Tuesday, May 4, 2010

کون سے بانی ء پاکستان

اردشیر کاوسجی جی شاید اس وقت پاکستان کے معمرترین کالم نگار ہونگے۔ انیس سو چوبیس میں پیدا ہونے والے اس بزرگ کالم نگار کو قائد اعظم کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا کہ انکے خاندان کے ان سے دوستانہ مراسم تھے۔ انکا ایک حالیہ مضمون پڑھنے کے لئے حاضر ہے۔  صاف پڑھنے کے لئے اس مضمون پہ کلک کیجئیے۔ یا اس لنک پہ جائیے۔



ar

Monday, May 3, 2010

وہ، میں اور مئ

یہی وہ دن تھے جب اک دوسرے کو پایا تھا
ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے
فی الحال میں اپنے بلاگ کی سالگرہ کی بات نہیں کر رہی۔ یہ مہینہ میری زندگی میں ایک اہم تبدیلی کا باعث بنا۔ وہی تبدیلی جس کے لئے اکثر لوگ اپنی ہتھیلی پھیلا کر دست شناس کے آگے کر دیتے ہیں کہ نام کا پہلا حرف بتادیں اور یہ کہ خاندان میں ہوگی یا خاندان سے باہر۔ یا یہ گاتے پھرتے ہیں کہ زندگی اپنی گذر جائے گی آرام کے ساتھ اب میرا نام بھی آئے گا تیرے نام کے ساتھ۔ یہ تو بعد میں عقدہ کھلتا ہے کہ صرف ناموں کا ساتھ رکھنا ہی بات نہیں بلکہ مقامات جد وجہد اسکے علاوہ ہیں۔
 میرے شوہر اور میری پہلی ملاقات، جیسا کہ کراچی میں طریقہ رائج الوقت ہے ایک ڈرائنگ روم میں ہوئ۔ لیکن حالات ایسے نہ تھے کہ چپ چپ کھڑے ہو ضرور کوئ بات ہے، پہلی ملاقات ہے یہ پہلی ملاقات ہے۔ اسکی ایک بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ میں سمجھی تھی کہ لڑکا ساتھ میں نہیں آیا اور یہ باقی خاندان والے ہیں۔ اس ملاقات کے آخر میں جب انکا مجھ سے تفصیلی تعارف کرایا گیا تب مجھے اندازہ ہوا کہ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔
خیر، شادی سے پہلے ہماری خاصی ساری ملاقاتیں گھر کے اندر ہوئیں۔ اسکا مقصد میری طرف سے قطعاً یہ نہیں تھا کہ میں انہیں مزید جان لوں، کیونکہ اس سال فروری میں، میں نے خدا کو گواہ بنا کر عالم طیش میں کہا کہ اب جو بھی پہلا پروپوزل آئیگا میں اسے بغیر چھانے پھٹکے اور سوچے سمجھے ہاں کر دونگی چاہے وہ کوئ بھی ہو۔ اب خدا سے کئے اس وعدے کی لاج بھی تو رکھنی تھی۔ میرے اس جملے کی آزمائش صرف پچیس دن بعد ہی  فہوالمطلوب ہو گئ۔ اور میں نے اس پہ ثابت قدمی دکھائ اور آج تک دکھا رہی ہوں۔
:)
اسکی وجہ نجومی یہ بتاتے ہیں کہ قائد اعظم، سوہنی اور میرا برج ایک ہے اور اسکی بنیادی خاصیت ہے مستقل مزاجی۔ اماں کا خیال ہے کہ انکی اعلی تربیت ہے، احباب کا خیال ہے کہ شکر خورے کو خدا شکر دیتا ہے، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ میری قسمت اچھی ہے  اور میں سمجھتی ہوں کہ میں خود کافی اچھی ہوں لیکن----------- اچھوں کے ساتھ۔
تو بات یہ بنی کہ
چاہئیے اچھوں کا جتنا چاہئیے
وہ اگر چاہِیں تو پھر کیا چاہئیے
قسمت کی خوبی دیکھئیے کہ در محبوب پہ مجھ سے پہلے رقیب نے دستک دی۔ اور میری رقیب صاحبہ میری قانونی آمد سے پہلے ہماری زندگی میں گھس آئیں۔ بقول ہماری بزرگ پڑوسن کے انہوں نے تو اپنی گاڑی سے نکاح کیا ہوا ہے۔  تو میری یہ رقیب ایک رینج روور ہے۔ انہیں اگر خوش کرنا ہو تو گاڑی کی شان میں ایک تعریفی جملہ کہہ دیں۔ اگر وقت اور معاشیات کا اندازہ لگائیں تو رقیب کو مجھ پہ ایک واضح برتری حاصل ہے۔ لیکن ایسے موقعوں پہ میں ایکدم اسی طرح رہتی ہوں جیسے صوفی راہ سلوک کی منازل پہ۔ حتی کہ کسی کو یہ اندازہ لگانے میں مشکل نہیں ہونی چاہئیے کہ میرا تعلق ملامتی فرقے سے ہے۔
یہ بات تو شادی سے پہلے میرے علم میں لائ جاچکی تھی کہ محترم  لینکس اور غالب کی شان میں ہتک برداشت نہیں کرتے۔ آج بھی کمپیوٹر کی فیلڈ میں ہونے والے میرے تمام مصائب کا سہرا ونڈوز کے سر بندھتا ہے اور اسے برا بھلا کہے بغیر میرے کسی بھِی ٹیکنیکل مسئلے کو شرف باریابی عطا نہیں ہوتا۔ 
 اس مہینے کی اہمیت میں میرے شریک حیات کی شخصی خوبیوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ جو شخص اپنے گھر کے گیٹ پہ گاڑی کے لئے ہارن بجانے کے بجائے خود گیٹ کھولنے کو ترجیح دے تاکہ محلے والے ڈسٹرب نہ ہوں۔ان سے میری شکائیتیں ایسی ہی ہوتی ہیں کہ کپڑے بستر پہ کیوں چھوڑ دئیے۔
خاصے عقلمند ہیں اور شادی کے فوراً بعد میری تربیت میں ڈرائیونگ کو مرکز نگاہ رکھا۔ اپنی جان چھڑائ اور واہ واہ بھی ہو گئ کہ بیگم کو خود انحصاری کی منزل پہ پہنچا دیا ہے۔ حالانکہ اس میں میری دور اندیشی بھی شامل تھی۔ میں نے  ان حالات سے خاصہ سبق سیکھا جب میں شاپنگ کے لئے دوکان کے اندر بیٹھی ہوتی تھی اور میاں صاحب موبائل فون پہ دوکان کے باہر ٹہل ٹہل کر گفتگو فرما رہے ہوتے تھے۔ تو شوہر صاحب کی ان اداءووں کا خوف نکالنے کے لئے دل سے کراچی کی سڑکوں کا خوف نکالا۔ اور نتیجے میں  اب میں دن ہو یا رات اپنے کسی بھی کام کے سلسلے میں انکی محتاج نہیں۔ ڈرائیونگ آنا، خواتین کے لئے ایک نعمت ہے۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ کبھی اپنے شوہر صاحب سے ڈرائیونگ سیکھنے کی حماقت نہ کریں۔
روشن خیال ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میری مستقل مزاجی کا دعوی دھرا کا دھرا رہ جاتا۔ میں نے اپنی پی ایچ ڈی اپنی شادی کے بعد مکمل کی اور اس سلسلے میں مجھے انکا تعاون ہمیشہ حاصل رہا۔ ورنہ یہ تو آپکو اندازہ ہوگا کہ جبری تعاون حاصل کرنا بھی کوئ مشکل کام نہیں، بس یہ کہ دلوں میں بال پڑ جاتے ہیں۔  
اسی وجہ سے مجھے شادی سے پہلے کے دوستوں کی شادی کے بعد چھانٹی نہیں کرنی پڑی اور نہ ہی کسی کی چھٹی۔ نہ ہی پچھلے کسی واقعے کے منہ سے نکل جانے پہ سنسر لگانا پڑا۔
البتہ ایسا ہے کہ پہلے میں راستے کے چھوٹے ہونے کا مطلب یہ لیتی تھی کہ وہ فاصلے میں چھوٹا ہو۔ لیکن جب اپنے میاں موصوف کو کسی جگہ جانے کے آڑے ترچھے راست اختیار کرتے دیکھتی تو ایک دن ان سے پوچھ لیا کہ اس میں کیا اسرار ہے جواب ملا کہ اس راستے میں سگنل کم آتے ہیں اور ٹریفک اتنا نہیں ہوتا۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ ایک سگنل بھی کم آتا ہو یا دو گاڑیاں بھی کم ملیں تو وہ اسی راستے کو اختیار کرتے ہیں۔
اگر ہم دونوں کو کہیں ساتھ جانا ہو تو وقت کی خاصی اہمیت ہوتی ہے۔ اور گفتگو کچھ اس طرح ہوگی۔ سوال، کتنے بجے نکلیں گے، جواب سوا نو بجے۔ سوال، یہ ساڑھے نو بجے نہیں ہو سکتا۔ اس وقت فلاں سگنل پہ رش ہوگا اس میں اتنے منٹ خرچ ہو جائیں گے۔ یا یہ کہ مجھے یہ ایک کام کرنا ہے اس میں اتنے منٹ اتنے سیکنڈز لگ جائیں گے۔ جواب، اچھا تو پھر نو بج کر سترہ منٹ کر لیں۔ سوال، مگر ساڑھے نو بجے میں کیا برائ ہے۔ جواب، نو بج کر سترہ منٹ بیس سیکنڈ، بس اسکے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ نکلتے ہم پونے دس بجے ہیں ، کیونکہ عین وقت پہ بیٹی صاحبہ کو یاد آتا ہے کہ واش روم جانا ہے۔
ہمارے درمیان جھڑپوں کا باعث منٹوں اور سیکنڈز کے پیچیدہ حساب کتاب کے علاوہ جارج بش کی فارن پالیسی پہ ہم دونوں کا اختلاف، انکی شرٹس جو کہ باریک سوراخ ہونے کے بعد زیادہ قیمتی ہوجاتی ہیں ان میں میرا انگلی ڈال کر مزید بڑا کرنے کی ناکام کوشش کرنا، اور اسی طرح کے مزید نکات ہیں۔
تجربے سے میں نے یہ سیکھا ہے کہ شوہر صاحب کے جن کپڑوں سے آپ عاجز ہیں، انکے ڈسٹر بنا لیں یا خاموشی سے انکی چھٹی کر دیں۔ بہشتی زیور کی خواتین کی طرح اجازت لینے کے چکر میں مت پڑ جائیے گا ورنہ جواب ملے گا صرف شرٹس کے پیچھے کیوں پڑی رہتی ہیں اور بھی چیزیں ہیں جن سے زندگی میں تبدیلی آ سکتی ہے خاصی نمایاں۔ اور ہاں یہاں میں اپنی پیاری بہنوں سے گذارش کرونگی کہ خدا کے لئے شادی سے پہلے بہشتی زیور مت پڑھئیے گا۔
اگرمیں موڈ میں ہوں تو کوئ بھی قصہ سناءووں ، بڑی توجہ سے سنتے ہیں اور اسکے ختم ہونے کے بعد اپنے کمپیوٹر پہ سے ایک منٹ کے بعد نظر اٹھا کر انتہائ ذمہ داری سےفرمائیں گے ہاں توکیا کہہ رہی تھیں آپ؟  ہماری اماءووں کے زمانے میں اخبار اور ٹی وی شہروں کو مصروف رکتے تھے اور آج کے شوہر حضرات کمپیوٹرمیں گم رہتے ہیں۔   چونکہ میں ایک تابعدار بیوی نہیں ہوں۔ اگر جواباً میں اسی روئیے کا مظاہرہ کروں تو کہہ دیا جاتا ہے کہ کس دنیا میں رہتیں ہیں آپ۔ اب میں اپنی بات بالکل نہیں دہرا رہا۔ اپنے اوپر میرے حملوں کے جوابات انتہائ حاضر دماغی سے دیتے ہیں اور اگر ذرا بھی شکست کاشبہ ہو تو زیر لب مسکراہٹ سے کام چلائیں گے مگرکچھ بول کر نہیں دیں گے۔
جیسا کہ کچھ دانشواران نے لکھا ہے کہ ایک اچھے شوہر کو شادی کی سالگرہ اور بیوی کی سالگرہ کا دن نہیں بھولنا چاہئیے تو اس طرح وہ ایک بے حد اچھے شوہر ثابت ہوتے ہیں۔
باقی یہ کہ پہننے والے کو پتہ ہوتا  ہے کہ جوتا کہاں سے کاٹ رہا ہے ۔
اب یہاں سے ان خواتین کی دل پشوری کا حصہ شروع ہوتا ہے جو یہ پرچار کرتی ہیں کہ اچھی عورتیں وہی ہوتی ہیں جو اپنے مرد سے چار قدم پیچھے چلتی ہوں۔ یہاں میرا قصور نہیں ہے۔ میں بھی انہی اچھی عورتوں میں شامل ہونا چاہتی ہوں مگر یہ ہیں کہ شامل نہیں ہونے دیتے، ہمیشہ اپنے ساتھ لے لیتے ہیں اور آگے ہو جاءووں تو بڑا خوش ہوتے ہیں۔ کچھ خواتین اس بات پہ آہ بھرتی ہیں کہ ہماری اماں تو اپنے شوہر کا نام نہیں لیتیں۔ لیکن تف ہے ان آجکل کی عورتوں پہ، معاشرے سے اخلاقیات اور ادب احترام کا دیوالیہ ہی نکال دیا۔ میری بیٹی کی آمد تک مجھے انکو کسی طرح تو بلانا ہی تھا کہ ہم زنان خانے مردان خانے میں نہیں بلکہ ایک ہی گھر میں، ایک ہی کمرے میں رہتے تھے اس لئے آسانی اختیار کرتے ہوئے میں نے انہیں انکے نام سے بلانا شروع کر دیا۔ بیٹی صاحبہ کی آمد تک نام لینے کی ایسی بری عادت پڑ گئ تھی کہ جیسی منہ لگی کافر کی لت لگ جائے۔ یوں ارے سنئے مشعل کے ابا کی جگہ انکا نام آگیا۔ سو  میں بھی ان خواتین میں شامل ہوں جو معاشرتی اقدار اور روایات اور ادب و احترام کے خاتمے کو شہہ دینے والے ہیں۔
اب میں اس پوسٹ کے ساتھ اپنے تمام شادی شدہ بلاگر ساتھیوں کو ٹیگ کرتی ہوں کہ وہ ایک پوسٹ اپنی یا اپنے شریک حیات کے نام کریں۔

بشکریہ محمد ریاض شاہد، انکی ایک پوسٹ میں اس طرف توجہ دلائ گئ۔
 

Saturday, May 1, 2010

خاص آدمی-۲

تاریخ میں دو قسم کی شخصیات کو عظیم ہونے کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ ایک وہ تاریخی شخصیات جنکے بارے میں مءورخ واقعات کی چھان بین کر کے انکے کارناموں کو بیان کرتا ہے۔ اس میں مبالغہ، تعصب، اور خوشامد شامل ہو سکتے ہیں۔ مگر چونکہ واقعات تاریخی ہوتے ہیں تو غیر جانبدار مءورخ کے لئے بھی موقع ہوتا ہے کہ انکی خامیوں اور کمزوریوں کو بھی صحیح روپ میں پیش کر سکے۔
 دوسری دیو مالائ شخصیات ہوتی ہیں۔ یہ وہ خاکے ہیں جو عوام کے ذہن میں ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنے حالات میں موجودہ حکمرانوں سے اپنے مسائل کا حل نہیں پاتے تو اس ہیرو کو تراشتے ہیں۔ ان دیومالائ شخصیات میں بہادری، شجاعت ، ذہانت و فیاضی کی خوبیاں ہوتی ہیں۔ اس طرح یہ ایک طرف خدا کے پسندیدہ بندے اور دوسری طرف عوام کے نجات دہندہ بن جاتے ہیں۔ ان جذبات سے فائدہ اٹھا کر وقتاً فوقتاً کچھ لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کی نجات کے لئے آئے ہیں۔ 
جو فلسفی اور مءورخ تاریخ میں افراد کی اہمیت کو مانتے ہیں۔ ان کے یہاں جمہور اور جمہوریت سے دشمنی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ یہ ہر اس نظام کے خلاف ہوتے ہیں جہاں اقتدار خاص آدمی کے دائرے سے نکل کر عوام کے ہاتھ میں چلا جائے۔ انکے نزدیک تخیلقی اقلیت ہی ذہن و شعور کی مالک ہوتی ہے اس لئے یہ مساوات، برابری ، آزادی اور ارادہ ء اجتماعی کے خلاف ہوتے ہیں
تاریخ میں شخصیات اور افراد کے تاریخ ساز کردار کی اہمیت کا اثر یہ ہوا کہ عوام میں اور معاشرے کی اکثریت میں خود اعتمادی کا جذبہ ختم ہو گیا، اور جب بھی معاشرہ بحرانوں سے دو چار ہوا یا مسائل پیدا ہوئے تو وہ اسکی توقع کرتے رہے کہ کوئ شخصیت پیدا ہوگی اور انکے مسئلے حل کر دے گی۔ نسلیں اسی موہوم امید پہ زندگیاں قربان کر دیتی ہیں کہ کوئ آئے گا اور انہیں تمام مظالم سے نجات دلا کر دنیا میں امن و انصاف قائم کر دے گا۔ اس نظریہ نے عوام کی قوت، طاقت اور عمل کو ختم کر کے انہیں ظلم کو خاموشی سے سہنا سکھایا اور اسی کے سہارے ہر آمر اور ظالم نے کامیابی سے حکمرانی کی۔
تاریخ میں اگر شخصیتوں کو عقیدت سے دیکھا جائے تو وہ تاریخ نہیں مذہب ہے۔ پھر وہ شخصیت تاریخ کے دائرے سے نکل کر معجزے، کرامات اور مافوق الفطرت باتوں سے منسوب ہو جاتی ہے۔ جس سے اسکی عظمت کم ہوتی ہے۔ اس لئے مشہور مفکر ریناں نے کہا کہ اب اگر دنیا کا ایمان حضرت عیسی پر سے اٹھے گا تو محض ان معجزوں کی وجہ سے کہ جنکی وجہ سے ابتدا میں لوگ ان پہ ایمان لائے۔
تاریخ میں شخصیتوں کی اہمیت ہے لیکن تنہا شخصیتیں تاریخ ساز نہیں ہوتیں۔ حالات انکو بنانے میں اور انکے افکار و نظریات کی تشکیل میں حصہ لیتے ہیں اور پھر یہ شخصیات حالات کو بناتی ہیں اور معاشرے کی تعمیر کرنے میں سرگرم عمل ہوتی ہیں۔


حوالہ؛
کتاب، تاریخ اور فلسفہ ء تاریخ، مصنف ڈاکٹر مبارک علی، پبلشر فکشن ہاءوس، لاہور۔
خاص آدمی

Friday, April 30, 2010

خاص آدمی

.ایک بلاگ پہ سے گذری تو اس سوال پہ نظر پڑی

کتنے لوگ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ ایک اکیلا بندہ کچھ نہیں کر سکتا ؟ اور کتنے لوگ اس کے برعکس سوچ میں یقین رکھتے ہیں ؟
مختلف تبصروں پہ سے گذرتے ہوئے کچھ خیال آیا کہ کافی عرصے پہلے ڈاکٹر مبارک علی کی ایک کتاب پڑھی تھی، تاریخ اور فلسفہ ء تاریخ۔ کتاب کوچھانا پھٹکا اور اس سوال سے قطع نظر مندرجہ ذیل تحریر کا باعث بن گیا۔
ڈاکٹر مبارک علی تاریخ کے استاد ہیں اور اس موضوع پہ کئ کتابیں لکھ چکے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ انسان اور اسکے مقاصد کو زیر بحث لاتے ہوئے ایک نظریہ یہ پیدا ہوا کہ فطرت کسی ایک شخص کو مافوق الفطرت طاقت دیتی ہے تاکہ  وہ اس مقصد کے لئے جدو جہد کرے اس میں وہ عوام کی اکثریت کو لیکر چلتا ہے۔ وہ قانون اور اخلاق سے بالاتر ہوتا جو کچھ کرتا ہے صحیح ہوتا ہے۔ تاریخ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ ان شخصیات کے عمل کا نتیجہ ہے۔ تاریخ ان لوگوں کی سوانح عمری کے علاوہ کچھ نہیں
 تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ افراد تاریخ ساز ہوتے ہیں، انکے عمل سے تاریخ کا بہاءو تیز ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ افراد تاریخ کا راستہ متعین کرتے ہیں۔ کیونکہ تاریخ کا ہر واقعہ گذشتہ واقعات اور ارتقاء کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے اور وہ افراد جو تاریخ کی تعمیر میں نمایاں کردار دا کرتے ہیں محض اک آلہ ءکار ہوتے ہیں۔
پلیخانوف کہتا ہے کہ
'بارسوخ افراد اپنے کردار اور اپنے ذہنوں کی مخصوص صفات کی بدولت واقعات کو اور انکے مخصوص نتائج کو تو بدل سکتے ہیں لیکن وہ واقعات کے عمومی رجحان کو نہیں بدل سکتے جو دوسری قوتوں سے متعین ہوتے ہیں۔
 وہ یہ کہتا ہے کہ جب بھی عظیم افراد کے ارتقاء کے لئے سازگار حالات موجود ہوئے یہ لوگ ہر جگہ نمودار ہوئے۔ یعنی صاحب صلاحیت شخص کا نمودار ہونا معاشرتی تعلقات کی پیداوار ہوتا ہے۔ ایک عظیم انسان دوسروں کے مقابلے میں واقعات کی رفتار کو سمجھتا ہے یہی اسکی عظمت ہے۔
تاریخِ میں معاشی و سیاسی و معاشرتی قوتیں اس قدر طاقتور ہوتی ہیں کہ وہ تاریخ کو مسلسل تبدیل کرتی رہتی ہیں۔ دنیا میں انقلابات ان قوتوں کی وجہ سے آتے ہیں۔ شخصیتیں صرف ان کے عمل کو تیز کر دیتی ہیں۔ ورنہ انکے بغیر بھی وہی کام ہوگا مگراس کام کی تکمیل میں زیادہ وقت اورزیادہ لوگ چاہئیے ہونگے۔ شخصی حکومت کے زمانے میں شخصیات کو اہمیت دی جاتی تھی اور انکے کارنامے لکھے جاتے تھے اس لئے اس میں حکمراں طبقے کی تاریخ تو ہوتی ہے لیکن عوام کی نہیں۔ مذہبی علماء کی تو ہوتی ہے لیکن انکے پیروکاروں کی نہیں، زمینداروں کی تو ہوتی ہے لیکن کسانوں کی نہیں، فوجی جرنیلوں کی ہوتی  ہے سپاہیوں کی نہیں، صنعت کاروں کی ہوتی ہے مزدوروں کی نہیں۔
اس طرح روائتی تاریخ میں اس بات پہ زور دیا گیا  ے کہ تاریخ صرف عظیم شخصیتوں کے کارناموں کا مرقع ہے۔ قدرت انہیں خاص صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کرتی ہے اور یہ اپنی صلاحیتوں کے ذریعے معاشرہ کی ترقی اور تمدن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تاریخ کا دوسرا نظریہ یہ ہے کہ عظیم شخصیتیں بذات خود کچھ نہیں ہوتیں بلکہ یہ حالات کی پیداوار ہوتی ہیں۔ شخصیتوں کی اہمیت اسی وقت ہوتی ہے جب انکے کام کے کے لئے  حالات سازگار ہوں اور معاشرہ کا ذہن ان کے پیغام اور تسلیمات کو سننے کے لئے  اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو اگر وہ سازگار ماحول سے ہٹ کر پیدا ہوتے ہیں تو انکی عظمت ختم ہو جاتی ہے۔
بقول 'ٹالسٹائ۔'عظیم شخصیتیں بذات خود کچھ نہیں ۔ بلکہ یہ واقعات ہیں جو انکا روپ اختیار کر لیتے ہیں'۔
یہ بات کچھ تاریخی واقعات کو دیکھنے کے بعد صحیح بھی لگتی ہے۔ ورنہ ایسا کیوں کہ گلیلو جب یہ نظریہ پیش کرتا ہے کہ زمین نہیں بلکہ سورج اس کائنات کا مرکز ہے تو پابند سلاسل ٹہرتا ہے اور دس سال قید و بند میں گذارنے کے بعد اسے عدالت میں اپنے اس بیان کی معافی جمع کرانے کے بعد رہائ ملتی ہے۔ لیکن یہی بات جب  کپلر کہتا ہے تو فلکیات کی دنیا میں انقلاب آجاتا ہے۔
کولونیل نظام کے خاتمے کے بعد ایشیا و افریقہ سمیت دیگر ممالک میں شخصیت پرستی کا فروغ ہوا۔ ، ہر نئے آزاد ملک نے شخصیتوں کے بت تراشے اور انکے گرد ایسی روایات کا ہالہ تیار ہوا کہ انکی حیثیت انتہائ مقدس و متبرک ہو گئ۔ آزادی کی تحریکوں میں انکی جدوجہد کو اس قدر مبالغہ کے ساتھ پیش کیا کہ عوام کی قربانیوں اور انکے کردار کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔


 جاری ہے۔ 

Wednesday, April 28, 2010

ایک شہادت، ایک گواہی

آج اخبار کی اس اطلاع پہ مجھے شدید صدمہ ہوا کہ بلوچستان یونیورسٹی کی پچاس سالہ استاد کو جو وہاں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے کام کر رہی تھیں۔ اور انکی مدت ملازمت کو تیئیس سال ہو چکے تھے۔ ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں قتل کردیا گیا۔ پروفیسر ناظمہ طالب رکشے میں سفر کر رہی تھیں کہ دو افراد  نےان پہ فائرنگ کی ۔  بلوچ لبریشن آرمی نے انکے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی۔ انکا کہنا ہے کہ بلوچی خواتین کے قتل اور ان پہ تشدد کے خلاف انہوں نے یہ اقدام اٹھایا ہے۔ سر پہ دو گولیاں لگنے کی وجہ سے موقع پہ ہی ہلاک ہو گئیں۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والی یہ خاتون ایک شاعرہ بھی تھیں اور مختصر کہانیاں بھی لکھتی تھیں۔ انکی میت تدفین کے لئے کراچی روانہ کر دی گئ۔
میں نے ایک دفعہ گوادر کے مضافاتی علاقے میں ایک سولہ سترہ سالہ لڑکی سے پوچھا کہ تم نے چار جماعتوں کے بعد پڑھنا کیوں چھوڑ دیا۔ اس نے جواب دیا 'ابا نے منع کر دیا تھا'۔ 'پھر تم نے ابا سے کیوں نہیں کہا کہ میں اور پڑھوں گی اور علاقے سے کونسلر کا الیکشن لڑونگی اور ایکدن بلوچ  زبیدہ جلال کی طرح اسمبلی میں جا کر وزیر بنونگی'۔' ابا یہ سنے گا تو تھپڑ مارے گا'۔ 'کیوں اس بات پہ تھپڑ کیوں مارے گا'۔ 'اسے زبیدہ جلال بہت بری لگتی ہے'۔ 'اسے زبیدہ جلال کیوں بری لگتی ہے'۔ 'وہ کہتا ہے عورت کو یہ سب نہیں کرنا چاہئیے'۔ میں نے یہ جواب سننے کے بعد اس کو مزید سوالوں سے پریشان کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ بلوچستان وہ علاقہ ہے جہاں ابھی ڈیڑھ سال پہلے  پانچ خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد زندہ دفن کر دیا گیا۔ اور نہیں پتہ چلا کہ اس انسانیت سوز ظلم کا شکار ہونے والی وہ لڑکیاں کون تھیں۔  جس علاقے میں عورت کی یہ اہمیت اور عزت ہو۔ وہاں بلوچ لبریشن آرمی والے کس عورت پہ تشدد کے خلاف لڑ رہے ہیں یہ نہیں سمجھ میں آیا۔
ایک بے گناہ، استاد جیسے مرتبے پہ فائز عورت جو کسی اور شہر سے آپکے بچوں کو تعلیم دینے کے لئے اپنے بچے کو چھوڑ کر وہاں ہوسٹل میں مقیم تھی۔ اسے قتل کر کے کس سے بدلہ لیا یہ بھی نہیں معلوم۔
بلوچستان، جو تعلیمی پسماندگی کا شدت سے شکار ہے، جہاں تعلیم یافتہ اور ہنرمند لوگوں کی شدید قلت ہے۔ جہاں اگر دیگر علاقوں سے لوگ نہ جائیں تو عالم یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنی حجامت بھی نہیں بنوا سکتے کسی اور ہنر کی بات تو دور کی ہے۔ اس لئیے، یہ بھی نہیں معلوم کہ اس معصوم عورت کا قتل انکے سیاسی مقاصد کو کسقدر پروان چڑھائے گا۔
 مجھے تو یہ معلوم ہے کہ یہ ظلم ہے اور بہت زیادہ انسانیت سوز ظلم۔ یہ وہ ملک ہے جہاں ہر وقت اسلام کے نعرے بلند ہوتے ہیں جس میں حالت جنگ میں بھی ، دشمن کی عورتوں اور بچوں تک کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
یہ خبر مجھے روزنامہ ڈان  کے پہلے صفحے سے ملی۔
اخبار جنگ میں پہلے صفحے پہ شعیب اور ثانیہ سے متعلق دو خبریں موجود ہیں لیکن ایک استاد خاتون پہ اس بہیمانہ ظلم  کی یہ خبر پہلے صفحے پہ موجود نہیں۔ یہ ہیں ہماری ترجیحات۔
 پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر سینیٹر لشکری رئیسانی نے اس واقعے کی مذمت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی اسلام آباد میں بیٹھے رہتے ہیں۔ اور وہ صوبے کے مسائل کے حل میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ 
وہ کیوں دلچسپی لیں گے۔ ہر ایک وہاں پیسے کمانے کے لئے گیا ہے۔ اسلام آباد میں بیٹھے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ پیسوں کی بندر بانٹ والے کسی لمحے سے وہ غیر حاضر نہ ہوں۔
 ۔
.
ایک پچاس سالہ استاد خاتون کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں ایک اور سیاہ کارنامے کا اضافہ ایک اور دل دکھا دینے والا سانحہ۔



اس تصویر میں ڈاکٹرز پروفیسر ناظمہ طالب کا پوسٹ مارٹم کرنے کے لئے تیار ہیں۔