Tuesday, March 13, 2012

کہنے دیں

نبیلہ نے صرف  سسٹم سے بغاوت نہیں کی اور نہ ہی صرف یہ کیا کہ محسن پہ تیزاب پھینک کراس کے چھکے اڑا دئیے۔ بلکہ اس  البیلی نار نے مجھے بھی میرے متوقع موضوع سے ہٹا دیا۔
کیا نبیلہ نے کوئ برا کام کیا؟
جناب، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ خربوزے نے خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ پہلے خربوزے نے کبھی یہ خیال ہی نہیں کیا تھا کہ دوسرا خربوزہ بھی اسے دیکھ کر رنگ پکڑے گا اور وہ بھی وہی والا جو اسکا ہے۔ خربوزے نے یہ خیال کیوں نہیں کیا۔ یہ ہم اور آپ کیا جانیں۔ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ جو بکرے نے ماری ہے بکری کو سینگ تو بکری بھی مارے گی بکرے کو سینگ۔ 
یہ عجیب اتفاق ہے کہ اس قسم کے واقعات میں مرد مجرم شاید ہی گرفت میں آتے ہوں۔ لیکن نبیلہ دھر لی گئ۔ کوئ بات نہیں نبیلہ پہلی دفعہ ناتجربے کاری میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔ تم سے پہلے کسی عورت نے یہ کیا بھی تو نہیں تھا۔ اس لئے تمہاری معلومات بھی نہیں ہونگیں۔ آہستہ آہستہ تم بھی سیکھ جاءوگی کہ صحیح وار کہاں سے کرنا چاہئیے ایسے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
 اور پھر جس نظام میں تم ہو وہاں تمہاری ہمت پہ داد دینے والے کم اور برا بھلا کہنے والے زیادہ ہونگے۔  مرد مجرموں کو خفت کے اس مرحلے سے نہیں گذرنا پڑتا۔ انکے لئے تو یہ ایک اعزاز ہوتا ہے کہ کسی ایسی عورت کا دماغ درست کر دیا جو ان  پہ توجہ نہیں دے رہی تھی۔
یہ تو میں تسلیم کرتی ہوں کہ اس ملک میں پنجاب کی مٹیار سے زیادہ با ہمت اور جراءت مند کوئ اور عورت نہیں۔ اس لئے ہیر اور سوہنی دونوں کردار یہیں تخلیق ہوئے۔
اندازہ ہے کہ نبیلہ اس وقت کسی تھانے میں چھترول کھا رہی ہوگی، خاندان والے اسے کوسنے دے رہے ہونگے۔  خاندان کی عزت خاک میں مل گئ ہوگی۔
 یقین ہے کہ اس میں دو چیزوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک ٹیکنالوجی اور دوسرا معاشرے کی حد سے بڑھی ہوئ منافقت اور حقائق سے مسلسل فرار۔ یہ نہیں معلوم کہ  معاشرے کے تارو بود کی  حفاظت کرنے والے کس کو  عاق کریں گے۔
لیکن ہمیں یہ تو کہنے دیں کہ  رانجھن، رانجھن کردی، میں آپے رانجھن ہو گئ۔ جاننا صرف یہ ہے کہ جب ہیر ، رانجھا ہو گئ تو رانجھے پہ کیا گذری؟

Wednesday, March 7, 2012

آبگینوں کے خواب

کل ساری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا جائے گا۔ نہیں معلوم کہ تاریخ کے کس مقام پہ خواتین کا درجہ اس درجے پہ آگیا جہاں انکے  حقوق کے لئے تحاریک چلانے کا سلسلہ شروع ہوا۔
پاکستان میں ایک سال نہیں صرف ایک ماہ کے واقعات کا جائزہ لیجئیے۔ 
کراچی میں پچھلے ایک ماہ میں ایک لڑکی  اجتماعی زنا بالجبر کا شکار ہوئ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ بے پردہ پھرتی ہوگی نامناسب کپڑے پہنتی ہوگی اس لئے یہ کسی مرد کا حق بن گیا کہ اسے اس طرح بے عزت کرے۔ لیکن اسی ایک مہینے میں تقریباً تین بچیوں کو جنکی عمریں  پانچ سے چھ سال کی تھیں زنا بالجبر کا نشانہ بنایا گیا۔ اس جملے میں زنا بالجبر کا لفظ زائد ہے۔ اس عمر کی بچی کو نہ یہ معلوم ہوگا کہ اسکے ساتھ جو بربریت ہوئ ہے اسے کیا کہا جاتا ہے نہ یہ کہ اسکے ساتھ یہ کیوں کیا گیا ہے اور نہ ہی اغواء کے وقت اسے معلوم ہوگا کہ اس پہ اب کیا ستم ٹوٹ سکتا ہے۔
 کیا شہر میں کوئ آواز اٹھی؟
 نہیں  اس پہ آواز اٹھانے کا وقت نہیں۔ ابھی عافیہ ڈے تو منا لیں۔
اسی ایک مہینے میں مظفر گڑھ میں ایک خاتون کو بازار میں برہنہ کر کے پھرایا گیا۔ کیا کسی نے احتجاج کیا کہ یہ بے حیائ بند کرو۔ کیا یہ بے حیائ نہیں کہلاتی؟
جی نہیں یہ ان سب علاقوں کے رسم و رواج ہیں۔ جھگڑوں میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔ نزلہ تو گرتا ہی کمزور عضو پہ ہے۔
اسی ملک میں ایک ماہ میں تقریباً چھ خواتین پہ تیزاب پھینکا گیا۔ یہ سب کسی مرد کی انتقامی کارروائ کا نشانہ بنیں۔ کیا کوئ مجرم گرفتار ہوا؟ کیا کسی کو سزا ملی؟
 نہیں یہ سب نہیں ہو سکا۔ کیونکہ مجرم یہ قبیہہ فعل کرنے کے بعد پردہ ء غیب میں چلے گئے۔ 
کیا کسی نے اس پہ احتجاج کیا؟
 نہیں۔ 
کیا اس پہ احتجاج کی ضرورت ہے؟
 نہیں ، یہ خواتین ہی کا قصور ہوتا ہے کہ ان پہ تیزاب پھینکا جاتا ہے۔ اگر وہ اس طرح رہیں، اگر وہ یہ کریں، اگر وہ اس طرح کپڑے پہنیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اگر اس موضوع پہ بنائ گئ فلم کو ایوارڈ مل جائے تو فلم بنانے والی خاتون صرف اس لئے سی آئ اے کی ایجنٹ قرار پائے کہ اس نے ایسا موضوع کیوں اٹھایا جس سے پاکستان بدنام ہوتا ہے۔ حالانکہ اسے ایجنٹ قرار دینے کی دیگر وجوہات نکالی جا سکتی ہوں۔  لوگ جلدی جلدی اپنا اسٹیٹس اپ ڈیٹ کریں گے شرمین عبید کو ایوارڈ پاکستان کے منہ پہ ایک طمانچہ۔
 اور کل میں نے خبر سنی کہ ایک خاتون پہ تیزاب پھینک دیا گیا چوبیس گھنٹے گذرنے کے بعد بھی ہمارے کسی نوجوان کا کوئ بیان نہیں۔ یہ تیزابی طمانچے پاکستان کے منہ پہ کون مار رہا ہے؟ تیزاب بنانے والے، پھینکنے والے ان پہ فلم بنانے والے یا خواتین؟
یہ تیزاب پھینکنے والے مرد اپنے خاندانوں کے ساتھ اس زمین پہ موجود ہوتے ہیں ، رہتے ہیں، شادیاں کرتے ہیں انکے بچے ہوتے ہیں۔ اسی طرح زمین پہ پیر مار کر سینہ تان کر چلتے ہیں لیکن کسی شخص کو انکے گریبان پکڑنے کی ہمت نہیں ہوتی حتی کہ انکے گھر والے تک انہیں کسی وعظ یا نصیحت کرنے کی جراءت نہیں رکھتے یا شاید وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کسی نصیحت کی ضرورت ہی نہیں۔
اسی مہینے کا واقعہ ہے کہ اقلیتی ہندو لڑکی کو جبراً مسلمان کر کے اسکی ایک مسلمان لڑکے سے شادی کرا دی جاتی ہے وہ ہندو لڑکی رنکل کماری سے سید فریال شاہ بن جاتی ہے۔ انٹر نیٹ پہ مبارکباد کی ویڈیوز چل جاتی ہیں۔ اگر ملک میں کوئ فکر کی آواز اٹھتی ہے تو یہ کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مغربی میڈیا اسے پاکستان کا امیج بگاڑنے کے لئے استعمال کرے۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی لڑکیوں کی پسند کی شادی پہ انہیں کاری قرار دے کر قتل کر دیتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو مایا خان کو شہہ دیتے ہیں کہ پارکوں میں ملنے والے جوڑوں کو ہراساں کریں۔ ہم پارکس میں یہ بے حیائ نہیں پھیلنے دیں گے۔  لیکن جب معاملہ ایک اقلیتی لڑکی کا آتا ہے تو ساری اخلاقیات کا دیوالہ نکل جاتا ہے اور اسکی جگہ ایک مست نعرہ، نعرہ ء تکبیر آجاتا ہے۔ ایک ہندو لڑکی کو مسلمان کر کے ایک مسلمان لڑکے سے شادی کرادی اس ثواب میں جتنے لوگ شامل ہوجائیں کم ہیں۔ اس لئے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کو ہر دل بے قرار۔ ہندءووں کی ایک لڑکی کو عقد نکاح میں لے آنا ہندوستان فتح کرنے سے کم نہیں۔ بابری مسجد کا بدلہ لے لیا۔ 
یہ نہیں معلوم کہ عورت کو بیوی بنا لینا یا اس سے جنسی تعلق  قائم کر لینا، مرد کی فتح کیوں قرار پاتا ہے جبکہ وہ عورت اس فاتح سے دل سے نفرت کرتی ہو۔
۔
۔
۔
کیا آپکو معلوم ہے کہ اگر ایک عورت خوشبو لگا کر باہر نکلتی ہے تو جنت کی خوشبو اسے لاکھوں میل دور تک نہیں ملتی، کیا آپ جانتے ہیں کہ اپنی بچیوں کو حیا عادی بنانے کے لئے انہیں بچپن سے  پردے کی عادت ڈال دینی چاہئیے، کیا آپکو معلوم ہے کہ با اختیار عورت رکھنے والے معاشرے ناسور بن جاتے ہیں۔ کیا آپکو معلوم ہے کہ میراتھن ریس میں عورتوں کا دوڑنا بے حیائ ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ خوشگوار ازدواجی زندگی کا راز عورت کی برداشت اور اپنے آپکو جھکا لینے میں ہے۔
 یہ ساری معلومات مجھے نیٹ کی دنیا میں آجکے نوجوان مردوں کی گفتگو کے نتیجے میں ملتی ہیں باقی جو اوپر خبریں میں نے لکھی ہیں وہ اخبار سے ہی مل پاتی ہیں اس پہ ہمارے نوجوان کچھ لکھنا پسند نہیں کرتے۔  اس سے پاکستان کا امیج خراب ہوتا ہے وہ انتہائ دور اندیش ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ سب سی آئ اے والے کراتے ہیں۔ وہ سی آئ اے کی کسی ایسی سازش کا شکار ہونے والے نہیں ہیں۔
شرمین عبید کا کہنا ہے کہ اپنے خوابوں کو مت چھوڑیں۔ میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کی ایسی باتوں میں نہیں آتی۔ کل اگر میں کسی  مشکل میں پھنس جاءوں تو یہ صاحبہ تواس پہ دستاویزی فلم بنا کر اپنی شہرت کھری کر لیں گی۔ انکے تعلقات کی پہنچ پہنچ کہاں تک ہوگی۔ یہ فلم تو کسی غیر ملکی چینل پہ اپنی قیمت وصول کرے گی۔ میرے ہم وطن تو وہ دستاویزی فلم دیکھ تک نہیں پائیں گے۔ اور وہ حسین کپڑوں میں کیوٹ شکل کے ساتھ ایک اور ایوارڈ وصول کرنے کے لئے چھم سے اسٹیج پہ موجود ہونگیں۔ گوروں کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگا کہ کیا تیزاب سے جھلسنے والی عورت اور یہ عورت ایک ہی ملک کی باسی ہیں۔  وہ اس معمے میں ہی پھنس کر رہ جائیں گے کہ اگر ایسا ہے تو یہ کیونکر ممکن ہے۔ جبکہ یہاں ہم وطن مجھ پہ گذرے ہر ستم کو سی آئ اے کی سازش بنا کر معاملہ ہوا کر دیں گے۔
اس لئے میں اپنے خوابوں کو آبگینوں کی طرح سنبھالے اپنے ہم وطنوں سے ہی پوچھتی ہوں منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟

Monday, March 5, 2012

تقدس سے باہر-۴



ایک انتہائ پسماندہ اور غریب معاشرے میں رسول اللہ نے جنم لیا۔ دنیا جنہیں محمد کے نام سے جانتی ہے۔ خود انکے ابتدائ حالات خاصے مخدوش رہے۔ انکا تعلق بنو ہاشم کے قبیلے سے تھا جو قریش میں افضل قبیلہ سمجھا جاتا تھا لیکن عبدالمطلب کے انتقال کے بعد انکے حالات بھی بہتر نہ رہے۔
 والد کا انتقال آپکی پیدائش سے پہلے ہو گیا۔ عرب روایات کے تحت آپکی پرورش ماں سے الگ ایک دیہاتی علاقے میں ہوئ۔ چھ سات سال کی عمر میں والدہ کے پاس پہنچے لیکن چند مہینوں کے بعد انکا بھی انتقال ہو گیا۔ دادا نے کفالت سنبھالی لیکن جلد ہی وہ بھی داغ مفارقت دے گئے لیکن اپنے بیٹے ابو طالب کو بھتیجے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دے گئے۔ عبدالمطلب کے انتقال کے بعد حالات تبدیل ہوئے بنو ہاشم کے رتبے میں کمی آگئ اور حریف خاندان بنو امیہ حاوی آگیا۔
دس بارہ برس کی عمر میں آپ بکریاںچرایا کرتے تھے۔ جو کہ عربوں کا اہم پیشہ تھا۔ تقریباً بارہ برس کی عمر میں اپنے چچا  ابو طالب کے ساتھ تجارت کا سفر کیا۔
اس سفر میں وہ واقعہ پیش آیا جسے مختلف راویوں نے بیان کیا ہے۔ یہ عیسائ راہب بحیرہ سے ملنے کا واقعہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بحیرہ نے آپکی نبوت کی پیشن گوئ کی تھی۔ یوروپین موءرخین کا کہنا ہے کہ یہاں سے محمد نے مذہب کے حقائق و اسرار سیکھے۔ اور ان بنیادی نکات پہ اسلام کی بنیاد رکھی۔ شبلی تو اس واقعے کے پیش ہونے کے بارے میں بھی شک رکھتے ہیں۔
بہر حال یہ بات تو ثابت ہے کہ تجارت کی غرض سے آپ نے کافی ممالک کے دورے کئے اور مختلف طرز معاشرت کا نہ صرف ذاتی تجربہ کیا بلکہ لوگوں سے معلومات بھی لیں۔ فوٹون کے خیال میں  آپ جیسے ذہین شخص نے ان تمام معاشروں  کے تناظر میں اپنے معاشرے کو  دیکھا ہو گا اور یہ اندازلگایا ہوگا کہ انکے معاشرے کی تنزلی کے اسباب کیا ہیں۔
دعوی ء نبوت سے پہلے آپکے معمولات میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر ایک پہاڑی غار میں تنہا وقت گذارنے کا عمل شامل تھا۔ ایک مغربی مءورخ اسے اس  طرح بیان کرتا ہے۔
سفر و حضر میں ہر جگہ محمد کے دل میں ہزاروں سوال پیدا ہوتے تھے۔ میں کیا ہوں؟ یہ غیر متناہی عالم کیا ہے؟ نبوت کیا شے ہے؟ میں کن چیزوں کا اعتقاد کروں؟ کیا کوہ حرا کی چٹانیں، کوہ طور کی سر بفلک چوٹیاں، کھنڈر میدانکسی نے ان سوالوں کا جواب دیا۔ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ گنبد گرداں گردش لیل و نہار، چمکتے ہوئے ستارے، برستے ہوئے بادل کوئ ان سوالوں کا جواب نہیں دے سکا۔
اس ساری فکر کو  ہم اپنے مذہب کے لحاظ سے دیکھیں تو عبادت جیسی چیز تک محدود کر دیتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ نبوت جیسی پر اسرار طاقت اللہ نے آپکو دینے سے پہلے سے عبادت کا عادی بنایا۔ جبکہ فوٹون جیسا غیر مذہبی شخص  اسے انکی دانش سے منسلک کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ انہوں نے اس تمام عرصے میں یکسو ہو کر سوچ و بچار کی کہ وہ اپنی قوم کو اس جہالت اور غربت سے کیسے نکالیں۔
بطور نبی آپ اپنی قوم کو حضرت موسی کی طرح لے کرکسی اور ملک نکل جاتے یا حضرت عیسی کی طرح صرف تبلیغ پر اکتفا کرتے۔ لیکن آپکو عرب کی بہتری کے لئے، عرب میں رہ کر  کام کرنا تھا ااور اسکے لئے تدبراور تدریج کی ضرورت تھی۔
انکے اس تفکر کا نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب کا انسان کی نفسیات اور اعمال پہ گہرا اثر ہوتا ہے اور مذہبی نظریات کے ذریعے اسے سدھانا آسان ہوتا ہے۔ خاس طور پہ اگر اسے یہ ترغیب دی جائَ کہ اچھے اعمال کا مرنے کے بعد اچھا ہو گا اور برے اعمال کے نتیجے میں مرنے کے بعد برا نتیجہ ہوگا۔ مرنے کے بعد ایک ابدی زندگی ہے جس میں انسان اپنے اعمال کے نتائج بھگتے گا۔ یہی نہیں بلکہ ایک ایسا مذہب جو کسی ایک نکتے کے گرد گھومتا ہو وہ انسانوں کو زیادہ متحد کر سکتا ہے یوں توحید کا نظریہ، شرک کے نظرئیے پہ حاوی ہوجاتا ہے۔ کئ خداءووں کے بجائے ایک خدا انسانوں کو ایکدوسرے کے قریب کر سکتا ہے۔ شرک کی ہر طرح سے مذمت کی گئ اور توحید کو ہر طریقے سے مضبوط بنانے کے لَئے جدو جہد کی گئ۔ شرک کی مذمت اور توحید کی مضبوطی کے ساتھ ہی عرب کو اس بات کے لئے تیار کیا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے پرانے رسم و رواج کی زنجیریں توڑ ڈالے۔ اور مذہب اس سلسلے میں سب سے کڑا امتحان ہوتا ہے۔ اس لئے پہلی کاری ضرب مذہبی نظریات پہ لگی۔
 فوٹون اپنے خیال کی تصدیق کے لئے دیکھتا ہے  کہ جب رسول اللہ اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں تو اس میں جو لوگ ابتداء میں داخل ہوتے ہیں  ان میں ایک امر مشترک تھا کہ وہ قریش کے مناصب اعظم میں سے کوئ منصب نہ رکھتے تھے۔  اس معاشرے کے غریب اور پسے ہوئے لوگ تھے جنکی معاشرے میں کوئ حیثیت نہ تھی۔ مثلا عمار، خباب، ابو فکیہہ، صہیب وغیرہ کو دولت و جاہ کے دربار میں جگہ نہیں مل سکتی تھی۔ اس بناء پہ رسول اللہ کا مذاق اڑایا جاتا کہ یہ ہیں انکے ماننے والے۔ قریش کے رئیس ہنس کر کہتے
یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم لوگوں کو چھوڑ کر احسان کیا ہے۔ سورہ انعام ۱
اہل قریش کے نزدیک انکا افلاس انکی تحقیر کا باعث تھا جبکہ اسی کی وجہ سے وہ حلقہ ء اسلام میں سب سے پہلے داخل ہوئے۔ انکو یہ ڈر نہ تھا کہ اگر اسلام میں داخل ہو گئے تو کوئ منصب جاتا رہے گا۔ ان کے لئے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ تھا اگر وہ جیت جاتے تو معاشرے میں انکی حیثت قائم ہوجاتی ورنہ وہ پہلے سے بھی زیادہ کمزور بنا دئیے جاتے۔


جاری ہے ۔

نوٹ؛ اس تحریر کی تیاری میں جن کتب سے مدد لی گئ ہے وہ یہ ہیں۔ مولانا شبلی نعمانی کی کتاب سیرت النبی، اسکے پبلشر ہیں الفیصل ناشران و تاجران کتب اور مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کی الرحیق المختوم جسکے پبلشر ہیں المکتبہ السلفیہ لاہ


شبلی نعمانی کی سیرت النبی یہاں سے ڈاءونلوڈ کیجئیے۔
الرحیق المختوم یہاں سے ڈاءونلوڈ کریں۔۔

Monday, February 27, 2012

ایک شہر، تین اجتماعات

ابھی تقدس سے باہر کے لئے لکھی گئ ایک تحریر کے حوالہ جات کو ایک آخری نظر سے دیکھنا چاہ رہی تھی کہ اس اتوار کے ندیم ایف پراچہ کے مضمون پہ نظر پڑ گئ۔ مضمون مزے کا تھا۔ 
گذشتہ دنوں کراچی میں چند دلچسپ اجتماعات ہوئے۔ ایک  کراچی لٹریچر فیسٹیول،  اسکے متوازی چلنے والا دوسرا دفاع پاکستان کا اجتماع اور تیسرا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کی طرف سے خواتین کے لئے کیا گیا پہلا اجتماع۔
کراچی لٹریچر فیسٹیول کے بارے میں کیا کہوں، کراچی کے سب سے پوش علاقے ڈیفینس ہاءوسنگ سوسائیٹی کے بھی ایک دور افتادہ  کونے میں منعقدہ کسی تقریب کے لئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ اسکے منعقد کرنے میں یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ کہیں غلطی سے بھی کوئ ایرا غیرا نتھو خیرا ایسا اس میں  نہ آجائے جس کا ہائ کلاس سے کوئ تعلق نہ ہو، اردو لکھنے پڑھنےوالے اس سے جتنا دور رہیں اتنا اچھا ہے ، ایسا نہ ہو کہ عام لوگوں کو اس سے کوئ انسپیریشن حاصل ہو جائے یا یہ کہیں واقعی پاکستان میں لٹریچر کو عام نہ کر ڈالے۔ اور صورت حال کچھ ایسی بنی رہتی ہے  کہ ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں۔ وہ تو تقریب کے احوال اردو میں اتنی تفصیل سے نہیں پہنچ پاتے اس لئے لوگوں کو پتہ نہیں چل پاتا کہ اس بہانے کیسے کیسے غیر ملکی ایجنٹ ہمارے یہاں گھوم پھر کر چلے جاتے ہیں۔
دوسرا اجتماع دفاع پاکستان والوں کا تھا۔  
مقام تھا اسکا قائد اعظم کا مزار۔ خدا جانے کیوں چونسٹھ سال کے بعد قائد اعظم کے سر پہ سب سوار ہونے کو تیار ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ سب کیا دھرا انہی کا تھا اس لئے مر کر بھی چین نہیں پا سکتے۔ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ بہت پاءوں پھیلا کر سو لئے کنج مزار میں۔  ایک کے بعد ایک اجتماع وہیں ہو رہا ہے۔ اب انہیں بھی لگ پتہ گیا ہوگا  بالکل براہ راست کے پاکستان میں ہو کیا رہا ہے۔
دفاع پاکستان کے متعلق میرا خیال تھا کہ جماعۃ الدعوۃ والے کر رہے ہیں۔ جی وہی جماعت جس پہ حکومت کی طرف سے پابندی ہے۔ پھر شہر میں لگے اشتہاروں سے پتہ چلا کہ جماعت اسلامی والے بھی شامل ہیں۔ پھر معلوم ہوا کہ شیخ رشید جیسی سیاسی ہستی  اور اعجاز الحق بھی تشریف لا رہے ہیں۔
اوہ تو یہ آئ ایس آئ والوں کا جلوہ ہے۔ میں نے ہی نہیں بیشتر دیگر لوگوں نے بھی یہی خیال کیا۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم میں کوئ غیر معمولی ذہانت پائ جاتی ہے۔ بلکہ آپ نے اس سکھ کا لطیفہ تو سنا ہوگا جو ایک الماری پہ فدا ہو گیا تھا۔ لیکن دوکاندار اسے دینے کو تیار نہیں تھا کہ ہم سکھوں کو نہیں دیتے۔ پھر اسکے بعد وہ کئ دفعہ ہندو ، عیسائ اور مسلمان کے بھیس بدل کر اسکے پاس پہنچا۔ لیکن ہر دفعہ اس نے ایک ہی جواب دیا۔ ہم سکھوں کو نہیں دیتے۔ 'او تجھے پتہ کیسے لگ جاتا ہے کہ میں سکھ ہوں'۔ سکھ نے عاجز آکر پوچھا۔ 'تم ہر دفعہ فریج کو الماری کہتے ہو'۔ دوکاندار نے عجز سے جواب دیا۔
دفاع پاکستان میں ہونا کیا تھا وہی پاکستان کے دشمنوں کی آنکھیں پھوڑ دینے کا دعوی، جبکہ یہاں ابھی ہمیں ہی کچھ نظر نہیں آرہا۔ تاریخ سے گن گن کر ان واقعات کے حوالے جن سے خون میں ویسا ہی ابال پیدا ہو جیسا باسی کڑھی میں پیدا ہوتا ہے۔  اور پھر انتقام در انتقام سے انکی بینڈ بجانے کا تہیہ۔ اللہ جانتا ہے کہ مجھے نہیں معلوم ، یہاں بینڈ سے کیا مراد ہے۔
اس اجتماع میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی، اسکی وجہ یہ تھی کہ لٹریچر فیسٹیول والوں کے مقابلے میں دفاع پاکستان والوں کو اپنے پیغام کے عام ہونے کا کوئ خوف نہ تھا۔ حالانکہ انکا پیغام سنا ہے کہ حرف بحرف نفرت کا پیغام تھا۔ لیکن اسے سننے کے لئے لوگ ون ڈی، ٹو کے اور ڈبلیو گیارہ جیسی بسوں سے بآسانی پہنچ سکتے تھے۔ حتی کہ جو اس میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے وہ بھی اس جگہ سے اسے سنے بغیر نہیں گذر سکتے تھے۔ تقریریں کرنے والے اور سننے والے انگریزی نہیں اردو میں رواں تھے۔ کیونکہ انکی دل سے خواہش تھی کہ وہ جس جذبے سے بول رہے ہیں وہ جذبہ انکے سامعین کے رگ و ریشے میں اتر جائے اور جب جلسہ ختم ہو تو یہاں موجود ہر شخص ایک مرد مجاہد ہو۔ موسیقی سے اجتناب کیا گیا اور صرف اپنی بغلیں اور دوسروں کی اینٹ سے اینٹ بجانے پہ ہی اکتفا کیا گیا۔ 
سب سے اہم بات یہ تھی کہ جلسے کی پوری کارروائ میں ایک بھی خاتون موجود نہ تھی۔ دفاع جیسا اہم موضوع خواتین کی سمجھ میں کیا خاک آئے گا۔ انہیں تو اپنے دفاع کے لئے بھی بچاءو بچاءو کا نعرہ بلند کرنا پڑتا ہے۔ پھر اللہ کا کوئ بندہ انکا دفاع کرتا ہے یہ الگ بات کے اللہ ہی کا ایک اور بندہ انہیں مورچہ بند ہونے پہ مجبور کرتا ہے۔ یوں اگر خواتین کے دفاع کی بات ہو رہی ہو تو بھی کہانی آخیر میں دو مردوں کے درمیان جنگ کی صورت بن جاتی ہے۔
قسمت کی یہ ستم ظریفی کراچی جیسے ظالم شہر میں ہی نظر آسکتی ہے کہ کہاں تو ایک مقام پہ خون کی ندیاں بہائ جا رہی تھیں کہاں اسی مقام پہ ایک ہفتے بعد بھنگڑے ڈالے جا رہے تھے۔  میں تو بھنگڑے جیسا محتاط لفظ استعمال کر رہی ہوں لیکن لوگوں کے خیال میں اس کے لئے درست لفظ مجرا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ مرد اگر مجرا کر رہے تو بھی کبھی وہ محفل سماع جیسا نیک نام حاصل کرتا ہے، کبھی جدید موسیقی جیسے راک اینڈ رول کہلاتا ہے  یا کبھی شغل اور لوک ڈانس  وغیرہ کہلاتا ہے مثلاً خٹک ڈانس، بھنگڑا۔ اً لیکن خواتین اگر شغلاً بھی ہاتھ پیر ، کولہے ہلا لیں مثلاً لڈی بھی ڈال لیں تو اسے مجرے جیسا پُر شوق نام کیوں دیا جاتا ہے؟
اچھا بہر حال ناقدین کی نظر میں خواتین کا مجرا کرایا گیا ۔ کچھ لوگوں کو یہ اعتراض ہے کہ وہ بھی ننگے سر۔ یعنی اگر سر پہ دوپٹہ ہوتا تو اتنا مکروہ نہ ہوتا۔
بہر حال جلسہ کیوں کہ خواتین سے متعلق تھا اس لئے جو رنگینی اس میں نہ ہوتی وہ کم ہوتی کہ وجود زن سے ہے تصویر کائینات میں رنگ۔ دفاع پاکستان کے خون کے دھبے دھونے کے لئے یا یہ کہ منتظمین نے دفاع پاکستان والوں کے سینے پہ مونگ دلنے کے لئے خواتین کو اسی مقام پہ چوڑیاں بیچیں، پہنائیں اور مہندیاں بھی لگوائیں۔
پونے دو کروڑ کی آبادی رکھنے والے شہر کی خواتین کی توجہ حاصل کرنا ایک  نئے رجحان یا تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سیاسی پارٹیاں اس بات پہ متفق ہوتی ہوں کہ  ملک کے بعض حصوں میں خواتین کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا جائے گا۔ اس میں مسلم لیگ سے لے کر پی ٹی آئ والے بلکہ اے این پی بھی شامل ہوتی ہے۔ وہاں خواتین کی بحیثیت ووٹر آءو بھگت ہونا اانکے لئے خاصہ پر جوش ہے۔
خواتین کے مسائل کے حوالے سے اگرچہ کچھ زیادہ نہیں کہا گیا۔  جلسہ کراچی میں ہوا تھا اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ملازمت پیشہ ہے جو مختلف صنعتوں میں نہ صرف کام کر رہی ہیں بلکہ گھریلو صنعتیں بھی چلا رہی ہیں۔ انکے مسائل بھی اسی حساب سے ہیں۔  بہر حال ہم اس آواز میں شامل ہیں  کہ خواتین پہ تیزاب پھینکنے والوں کے لئے سزائے موت سے کم سزا نہیں ہونی چاہئیے۔
اچھا تو ان تین اجتماعات کے بعد میں کیا سوچ رہی ہوں؟ بس یہ کہ خواتین اور مرد وں کے دلوں تک پہنچنے کے لئے کتنے مختلف راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ کیا کسی ایک سیاسی پارٹی کے لئے یہ دونوں راستے بیک وقت اختیار کرنا ممکن ہے؟

Thursday, February 23, 2012

بلوچستان؛ سرادر کی فوج یا فوج کی سرداری

 امریکیوں نے آزاد بلوچستان کے لئے اپنی سینیٹ میں ایک قرارداد پاس کی۔ وجہ یہ ہے کہ خنجر چلے کسی پہ تڑپتے وہ ہیں، سارے جہاں کا درد انکے جگر میں ہے۔ اسکی دوسری وجہ یہ ہے کہ جنگ ہو یا دوسرے ممالک کے حصے بخرے کرنے کا معاملہ یہ دونوں ہی مشغلے انہیں بھاتے ہیں۔ انکے جنگی بحری بیڑے سمندروں پہ حاضر رہتے ہیں اور انکے مقاصد میں آسانی پیدا کرنے والے صحافی اور سیاستداں اپنی زمینوں میں سرنگیں بنائے انکے منتظر۔
بی بی سی اردو سروس میں وسعت اللہ خان صاحب کا ایک مضمون بلوچستان کے متعلق پڑھ رہی تھی۔  جسے پڑھ کر مجھ جیسے پاکستانی کو لگتا ہے کہ یا تو باغی بلوچ سرداروں نے املا کرایا ہے یا پھر امریکی کانگریس مین نے اپنی قرارداد کے ساتھ اس قسم کے مضامین بھی نتھی کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ بلوچستان کے ساتھ سیاسی غلطیاں اور زیادتیاں ہوئ ہیں لیکن کیا ان سیاسی غلطیوں اور زیادتیوں میں وہ سردار شامل نہیں جو آج آزاد بلوچستان کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔
پچھلے چونسٹھ سال میں اگر حکومت پاکستان کی ملی بھگت سے بلوچستان میں سڑکوں کا جال نہیں بچھا، انگریزی میڈیم اسکول نہیں بنائے گئے، ہسپتال قائم نہیں ہوئے تو کیا پچھلے چونسٹھ سال میں  مری، بگتی اور مینگل سردار اس جہد مسلسل میں اپنی جانیں گنواتے رہے کہ انکے ہم قوموں کو یہ زندگی کی سہولیات مل جائیں۔ یہ بات سوچتے ہوئے بھی ہمیں شرمندگی ہوتی ہے کہ آزاد بلوچستان کا نعرہ بلند کرنے والے یہ سردار آزادی صرف اپنے لئے چاہتے ہیں۔ اور اسکے لئے انہوں نے کیا امریکہ اور کیا لندن ہر جگہ ان لابیز سے گٹھ جوڑ کیا ہوا ہے جو انکے مقاصد تک انہیں پہنچا سکیں۔
یہ سب سردار ااور انکی نسلیں پاکستان ہی نہیں پاکستان سے باہر بھی عیاشی کرتی رہیں اور رونا اس بات کا رہا کہ بلوچستان کے ساتھ بڑی زیادتی ہوتی ہے۔ جس بلوچ کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اس سے کیا مینگل، کیا بگتی اور کیا مری ان سب سرداروں میں سے کسے دلچسپی ہے؟
ان لوگوں کی دلچسپی اگر کسی چیز میں ہے تو وہ یہ کہ بلوچستان میں قدرتی دولت کے جو بھی ذخائر ہیں اسکی آمدنی ان میں اس طرح تقسیم  ہو جائے کہ  کسی اور کے حصے میں آنے نہ پائے۔ یہ 'کسی اور' جسے وہ اپنی قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں ہر وہ شخص ہوتا ہے جو بلوچ نہیں ہے۔ دوسری قومیتوں کا خوف پیدا کر کے اپنے خوفزدہ لوگوں کو کس چیز سے خوفزدہ کرتے ہیں۔  کیا ایک عام بلوچ کو اس بات سے ڈرنا چاہئیے کہ وہ اپنے سردار کی گولی کھا کر بے گناہ مرنے کے اعزاز سے محروم ہوگا اور فوج کی گولی سے مارا جائے گا۔ فوج کی گولی سے مرنا حرام موت اور سردار کی گولی سے مرنا رتبہ ء عالی ہے۔
اختر مینگل صاحب جو اس وقت کسی ترقی یافتہ ملک میں بیٹھے گلچھرے اڑا رہے ہونگے کیا انکے منصوبوں میں کبھی بلوچستان میں سڑک بنانے، اسکول بنانے اور ہسپتال بنانے کے منصوبے شامل رہے۔ کیا انکے مطالبات میں کبھی یہ چیز شامل رہی کہ انکے صوبے کے عوام کو یہ سہولیات دی جائیں۔ نواب بگتی کے پوتے براہمداغ بگتی فرماتے ہیں کہ آزاد بلوچستان ایک اٹل حقیقت ہے۔ ذرا وہی اپنے دادا کے بلوچوں پہ احسان گنوا دیں۔ کوئ ایک اسکول، کوئ ایک روڈ، کوئ ایک ہسپتال ، کوئ ایک  عوامی فلاح کا کام جو ایڈوینچر کے شوقین انکے دادا نے بلوچوں کو عظیم قوم بنانے کے لئے انجام دیا۔  بخدا، مجھ جیسا ہر پاکستانی ان سے نا آشنا ہے۔ چلیں وسعت اللہ خان صاحب ہی بتا دیں کہ سرداروں نے اپنی قوم پہ جو احسانات کئے یا کرنے کی کوشش کی۔ جسکی بنیاد پہ آج بلوچ قوم کو انکے پیچھے کھڑے ہو کر آزاد بلوچستان کی جنگ لڑنی چاہئیے۔ جی وسعت اللہ خان صاحب، ہم سب ان کارہائے نمایاں کو جاننے کے لئے بے تاب ہیں۔
اس وقت بھی بلوچستان کی صورت حال کا نقشہ ایسا کھینچا جاتا ہے جیسا کہ بنگلہ دیش کا سقوط کے وقت تھا۔ حالانکہ بنگلہ دیش اور بلوچستان اور بنگلہ دیش میں ایک واضح فرق موجود ہے اور وہ یہ کہ بنگلہ دیش میں آزادی کے لئے عوامی شعور موجود تھا اور انہیں معلوم تھا کہ انہیں آزادی کے بعد کیا کرنا ہے۔ بلوچستان میں عوام اس بات سے واقف ہی نہیں کہ انسان شعور رکھتا ہے۔ انکی بڑی تعداد گٹکے اور چرس کے کے نشے میں گم ہے۔  یہی نہیں بنگالی ، بنگالی قومیت کا مضبوط تصور رکھتے تھے، انکی زبان اور ادب موجود تھا۔  بلوچستان میں بلوچ قومیت کا تصور ہی چند سرداروں تک محدود ہے جو کہ اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اپنی مٹی یا اپنے لوگوں سے وفاداری کی جنگ انہیں کیا معلوم۔ بھلا کوئ کیڑے مکوڑوں کی خود مختاری کے لئے لڑتا ہے۔ 
دوسری ظالمانہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ تو پشتون ہیں۔ پھر یہاں کی آبادی کا دوسرا بڑا حصہ ان قبائل سے تعلق رکھتا ہے جو لاسی کہلاتے ہیں اور اپنی بنیاد میں یہ سندھی بلوچ ہیں۔ اسکے بعد یہاں پنجابیوں کی باری آتی ہے جو کہ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ایک ایسے بلوچستان کو کس آزاد ملک میں تخلیق کیا جائے گا۔
اچھا ہم یہ تصور کر لیتے ہیں کہ یہ خود غرض، ظالم سردار عوامی حمایت کے ساتھ آزاد بلوچستان حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے. کیونکہ فوج نے ان کو آزادی سے محروم کر رکھا ہے۔  تو انکے آزاد ملک کا انتظام کون چلائے گا۔ وہ کیڑے مکوڑے تو نہیں چلا پائیں گے جو انہوں نے پچھلے چونسٹھ سالوں میں اپنی غلامی کے کوکون میں محفوظ کر کے اپنی بادشاہت کی تسکین کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔ پھر یقیناً یہ امریکی سینیٹرز یا لندن کے صحافی آکر ہی انکی مدد کریں گے۔ ایک دفعہ پھر قدرتی دولت میں انہیں ساجھے دار بنانا پڑے گا۔ تو اب کیا مسئلہ ہے؟
مجھ جیسے پاکستانیوں کو یہ بھی سمجھنا ہے کہ سردار اپنی رعایا پہ زندگی تنگ کر دے انہیں انسان تسلیم کرنے سے انکار کر دے، انکے خاندان کے خاندان ختم کر دے تو کوئ نکتہ ء اعتراض نہیں ابھرتا۔ کوئ اللہ کا بندہ نہیں کہتا کہ انسانی حقوق کی پاسداری کی جائے اور ان زمینی فرعونوں کے خلاف کارروائ کی جائے۔ لیکن جب سیاسی بساط پہ چالیں چلی جاتی ہیں , فوج یا حکومتی ایسے رد عمل پہ امریکی کانگریس مین قرار دادیں پاس کرتے ہیں تو کیا مینگل، کیا بگتی اور کیا وسعت اللہ خان سب ہی ایک آواز ہو جاتے ہیں۔ 
جس طرح پاکستانیوں کو کسی چیز سے نفرت دلانے کے لِئے ایک ہی نعرہ کافی ہے کہ یہ امریکیوں نے کیا ہے اسی طرح یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان سے باہر ایک حلقہ صرف یہ نعرہ لگانے میں دلچسپی رکھتا ہے کہ یہ ظلم پاکستانی فوج کا کام ہے۔ کیا ان دو انتہائ صورتوں کے درمیان پاکستانی عوام کے لئے کوئ امید موجود ہے؟