فروری کا مہینہ صرف ویلینٹائینز ڈے کا مہینہ نہیں۔ جب کچھ جوڑے سوچتے ہیں کہ انکے آنگن میں بچوں کی صورت پھول کھلیں گے۔ بلکہ ان والدین کے لئے بھی لمحہ ء فکریہ ہے جن کے بچے موجود ہیں اور انہیں اسکول میں داخلہ چاہئیے۔ جیسے میری بیٹی اب اپنی مونٹیسوری ختم کر کے پہلی جماعت میں جائے گی۔ میرے لئے اہم سوال ہے کس اسکول میں؟
ابھی مہینہ بھر پہلے میں اپنی بچی کی مونٹیسوری ٹیچر پہ خفا ہوئ کہ یہ کیا طریقہ ہے ایک کے بعد ایک پہاڑے رٹائے جا رہے ہیں۔ ایک مونٹیسوری کے بچے کے لئے چھ تک پہاڑے یاد کرنا بالکل ضروری نہیں ہے۔ سال کے بارہ مہینوں سے لے کر جانوروں، پھولوں، سبزیوں، پرندوں اور خدا جانے کن کن چیزوں کے ناموں کے ہجے انگلش اور اردو میں۔ یہ تو زیادتی ہے۔ جواب ملا کیونکہ ماما پارسی اور بی وی ایس میں داخلے کے وقت یہ سب پوچھا جاتا ہے۔ اور پھر وہ پہلی جماعت میں ان بچوں کو جب لے لیں گے تو یہ سب دو سال بعد پڑھائیں گے۔ میں ناراض ہو کر بھی ہنس دی۔ ان سے کوئ نہیں پوچھے گا کہ آپکا پہلی جماعت کا سلیبس کیا ہے اور آپ نے کیوں والدین کو مجبور کیا کہ وہ آپکے داخلہ ٹیسٹ کے لئے اپنے بچوں سے انکا بچپن چھین لیں۔
اچھا وہ والدین کیا کریں جنہیں اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں داخل نہیں کروانا ہے۔ وہ بھیڑ چال میں پھنسے ہوئے سر پکڑے بیٹھے ہیں۔
ان مشنری اسکولوں کی طرف والدین کے بھاگنے کی ایک بنیادی وجہ انکا بہتر طریقہ ء تعلیم اور مناسب فیس ہے۔ کہنے کو ہمارے ملک میں لوگوں کا ایک پسندیدہ مشغلہ اپنے مذہب کی تبلیغ اور جہاد ہے لیکن تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی اور مناسب فیس جو اسکول دیتے ہیں وہ عیسائ تبلیغیوں کے ہاتھوں چلنے والے اسکول ہیں۔ مذاق؟ میں نہیں کر رہی یہ حقیقت ہے۔
کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں جنریشنز نامی اسکول ہے جو علاقے میں بڑی اچھی شہرت رکھتا ہے۔ ایک وجہ بہتر تعلیمی معیار اور دوسری وجہ اسکول انتظامیہ کا مذہبی رجحان۔ تمام خواتین اساتذہ کا اسکارف پہننا ضروری ہے۔ فیس ہے اس اسکول کی تقریباً دس ہزار ماہانہ، داخلہ پیکیج تقریباً پچاس ساٹھ ہزار بنتا ہے۔
جبکہ ماما پارسی، سینٹ جوزف، سینٹ پال، سینٹ لارنس، بی وی ایس، سینٹ پیٹرکس ان سب اسکولوں کی ماہانہ فیس تین سے چار ہزار بنتی ہے اور اس بات کا میں آپکو یقین دلادوں کہ جنریشنز کی تعلیمی کارکردگی ان تمام مشنری اسکولوں سے بہتر نہیں ہے سوائے اسکے کہ یہاں پڑھنے کے بعد آپکا بچہ گھر میں یہ اعلان کرے گا کہ امّاں آپ آدھی آستین کی قمیض نہیں پہن سکتیں، یہ غیر اسلامی ہوتا ہے۔
جنریشنز سے ہٹ کر فاءونڈیشن اسکول بھی فیس کی مد میں اس سے زیادہ مطالبات رکھتا ہے۔ ادھر بیکن ہاءوس اور سٹی اسکول بھی اپنی ابتداء آٹھ ہزار سے کرتے ہیں۔ ہر سال ان اسکولوں کی فیس میں دس فی صد اضافہ ہوتا ہے۔ یعنی اگر ایک بچہ ان اسکولوں سے میٹرک کر رہا ہے تو دس سال بعد اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسکی کتنی فیس ہوگی۔
مشنری اسکولوں کے لئے اتنی کم فیس میں اتنی معیاری تعلیم اور ڈسپلن پیدا کرنا کیسے ممکن ہو جاتا ہے؟ اس میں بھی کوئ کفار کی سازش سمجھ میں آتی ہے۔ کیونکہ ہمارے عمران خان بھی جب ایک تعلیمی ادارہ بناتے ہیں تو اسکی فیس کم رکھنا ممکن نہیں ہو پاتا۔
اب ہم اپنے بنیادی مسئلے کہ طرف واپس آتے ہیں۔ ہمارا بچہ کس اسکول میں جائے گا۔ یہ تمام مشنری اسکول میرے گھر سے اتنے فاصلے پہ ہیں کہ ایک اسکول وین کو اسکول شروع ہونے سے تقریباً سوا گھنٹے پہلے اسے گھر سے لینا ہوگا اور جب وہ اسے گھر واپس چھوڑے گی تو دن کے ساڑھے تین بج رہے ہونگے۔ مجھے اپنی بیٹی اس ساری مشقت کے لئے چھوٹی لگتی ہے۔ میں سوچتی ہوں اس ساری محنت کے بعد بچے کے پاس کتنا وقت بچے گا کہ وہ اپنے ماحول پہ بھی ایک نظر ڈال لےاور یہ جانے کے کتاب اور اسکول سے الگ بھی ایک دنیا اسکے اطراف میں بستی ہے۔
اس سارے بحران کی وجہ حکومت کی ناقص تعلیمی پالیسی ہے اگر کوئ تعلیمی پالیسی ہے تو۔ ہر سال تعلیمی سیشن شروع ہونے سے پہلے حکومت کا سر درد پچھلے کئ سالوں سے صرف ایک مسئلہ لگتا ہے اور وہ یہ کہ رمضان کے پورے مہینے چھٹیاں دی جائیں یا نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ڈیڑھ ہزار سال کے بعد اب کوئ نئے رمضان آنا شروع ہوئے ہیں۔ یہی قوم رمضان میں پیٹ پہ پتھر باندھ کر جنگیں لڑتی تھی اور اسی قوم کے منتظمین یہ چاہتے ہیں کہ رمضان میں اب اسکول بند رہیں تاکہ قوم زیادہ خشوع خضوع سے رمضان میں روزے رکھ سکے۔ چونکہ تعلیم کے دیگر معاملات پہ سوچنے کے لئے کچھ نہیں رہا۔ اس لئے اس سال پھر صرف ایک مسئلہ ہے کہ گرمیوں کی چھٹیاں جولائ میں ہوں یا جون میں۔ کیونکہ رمضان جولائ کے اخیر میں شروع ہو رہے ہیں۔
لوگ پھر بھی ہم سے پوچھتے ہیں کہ جناب جہادی اور تبلیغی سوچ کیسے علمی سرگرمیوں کو متائثر کر سکتی ہے؟
ہم والدین حکومت سے یہ سوال نہیں کر سکتے کہ اسکے لئے یہ کیوں ممکن نہیں کہ ہر یونین کونسل میں صرف ایک معیاری اسکول بنا دے جس کی فیس غریب طبقے کے لئے ادائیگی کے قابل ہو۔ جہاں میرٹ پہ داخلہ ہو اور ہر امیر یا غریب کا بچہ صرف میرٹ پہ داخلہ پا سکے۔ جہاں اساتذہ بچوں کو تعلیم دینے کے لئے باقاعدگی سے اسکول آ سکیں۔ ہم تو اب یہ عیاشی بھی نہیں چاہ رہے ہیں کہ ہر بچے کو تعلیم دی جائے۔ لیکن جو اپنے آپکو اہل ثابت کر رہے ہیں انکے لئے تو کچھ کیا جائے۔ کچھ کو تو دی جائے۔
اسکی وجہ یہ ہے کہ ابھی ہفتہ بھر پہلے گھر میں صفائ کا کام کرنے والی ماسی نے بتایا کہ اسکا بچہ گورنمنٹ اسکول میں پڑھتا ہے۔ کتنی مشکل سے اسے اسکول بھیجتی ہوں اور ایک ہفتے سے اسکول میں کوئ پڑھائ نہیں ہوئ کیونکہ کوئ ٹیچر ہی نہیں آرہا۔ یہ کراچی میں واقع گورنمنٹ اسکول کا حال ہے۔ دور دراز کے علاقے تو کسی گنتی میں نہیں جہاں اسکول صرف کاغذ پہ موجود ہیں اورانہیں بھوت اسکول کہا جاتا ہے۔
اسکی وجہ یہ ہے کہ ابھی ہفتہ بھر پہلے گھر میں صفائ کا کام کرنے والی ماسی نے بتایا کہ اسکا بچہ گورنمنٹ اسکول میں پڑھتا ہے۔ کتنی مشکل سے اسے اسکول بھیجتی ہوں اور ایک ہفتے سے اسکول میں کوئ پڑھائ نہیں ہوئ کیونکہ کوئ ٹیچر ہی نہیں آرہا۔ یہ کراچی میں واقع گورنمنٹ اسکول کا حال ہے۔ دور دراز کے علاقے تو کسی گنتی میں نہیں جہاں اسکول صرف کاغذ پہ موجود ہیں اورانہیں بھوت اسکول کہا جاتا ہے۔
سر دست پیٹ بھرے لوگوں اور انتظامیہ دونوں کے نزدیک اہم تعلیمی مسئلہ یہ ہے کہ گرمیوں کی چھٹیاں رمضان سے پہلےیا بعد میں۔ جب تک انتظامیہ اس معاملے پہ سوچ و بچار کر کے فارغ ہو میں اپنے بیلینس کا حساب ایک دفعہ پھر لگاءوں میری بیٹی کو اس سال پہلی جماعت میں داخلہ لینا ہے۔
![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)