Friday, May 29, 2009

بنوں میں خدا کے عاشق

میری ایک عزیزہ کے یہاں بیٹی کی پیدائش ہوئ تو میں نے سوچا کہ ان کو مبارکباد بھی دیدوں اور لگے ہاتھوں باقی گھر والوں سے ملاقات بھی کرلوں۔ چلیں اب میری ان کی بات چیت کا سیشن شروع ہوتا ہے۔
میں؛ مبارک ہو بھئ آپ والدہ محترمہ بن گئیں۔
عزیزہ؛ الحمدللہ، جزاک اللہ۔
میں؛ کیسی ہے آپ کی بچی؟
عزیزہ؛ ماشاءاللہ، خیریت سے ہے۔ میری بچی تو سبحان اللہ برکتوں والی رات یعنی شب معراج کو پیدا ہوئ ہے۔
میں؛ اور آپ کی خیریت کیسی ہے؟
عزیزہ؛ الحمدللہ، میں ٹھیک ہوں۔
میں؛ اور ان کے والد صاحب اور اہل خانہ کیسے ہین؟
عزیزہ؛ الحمد للہ وہ سب خیریت سے ہیں
اتنے میں میری ڈیڑھ سالہ بیٹی پاءوں مڑنے کی وجہ سے چلتے ہوئے ذرا لڑکھڑائ۔ عزیزہ کی والدہ کی آواز آئ۔ بسم اللہ ابھی گرتے گرتے بچی ہے۔ میں نے کہا 'آنٹی اتنے گرنے کی فکر نہ کریں۔ بچوں کا تو سارا دن کام ہی یہی ہے۔ زیادہ توجہ دیں تو ذرا ذرا سی چوٹ پہ ہنگامہ کھڑا کرنے لگتے ہیں۔' انہیں میری بات کچھ زیادہ پسند نہیں آئ۔ پھر گویا ہوئیں۔ 'ائے تم نے اسے کلمہ سکھایا۔' میں ہنسی۔'پہلے صحیح سے بولنا تو سیکھے۔ کلمہ، نماز روزہ سب سیکھے گی۔ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئ ہے ۔ مسلمان ملک میں رہتی ہے۔' ان پڑھے لکھے لوگوں کی تو دینداری بھی ایسی ہی ہوتی ہے انہوں نے سوچا ہو گا اور پان کترتے ہوئے گویا ہوئیں ۔' بچہ جب بولنا شروع کرے تو سب سے پہلے اسے کلمہ سکھانا چاہئیے ۔ ہماری ایک نواسی ابھی سوا سال کی ہے پوچھو دعا کیسے مانگتے ہیں تو ہاتھ اٹھا کہ دکھاتی ہے '۔ میں نے انہیں زیادہ پریشان کرنا مناسب نہ سمجھا اور وہاں سے اٹھ کر ان کی بہو کے کمرے میں آگئ۔ وہ اپنے چار مہینے کے بچے کے ساتھ مصروف تھیں۔ جو بری طرح رو رہا تھا۔ کہنے لگیں 'بس ایسے ہی روئے جا رہا ہے صبح سے۔' 'ہوں، پہلے بچے میں تو مسئلہ ہوتا ہے۔ سمجھنے میں ٹائم لگتا ہے۔ میں اس لئے مختلف لوگوں سے معلومات لیتی رہتی ہوں اور انٹر نیٹ سے بھی انفارمیشن لیتی رہتی ہوں۔ تاکہ مسائل کا کم سے کم سامنا کرنا پڑء۔ اب آپ نے اسے اتنے موٹے پولیسٹر کے کپڑے اتنی گرمی میں پہنا رکھیں۔ روئے گا نہیں تو کیا کرے گا۔ بولنا تو آتا نہیں کہ کہے اماں مجھے گرمی لگ رہی ہے'۔ اس بات پہ وہ جھلا گئیں ۔ 'میں نے کہاں پہنائے ہیں۔ یہ ہماری ساس ہیں۔ میری امی نے جو ہلکے کپڑے بنا کر دئے تھے وہ پہناءوں تو فوراً اتار کہ پھینک دیتی ہیں۔ کہ انہوں نے بنائے ہیں۔ شوہر صاحب بازار جا نہیں سکتے مصروف ہیں۔ مجھے وہ بازار نہیں جانے دیتی کہ مسلمان عورت کو اکیلے بازار نہیں جانا چاہئے۔ ۔ اب میں کیا کروں۔ کل ڈاکٹر کے یہاں گئ تھی تو وہ بھی یہی کہ رہا تھا'۔ 'خیریت ڈاکٹر کے پاس کیوں جانا ہوا'۔'مجھے اکثر پیچش رہتی ہے اس لئے۔ 'پانی ابال کر پئا کریں۔ پانی کی وجہ سے مسئلہ ہوتا ہے'۔ ' نہیں پانی تو ابلا ہوا ہوتا ہے دراصل امی کے گھر میں تو بہت کم مرچیں کھائیں جاتی ہیں اور یہاں بہت زیادہ ۔ مجھے زیادہ مرچوں والے کھانوں کی عادت نہیں۔ ان مرچوں کی وجہ سے میرے پیٹ میں جلن رہتی ہے'۔'تو اپنے لئے تھوڑا الگ کھانا کم مرچوں والا بنا لیا کریں'۔ میں نے اپنے طور پہ ایک آسان سا مشورہ دیا۔'جی، ایک دفعہ میں نے سوچا کہ اپنے لئے الگ سے کچھ بنا لوں تو یہاں سب خواتین نے شور مچا دیا کہ الگ ہونے کی تیاری کر رہی ہیں۔ تو بس ہر تھوڑے دن پہ جا کر دوا لینی پڑتی ہے'۔ اب میری ساس کہتی ہیں کہ تم تو ہر وقت بیمار رہتی ہو۔ میرے کان میں ان کی ساس کی آوز آئ اللہ اکبر، یہ کس قدر رو رہا ہے لاءو مجھے دیدو اس کی نظر اتاردوں۔ میں وہاں سے اٹھی۔ انہیں خدا حافط کہا۔ ان کی بیٹی نے ایک دفعہ پھر کہا جزاک اللہ آپ تشریف لائیں۔ بزرگ خاتون نے مجھے نصیحت کی کہ اللہ حافط کہنا چاہئیے۔ مجھے اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔ شاید خدا کو بھی اس سے فرق نہیں پڑتا۔ لیکن خدا کو اس سے ضرور فرق پڑتا ہے کہ ہم اسکے بندوں، اور اس کی مخلوق کو کتنی آسانی دیتے ہیں۔ میں نے انہیں دوبارہ اللہ حافظ کہا۔میرے نکلنے کے بعد انہوں نے کہا ہو گا۔ ہوں یہ عورتیں کیا اپنے بچوں کو مذہب سکھائیں گی۔ بیشتر لوگ نہیں جانتے کہ علامتوں کو دہرانا اور انہیں نہ سمجھنا کسی کی زندگی میں کوئ فرق نہیں لاتا۔ اور نہ ہی ان کے کاز کو کوئ فائدہ پہنچتا ہے۔

یہ ایک اور صاحب میرے سامنے بیٹھے ہیں اور اپنے پچھلے ہفتے کی مصروفیات کے بارے میں بتا رہے ہین۔ اپنی داڑھی میں خلال کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے علاقے کی مسجد پہ ایک اور گروپ قبضہ کرنا چاہ رہا تھا لیکن انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے کیسےاسے ناکام بنا دیا۔'غیرمسلم تھے کیا'۔ میں نےحیرانی سے پوچھا۔ کہنے لگے ۔ جی نہین دیو بندی تھے۔ اور آپ کیا ہیں۔ ہم ماشاللہ سے بریلوی ہیں۔ تو دیو بندی اور بریلوی ایک مسجد میں نماز نہیں پڑھ سکتے۔ جی نہیں۔ پھر بات کا رخ بدلنے کے لئیے میں نے ان سے پوچھا کہ ان کے بھائ کی شادی کا سلسلہ جو میری ایک دوست خاتون کے ساتھ چل رہا تھا اس کا کیا ہوا۔ کہنے لگےآپ نے بتایا نہیں وہ تو دیو بندی ہیں۔ یعنی دیو بندی اور بریلویوں کی آپس میں شادی نہیں ہو سکتی۔ کہنے لگے کوئ کرنا چاہے تو کر لے ۔ لوگ تو غیر مسلموں سے بھی شادی کرلیتے ہیں۔لیکن دیو بندی ہمارے میلاد اور فا تحہ سے بڑے چڑتے ہیں۔ حتی کہ وہ فاتحہ کی چیزیں بھی نہیں کھاتے۔ میری طرف انہوں نے فاتحہ کا لڈو بڑھایا۔ اور میں نے اسے کترنا شروع کر دیا۔ کہنے لگے آپ کیا ہیں۔ 'جی، والدین نے کبھی بتایا نہیں کہ ہم دیو بندی ہیں یا بریلوی'۔ فرمانے لگے آپ کی حس مزاح اتنی اچھی نہیں۔ جی مجھے اس سے اتفاق ہے۔ میں نے جلدی سے ان کا فقرہ پکڑا۔ کسی کوتو فالو کرتی ہونگیں۔ جی میں پوچھ کر بتاءونگی۔ آپ سمجھتے ہیں ناں یہ بڑے نازک مسائل ہوتے ہیں۔

لیکن ان کے جانے کے بعد جب میں نے اپنے آپ سے سوال پوچھا تو لگا کہ اس کا جواب تو مجھے آتا تھا میں اس اسلام کو فالو کرتی ہوں جو اپنی ابتدائ حالت میں تھا۔ جس کا مقصود انسان کو اشرف المخلوقات بنانا تحا۔ اسے چند رٹے رٹائے جملے یاد کرانا نہیں تھا۔ وہ مذہب تو انسان دوستی پہ مبنی تھا جہاں رسول اپنے سجدے کو اس لئے لمبا کر دیتے ہوں کہ ان کی پیٹھ پہ ان کا کم عمر نواسہ کھیل رہا ہے۔ اپنی دودھ پلانے والی ماں کے استقبال کو کھڑے ہوکر ان کے لئے اپنی جگہ خالی کرتے ہوں۔ اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لئے اس کے ساتھ دوڑ لگاتے ہوں گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہوں۔ اس زمانے کے مروجہ طریقے کے مطابق جب آپ کے داماد آکر دوسری شادی کی اجازت مانگتے ہیں تو آپ ایک شفیق باپ بن جاتے ہیں اور کہتے ہیں میری فاطمہ کو دکھ ہو گا۔ ان کے داماد ان کی بات کی پاسداری کرتے ہوئے ان کی بیٹی کی زندگی میں دوبارہ شادی نہیں کرتے۔

خلیفہء اول خلیفہ بن جانے کے بعد بھی اپنے قبیلے کی بیوہ اور ضعیف عورتوں کی خیر خیریت معلوم کرنےجاتےہیں ان کو پانی بھر کے لا کے دیتے ہیں ان سے مصافحہ کرتے ہیں۔ خلیفہ دوئم جو اپنی سخت گیری کی بنا پر مشہور ہیں لیکن میری پسندیدہ شخصیت ہیں۔ انصارکی کسی عورت نےان سے کسی مسئلہ پہ اختلاف کیا۔ اور آپ سے رائے تبدیل کرنے کو کہا تو آپ نے فرمایا'عورتیں ایسی جری تو نہ ہوتی تھیں'۔اس خاتون نے کہا۔ ' کیوں نہیں۔ رسول اللہ کی بیویاں آپ سے مباحثے کیا کرتی تھیں اور اپنی اصابت رائے سےرسول اللہ کو قائل کر لیا کرتی تھیں۔' حضرت عمر نے اس عورت کے دلائل کے سامنے سر جھکا دیا اور خاموش ہو گئے۔

تاریخ کے یہ چھوٹے چھوٹے جھروکے ہمارے سامنے ان انسانون کو لاتے ہین جن کو ظاہری اصولوں اور عقیدت کی مصنوعی دیواروں کے پیچھے جان بوجھ کر دفن کردیا گیا ہے۔ بس یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یا تو وہ ہر وقت صرف کفار سے جنگ اور جہاد میں مصروف رہتے تھے اور وہاں ہر وقت نعرہء تکبیر اللہ اکبر کہتے تھے۔ یا ہر وقت سب تسبیح ہاتھ میں لئے اللہ اکبر کرتے رہتے تھے۔ اخر وہ سب ایک انسانی معاشرے میں رہتے تھے۔ ان کی خانگی زندگی بھی تھی اور خاندانی زندگی بھی۔ نظریات اور سمجھ بوجھ میں اختلاف بھی ہوتا تھا انہی سے انسانی زندگی عبارت ہے۔ ہم نے مذہب کو اپنی ثقافتوں سے قریب کرنے کےلئے اس کی شکل بگاڑ دی ہے لیکن اس کے باوجود ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جتنی سختی سے اس کی ظاہری علامتوں کو نبھاہیں گے اتنے اچھے مسلمان ہونگے۔ حالانکہ سفید رنگ میں رنگ جانے سے کوا کبوتر نہیں بن جاتا۔

اب اقبال کا ایک شعر ہے جسے کسی نے یہ ثابت کرنے کے لئے سنایا تھا کہ انکے بنوں میں خدا کے عاشق بہت ہیں۔

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اسکا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا


شہیدالمحراب، عمر بن الخطاب، سید عمر تلمسانی ترجمہ حافظ محمد ادریس ، البدر پبلیکیشنز، اردو بازار، لاہور۔

Thursday, May 28, 2009

احسان فراموش کراچی والے

اوریا مقبول جان ایکسپریس میں کالم لکھتے ہیں ۔ اور جو چاہتے ہیں لکھتے ہیں۔ اس کے لئے تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ نہ ہی سچ جاننے کی۔ سنی سنائ بات کو آگے بڑھانے والے کے لئے تاریخ میں کچھ زیادہ اچھے الفاظ نہیں۔اور اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے بد دعائیں دینے والے کے لئے اس سے زیادہ برے الفاظ ہیں۔ انکے ایک کالم کو ہمارے ایک کرم فرما شعیب صفدر صاحب نے اپنے بلاگ پہ جگہ دی۔ عنوان تھا اس کا 'ڈر اس کی دیر گیری سے'۔میں نے اس بلاگ پہ اس پہ تبصرہ کیا لیکن میری خواہش ہے کہ یہ تبصرہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے علم میں آجائے۔ معمولی ایڈیٹنگ کے ساتھ یہاں دوبارہ دے رہی ہوں۔ اوریا مقبول جان صاحب سے عقیدت رکھنے والے لوگ، اپنے نکتہء نظر سے ہٹ کر نہ برداشت کرنے والے لوگ براہ مہربانی اسے پڑھنے سے گریز کریں۔۔ باقی خیر ہے۔

اوریا مقبول جان نے روایت کو قائم رکھا یعنی اپنے مطلب کی آدھی بات تو بیان فرما دی اور باقی آدھی بات کا تذکرہ گول کر گئے۔ جہاں انہوں نے اپنے اتنے احسانات گنوائے وہاں اگر وہ کچھ اور باتیں بھی بتا دیتے تو اچھا تھا۔ مثلاً انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جب پاکستان بناتو حالات ایسے تھے کہ حکومت پاکستان کے پاس ایک مہینے کی تنخواہ دینے تک کے پیسے نہ تھے۔ ان مہاجریں نے کسطرح اپنی ذاتی املاک سے فنڈز اکٹھے کئے اس کا کوئ تذکرہ نہیں۔

ذرا اس واقعے کا بیان دیتے جس میں نطام دکن نے میر لائق علی کے ہاتھ اس مملکت خداد معاف کیجئے گا آپکی سر زمین کو مدد کے لئے ایک خطیر رقم بھیجی۔ اس کے علاوہ ناموں کی ایک لمبی لسٹ جو اس وقت میرے دماغ سے محو ہو گئے ہیں۔ذرا دو چار نام ان کے بھی گنوا دیتے یا معلوم کر لیتے تو اچھا تھا۔۔

آپنے اس وقت کی وفاقی ملازمتوں میں مہاجرین کی تعداد کا تذکرہ کیا ہے۔ لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ اسوقت مغربی
پاکستان میں تعلیم یافتہ اور تجربے کار لوگوں کا کس قدر قحط الرجال تھا۔ آپ کا یہ خطہ جس میں اس وقت کا پاکستان موجود
ہے یہاں کی تعلیمی زبوں حالی اور ذہنی معاشرتی زبوں حالی کا تذکرہ بھی کر لیتے تو آپ کے الفاظ دھاک بیٹھ جاتی۔اگر وہ
لوگ آکر یہ سب نہ سنبھالتے تو گاندھی اور جواہر لعل نہرو کی یہ پیشن گوئ کہ یہ ملک تو چند دنوں کے لئے بنا ہے اسے
پورا ہونے سے کون روک سکتا تھا۔ آپ کے جاگیردار یا سردار۔ جن سے اس وقت قائد اعظم کو ڈیل کرنی پڑی تھی کیونکہ وہ
اپنی بات کو ہر صورت پورا کرنا چاہتے تھے۔ اس وقت ان سے کی گئ ڈیل کے نتیجے میں یہ ملک کبھی جاگیرداری کے آسیب
سے آزاد نہ ہو سکا حالانکہ جواہر لعل نہرو نے آزادی کے فوراً بعد زمینداری نطام کے خاتمے کااعلان کیا۔

مزید اطلاع کے لئے عرض کر دوں کہ ان میں سے بیشتر لوگوں کو حکومت پاکستان نے اپنی درخواست پر یہاں بلا یا تھا ایسا
نہیں تھا کہ وہ لوگ اس وقت وہاں بغیر کسی ملازمت کے پڑے ہوئے تھے اور آپ نے انہیں یہاں بلا کر روزی روزگار دیا۔۔ اس
سلسلے میں اس وقت فوری طور پہ جو نام مجھے یاد آرہا ہے وہ بھوپال کی ولعیہد شہزادی عابدہ سلطان ہیں۔ شہزادی بھوپال
کا محل چھوڑنے کے بعد کراچی میں ملیر کے ایک سادہ سے گھر میں آکر رہیں انہیں حکومت ہندوستان ہر قسم کی
سہولیات دینے کو تیار تھی مگر انہیں آپ کا احسان اٹھانا مقصود تھا اس لئے وہ یہاں آگئیں۔ کبھی موقع ملے یا دوسروں کے
احسانات جاننے کا دل چاہے تو ان کی خود نوشت سوانح حیات ضرور پڑھئے گا۔ جس میں انہوں نے بڑی تفصیل سے آپکی
سرزمین پہ ان کے ساتھ کیا گذری بیان کیا ہے۔ ایسے لوگوں کے ناموں کی ایک لمبی لسٹ ہے بیشتر تو گمنامی کے
اندھیروں مییں ڈوب گئے۔

پھر جناب آپ نے کلیمز کا تذکرہ کیا ہے ان کلیمز سے پنجابی مہاجرین نے فائدہ اٹھایا ہو تو ہو۔ لیکن اگر کراچی میں رہنے والوں
نے اسی رفتار سے فائدہ اٹھایا ہوتا تو آج اس شہر کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ ان کلیمز کے بارے میں بھی آپ ان کی کتاب
میں تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں۔ کہ کسطرح مقامی لوگوں نے یہ کلیمز ہتھیائے۔ حتی کہ آپ کے پسندیدہ حکمراں ایوب خان
نے اپنے وقت میں ایک آڈر جاری کیا جس کی رو سے کلیمز کے صحیح حقدار صرف وہ لوگ تھے جن کی چھوڑی ہوئ جگہوں
کی سرحدیں موجودہ پاکستان سے ملتی ہوں۔ یعنی صرف پنجابی مہاجرین کے کلیمز کے مطابق انہیں واجبات دئے جائیں
گے اور اندرون انڈیا سے آنے والوں کے کلیمز زیادہ سے زیداہ تین لاکھ کی حد تک ادا کئے جائیں گے۔ یہ کھلی تعصبیت
پسندی تھی۔ مگر جناب ہم تو آپ کے احسان مند تھے اس لئے بغیر کسی چوں چرا کے اس فیصلے کو قبول کر لیا۔

آپ نے ان بیس لاکھ جانوں کی قربانی کا تذکرہ نہیں کیا اور انکی جو نہ یہاں کبھی آئے نہ یہاں کے وسائل سے کوئ فائدہ لیا
مگر اپنا سب کچھ اس نعرے کے پیچھے گنوا دیا۔ بٹ کے رہے گا ہندوستان، بن کے رہیگا پاکستان۔ ان کی نسلوں کو آپ کی
عیاشیوں کا بھگتان بھگتنا پڑا۔ اگر یہ لاکھوں قربان نہ ہوتے تو آج آُ پ ہندو مہاجنوں کے قرضدار ہوتے جو قیام پاکستان کے وقت
یہاں سے چلے گئے اور آپ کو برسوں کے قرضوں سے نجات ملی۔ پاکستان تو آپ کو ان کی بے غرض اور بے لوث قربانیوں کے
انعام میں ملا۔ جس کی آپ کو کوئ قدر نہیں۔ قدر بھی کیسے ہو، مال مفت دل بے رحم۔ آپ کے خطے کا تو یہ علم تھا کہ ایک
صبح اٹھے تو پتہ چلا کہ پاکستان بنا ہے اور ایک اورصبح اٹھے تو پتہ چلا کہ پاکستان ٹوٹ گیا ہے۔ بن گیا تو ہمارا ہے اور ٹوٹ گیا
تو چلو اچھا ہوا جان چھوٹی۔ یہ تو ان لوگوں سے پوچھیں جنہوں نے اپنے رشتے ناطے، زمین مال متاع ، جاہ و حشمت یہ
جاننے کے لئے چھوڑی کہ ان کے کتنے محسنین ہیں۔ کیسے کیسے لوگ ایسے ایسے ہوگئے، ایسے ایسے لوگ کیسے
کیسے ہوگئے۔

اگر اسوقت آپ نے لیاقت علی خان سے آپ کے بقول محبت کا اظہار کیا جس کا ثبوت ان کے سینے کو پھاڑنے والی گولی ہے
تو انہیں یہی زیبا تھا۔ ایک شخص جو کہیں کا نواب ہو، اپنا سب فخر چھوڑ کر آپکی زمین کو آزاد کرانے والے لوگوں میں شامل
ہو اور ایک بھرے پرے مجمعے میں پاکستان کے قیام کے صرف تین سال بعد اپنے سینے کا خون روکنے کی ناکام کوشش کرتے
ہوئے یعنی مرتے وقت بھی پاکستان کا نام لے اور مرنے کے بعد اس کی شیروانی کے نیچے پھٹی بنیان موجود ہو۔ کیا آپ
اپنی تاریخ سے ایسی کوئ دوسری مثال ڈھونڈ کر لا سکتے ہیں۔ افسوس آپ کے پاس صرف احسانات کی تاریخ ہے۔

اگر ان مہاجرین نے جس وقت وہ پاور میں تھے آپ جیسی دور اندیشی دکھائ ہوتی یعنی ہر جگہ اپنے نا اہل رشتے دار یا
برادری کے بندے کو ڈالا ہوتا تو آج بھی ان جگہوں پہ وہی ہوتے یا ان کی آل اولاد۔نجانے کیوں ان بیوقوفوں نے نے نئے وطن سے
اتنی محبت اور اصول پسندی دکھائ۔ انہوں نے اپنی روشن خیالی ، وسیع النظری سے آپ لوگوں کے لئَے جگہ خالی کی آپ
کی تربیت کرنے کی کوشش کی۔ آپ نے ان کا صفایا اس طرح کیا کہ دامن پہ کوئ داغ نہ خنجر پہ کوئ چھینٹ۔ ان کے
پاکستان میں ہر کسی کے لئے احترام تھا محبت تھی ۔ ترقی کے آثار تھے۔ آپ کے پاکستان میں تنگ نظری ہے، شدت پسندی
ہے اور آپ کی بات سے اختلاف کرنے والے کے لئے ذلت، خواری اور خاتمہ بالخیر ہے۔ یہاں ہر چیز تنزلی کی طرف ہے۔ صرف
تنگ نظری ہے جو ماشاللہ خوب پھل پھول رہی ہے۔

اس پر بھی جب آپ نے دیکھا کہ یہ احساس ندامت سے عاری لوگ اپنے لئے نئ منزلوں کے سراغ نکالنے میں لگے ہوئے
ہیں۔تو آپ نے انہیں کوٹہ سسٹم کی کند چھری سے ذبح کرنا شروع کیا۔ تاکہ تکلیف زیادہ ہو۔ ہم نے اس تحفے کو بھی ہنس
کے سہا۔اور اپنے لئے دوسری راہیں تلاش کیں۔ لیکن جناب ابھی ہماری سزا پوری کہاں ہوئ۔

مہاجروں کےطرے کا خم نکالنے کے لئے چودہ دسمبر ۱۹۸۶ کو پٹھانوں کے لشکر بھیج کر ان کے نہتے لوگوں کو وہ سبق
سکھایا کہ اس نسل کے لوگ کے سینوں پہ نقش ہوگیا۔ نہ نہ آپ اس سلسلے میں ایم کیو ایم کا نام نہ لیں یہ جماعت تو
اس وقت عملی طور پہ تھی ہی نہیں۔ اس وقت تو اس شہر پہ آپ کا راج تھا۔ موجودہ نسل کو یہ تاثر دیا جات ہے کہ بشری
زیدی کے حادثے کے بعد ایم کیو ایم نے فسادات شروع کروائے چونکہ یہ واقعہ اتنا پرانا نہیں تو اس کی عینی شہادت میں
دینے کو تیار ہوں۔ ایک علاقے کے مظلوم اور نہتے لوگوں پر جو اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھے ان پر پٹھانوںکے
لشکروں نے جو راکٹ لانچر سمیت ہر جدید ہتھیار سے لیس تھے انہوں نے حملہ کرکے مہاجروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
اس کی وجہ میں اپنے فاضل کالم نگار کو ضرور بتانا چاہوںگی اور وہ یہ تھی کہ اس سے پچھلی رات سہراب گوٹھ پر ہیروئن اور
اسلحے کی بازیافت کے لئے چھاپا پڑا تھا۔۔ یہ جگہ اس وقت بھی پٹھانوں کے بیشتر جرائم کا اڈہ تھی اور آج بھی اس کی
شہرت اچھی نہیں ہے۔ آپ کی ساری انتطامیہ چھ گھنٹوں کے لئے خاموش کھڑی تھی۔ اوپر سے آڈر نہیں تھا۔۔ اور پولیس کا
کام صرف یہ تھا کہ علاقے سے باہر کے لوگ ان مطلوموں کی مدد کو نہ پہنچ جائیں۔ ان لوگوں کو باہر روک دیا جائے۔ اس کا انہیں
آڈر تھا۔ جب کئ سو لوگوں کو قتل کر ڈالا گیا اور ہر گھر سے آگ کے شعلے بلند ہوئے تو وہ لوگ واپس ہوئے لال مسجد کے
لئے آنسو بہانے والوں کو شاید یہ واقعہ معلوم ہی نہیں۔یہ وہ منحوس دن تھا جس دن آپ کے احسانات کی حدوں سے نکلنے
کی خواہش پیدا ہوئ۔

آپ کا شکریہ کہ آپ نے ہمیں کچھ اور سوچنے پہ مجبور کیا۔ ہمیں بتایا کہ الطاف حسین نامی شخص بھی اس شہر میں
موجود ہے۔ آپ کا شکریہ کے ہمارے نوجوانوں کے دلوں سے ہتھیار کا خوف نکالا۔ انہیں بتایا کہ طاقت ہتھیار سے حاصل کی
جاتی ہے قلم اور علم تو بیوقوفوں کے لئے ہیں۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا تو حضور ، اب آپ پھر ناراض ہیں۔ آپ نے اپنے احسان
فراموشوں کی ایک نسل کو تباہ و برباد کر دیا۔ ایسوں کے ساتھ تو ایسا ہی کرنا چاہئیے۔ جناب ہم تو آپ کے احسانات کے بوجھ
تلے کچلے ہوئے ہیں ہمیں تو ہر لحظہ جناب کے ماتھے کے بل گنتے رہنا چاہئیں۔ اور کسی بھی احسان فراموشی کا تصور
بھی ذہن میں نہیں لانا چاہئے۔ لیکن حضور ایسا ہے کہ ہم آپ سے ابھی تک ڈرے ہوئے ہیں۔ کیا عالی مرتبت اس خوف کو
ہمارے سینوں سے نکالنے کا نیک کام کریں گے۔ یا اس شہر میں مزید پٹھانو ں کی مافیاز قائم کرنے کے منصوبے بناتے رہیں
گے۔ کیا اس دفعہ آپ ہمیں طالبانوں کے ہاتھوں سبق سکھانا چاہتے ہیں۔ وہ سبق جو آپ نے اپنے معصوم ہموطنوں کو رٹوادیا
ہے اور جس سے ماشاللہ آپ کے درو دیوار سرخ ہو رہے ہیں۔ عالی قدر سر میں تو اتنی خوفزدہ ہوں کہ سوچتی ہوں کہ کسی
اور ملک کی شہریت اختیار کرلوں میری ایک چھوٹی سی خواہش ہے کہ میرے بچوں کے، میری آنیوالی نسلوں کے دل نارمل
انداز میں دھڑکیں۔اور ان کے سینوں میں کوئ خوف نہ ہو۔اور نہ احسان کا بوجھ ۔ یہ بہت بھاری ہوتا ہے جناب۔


ریفرنس؛
عابدہ سلطان، یہ شہزادی صاحبہ کی خود نوشت سوانح عمری ہے جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا۔ پاکستان کی پڑھی لکھی خواتین کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے یہ کتاب ایک عورت کی جہد مسلسل کی داستان ہے وہ بھی مسلمان عورت کی۔

شہزادی عابدہ سلطان
عابدہ سلطان

اوریا مقبول جان کا مضمون اس بلاگ میں ہے۔ 'ڈر اس کی دیر گیری سے'۔
شعیب صفدر کے بلاگ میں اس کی تاریخ ہے پچیس مئ، ۲۰۰۹

Wednesday, May 27, 2009

رحیم یار خان کی ریحانہ

میری ماسی کا نام ریحانہ ہے۔ وہ میرے گھر کے قریب کچی آبادی میں نالے کے کنارے پہ رہتی ہے۔ اس کا تعلق رحیم یار خان سے ہے۔ یہ تعلق میں اکثر اس لئے بتاتی ہوں کہ ہر انسان اپنی ثقافت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ماحول سے ہٹ کر سوچنے سمجھنے اور عمل کرنےکی صلاحیت رکھتے ہوں۔ یہی لوگ وقت سے آگے اور اس سے الگ ہو کر دیکھ سکتے ہیں۔ اور نا محسوس طریقے پہ انہی لوگوں سے دنیا کا مستقبل جڑا ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت اپنے اسی روائتی نظام سے جڑی رہتی ہے اور بلآخر وہ اس نظام کی اور وہ نظام ان کی شناخت بن جاتا ہے۔
ہاں تو میں اپنی علامیت ایک طرف رکھ دیتی ہوں کیونکہ اس قصے میں جو بہت سادہ سا ہے اور اس میں نہ کوئ گہرئ اہے، نہ سنسنی نہ نیاپن اور نہ کوئ سبق۔ لیکن بات یہ ہے کہ دنیا کی کتاب بس ایسے ہی بھرتی کے صفحات سے زیادہ بھری ہوئ ہے۔اب جو لوگ کچھ نئے کے لئے یہاں آئے ہیں وہ برائے مہربانی یہیں سے پلٹ جائیں۔ اس سے ان کا وقت کم ضائع ہوگا۔

ہاں تو مجھے اسکا گھر صحیح سے نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہےیعنی اختر شیرانی کی طرح میں انگلی آٹھا کہ یہ نہیں کہ سکتی کہ یہی ہے وہ گلی ہمدم جہاں ریحانہ رہتی ہے۔ کچھ لوگ اگر اختر شیرانی سے میرا رشتہ جاننا چاہتے ہیں تو بتا دوں کہ وہ عرصہ دراز ہوا اس دار فان سے کوچ کر چکے ہیں شاعر تھے خواتین کا نام اپنی شاعری میں خوب استعمال کرتے تھے لیکن افسوس میرا نام کبھی استعمال نہیں کیا۔ ایک طرح میری بچت ہو گئ وگرنہ کراچی سے باہر کے ہر ایک شخص کو یقین دلانا پڑتا کہ وہ عالم بالا سے افیئر چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتےاور نہ ہی مجھے روحوں سے کوئ دلچسپی ہے۔

خیر بات کسی اور طرف چلی گئ۔ میں واپس ریحانہ کیطرف آتی ہوں۔ وہ پچھلے دو سال سے میرے پاس ہے۔ اس کے پانچ بچے ہیں اور چھٹا آنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس سے پہلے ایک زمانہ ایسا گذرا کہ جھاڑو ایک ماسی لگاتی اس اثناء میں وہ ڈس مس ہوجاتی اور پھر پونچھا لگانے دوسری عورت آتی۔کبھی کبھی میں ہی صبح سے رات تک گھر کے کاموں مین گھن چکری بنی رہتی۔ ریحانہ صفائ کے معاملے میں جیسی بھی ہو۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ وہ خاموشی سے اپنا کام کرتی رہتی اور میں اپنا۔ اگر میں اسے کسی غلطی سے آگاہ کروں تو بغیر کسی جھک جھک کے اسے صحیح کر دیتی ہے۔ مجھے سرائکی لوگوں کی طبیعیت کا یہ ٹھنڈا پن پسند ہے۔

ابھی دو دنوں سے وہ نہیں آرہی تھی تو میں نے اس کی نند سے جو اتفاق سے گھر میں کچھ اور اور کام انجام دیتی ہے اس کے بارے میں دریافت کیا۔

اس نے مجھے بتایا کہ ریحانہ کا اپنے شوہر سے کچھ جھگڑا ہو گیا تھا تو بس اس دوران میں اسے چوٹ لگ گئ اور اس کے ہاتھ کا جوڑ اپنی جگہ سے کھسک گیا۔ ریحانہ نے اپنی جگہ کام کرنے کے لئے ایک اور ماسی کو بھیجا ہے وہ تھوڑی دیر میں آئے گی۔ وہ آئ تو ایک بڑی بی نکلیں، لگ بھگ ساٹھ سال کی۔ میں اسے دیکھ کر خاموش ہو گئ۔ جب وہ جانے لگی تو میں نے اس سے پوچھا کہ میں نے سنا تھا تمہاری بیٹی کام کریگی۔ کہنے لگی وہ کسی اور جگہ جاتی ہے یہاں نہیں آ سکتی۔ اب میں کچھ سوچنے لگی تو اس نے دھیمی آواز میں مجھ سے پوچھا ' کیوں میرا کام پسند نہیں آیا؟' ' آں، نہیں یہ بات نہیں ہے۔ کام کافی زیادہ ہے اور تم خاصی کمزور اور بوڑھی ہو'۔ مجھے بالآخر کہنا پڑا۔ ' کیوں باجی، کیا بوڑھوں کا پیٹ نہیں ہوتا۔ پیٹ تو جوان بوڑھے سب کے ساتھ لگا ہے'۔ اس نے جیسے میرے منہ پہ اسکا چ ٹیپ لگا دیا ۔

اگلے روز ریحانہ مجھ سے ملنے آئ اس کے ہاتھ پہ پلاستر چڑھا ہوا تھا۔ کیا ہو اتھا ریحانہ میں نے اس کے ہاتھ پہ ہمدردی کی نظر ڈالی۔ 'باجی چھوٹی بچی کی طبیعیت خراب تھی۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ ڈاکٹر کے پاس اسے لے جاءّو۔ کہنے لگا تم لے جاءو میں تھکا ہو ہوں۔ اب آپ بتائیں کیا میں تھکی ہوئ نہیں تھی۔ میں بھی سارا دن کام کرتی ہوں۔ بس یہ بات میں نے اس سے کہی تو مجھے مارنے لگ گیا اور ساتھ ساتھ میری ماں بہنوں کو گالیاں دینے لگا۔ اب آپ بتائیں۔ ہمارے جھگڑے میں میری ماں بہنوں کے لئے کیوں گالیاں نکالیں۔ اتنا مارامجھے۔ پھر اسٹیل کے چمچے سے مارنے لگا بس وہ ہاتھ پہ لگ گیا۔ ہڈی میں فریکچر ہو گیا۔ میں تو ناراض ہو گئ تھی اپنی ماں کے پاس چلی گئ۔ پر بعد میں رونے لگا کہتا ہے میرے اوپر کسی نے جادو کردیا ہے۔ مجھے مارتے ہوئے احساس نہیں ہوا میں کتنا مار رہا ہوں۔ بچوں کو بھی مارا۔ میں بالکل پاگل ہو گیا تھا۔ آپ بتائیں کام تو ہم اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے پیسوں میں پورا نہیں ہوتا۔ ہم تو ان کی مدد کرتے ہے۔ لیکن یہ سمجھتے نہیں۔ میں واپس گھر آگئ وہ اتنا رو رہا تھا۔' میں خاموشی سے اس کی کہانی سنتی رہی۔ وہ سرائکی انداز میں بہے جا رہی تھی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میرے پاس کسی جادو کا توڑ نہیں۔ اور میں دریا کے کنارے پڑے پتھر کی طرح اسے تک رہی تھی۔

دیکھا آپ نے یہ کتنی عام سی بات تھی۔ لیکن بس اتنی عام باتوں پہ کوئ اپنے بچوں کے گلے کاٹ کر خود کشی کر لیتا ہے اور کوئ مٹی کا تیل ڈال کر آگ لگا لیتا ہے۔ میں ریحانہ کے ساتھ ملکر ان جادو کرنے والوں کو کوستی ہوں۔ وے تیرا ککھ نہ رہوے۔

Monday, May 25, 2009

کراچی میں آم

شہر میں آم ہیں، اور کوڑیوں کے دام ہیں۔ سب کہیں گے بک رہی ہیں جنوں میں کیا کیا کچھ۔ حالانکہ میں شاعری کرنے کی کوششش کر رہی ہوں اس لئے آموں کے دام میں غلط بیانی کرنی پڑی ورنہ قافیہ کیسے ملتا۔ اچھا چلیں یوں کرلیتی ہوں شہر میں آم ہیں، شہد کے جام ہیں۔ اب ہر ایک مجھے لعن طعن کریگاخاتون اورجاموں کا تذکرہ۔ یہ ہے مشرف کے زمانے کی بے حیائ۔ میری توبہ۔ چلیں یہ تو ممکن ہے کہ شہر میں آم ہیں سب تمہارے نام ہیں۔ اب آم بیچنے والے میری شامت لائیں گے۔ ایسے کس کا نام ہے ہر ایک کا دام ہے ۔ لیجئیے بات پھر دام پر آگئ۔ چلیں خواب دیکھتے ہیں، شہر میں آم ہیں کوڑیوں کے دام ہیں۔

غالب کا آموں سے عشق کوئ ڈھکی چھپی بات نہیں۔ نہیں معلوم کہ یہ ان کا پہلا عشق تھا یا دوسرا لیکن راوی لکھتا ہے کہ انکی آم کے متعلق دو خواہشات تھیں۔ اول یہ کہ میٹھے ہوں اور دوئم یہ کہ بہت ہوں۔کراچی کے راوی کا کہنا ہے کہ اگر سب کے سب انورٹول ہوں تو کون پاجی امریکہ اور کینیڈا کی شہریت اختیار کرے گا۔

یہ غالب کے قصائد میں سے لئے گئے کچھ شعر ہیں۔ آم کھانے کے بعد پڑھئے۔ آم کھا کر پیدا ہونے والی غنودگی ختم ہو جائے گی۔ آزمائ ہوئ بات تو نہیں پر آپ پہ آزما لینے میں کیا نْقصان ہے۔

بارے آموں کا کچھ بیاں ہوجائے
خامہ نخل رطب فشاں ہوجائے
آم کا کون مرد میداں ہے؟
ثمروشاخ، گوئے چوگاں ہے
تاک کے جی میں کیوں رہے ارماں آئے،
یہ گوئے اور یہ میداں
آم کے آگے پیش جاوے خاک
پھوڑتا ہے جلے پھپھولے تاک
نہ چلا جب کسی طرح مقدور
بادہء ناب بن گیا انگور
یہ بھی ناچار جی کا کھونا ہے
شرم سے پانی پانی ہونا ہے
مجھ سے پوچھو ، تمہیں خبر کیا ہے
آم کے آگے نیشکر کیا ہے
نہ گل اس میںنہ شاخ و برگ، نہ بار
جب خزاں آئے تب ہو اس کی بہار
اور دوڑائیے قیاس کہاں
جان شیریں میں یہ مٹھاس کہاں
جان میں ہوتی گر یہ شیرینی کوہکن باوجود غمگینی
جان دینے میں اس کو یکتا جان پر
وہ یوں سہل دے نہ سکتا جان
نظر آتا ہے یوں مجھے یہ ثمر
کہ دواخانء ازل میں مگر
آتش گل پہ قند کا ہے قوام
شیرے کے تار کا ہے ریشہ نام
یا یہ ہوگا کہ فرط رافت سے
باغبانوں نے باغ جنت سے
انگبیں کے بحکم رب الناس
بھر کے بھیجے ہیں سر بمہر گلاس
یا لگا کر خضر نے شاخ نبات
مدتوں تک دیا ہے آب حیات
تب ہوا ہے ثمر فشاں یہ نخل
ہم کہاںورنہ، اور کہاں یہ نخل
تھا ترنج زر ایک خسرو پاس
رنگ کا زرد، پر کہاں بو باس
آم کو دیکھتا، اگر اک بار
پھینک دیتا طلائے دست افشار
رونق کارگاہ برگ ونوا
نازش دودمان آب و ہوا
رہرو راہ خلد کا توشہ
طوبی و سدرہ کا جگرگوشہ
صاحب شاخ برگ و بار ہےآم
ناز پروردہء بہار ہے آم

ریفرنس؛
یہ اس دیوان غالب سے لیا گیا ہے جس کے ناشر و طابع ہیں۔ فضلی سنز پرائیویٹ لمیٹڈ اردو بازار، کراچی
fazlee@cyber.net.pk

Sunday, May 24, 2009

خبردار ہم ایک ایٹمی قوت ہیں

اپنے بچپن میں میں ہم ایک کھیل کھیلتے تھے جس میں ہم بچے ایک تخت پہ چڑھ کر بیٹھ جاتے اور ایک فرضیہ بھوت کو تخت کے نیچے محسوس کرتے اور زور زور سے چیختے تھے ایک فرض کئے ہوئے خوف کے زیر اثر۔چیخنے کے بعد بڑا مزہ آتا۔ اور ہر تھوڑی دیر بعد یہ سیشن ہوتا۔ میری نانی کے گھر میں ایک کونے میں پڑا ہوا تخت بس اسی مقصد کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ اسے اڈرینالن ہائپ کہتے ہیں۔ ایک سنسنی سے گذرنا اور پھر اس سے لطف اندوز ہونا کیونکہ کافی دیر تک خون رگوں میں پارہ بن کر بھڑکتا اور دوڑتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں،

پلٹنا جھپٹنا، جھپٹ کر پلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

لیکن بات پلٹنے جھپٹنے سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔ اب میدانوں میں شمشیر کے کمال دکھا نے والے شمشیر زن نہیں رہےبلکہ کسی لیبارٹری میں ایک میز پہ جھکا وہ خود غرض شخص ہے جو طاقت کے کھیل میں شامل فریقین کے اڈرینالن ہائپ سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ کیوں اسے بھی تو ناموری کا شوق ہے۔ بد نام جو ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا۔ لاکھوں انسانوں کو بیک جنبش انگلی اس صفحہء ہستی سے مٹا دینا اب ہوا کتنا آسان۔ ایٹم بم کی بدولت۔ اب ہمیں کس کا شکریہ ادا کرنا چاہئیے۔اڈرینالن ہائپ کے شکار حکمرانوں اور انہیں شہہ دینے والی قوتوں کا۔ فوجی ھتھیاروں کی سپلائ کرنے والی صنعتوں کا۔ یا انسانیت کے دشمنوں کاجو انسان نامی مخلوق کو اس دنیا سے مٹانے کی کوششوں میں رات دن مصروف ہیں اور اسی تندہی سے مصنوعی طریقوں انسان پیدا کرنے کی کوششوں میں بھی۔

آئنسٹائن کے نظریہء اضافت کو استعمال کرکے امریکہ نے ایک پروجیکٹ کی بنیاد رکھی۔ جس کا نام رکھا گیا۔ پروجیکٹ مین ہیٹٹن۔اس پروجیکٹ کو جناب آءنسٹائن کی تائید حاصل تھی۔ اس پروجیکٹ میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور یورپ کے طبعیات دان، انجینیئرز اور حساب دان شامل تھے۔ اسکے نتیجے میں بننے والے پہلے ایٹم بم کو دی گڈگت کا نام دیا گیا۔ ۱۹۳۹ ء میں بم بنانے کے کام کا آغاز ہوا۔ اور ۱۹۴۵ میں اسمیں کامیابی حاصل ہوئ۔ اس وقت ان چھ سالوں ،میں اسپروجیکٹ پردو بلین ڈالر کا خرچہ آیا۔ پہلا دھماکہ ا۱۹۴۵ کی جولائ میں میں نیو میکسیکو میں امریکہ صاحب بہادر نے کیا۔

پروجیکٹ مین ہیٹن کے نگراں رابرٹ اوپنار نے پہلے دھماکے کے بعد سر خوشی کے عالم میں کہا۔

'I am become death, the destroyers of world.
'اب میں موت ہوں، دنیاءووں کو نیست ونابود کرنے والا۔

اور اگلے دو دھماکے جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی میں بالترتیب چھ اور نو اگست کو کئے گئے۔انسانی تاریخ میں یہ ایک گھناءونے دن کے طور پہ یاد رکھا جائے گا۔ لاکھوں انسان ، زندہ انسان چشم زدن میں صفحہء ہستی سے نابود ہو گئے۔اور جو بچ گئے وہ نشان عبرت بن گئے ان کی ان نسلوں نے بھی اسے بھگتا جو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئ تھیں۔ دھماکے کے فوراً بعد ہیروشیما میں بم گرنے کے مرکز سے لیکر ڈھائ میل کے علاقے میں ہر جلنے والی چیز جل کر ختم ہو گئ۔ آپ کو پتہ تو ہوگا کہ انسان بھی آگ سے مامون نہیں۔ باقی بچ جانے والے لوگ ایٹم بم سے نکلنے والی تابکار شعاعوں کے شکار ہوئے اور مختلف لاعلاج قسم کے امراض میں مبتلا ہوئے۔ ان کی آنے والی نسلوں میں خون کا کینسر عام تھا۔ اور آج بھی وہ مکمل طور پر اس سے چھٹکارا نہیں پاسکے۔ یہ عذاب خدا نے ان پہ نہیں اتارا تھا۔ یہ بہت سارے انسانوں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ قدرت نے تو بس ہمیں اشارہ دیا کہایٹم بم کی تابکار شعاعیں اگر ہمارے دشمن کی نہیں تو ہماری بھی نہیں ہیں۔

ان دھماکوں کے نتیجے میں جاپان نے دس اگست ۱۹۴۵ کو ہتھیار ڈال دئیے۔ یوں دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا۔ جاپانیوں نے بعد میں ایٹم بم تیار کرنے کی کوشش نہیں کی انہوں نے اپنی تعلیم اور ہنر مندی میں اضافہ کیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ خود امریکہ کے اندر امریکی مصنوعات کے بجائے جاپانی مصنوعات کو ترجیح دی جانے لگی۔یوں آج جاپانی دنیاکی سب سے محنتی قوم ہے۔



پاکستان نے۲۸ اور ۳۰ مئ ۱۹۹۸ میں پانچ ایٹمی دھماکے کئے۔ یہ دھماکے ان دھماکو ں کے جواب میں کئے گئے جو انڈیا نے اسی مہینے کی گیارہ اور تیرہ تاریخ کو کئے گئےتھے۔خیال تھا کہ اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان تناءو کم ہوگا اور دونوں ممالک اپنے دفاعی بجٹ کو کم کر کے اپنے عوام کی بہتری کے لئے کچھ کام کریں گے۔ اب تک تو ایسا ہونے کے کوئ آثار نہیں۔
انڈیا اس سے پہلے بھی ۱۹۷۴ میں اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کر چکا تھا۔ اگر آپ ہنسنا چاہیں تو اس پروجیکٹ کا نام بھی سن لیجئے اس کا نام تھا 'مسکراتا ہوا بدھا۔' یہ کسی بڈھے یا بدھ کے نام پر نہیں۔ بلکہ گوتم بدھ کے نام پہ تھا۔ جنہوں نے راج پاٹ چھورا اور نروان حاصل کرنے کے جنگلوں کا رخ کیا۔ اورایک لمبا عرصہ کی تپسیا کے بعد یہ عقدہ کھولا کہ انسان ہر جاندار سے محبت کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔

خیر اس قسم کے مذاق ہمارے پڑوسی اکثر کرتے رہتے ہیں۔ ان پہ کیا دل جلانا۔ دل تو اس بات پہ جلائیے کہ ان پانچ ٹیسٹوں پہ جو پاکستان نے کئے قریباً ۱۰۰ملین ڈالر کا خرچہ آیا۔ یقیناً انڈیا کا بھی اتنا ہی خرچ ہوا ہوگا۔ پاکستان اپنے بجٹ کا ایک چوتھائ حصہ دفاع پہ خرچ کرتا ہے یہی حال انڈیا کا بھی ہے۔ دونوں ملکوں کی کل آبادی ساری دنیا کی آآبادی کا پانچواں حصہ ہے اور دونوں ملکوں کے غریبوں کی کل تعداد دنیا بھر کے غریب لوگوں کا چھٹا حصہ ہے۔آنڈیا میں کل آبادی کا ۲۰فی صد حصہ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گذار رہا ہے۔ پاکستانابھی غربت کے اس اسکیل پہ تو نہیں پہنچا مگر خودکشی کرنے والوں کی شرح میں اضافہ ہے جو گھریلو مسائل سے تنگ آکر خودکشی کرتے ہیں۔ معاشرے کےاندر بڑھتی ہوئَ شدت پسندی کا رحجان بھی پیسے کی غیر منصفانہ تقسیم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ بھوکے کو تو چاند سورج بھی روٹیاں نظر آتے ہیں۔اور جب یہ صحیح طریقے سے حاصل نہ ہو تو محبت اور جنگ کی طرح اس کے حصول میں بھی ہر چیز جائز ہو جاتی ہے۔

جنگ میں، ایکدوسرے کو مار ڈالنے کا جذبہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ ہابیل اور قابیل کی تاریخ۔ ایک زمانے میں جنگیں اپنی بقاء، جذبہء انتقام یا حکمرانی کے دائرے کو بڑھانے کے لئے استعمال ہوتی تھیں۔ فی زمانہ اپنا ابنایا ہوا اسلحہ بیچنے کے لئے بھی جنگیں کرائ جاتی ہیں یا ایسے حالات پیدا کئے جاتے ہیں جن میں متعلقہ فریق احساس خوف کا شکار ہو کر ان لوگوں سے ان کی شرائط پہ اسلحہ خریدنے کے لئے مجبور ہو۔ نتیجتاً مختلف ممالک کے اندر شورشیں برپا کی جاتی ہیں ۔ پھر شورش برپا کرنے والے کو بھی اسلحہ ملتا ہے اور ان کو روکنے والوں کو بھی۔ یوں اسلحے کے بازار میں کساد مندی نہیں پیدا ہو پاتی۔

دنیا بھر کے جی ڈی پی کا دو فیصد حصہ اسلحے کی تیاری پہ خرچ ہوتا ہے۔ اس کے بڑے سپلائرز میں امریکہ، روس ، برطانیہ، جرمنی اور چین شامل ہیں۔ امریکہ چھتیس فیصد اسلھہ سپلائ کرتا ہے۔ سوچیں ذرا اگر آج دنیا بھر کے انسان تہیا کرلیں کہ وہ جنگ میں شامل ہونے کے بجائے اپنے عوام کی فلاح کو ترجیح دیں گے تو ان ممالک کو کتنا نقصان ہو۔اس لئےفوج، معاشیات اور سیاست کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے عوام ہوتے ہیں۔وہ اس کا اسلحہ ہوتے ہیںاور بلڈنگ میٹیریل بھی، اسکو تعمیر کرنے والے بھی اور اسے ختم کرنے والے بھی۔ اگر کسی ملک کے لوگ ایک اکائ بن کر نہیں سوچتے تو کوئ ایٹم بم انہیں جوڑ کر نہیں رکھ سکتا۔اپنے پڑوسی انڈیا کی ہمیں تعریف کرنی چاہئیے کہ وہ ہم سے زیادہ مخلص ہو کر اپنے ملک کے لئے سوچتے ہیں اور اس پہ فخر کرتے ہیں۔ کہنے کو ہماری زبانیں اسلام کا نام لیتےنہیں
تھکتیں۔

لیکن جب بھی ہمارے یہاں کوئ شورش برپا ہوتی ہے اس میں ہمارے ہی مسلمان بھائ ان سے پیسہ اور اسلحہ
لیکر ہماری جڑیں کاٹتے ہیں۔ دو فریقین ایکدوسرے پہ اللہ اکبر کہ کر حملہ آور ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے ہیں۔آفریں ہے ہماری منافقت پہ۔

اس وقت دنیا میں کم از کم نو ممالک کے پاس یہ مہلک ہتھیار موجود ہے۔ایٹم بم اس توانائ سے حاصل کیا جاتا ہے جو ایٹم کے مرکز کو جوڑ کر رکھتی ہے۔ ہم مرکز توڑتے ہیں اور یہ توانائ ہمیں مل جاتی ہے۔ اس توانائ کا حصول دیگر بہت ساری ماحولیاتی مسائل کو جنم دیتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میںپیدا ہونے والے تابکارفضلے کو اسی دنیا میں جمع کرتے ہیں جس میں آپ اور میں رہتے ہیں اور اپنے بچوں کے لئے خواب بنتے ہیں۔ اگر دنیا میں اتنی ہی تیزی سے ایٹمی تابکاری پھیلتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب یہ آلودہ دنیا انسانوں کے رہنے کے قابل نہ رہے گی۔ ہم تو اس وقت نہ ہونگے لیکن آنے والی انسانی نسل ہم سب سے شدید نفرت کریگی۔

خیر ہمیں اس سے کیا، ہمارے گذر جانے کے بعد کوئ ہم سے نفرت کرے یا محبت۔
اس وقت ایک بس کا شعر یاد آرہا ہے
قتل کرنا ہے تو نظروں سے کر تلوار میں کیا رکھا ہے
سفر کرنا ہے تو ون ڈی سے کر ، کار میں کیا رکھا ہے
ہائے یہ سادہ دل بس والے اور میں، یہ میری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو۔

ریفرنس؛
ایٹم بم کی ایجاد

پہلا ایٹمی دھماکہ

پاکستانی فوج