگر آپ کراچی آنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ہر راہ جو ادھر کو جاتی ہے مقتل سے گذر کر جاتی ہے۔ کہہ کر اپنے اہل خانہ سے امام ضامن بندھوائیں۔ انسان کو ان حالات میں آنے والے خطرات کا مقابلہ کھلی آنکھوں اور  بند زبان سے کرنا چاہئیے۔ مسلسل زیر لب دعا کریں کہ آپکی باری آنے تک 'نامعلوم' قاتل کے بازو درد کرنے لگیں۔
یہ ' نا معلوم ' قاتل بھی فالتو وقت میں مسکراتے ہونگے کہ زمانے بھر میں رسوا ہوں مگر اے وائے نادانی لوگ کتنی معصومیت سے ہمیں نا معلوم کہہ دیتے ہیں۔ ہم سے اچھے تو اردو شعراء کے قاتل ہیں جنکے نام صرف انہیں نہیں ایک زمانے کو معلوم ہیں۔ اس موقع پہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر کراچی کے محکمہ ء پولیس کی دسترس میں شعراء کے قاتل آجائیں تو وہ بھی نامعلوم ہو جائیں گے۔ یہاں معلوم کرنے والی بات صرف ایک ہے اور وہ یہ کراچی پولیس کی لگامیں کسی کے پاس ہیں یا یہ بے لگام ہے۔
یہ تو کچھ اس خاکسار کے ذہن میں آنے والے خاک خیالات تھے۔ اگر آپ انہیں مذاق سمجھتے ہیں تو  یہ اندازہ لگانے میں کوئ تکلف نہیں کہ آپ ہمالیہ کے پہاڑوں سے کراچی پہ ایک نظر ڈال رہے ہیں۔ ذرا دھیان سے عالی جناب، شہر کراچی سطح سمندر سے صرف چوبیس فٹ بلند ہے۔ اور ہمالیہ سے ہزاروں فٹ نیچا ۔
اتنی بلندی سے جب آپ اس شہر کو دیکھتے ہیں تو سوائے حبیب بینک پلازہ  اور کنارے پہ ہلچل مچاتے سمندر کے اور کچھ نظر میں آتا نہیں۔ سڑک پہ چلتے انسان بیٹری سے چلتے کھلونے نظر آتے ہیں اور انکے گھر ماچس کی ڈبیاں۔
خوامخواہ دل چاہتا ہے کہ کھلونے توڑ کر دیکھیں کہ اسکے اندر کیا چیز اسے چلاتی ہے اور ماچس کی ڈبیاں ہلا کر معلوم کریں کہ اس میں تیلیاں ہیں یا خالی ہیں۔ یہاں تیلیوں سے میری وہی مراد ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ ایک شاعر نے اس خظرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آگ سے کھیلنا اچھا نہیں فراز،جل جائوگے تو پھر کس سے فریاد کروگے۔ یہاں فراز سے مراد ہر زید بکر ہے۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا آپ سب کو آیۃ الکرسی یاد ہے؟ اور اسکا ترجمہ؟ چلیں اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔ بڑا وقت ہے یاد کر لیجیئے۔ کیونکہ اگلے الیکشنز تک کراچی کی آگ جواں ہے اور پیہم ہے۔