Friday, July 16, 2010

طاقت

میں بنکاک ایئر پورٹ پہ جب اتری تووہاں سے تھائ لینڈ کے شہر پھوکٹ جانے والی پرواز میں ابھی چار گھنٹے باقی تھے۔ میرے ساتھ ایک پاکستانی دوست فیملی بھی تھی۔ ہم ایئر پورٹ پہ ونڈو شاپنگ کرنے لگے۔ یعنی چیزیں دیکھ  دیکھ کر انکی تصوراتی خریداری سے دل بہلانا۔ چاہے جیب میں دھیلا نہ ہو۔ میرا دل تو دنیا کی بیشتر چیزوں سے اسی طرح بہل کر بھر گیا۔ ہم ٹہلتے ہوئے ایک دوکان میں داخل ہوئے جہاں سچے موتیوں کے زیورات تھے۔ لیکن ہمارے ساتھ موجود خاتون جو میری والدہ کی عمر کی ہونگیں۔ انکی نظریں، سیلز پرسن کے چہرے سے چپک گئیں۔ پھر وہ سرگوشی میں بولیں۔ ائے کیسا ملک ہے۔ یہاں ہیجڑے بھی کام کرتے ہیں۔ انکے لہجے میں ایک کراہیت تھی۔ تو کیا ہوا، اچھی بات ہے کچھ تو کرتے ہیں ہمارے یہاں کی طرح جسم فروشی اور بھیک مانگنے کا کام تو نہیں کرتے۔ یہ دوسرا جملہ میں نے دل میں سوچا۔  بآواز بلند کہتی تو لبرل ہونے کا طعنہ ملتا۔
پھوکٹ میں ایکدن ہمیں اتنا وقت ملا کہ پھوکٹ کے نزدیک واقع پی پی آئلینڈ کا بوٹ ٹرپ لے لیا۔ یہ ٹرپ بہت زیادہ مزے کا تھا۔ لیکن ہماری بڑی خاتون جیسے ہی بوٹ میں داخل ہوئیں ایک دفعہ پھر جھٹکے سے دو چار ہوئیں کہ ٹرپ کا گائڈ یا لیڈر ایک ہیجڑا تھا۔ وہ اسی طرح وقفے وقفے سے ناز ا ادا دکحا کر اور کبھی سنجیدہ ہو کر ہم سب کی توجہ اپنی طرف رکھے رہا۔


جب ہم سب سمندر میں مچھلیوں کو کھانا کھلاتے سینکڑوں مچھلیوں کو اچھلتے کودتے دیکھ رہے تھے ہماری بزرگ خاتون اس گائڈ کے اوپر نظر رکھی بیٹھی رہیں۔ جب ہم سمندر میں آڑی ترچھی اسنارکلنگ  کی کوششیں کر رہے تھے اور مشعل یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ کتنی اچھی تیراک ہیں اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑتیں اور سمندر میں چھلانگ لگانے سے قبل ہم سب کوڈانٹ کر توجہ چاہتیں ہماری بزرگ خاتون  ریتیلے ساحل پہ پڑے ہجوم میں اس گائڈ کو تلاش کر رہی ہوتیں۔ 
حتی کہ پاکستان  واپس آکر بھی انہیں یاد آتا رہا کہ تھائ لینڈ کتنا عجیب ملک ہے وہاں ہیجڑے بھی کام کرتے ہیں۔
چار دن پہلے میں اپنے گھر کے نزدیک لگنے والے بچت بازار گئ۔ یہ ہفتے میں تین دن لگتا ہے اور میں یہاں سے پورے ہفتے کی سبزیاں اور پھل لے لیتی ہوں۔ یہاں افغانی بچے پھرتے رہتے ہیں جنکی عمریں پانچ سال سے لیکر چودہ پندرہ سال تک ہوتی ہیں۔ چھوٹے بچے پلاسٹک کی تھیلیاں بیچتے ہیں اور ذرا بڑے بچے سامان بھی اٹھا لیتے ہیں۔ غربت کی سطح اتنی بڑھ چکی ہے کہ جب میں ان میں سے کسی مناسب عمر کے بچے کوسامان اٹھانے میں مدد کے لئے ڈھونڈھ رہی ہوتی ہوں تو چھ سات سال کے بچے بھی سامان اٹھانے کے لئے منتیں کر رہے ہوتے ہیں۔
بہر حال ، ایک بچے نےمجھے ڈھونڈ لیا کہ ہر ہفتے جاتی ہوں۔ اور باقی بچوں کو مجھ سے دور کر دیا۔
خریداری کے بعد جب میں اسکے ساتھ سامان رکھنے میں مصروف تھی تو وہاں پہ ایک ہیجڑا آگیا۔ اور پیسے مانگنے لگا۔ بازار میں آجکل ایسے چار پانچ ہیجڑے پھرتے رہتے ہیں۔ پھر اس نے اپنا سبق شروع کر دیا۔ اللہ تیرے صاحب کو اور دے۔ خدا تجھے چاند سا بیٹا دے۔ اللہ تیری خوشیوں کو قائم رکھے۔ ہم غریبوں کو ہمارا حق دیتی جا۔ میں نے معاف کرنے کا کہا اور خاموشی سے سنی ان سنی کر کے اس بچے کے ساتھ مصروف رہی۔ پھر وہ کہنے لگا کہ روپے دو روپے دینے میں تمہاری دولت کم نہیں ہو جائے گی۔ ہماری تو زندگی ہی تم لوگوں کی خیرات سے ہے۔ تب میں نے اس سے کہا کہ  کیوں ہے تمہاری زندگی ہماری خیرات سے۔ اس بچے کو دیکھا تم نے بمشکل دس گیارہ سال کا ہے میرے ساتھ سامان اٹھا کر بازار سے گاڑی تک اٹھا کر لایا ہے۔ آخر تم میں اس سے زیادہ طاقت ہے۔ تم کیوں نہیں سامان اٹھانے کا کام شروع کر دیتے۔ میں اس بچے کو پچیس روپے دیتی ہوں۔ وہی تمہیں دے دونگی۔ ارے میں اپنی چھوٹی بہن کے صدقے، ہم ہیجڑوں میں کہاں طاقت ہوتی ہے۔ یہی تو رونا ہے کہ ہم میں طاقت نہیں ہوتی۔ خدا نے تو ہمیں خالی ہی پیدا کر دیا ہے۔
مجھے تھائ لینڈ کا سیلزمین یاد آگیا جب وہ مجھے اپنے لمبے سنہرے کئے ہوئے بالوں سے ڈھکی گردن پہ سچےموتیوں کی مالا سجا کر دکھا رہا تھا۔ یا وہ گائڈ جو ہنس ہنس کر پورا دن ہمیں مصروف رکھے رہا۔ ان لوگوں میں کہاں سے طاقت آتی ہے۔

نوٹ؛ ان تصویروں میں، میں کہیں نہیں ہوں، البتہ یہ تصاویر میرے کیمرے کی ہیں۔

Wednesday, July 14, 2010

ورنہ

پنجاب اسمبلی میں میڈیا کے خلاف قرار داد پاس ہوئ جس میں میڈیا کی مذمت کی گئ۔  پنجاب جو ہمارے ملک کی آبادی کا ساٹھ فی صد ہے۔ اس ساٹھ فی صد آبادی کے اقتدار میں موجود نمائندوں نے میڈیا کے روئیے کی مذمت کی ہے۔
کیوں؟ 
اس کی نمایاں وجوہات میں یہ کہ میڈیا نے جعلی ڈگریوں کے ضمن میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔  میڈیا ، حکومت مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہے جس سے جمہوریت کو خطرہ ہے۔ یہ جعلی ڈگریوں اور جمہوریت والا مسئلہ چونکہ عام لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتا اور نہ یہ انکا 'روزمرہ' ہے۔ تو اس میں عوام کو بھی شامل رکھنے کے لئے ایک وجہ اور بیان کی گئ ہے وہ پارلیمنٹ کی خواتین کے حوالے سے میڈیا میں ایک فضول  ویڈیو کی تشہیر، جو میں نے ابھی تک نہیں دیکھی۔
یہ اس پنجاب اسمبلی کی قرارداد مذمت ہے جس نے ایک آمر کی حکومت کو گرانے کے لئے میڈیا کی پیٹھ ٹھونکی۔ جس نے لال مسجد کو ایک سانحے میں تبدیل کرنے کے لئے میڈیا کو شاباش کہا۔ اور جس نے انتہا پسند گروہوں کو عوامی ہیرو بنانے میں میڈیا کے تعاون خیر پہ انہیں بھی جنت میں اپنے ساتھیوں میں شامل کہا ہوگا۔
آج پنجاب ، جبکہ سیاسی ماحول کے حساب سے ایک گرم صورت حال میں ہے۔ جناب نواز شریف اور شہباز شریف پہ الزام ہے کہ وہ انتہا پسند گروپوں کی حمایت حاصل کرنے اور انہیں تحفظ دینے میں سرگرم عمل ہیں۔   یہی نہیں بلکہ جھوٹی جعلی ڈگریوں کے بل بوتے پہ سیاسی طاقت حاصل کرنے والے، ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے دعوے دار اور معاشرے کو عدل اور انصاف کی صبح نو کا پیغام دینے والے ہیں۔ یقیناً، میڈیا کو اس چیز کو بے نقاب کرنے اور اس پہ شور وغوغا کرنے پہ، مذمت کا سامنا کرنا چاہئیے۔ 
کیوں؟
اس لئے کہ اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس جمہوریت کو جس کے نتیجے میں ہماری اسمبلیوں میں، ملک کے امیر ترین اشخاص اپنے غلیظ ترین ذہنوں کے ساتھ ہمارے مستقبل کا سہارا لے کراسکی لگامیں تھامتے ہیں۔ جب کہ انہیں  یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارا مستقبل انکے مستقبل سے کتنا الگ ہے۔ کیونکہ وہ اس خزانے پہ جسے ہمارے مستقبل کے تحفظ پہ خرچ ہونا چاہئیے۔ اپنی اور اپنی نسل کے مستقبل کی بقا کے  لئے وقف سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس ملک کے عوام کا فرض ہے کہ وہ اس اقتدار کے مسند پہ براجمان گروہ کی حفاظت کے لئے اپنے مسائل بھول جائے اور اپنے وسائل ان پہ نچھاور کرتا رہے۔ جسکے نتیجے میں، نسل در نسل بادشاہی خاندان جنم لیتے ہیں۔ چند شاہی خاندان آپس میں حکومتی طاقت کو مل بانٹ کر استعمال کرنے کے عمل کو جمہوریت کا نام دیتے ہیں۔ اور جب انکی یہ پول پٹی کھلنے لگتی ہے تو لازماً اس سے اس جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے۔ ہر وہ عمل جس سے انکے اثر و رسوخ کو ذرہ برابر بھی نقصان پہنچے، وہ جمہوریت کی راہ میں حائل ہے۔
وہ تمام لوگ جو اس ملک میں عوام کی حاکمیت اعلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو سمجھتے ہیں کہ  جمہوریت اسکا نام ہے کہ عوام کی حکومت، عوام کے لئے عوام کے ذریعے سے۔  وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اس طرح طاقت کے سہارے پہ میڈیا سنسر ہونا چاہئیے؟ کیا کسی کو یہ حق ہونا چاہئیے کہ جب تک اسکے مفادات کے حق میں کوئ چیز جا رہی ہو تو وہ ہر غلط اور صحیح چیز کی حمایت کرتا رہے اور جب اسے اسی طرز عمل سے نقصان پہنچنے لگے تو وہ قرار داد مذمت پاس کرے؟ کیا ہمیں ایک ایسی جمہوریت کی حفاظت کی تگ و دو میں لگا رہنا چاہئیے جو تمام مجرمین کو، جھوٹے اور کرپٹ لوگوں ، نظام کو محض با اثر لوگوں کی بقاء اور انکی نسلوں کی فلاح کے لئے استعمال کرنے والوں کو تحفظ دینے کے لئے قوانین بناتا رہے؟
مجھ سے پوچھیں، جوتے پڑنے چاہئیے انہیں۔ ان سب کو۔ اور انہیں ان اسمبلیوں سے گندے انڈوں کی طرح نکال کر باہر پھینک دینا چاہئیے۔  انہیں وہاں ہم نے اپنے بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کے لئے، اپنے مسائل کے حل کے لئے بھیجا ہے اور یہ ہمارا بنیادی حق ہونا چاہئیے کہ وہ اگر ہم سے جھوٹ بولتے ہیں، وہ اپنے ذاتی مفادات کو ہمارے مفادات پہ ترجیح دیتے ہیں، وہ حکومتی مصارف کو ادا کرنے کے لئے ہمارے ٹیکس کی صورت میں جمع کردہ چندے کو اپنی اور اپنے خاندانوں کی عیاشی پہ خرچ کر کے ہمیں دن بہ دن حقیر فقیر بنا کر ہمارا مذاق اڑانے پہ تلے ہوئے ہیں تو ہم اپنی طاقت استعمال کر سکتے ہیں۔ ہم ان سے کہہ سکتے ہیں۔ اب بہت ہو گیا، اب دفع ہو جاءو ہمیشہ کے لئے۔ جان چھوڑو ہماری، ورنہ-----------۔  


Friday, July 9, 2010

محافظ

مظفر گڑھ، میر والا میں دو خواتین جو کہ ماں بیٹی تھیں۔ چودہ افراد نے برہنہ کر کے سر بازار پھرایا اور پھر انکی اچھی طرح پٹائ لگائ۔ ماں کی عمر پچاس کے قریب اور بیٹی کی عمر محض چودہ سال تھی۔
یہ واقعات یا اس سے ملتے جلتے واقعات تیسری دنیا کے غریب ممالک میں پیش آتے رہتے ہیں۔
 اس قسم کا پہلا واقعہ جس نے شہرت حاصل کی ضیاء الحق کے زمانے میں نواب پور میں پیش آیا۔ پچھلے چند سالوں میں اس قسم کے واقعات کی شدت میں اضافہ ہو اہے۔ آخر خواتین کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس ضمن میں اگر ہم دیکھیں تو  بھارت میں بھی ایسے واقعات پیش ہوتے نظر آتے ہیں۔ خاص طور پہ ان ممالک میں جہاں زمینداری کا نظام قائم ہے ہے یا کچھ عرصے پہلے تک قائم تھا۔ خواتین کے ساتھ اس ہتک آمیز سلوک کی بنیادی وجہ انہیں مال مویشی کی طرح جائداد کا حصہ سمجھنا ہوتا ہے۔ جس طرح ایک زمیندار اپنی زمین کے بارے میں، اپنے مویشیوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنی عورتوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور ٹھیک اسی طرح اگر کسی زمیندار کو اسکی زمین پہ کھڑی فصل کو تباہ کر کے نقصان سے دوچار کیا جا سکتا ہے اسی طرح ایک مرد کو زیادہ بہتر طور پہ ذلت سے دوچار کرنے کے لئے انکی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی سے لیکر برہنہ پھرانے کے واقعات سمیت تک ہر چیز روا رکھنا جائز ہے بلکہ افضل ہے کہ مخالف پہ ایسی چوٹ لگتی ہے جس کے عذاب سے وہ ساری زندگی کیا کئ نسلیں نہیں نکل سکتا۔
ہمارے یہاں اسے غیرت اور عزت کے ساتھ وابستہ قرار دیا جاتا ہے اور یوں قبیلے اور خاندان کی عزت کی ضامن عورتیں ہو جاتی ہیں۔ اغوا ہونے والی عورت اگر رہائ بھی پالے تو اسکا احسن انجام موت ٹہرتا ہے کہ اسکی زندگی پورے قبیلے اور خاندان کی غیرت کی موت ہوتی ہے۔ عصمت کا تصور خالصتاً ایک عورت کے ساتھ وابستہ ہے، مرد اس سے مبرا ہیں۔ اور اس وجہ سے مرد جتنے چاہے ناجائز جنسی تعلقات رکھیں،یہ انکی امارت کی علامت یا مردانگی کی تعریف تو ہو سکتا ہے مگر اس سے خاندان کی نیک نامی پہ دھبہ نہیں آتا۔ اسکی شادی کے مسائل یا معاشرے میں با عزت زندگی گذارنے کے خواب چکنا چور نہیں ہوتے۔  اسکے اس جرم کی وجہ سے کوئ اور قبیلہ یا قوم انہیں موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے لیکن اسکے اپنے قبیلے والے ایسا نہیں کریں گے۔ وہ جواں مرد اپنے قبیلے کی آنکھ کا تارا ہوتا ہے۔
یہ سوچ، زمینداری کے نظام سے اس لئے جنم لیتا ہے کہ ایک جسمانی طور پہ طاقتور مرد اپنی زمین سے زیادہ پیداوار حاصل کر سکتا ہے۔ جسمانی طور پہ زیادہ طاقتور مرد، زیادہ خوشحالی کا باعث بنیں گے جبکہ خواتین نئے مرد بچے پیدا کر کے زیادہ خوشحال میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ اس لئے ایک مثالی زمیندار نظام میں اس عورت کی آءو بھگت بھی زیادہ ہوتی ہے جو زیادہ مرد بچوں کو پیدا کر چکی ہو۔ یا کم از کم ایک وارث مرد بچہ تو رکھتی ہو۔
اگر افریقی ممالک کی طرف نظر کریں ۔ جہاں کچھ قبائل میں عورت اور مرد کی تخصیص نہیں ہے وہاں مجھے ایک افریقن ملک کیمرون کی خاتون نے بتایا کہ شادی کے لئے ہمارے یہاں اس لڑکی کو ترجیح دی جاتی ہے جسکے شادی سے پہلے بچے ہوں۔ چاہے کسی بھی مرد سے ہوں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بچے پیدا کر سکتی ہے۔ اس طرح اس سوچ سے متائثرہ نظام میں ایک ایسی عورت کی اہمیت نہیں رہتی جو بچے پیدا نہیں کر سکتی۔ کسی بھی قدرتی وجہ سے۔ خیر یہ اایک الگ موضوع ہے۔
سر دست، ہمیں معاشرے کے اس اٹھان پہ غور کرنا ہے جہاں خواتین کو بھی انسان تصور کیا جائے۔ ایسا انسان جسے سر بازار، بقائمی ء ہوش و حواس، بزور قوت برہنہ گھمائے جانے پہ نفسیاتی اور روحانی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ صرف عورت کے اوپر عزت اور غیرت کی بھاری ذمہ دریاں نہ ڈالی جائیں  جسکے نتیجے میں اسے زندگی جیسی مسحور کن نعمت سے محروم کر دیا جائے۔ زندگی کی مسرتوں پہ ہر ایک کا حق ہے۔ انسان ہونے کا احترم اور شرف ہر ایک کو حاصل ہے۔ 

Friday, July 2, 2010

نا معلوم

نواز شریف خانہ ء کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ اچانک دل میں شدید تکلیف اٹھی۔ لگا کہ شاید دل کا دورہ پڑنے والا ہے۔ جس وقت انہیں ایمبولینس میں منتقل کیا جا رہا تھا انہوں نے اپنے ایک ایک چاہنے والے سے کہا فوراً لاہور فون کر کے کہو کہ داتا دربار پہ چالیس دیگیں چڑھا دیں۔
یہ ایک لطیفہ ہے جو آپ میں سے بیشتر لوگ برسوں سے سنتے آرہے ہونگے۔ یہ یقیناً اس عقیدت کی مبالغہ آرائ ہے جو اہلیان لاہور داتا دربار سے رکھتے ہیں۔ لیکن اسی دربار میں کل رات ایک خود کش حملہ آور نے جو کسی نا معلوم قومیت کا تھا اور ہم میں سے بیشتر اس خیال کے حامی ہیں کہ اسکا کوئ مذہب نہ تھا۔ اپنے آپکو بم سے اڑا دیا اور ساتھ ہی چالیس سے زائد معصوم، بے گناہ لوگوں کی جو اپنے مسائل کے حل کے لئے یا داتا صاحب کی محبت میں وہاں موجود تھے انہیں بھی خدا کی عطا کردہ بیش قیمت نعمت، زندگی سے محروم کر دیا۔
ابھی ابھی میں ایک پتلی سی کتاب پڑھ کر فارغ ہوئ ہوں جو انیس سو ننانوے میں ادارہ ء معارف اسلامی کی سرپرستی میں شائع ہوئ۔ جس میں مصنف نے سارا زور اس بات پہ دیا کہ خود کشی سیکولر سماج کی پیداوار ہے۔ اور پاکستان میں جہاں کہیں خودکشی ہوتی ہے یہ وہ علاقے ہیں جہاں سیکولیرزم اپنے قدم جما چکا ہے۔ اس کتاب کے دلچسپ اقتباسات پھر کبھی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اس واقعے کی مذمت کرنی چاہئیے؟
یہ مذمت حکومت وقت کے خلاف ہونی چائیے؟ پاکستان کے ایک عملی طور پہ اسلامی مملکت نہ ہونے کے خلاف ہونی چاہئیے؟ خود کش حملوں کے خلاف ہونی چاہئیے؟ خود کش حملہ آوروں کے خلاف ہونی چاہئیے؟
نامعلوم خودکش حملہ آوروں کے خلاف ہونی چاہئیے یا معلوم خود کش حملہ آوروں کے خلاف؟
اگر ہم یہ مذمتی بیان نامعلوم خودکش حملہ آوروں کے خلاف کرتے ہیں جنکی قومیت اور مذہب نہیں معلوم، تو کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے آپکو اول درجے کامنافق نہ کہیں؟ 
کیا مذمت کرتے وقت ایسے نامعلوم خود کش حملہ آوروں کا تذکرہ کر کے  ہم مرنے والوں کا اور انکے لواحقین کا مذاق نہیں اڑاتے؟
ان نامعلوم حملہ آوروں کی جنکی کوئ قومیت اور مذہب نہیں ہے مذمت اور مرنے والوں کی تعزیت ہم کب تک کرتے رہیں گے؟
وہ کون سے فضائ، بری اور بحری راستے ہیں جنکے ذریعے یہ خود کش حملہ آور ہمارے ملک میں داخل ہو کر ہمارے شہریوں کو جان سے ختم کر دیتے ہیں؟
 مختلف علاقوں میں جو نام نہاد خود کش حملہ آور تیار کرنے کے کیمپس ہیں اور جہاں سے کچھ انتہائ بے وقوف لوگوں کی اطلاعات کے مطابق  یہ دھڑا دھڑ پھٹنے کے لئے بھیجے جا رہے ہیں کیا وہ سب کچھ بالکل جھوٹ پہ مبنی ہے؟
اور کیا کسی اور قوت نے انسانی کلوننگ کے ذریعے خود کش حملہ آور تیار کرنے کا طریقہ معلوم کر لیا ہے؟ کیا ہم یہ طریقہ اپنے دشمن پہ نہیں لگا سکتے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم خود کش حملہ آور بھیج کر دنیا بھر میں موجود اپنے دشمنوں کا قلع قمع کر دیں تاکہ ہمارے شہری اپنی عبادت گاہوں میں تو سکون سے جا سکیں؟
ان سوالوں کی فہرست خاصی طویل ہوتی جاتی ہے۔ لیکن میرا خیال ہے بجائے کسی واقعے پہ اپنے تاثرات لکھنے کے میں صرف ذہن میں آنے والے چند سوالات لکھ دیتی ہوں۔ تاکہ ہمارے دیگر لوگ جو زیادہ بہتر طریقے سے کسی مسئلے کو حل کر لیتے ہیں وہ انکے مناسب جوابات دے سکیں۔
کیونکہ یہ سوالات ہیں جنہیں جانے بغیر ہم اپنا دفاع کرنے سے محروم ہیں۔ ایک خود کش حملہ آور کہیں بھی، کسی بھی وقت نمودار ہوگا اور خود جنت حاصل کر کے اپنے پیچھے سینکڑوں لوگوں کی زندگی جہنم بنا جائے گا۔
مذمتی بیانات تو سب ہی ڈال کر اپنا فرض پورا کرتے ہیں۔ اس وقت یہ مذمت ذرا الگ انداز سے کرتے ہیں۔ جس سے مجھ جیسے کم علم لوگ بھی مستفید ہو سکیں۔ اور انہیں صحیح سے معلوم ہو کے انہیں کیا کرنا ہے۔ مذمت کرنی ہے، تعزیت کرنی ہے، تبرہ کرنا ہے، یا لعنت بھیجنی ہے۔ اور ان سب کا ٹارگٹ کسے بنانا ہے۔
اور ہاں ایم کیو ایم اور الطاف حسین کو خدا پوچھے۔ وہ  ایک نمبر کے دہشت گرد ہیں بس ان میں اوردیگر دہشت گردوں میں  یہ فرق ہے کہ انکے خود کش حملہ آور عام لوگوں کے درمیان نہیں پھٹتے۔ لیکن یہ بھی میں غلط ہی کہتی ہوں یہ دوسرے دہشت گرد ہمارے ملک سے تعلق ہی کہاں رکھتے ہیں۔ یہاں تو صرف ایک ہی طرح کے دہشت گرد ہیں اور وہ ہیں الطاف حسین کے دہشت گرد۔ 


Thursday, July 1, 2010

دیر آید

اگرچہ کہ میں کھانا دن میں ضرورتاً ہی کھاتی ہوں مگر تیسری دنیا کے ایک پسماندہ اور اپنے ہوش و حواس کی دنیا بحال ہونے کے بعد سے اسے حالت جنگ میں دیکھ دیکھ کر میں سارا سارا دن بھی لکھتی رہوں تو اس میں اچنبھے یا حیرانی کی بات نہیں ہونی چاہئیے۔ تیسری دنیا کا ایک غریب ملک، حالت جنگ، نامساعد سیاسی حالات، جہالت، دقیانوسیت, جذباتیت، اور ترقی کے لئے کام کرنے کے بجائے کام کرنے والوں سے حسد،  یہ سب مل کر ایک ایسا جادوئ جوہر بناتے ہیں  کہ جو شخص معمولی سی بھی حساسیت رکھتا ہو یہ اسے تخلیق کی سطح پہ خاصہ سرگرم کر دیتی ہے۔ ایسے حالات سے گذرنے کے بعد اگر کسی لکھنے والے کو لکھنے کے موضوعات کی قلت کا سامنا ہے تو یہ یقیناً وہ ہونگے جو صاحبان تسلیم و رضا سے ہیں۔
اس ہفتے دو دلچسپ خبریں سامنے آئیں۔ پہلی خبر کا تعلق سندھ سے ہے۔ جہاں ایک پینتالیس سالہ خاتون شہزادی چانڈیو  نے ایک سترہ سالہ لڑکے کو شادی کرنے کی غرض سے اغواء کر لیا۔ پولیس اسٹیشن میں لڑکے نے بیان دیا کہ وہ تو اسے جانتا تک بھی نہیں۔ یہ زیادتی ہے کوئ آپکو جانتا بھی نہ ہو اور اسے اغواء کر لیا جائے۔ مگر پھر بھی صد شکر کے اجتماعی زیادتی نہیں ہے۔
دوسری خبر  انڈیا کے شہر لکھنوء سے ہے ایک مسلم خاتون نشاط فاطمہ نے شہر میں واقع ایک شریعت کورٹ میں فتوی دینے مولوی صاحب کی پٹائ لگادی۔ یقیناً پڑھی لکھی نہیں ہونگیں ورنہ صرف لفّاظی کرتی رہ جاتیں۔ اور اسی فلسفے پہ غور کرتی رہتیں کہ جب اس خبیث شوہر نے ہی خباثت دکھا ڈالی تو کسی مولوی کا اس میں کیا قصور۔ اس تمام تر ہاءو ہو کے بعد  پھر انہوں نے  جو کچھ کہا  اسکا مطلب یوں نکلتا ہے کہ  ٹھنڈ پے گئ۔ 
دل کو کتنا سکون ملا ہے ان لوگوں کو پیٹ کر بتا نہیں سکتی۔
خاتون شیعہ فقہے سے تعلق رکھتی ہیں اور پڑوسیوں کی زبانی یہ جان کر کہ انکے شوہر نے انہیں طلاق دے دی ہے وہ سخت صدمے میں تھیں۔ شیعہ قوانین کے مطابق بیوی کو صفائ کا موقع دئِے بغیر طلاق نہیں ہو سکتی۔  خاتون کے شوہر صاحب عرصہ ء دو سال سے ایک اور خاتون کے ساتھ عارضہ ء قلب میں مبتلا تھے۔ اسکا علاج انہوں نے یہ نکالا کہ ان سے شادی کر لی جائے۔ لیکن اس سلسلے میں ماضی کی غلطی کو ان ڈو کرنے کے لئے انہیں مولوی صاحب سے خدمت لینی پڑی۔  تاکہ زمانہ ء حال میں یہ غلطی دوبارہ کر سکیں۔  لکھنوء کے سلطان المدارس کے مولوی صاحب نے مبلغ ڈھائ ہزار روپے انہیں پہلی بیوی سے علیحدگی کا سرٹیفیکیٹ دیا۔  نشاط آپا نے یہ سنتے ہی آءو دیکھا نہ تاءو کہ اب اسکا وقت نہیں رہا تھا اس شریعت عدالت میں گھس کر مولوی صاحب کی پٹائ لگا دی۔  نہ رہے بانس اور نہ ہی بانسری۔  ہماری خاتون نے اسی پہ بس نہیں کی بلکہ مزید خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ جو ان مولویوں کے قوانین سے تنگ آئی ہوئ ہیں وہ بھی باہر نکلیں اور انہیں سبق سکھائیں۔
باقی مسلمان خواتین چاہے انکے مشورے پہ عمل کریں یا نہ کریں ایک خیال یہ  آتا ہے کہ بچپن میں اماں جان و ابا جان سے پٹنے کے بعد عین بڑکپن میں دوسرے کی بیگم سے پٹنے کے انوکھے تجربے کے بعد مولوی صاحب کی  ذہانت میں بیش بہا اضافہ ہوا ہوگا اور اب وہ مولوی صاحبان یقیناً اس کار خیر کی فیس بڑھا دیں گے کہ اس میں بعد از پٹائ علاج معالجہ کا خرچہ بھی شامل ہوگا۔
میری ہمدردیاں مولوی صاحب کے ساتھ ہیں اس لئے برائے مہربانی اس پوسٹ کے سلسلے میں مجھ پہ دین کے خلاف جانے کا الزام نہ لگایا جائے۔ حالات کہہ رہے ہیں کہ مبینہ شوہر صاحب نے بھی اسی طرح باری باری اماں، ابا اور بیگم سے پِٹ پِٹ کر ذہانت استعمال کرنا سیکھی ہوگی۔ بہر حال دیر آید درست آید۔