Thursday, December 2, 2010

منی بدنام ہوئ----استغفراللہ

اکثر ایسی میلز یا فیس بک پہ ویڈیوز ملتی ہیں۔ جنکا مقصد تو بظاہر یہ لگتا ہے کہ لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا کیا جائے کہ وہ مذہبی طور پہ کتنے نکمے ہیں۔ اور ان سے اس سلسلے میں کیا کیا کوتاہیاں ہوتی ہیں۔ لیکن پتہ نہیں کیوں مجھے یہ بہت مسخرہ پن لگتا ہے کہ ایک طرف وینا ملک ٹھمکے لگاتیں سلمان خان سے داد و تحسین وصول کررہی ہیں اور پس منظر میں حمد سے ملتی جلتی چیز سنائ دے رہی ہے۔ اس تمام ویڈیو کو دیکھنے کے بعد کیا ایک عام شخص مذہبی غیرت کھا کر اس تمام مواد کو واہیات کہہ کراٹھ جاتا ہے یا  استغفراللہ کہہ کر ہل من مزید کہتا ہے۔ ایسی ایک ویڈیو میں نے فیس بک پہ دیکھی۔ ابتداً تو صرف شروع کے کلپس دیکھ کر چھوڑ دی کہ بے کار کا قصہ ہے۔ لیکن  عوام الناس کو اپنی بلّو کے لئے لائن لگاتے ہوئے  ساتھ ساتھ  وینا ملک  پہ غیرت کھاتے دیکھا تو سوچا دیکھیں تو وینا ملک کرنٹ پاکستانی سینسیشن، آخر کیا چیز ہے۔ جس پہ منی بد نام ہو رہی، اور ہر کس و ناکس استغفراللہ  بھی پڑھ رہا ہے اور اسی دلجمعی سے وینا ملک کی ویڈیوز یو ٹیوب پہ جمع ہوئ جا رہی ہیں۔ جنہیں لاکھوں کی تعداد میں دیکھا بھی جا رہا ہے۔ 
ایک ایسی ویڈیو حاضر ہے۔ کیا استغفراللہ کہہ دینے سے یا ان کلپس کے پیچھے حمد نما شاعری لگانے سے انہیں دیکھنا جائز ہو جاتا ہے۔ 

 

Monday, November 29, 2010

باسی کڑھی

آجکل ذاتی مصروفیات کچھ ایسی ہیں کہ وقت  سب سے زیادہ اہم سوال بن گیا ہے۔ تو نئ پوسٹ کے بجائے ایک بہت پرانی پوسٹ معمولی تبدیلیوں کے ساتھ حاضر ہے۔ نہایت پرانے قارئین کے علاوہ کون اس سے آگاہ ہوگا۔ اس سے قدیم ہونے  کا اندازہ لگانے میں مدد ملے گی۔
آَئیے پڑھتے ہیں۔


ہمارے گھر سے ملحقہ پچھلا پلاٹ ایک نا مکمل اسٹرکچر کے ساتھ خدا معلوم کب سے خالی پڑا تھا۔ ایکدن گھر میں کچھ لوگوںجن میں, میں بھی شامل ہوں نے منصوبہ بنایا کہ گھر کی پچھلی دیوار میں ایک شگاف کر کے راستہ بنا لیا جائے اور اس خالی پلاٹ پر مرغیاں پال لی جائیں یا بکریاں۔ اس طرح سے ہمیں آرگینک انڈے اور دودھ مل جائیں گے اور ہمارے گھر میں صفائ کے مسائل بھی نہ کھڑے ہونگے۔
آپ لوگ تو واقف ہیں کہ آجکل مغربی دنیا میں لفظ آرگینک معاشی خوشحالی کی علامت ہے۔ جنہیں ہم دیسی انڈے کہتے ہیں انہیں وہ آرگینک پروڈکٹ کہتے ہیں۔مرغیاں خالی پلاٹ کی صفائ کرتی پھریں گی اور بکریاں یہاں وہاں کدکڑے لگائیں گی۔ اور خوشی خوشی تازہ دودھ دیں گی۔ روزانہ ملاوٹی دودھ کی قیمت میں اضافہ کا سن کر جو خون جلتا ہے وہ پھر چہرے پہ شادابی کا باعث بنے گا۔ اور اپنے غیر ملکی دوستوں پہ رعب بھی جمائیں گے کہ ہم تو آرگینک انڈے کھاتے ہیں اور دودھ پیتےہیں۔

غریب تیرے خواب۔ اس تجویز کا آنا تھا کہ برسوں سے خوابیدہ کارخانہء قدرت میں حرکت ہوئ اوردودن بعد کھٹپٹ کی آواز پہ
کھڑکی سے جو جھانکا تو کیا دیکھتے ہیں کہ خالی پلاٹ پر اگے ہوئے جنگل جھاڑ پر کلہاڑیاں چل رہی ہیں۔لیجئے ابھی دو دن پہلے ہی تو ہم نے کچھ منصوبے بنائے تھے۔ خیر آنا تیرا مبارک تشریف لانے والے۔ اگر معلوم ہوتا کہ آپ کے آنے کے لئے کچھ ایسے بے ضرر منصوبے پردہءخیال پہ ظہور پذیر ہونے چاہئیں تو برسوں پہلے سوچ لیتے یا بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ برسوں نہ سوچتے۔ لیکن جناب قدرت نے اسی پر بس نہیں کی اور ہمیں مستقبل میں کسی بھی منصوبہ بنانے کے ارادے سے باز رکھنے کے لئے آئندہ چند مہینوں کا پروگرام بھی بنا لیا گیا۔اب چاہے ہم سے جیسی بھی قسم لے لیں ہم اس سارے پلان سے ناواقف تھے۔
ایکدن باورچی خانے میں حلوہ پکاتے ہوئے چمچہ ایک پلیٹ میں رکھا اور چند منٹوں کے لئے وہاں سے غائب ہو کر جو دوبارہ نمودار ہوئے تو عجب ماجرہ تھا، پورا چمچہ باریک چیونٹیّوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ دیکھتے ہی ایک جھرجھری پورے بدن میں دوڑ گئ۔ فوراً ایک اینٹی انسیکٹ اسپرے کیا۔ اور اپنے تئیں سمجھا کہ نمرود کی فوج کا صفایا کر دیا۔ اسی دن شام کو دودھ کے ایک قطرے پہ پھر چینوٹیوں کے ایک لشکر کا حملہ ہوا۔ آئندہ ایک ہفتے میں ہم نے ایک کے بعد ایک کئ لشکر غارت کیے۔ مگر یہ تو لگ رہا تھا کہ اتنا ہی ابھریں گے جتنا کہ دبا دیں گے۔
ادھر پڑوس میں مکان کی تعمیر تیزی سے جاری تھی ادھر ہم اتنی ہی جاں فشانی سے چیونٹیّوں سے نبرد آزما مگر کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا تھا۔اب روزمرہ کے انسیکٹ کلر پر سے اعتماد اٹھ چلا تھا۔ ادھر یہ بھی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ یہ عذاب ہم پہ کہاں سے اور کس سلسلے میں نازل ہوا ہے۔
کچھ عرصے چیونٹیوں کی لاتعدا قطاروں کو صاف کرنے کے بعدہم نے یہ فیصلہ کیا کہ پورے گھر پر ایک ساتھ یلغار کی جائے تاکہ اس مصیبت سے نجات ہو۔ گھر کے چاروں طرف بنیاد کے ستھ ساتھ چونا ڈالا گیا اور لان میں چیونٹیاں مار دوا ڈالی گئ۔ کچھ دنوں کے لئے سکون ہوا مگر چاردن بعد وہی کہانی۔ یعنی ڈھاک کے تین پات۔
اب گھر کے باہر چونا ڈالنے کے بجائے چیونٹی مار دوا ڈالی گئ۔ پھر کچھ سکون ہوا۔ مگر کچھ دنوں بعد ہم پھر اپنی پرانی حالت پہ واپس آگئے۔ پھر مختلف ذرائع سے پتہ چلا کہ اینٹی انسیکٹ کا اتنا استعمال ہمارے خود کے لئے بہتر نہیں۔ جہاں ان سے مختلف قسم کی الرجیز ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے جن میں سرفہرست دمہ ہے وہاں یہ نہ صرف کینسر کا باعث بھی ہو سکتے ہیں بلکہ بانجھپن بھی پیدا کرتے ہیں۔ یا خدا اب کیا کریں۔
ادھر پڑوسیوں کا مکان تکمیل کو پہنچ رہا تھا اور اب اس پر رنگ و روغن ہو رہا تھا۔ ایک دن دل میں اتنا گداز پیدا ہوا کہ خدا سے شکوہ کناں ہوئے۔ یا اللہ ہمارا اس پلاٹ پر ْتو دلوں کے حال بہتر جانتا ہے۔ قبضہ کرنے کا کوئ ارادہ نہ تھا وہ تو صرف ایک خیال تھا۔ اور اگر ہم اس پر عمل کر بھی لیتے تو یقین جان کہ جس دن ان کی آمد کے آثار ہوتے ہم وہ مرغیاں اور بکریاں کسی کی دعوت میں استعمال کر لیتےممکن ہے انہی کی دعوت کردیتے۔ اس مکالمہء صفائ کے بعد جب سوچنا شروع کی تو لگا کہ دماغ کے انجن نے کام کرنا شروع کیا۔ اب جو غور کیا تو اندازہ ہوا یہ چیونٹیاں پڑوسیوں کے گھر کی تھیں۔ انہوں نے جو جنگل صاف کیا تو یہ ہمارے گھر آدھمکیں۔
 سوال یہ تھا کہ ان سے جان کیسے چھڑائ جائے۔ یکدم خیال آیاآخر ہم انٹرنیٹ کیوں نہیں استعمال کرتے۔ دماغ کے جالے لگتا تھا کہ ایکدم صاف ہو گئے۔  دو دن نیٹ پرخوب سرچ ماری اور بالآخر ایک نتیجے پہ پہنچ گئے۔ اگلے دن بازار سے بورک ایسڈ لےکر آئے دیکھنے والوں نے کہا ۔ اور کیرم بورڈ وہ کہاں ہے۔ وہی کھیلنے کے لئے ہم نے ہمیشہ بورک ایسڈ استعمال کیاہے۔ ایسے تبصروں پر ہم نے غور نہیں کیا یہ لوگ ہمیشہ چیونٹی کاٹے پر روتے ہیں اور اس کا ذمہ دار بھی ہمیں سمجھتے ہیں۔
ہم نےاسی سنجیدگی سے چینی کاشیرہ تیار کیا اور اس میں بورک ایسڈ کو ملادیا۔ پھر اسے چھوٹی چھوٹی پلاسٹک کی پیالیوں میں نکالا اور چینٹیوں کے بل جو ہم اس سارے عمل سے پہلے نشان زدہ کر چکے تھے ان کے قریب لے جا کر رکھ دیا۔ اگلے دن ماسی نے ہمیں اطلاع دی کہ پیالیوں میں کچھ رکھا ہے اس میں چیونٹیاں آرہی ہیں۔ آنے دو ہم نے شان بے نیازی سے جواب دیااور ایک میگزین پڑھتے رہے۔ اطمینان قلب دنیا کی سب سے بڑی چیز ہےاسی سے اعتماد پیدا ہوتا ہے۔۔' انہیں وہاں سے ہلانا نہیں۔' ہم نے اسے نصیحت کی۔ گھر میں کھلبلی مچ گئ۔ لیجئے اب تو چیونٹیّوں کو انکے دروازے پر ہی غذا مل رہی ہے اب دیکھئیے گا کیسی یلغاریں ہوتی ہیں ۔ کسی نے کہا کہ اب یقیناً ہمیں دوسرا گھر دیکھ لینا چاہئے۔ وہ دن دور نہیں جب یہاں صرف چیونٹیوں کا راج ہو گا۔ اور ہاتھیوں کا آنا منع ہوگا۔ میں نے لقمہ دیا۔
آہستہ آہستہ چیونٹیوں کی قطاریں ہر شکر کی پیالی کے ساتھ بندھ گئیں۔ صبح سے شام تک چیونٹیاں آرہی ہیں چیونٹیاں جا رہی ہیں اور ہم ہیں کہ ٹی وی پہ کھانا پکانے کی ترکیبیں دیکھ رہے ہیں۔۔رسالوں کو چاٹ رہے ہیں اب ہمارے شوہر صاحب کی پریشانی شروع ہوئ۔ 'یہ کیا ہو رہا ہے اس دفعہ آپ نے اینٹی انسیکٹ بھی نہیں لیا اور نہ ہی چیونٹیوں کا کوئ اور علاج ہو رہا ہے'۔ خاموش میں نے انگلی سے اشارہ کیا۔ اگرچہ چیونٹیوں کے کان نہیں ہوتے مگر تجربات یعنی چیونٹیوں کےذاتِی تجربات سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ ماحول میں اپنے خلاف ہونے والی ہر کارروائ سے آگاہ ہو جاتی ہیں خوش قسمتی سے قدرت نےعورتوں سمیت ہر جاندار کو اس حس سے نوازا ہے۔
اچھا جناب اب میرے شوہر صاحب سوچ رہے تھے کہ میں نے شاید کوئ روحانی عمل شروع کیا ہو اہے ۔ اور کچھ عرصہ لگے گا جب میں اپنی غلطی تسلیم کر لونگی کہ اس قسم کے مسائل حقیقت کی دنیا میں رہ کر ہی حل ہو سکتے ہیں۔ باقی لوگ شاید سوچتے تھے کہ میں نے اپنی کاہلی کے اوپر بڑی ذہانت سے پردہ ڈالا ہوا ہے۔ یوں ایکدن جب یہ موضوع جب دوبارہ زیر بحث آیا تو پھر توپوں کا رخ میری جانب ہوا۔
لوگ میری خاموشی اور سکون سے نالاں تھے۔ میں نے جب ان سے مزید پندرہ دن کی مہلت چاہی تو وہ ایکدم پھٹ پڑے۔ چیونٹیاں نہ ہوئیں طالبان ہوگئیں۔ اب میں ہر ایک چیونٹی سے درخواست کرنے سے رہی یہ لیجئے دوا اور خدا کے لئے غارت ہو جائیں۔ خیر اجلاس میں میں نے سب کو یقین دلایا کہ میں کوئ روحانی عمل نہیں کر رہی ہوں۔ میں بورک ایسڈ بذریعہ شیرہ چیونٹیوں کو دے رہی ہوں، بورک ایسڈ ان کا معدہ ہضم نہیں کرتا اور معدہ پھٹ جانے کے نتیجے میں وہ اس دار فانی سے کوچ کر جاتی ہیں۔ 'تو کیا اب ایک ایک چیونٹی کے مرنے کا انتظار کیا جائے گا اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ان کے انڈوں سے چیونٹیاں پیدا نہیں ہونگیں۔ ' تابڑ توڑ سوالات۔
میری تیاری بھی مکمل تھی۔ بات یہ ہے کہ اس شیرہ کو چیونٹیوں نے اپنے بل میں بھی لے جا کر جمع کیا ہو گا اور اسے ان کی ملکہ بھی استعمال کرے گی جو ان کے بل میں انڈے پیدا کرنے کی ذمہ داری اٹھاتی ہے اب جب وہ ہی نہیں رہے گی تو نئ چیونٹیاں کہاں سے آئیں گی۔ پھر ہم نے بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے ان کی توجہ چیونٹیوں کی قطاروں میں ہونے والی واضح کمی کی طرف دلائ۔ لوگوں نے اس فرق کو محسوس تونہیں کیا تھا لیکن ہمیں کچھ دنوں کی مہلت ضرور مل گئ۔ آج اس بات کو اس ایک سال ہوگئے۔ اب ہمارے گھر میں کبھی کبھار کوئ چیونٹی اس لئے نظر آجاتی ہے کہ بچوں کو بتایا جا سکے یہ ہوتی ہے چیونٹی جس کے کبھی کبھی پر نکل آتے ہیں۔ اس تمام محنت سے ہم نے یہ سیکھا کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ اگر آپ برائ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تو اسکا خیال دل میں پال لینا ہی مصیبت بن سکتا ہے۔

نوٹ: اس طریقےکو طالبان کے خلاف استعمال کرنے والے نتائج کے خود ذمہ دار ہونگے۔
ریفرنس؛
چیونٹیوں سے بچاءو


Sunday, November 21, 2010

نو سے پانچ

میں اپنی ایک عزیزہ سے ملنے انکے گھر رات کو نو بجے پہنچی پتہ چلا کہ ابھی تک آفس سے واپسی نہیں ہوئ۔ وہ ایک سوفٹ ویئر انجینیئر ہیں اور ایک سوفٹ ویئر ہاءوس میں کام کرتی ہیں۔ رات کو دس بجے انکی واپسی ہوئ۔ لیکن آفس ٹائم ختم نہیں ہوا تھا کہ اب وہ گھر میں رات کو دیر تک بیٹھ کر کام کریں گی۔ وہ بتانے لگیں کہ اگر چار گھنٹے کی بھی نیند مل جائے تو عیاشی سمجھی جاتی ہےاور یہ انکا روز کا معمول ہے۔ اسکی وجہ سے صحت پہ جو اثرات ہیں وہ الگ ہیں۔ آپ تصور کر سکتی ہیں کہ جو شخص میرے ما تحت کام کرتا ہے وہ آفس چھ بجے چھوڑدیتا ہے اور اسکی تنخواہ مجھ سے بیس ہزار روپے زیادہ ہے۔ انہوں نے جھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔ در حقیت میرے ماتحت پانچ لڑکے کام کرتے ہیں۔اور وہ سب شام کو چھ بجے کے بعد نہ صرف کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے بلکہ کام کا معیار ایسا ہوتا ہے کہ مجھے ہی اسے بھگتنا پڑتا ہے۔ لوگ بڑے بڑے ادروں سے پڑھ کر آرہے ہیں بڑے مطالبات ہیں انکے مگر کام کے نام پہ ایک چھوٹے سے مسئلے سے نہیں نبٹ سکتے ایک پریزینٹیشن کا کہہ و جان نکل جاتی ہے انکی اور یہ سب میرے ہم عمر لوگ ہیں۔ میں ٹیم لیڈر ہوں اور نتیجے میں کام کا سارا لوڈ میرے اوپر پڑ جاتا ہے۔
 میری ایک اور دوست جو کہ کسی اور سوفٹ ویئر ہاءوس میں کام کرتی ہیں انکی کہانی بھی یہی کہ رات کو نو دس بجے گھر سے واپسی ہوتی اور صبح ساڑھے سات بجے تک گھر سے نکل جاتی ہیں۔ یہ بتاءو تمہاری اب شادی ہونے والی ہے تب یہ سب کیسے چلے گا۔ میں نے پوچھا۔ ایسے ہی چلتا ہے۔ جو شادی شدہ کولیگز ہیں وہ بھی تقریباً اسی وقت تک جا پاتی ہیں۔ 
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کی جاب کا کوئ تصور نہیں رہا۔ سوائے سرکاری داروں کے تمام غیر سرکاری ادارے اپنے تنخواہ دار طبقے کا خون چوس لینا چاہتے ہیں۔ مقررہ وقت سے الگ رک کر زیادہ کام کرنے والوں کے لئے یعنی اوور ٹآئم کا کوئ تصور نہیں اور یوں اب زائد کام، زائد تنخواہ کا کوئ تصور نہیں رہا۔ ان کام کرنے والوں کے کوئ بنیادی حقوق نام کی چیز نہیں۔
حتی کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگ جو معاشرے کی زبوں حالی کا رونا روتے نہیں تھکتے۔معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنے کا عزم دوہراتے ہیں، نا انصافیوں کو دور کرنے کی باتیں کرتے ہیں  وہ خود بھی ان سوفٹ ویئر ہاءوسز کو چلا رہے ہیں مگر انکے یہاں کام کرنے والوں کے ایسے کسی حق کا خیال نہ کرنا انکی شخصی دوہریت کو ظاہر کرتا ہے جو ماشااللہ ہمارے معاشرے میں کثرت سے پائ  جاتی ہیں۔ چار لوگوں کے سامنے بیٹھ کر اخلاقی تقاریر کرنے میں کسے مزہ نہیں آتا۔ عملی طور پہ وہ انہی اخلاقی اصولوں کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں۔


خاص طور پہ جب وہ خواتین کو اتنے طویل وقت کے لئے روک رکھتے ہیں تو کیا انہیں خیال ہوتا ہے کہ یہ عورت ایک ماں بھی ہے، اسے اپنی گھریلو ذمہ داریاں بھی دیکھنا ہونگیں اور دیکھنا چاہئییں۔ گھر کسی معاشرے کی اکائ ہوتا ہے۔ اس اکائ کی ساخت کو محفوظ اور بہتر بنانے کے لئے ہمارے یہاں کیا ہو رہا ہے۔ جواب یہ ہے کہ کچھ نہیں۔ خواتین کو ملازمت میں ترجیح دی جاتی ہے اس لئے کہ وہ خاموشی سے گدھے گھوڑے کی طرح کام کرتی رہیں گی۔ ادھر خواتین کے لئے سب سے زیادہ اہمیت نوکری اور تنخواہ ہی کی نہیں ہوتی بلکہ ادارے میں اگر انہیں ماحول محفوظ لگے تو وہ جاب سوئچ کرنے سے گریز کرتی ہیں کہ اگلی جگہ خدا جانے کیسا ماحول ملے یوں وہ رسک لینے سے گھبراتی ہیں۔ دوسری طرف ہماری خواتین کو پیشہ ورانہ میدان میں داخل ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گذرا تو وہ اپنی حق تلفی کے سلسلے میں بلکہ کسی بھی سلسلے میں زبان کھولنے سے گھبراتی ہیں۔ یوں کام کا ایک غیر ضروری بوجھ اٹھاتی ہیں اور دب کر بھی رہتی ہیں۔ تیسری طرف جب سے عالمی مارکیٹ میں کساد بازاری کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ آجر، اپنے اجیروں کی تعداد کو کم سے کم رکھتے ہوئے اتنا ہی کام کروانا چاہ رہے ہیں۔تاکہ انکا سرمایہ زیادہ خرچ نہ ہو اور منافع کی شرح برقرار رہے یوں انکی اس ڈریکولا والے انداز کے خلاف بولنا اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے۔
کیا ترقی یافتہ ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ مجھے آسٹریلیا میں کچھ وقت گذارنے کا موقع ملا اور یہ دیکھ کر حیرانی ہوئ کہ تقریباً تمام مارکیٹ سات بجے شام کو بند ہوجاتی ہے۔ آفس کے اوقات صبح نو سے پانچ۔ کبھی ہی ایسا موقع ہوتا ہے کہ دیر تک رکنا پڑے۔ ہفتے میں دو دن کی چھٹی۔ جس میں ایک خاندان کے تمام لوگ سیر و تفریح کا پروگرام بناتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے یہ سب کچھ کیوں۔ اس لئے کہ خاندان کو ایک ساتھ وقت گذارنے کا موقع ملے اور اس طرح معاشرے کی اکائ یعنی ایک خاندان مطمئن اور توازن سے بھر پور زندگی گذارے۔
میری وہی عزیزہ، ابھی چند مہینے پہلے  امیگریشن کے بعد کینیڈا چلی گئیں۔ ایک چیز سے خوش ہیں کہ  وہ شام کو چھ بجے اپنے گھر میں ہوتی ہیں، کھانا بناتی ہیں، ٹی وی دیکھتی ہیں۔ رات کا کھاناہم سب مل کر کھاتے ہیں۔ یہاں زندگی بہت ریلیکس ہے۔ ہر ہفتے کو ہم کہیں نہ کہیں گھومنے جاتے ہیں۔
حتی کہ تھائ لینڈ جیسے ملک میں جو کہ ترقی یافتہ ممالک مِں شامل نہیں اور شہروں میں شاید ہر عورت کام کرتی ہوگی۔ اس بات پہ توجہ دی جاتی ہے کہ خواتین اپنے آپکو آفس میں ہی نہ خرچ کر ڈالیں بلکہ اپنے گھر کے لئے بھی خود کو بچا کر رکھیں۔
ہمارے یہاں ایسا کوئ تصور نہیں۔ کوئ ایسی دستاویز جس میں کام کرنے کے زیادہ سے زیادہ اوقات بیان کئے گئے ہوں۔ کسی کو اس بات کی چنداں فکر نہیں کہ ملازمت پیشہ خواتین  کے مسائل کی طرف بھی نظر کرے۔ ظاہر ہے جہاں بات روٹی کے گرد ہی گھوم رہی ہو وہاں اس قسم کے مسائل میں کس کو دلچسپی ہو سکتی۔ اور خواتین کے مسائل کو تو کسی گنتی میں ہی نہیں رکھا جاتا، زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیا جائے گا کہ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ خواتین کام نہ کریں انہیں گھر کی ملکہ بن کر رہنا چاہئیے۔ یہ انکا کام نہیں۔ حالانکہ ملازمت پیشہ خواتین کا بڑا حصہ اپنے خاندان کی معاشی کمزوریوں کی بناء پہ کام کرنے پہ مجبور ہوتا ہے۔مگر یہ سب کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ جب روٹی نہیں خرید پاتے تو کیک خریدنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی۔ جب زراعت کا زمانہ تھا عورت گھر کی کھیتی باڑی میں اپنے حصے کا کام کرتی تھی اور برابر سے کرتی تھی۔ اب انڈسٹریئل زمانہ ہے اس میں بھی کسی کے لئے رعایت نہیں اور سب کو کام کرنا پڑتا ہے۔
کس کو فکر کہ ایک کام کرنے والے پہ کام کا کتنا بوجھ ڈالا جا سکتا ہے۔  ان  پریشان لوگوں کا کوئ پر سان حال نہیں اور نہ شاید کوئ اسکا احساس کرتا ہے۔  حکومتی عناصر اور ہمارے پالیسی ساز ذہن معاشرے کے استحکام کے لئے پالیسیاں بنانا کب شروع کریں گے۔جس طرح معاشرے میں اور ظلم اور زیادتیوں کو قبول کر کے بس زندہ رہنے کی رسم نبھانے کی عادت ڈال لی گئ ہے وہیں اس ظلم کے خلاف بھی کوئ آواز اٹھانے والا نہیں ۔

Wednesday, November 17, 2010

عید قرباں کراچی میں

ہر طرف گائے بکریوں کا شور ہے۔ رات کے آٹھ بجتے ہی لڑکے اپنے اپنے جانوروں کی رسیاں تھامے روڈ پہ نکل آتے ہیں اور پھر انکی ریس شروع ہوتی ہے۔ گھنگھرءووں کی چھم چھم، جانوروں کی میں میں ، باں باں اور بھیں بھِیں اور لڑکوں کی فرط جوش میں نکلتی چیخیں اور نعرے دیکھ کر اسپین کی بل فائیٹنگ کے میدان یاد آجاتے ہیں۔  مگر واپس آجائیے، یہ اسپین نہیں پاکستان کا شہر کراچی ہے۔ اور خیال اغلب ہے کہ یہ ساری مشق یہ معلوم کرنے کے لئے ہوتی ہے کہ یہ جانور پل صراط پہ صحیح کارکردگی کا مظاہرہ کر پائے گا یا نہیں۔ میں اس سب  کو برا  کہنے کی جراءت نہیں کرسکتی مگر میرے جیسے کمزور دل ڈرائیورز پہ یہ وقت پل صراط پہ چلنے سے کم نہیں ہوتا۔
میں نے کہا بقر عید تو دراصل مردوں کا تہوار ہے۔ بکرا منڈی جانا ، پھر اسکا ایک تفصیلی معائنہ کرنا،  جانوروں کی تفصیلات حاصل کرنا، کیا عمر ہے کہ ہمارے یہاں قربانی کا جانور اور محبوب دونوں بالی عمر کے ہی پسند کئیے جاتے ہیں، کوئ شرعی عیب تو نہیں چاہے خود شریعت پہ عیب ہوں مگر قربانی کے جانور میں کوئ عیب میں ہونا چاہئیے ورنہ دنیا تُھو تُھو کرے گی، منہ کھلوا کر دانت گننا یہ خاصہ خطرے کا کام ہوتا ہے کہ جانور آپکی انگلیاں نہ گننے لگ جائے۔ اس لئے قربانی ان جانوروں کی ہوتی ہے جو کبھی مکتب نہ گئے ہوں۔ شاید افضل بھی انہی کی ہو۔ پھر چلا کر دیکھنا کہ الہڑ مٹیار کی طرح چلتا ہے کہ نہیں۔ لیکن اس چال میں چلن کا بانکپن ہونا چاہئیے۔ ورنہ کہیں ضعف چلن کی وجہ سے مسائل کھڑے ہوجائیں، خاص طور پہ گئیوں کا ضعف چلن ہمارے یہاں غیرت کا مسئلہ بن سکتا ہے جس میں قانون بھیگی بلی بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔   پھر قیمت کا تعین اور اس پہ بحث۔ اسکے بعد اپنی حد سے باہر جاتا دیکھکر اسے چھوڑنا، اپنی حد میں آتا دیکھ کر سوچنا کہ مبادا اس سے اچھا کوئ اور جانور مل جائے اور دوسرے کی حد میں جاتا دیکھ کر تائسف میں پڑنا کہ سال بھر اس نے ہم سے بہتر مال بنایا۔ اس طرح پوری بکرا منڈی کا ایک سیر حاصل تجزیہ جسکے بعد آپ محض میں میں اور بھیں بھیں  سن کر بتا سکتے ہیں کہ یہ کسی سرائیکی دوکاندار کا جانور ہے یا سندھ کے میدانوں سے آیا ہے۔ آیا خالص پاکستانی جینز رکھتا ہے یا کسی فرنگی ملک کے شاندار جینز میں بھی حصے دار ہے۔ یہاں بہت سارے سوالات کھڑے ہوتے ہیں مگر انہیں بٹھا دیتے ہیں کہ  عید پہ  قربانی بے زبان ، معصوم، 'سیدھی' سادی گئیوں اور بکریوں کی جائز  ہے ہماری نہیں۔
ایک دفعہ آپ جانور کے مالک ہو جائیں تو اسے اپنے محلے یعنی گھر تک پہنچانا بھی ایک مرحلہ ہوتا ہے۔ جانورلے جانے والی گاڑیوں کے مالکان سے حساب طے ہونے کے بعد جب اس کھلی گاڑی میں دوستوں کے ہجوم اور جانور کے ساتھ پیچھے جالی میں ٹنگ کر سہراب گوٹھ سے روانہ ہوتے ہیں اور  شہر کے درمیان سے گذرتے ہیں تو ایک خمار چڑھتا ہے جسے گائے کے پیشاب کی دھاراور گوبر کی بدبو بھی نہیں اتار سکتی۔
پھر گھر پہنچ کر ایک خلقت ، میرا پیا گھر آیا کے نعرے لگاتی، آپکے جانور کے دیدار کوبھاگی چلی آتی ہے۔ جانور کو گاڑی سے اتارتے وقت انتہائ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ نہ معلوم کیوں، اس بات کا احساس جانور کو بھی ہوتا ہے کہ یہ بھاگ نکلنے کے سنہری مواقع میں سے ایک ہے۔  جانوروں میں پلاننگ کرنے کے خامرے نہیں ہوتے اس لئے بہت محدود تعداد ہی ایسا کر پاتی ہے اور جب بھی کرتی ہے بغیر پلاننگ کے ہوتا ہے۔ اس لئے جہاں چاہے منہ اٹھائے دوڑ پڑتی ہے۔ ایسے موقع پہ آُپکے پاس بھی اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ یہ سوچیں کہ میں اگر گائے یا بکرا  ہوتا تو دوڑ کر کہاں جاتا۔ نتیجتاً ایسے کسی واقعہ کے پیش آنے کی صورت میں آپ اسی طرف ہو لیتے ہیں جہاں جانور جاتا ہے۔ باقی زمانہ بھی چلو تم ادھر کو گائے ہو جدھر کو کی تصویر بن جاتا ہے۔ ایسا وقت پھر مجھ جیسے ڈرائیور کے لئے روز قیامت بن جاتا ہے۔ کیونکہ میری بھی اس سلسلے میں کوئ پلاننگ نہیں ہوتی۔ اگر کوئ جانور میرے سامنے بھاگا چلا آرہا ہوتو میں بالکل صم بکم ہو جاءونگی۔ یہاں تک آپکو پتہ چل گیا ہوگا کہ پلاننگ کسے کہتے ہیں اور یہ بقاء اور قضا کے لئے کتنی ضروری ہے۔
اب فرض کیا کہ جانور کے سیدھے میرا مطلب سدھائے ہوئے ذہن میں ایسی کوئ بات نہیں آتی تو یہ مرحلہ بخیر و خوبی طے پا جاتا ہے۔ اور آپ اسے اسکی مرضی کے ساتھ اپنے گھر کے سامنے یا اندرکسی کھونٹے سے باندھ دیتے ہیں۔  اب کچھ لوگ جنہیں سیدھے سادے، شریف جانور پسند ہیں تو وہ نہایت حیا سے آنکھیں پٹپٹاتی گائے کی اس ادا پہ دل ہی دل میں نثار ہوتے رہتے ہیں۔
اگر جانور بھاگ جائے اور ستارےآپکے حق میں ہوں تو آپ اسے اپنی اور محلے والوں کی تگ و دو کے بعد دوبارہ پکڑ لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ انسانی معالات کے بر عکس ایسی بھاگی ہوئ گائے پہ فخر و غرور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔  پھڑکنیاں کھاتا ہوا  دل اپنے جانور کی اس ادا پہ قتل ہوتا رہتا ہے کہ کیا جاندار چیز ہے، ظالم لگتا ہے کمان سے نکلا تیر ہے۔
 اسکے بعد کیا ہوتا ہے اسے پڑھنے کے لئے پہلے پیرا پہ واپس جائیں۔
جانور کا کھانے پینے انتظام کرنا بھی  دیہاتوں سے وابستہ ہمارے رومانی تصورات کو نکھار دیتا ہے۔  ہمارے شہر میں اکثر گھر کنالوں اور مرلوں پہ نہیں بنے ہوئے اس لئے شہر کی گلیاں اس زمانے میں آدھی رہ جاتی ہیں کہ آدھی گلی میں ان جانوروں کی باپردہ رہائیش کے لئے کیمپس بنا دئیے جاتے ہیں۔ جہاں محلے کے مخنچو، چھٹنکو، دادا، ہیرو اور بدمعاش سب حسب ذوق و شوق حاضری دیتے ہیں۔  اور ادائے جانوراں سے شغل فرماتے ہیں۔
لیکن اسکے ساتھ ایک نہایت دلچسپ مرحلہ اپنے جانوروں کی سجاوٹ ہے۔ پورے شہر میں جا بجا جانوروں کی آرائیشی اشیاء کی دوکانیں ان دنوں سج جاتی ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ  اپنے جانوروں کو سجانے سنوارنے میں ہمارے مرد کتنی دلچسپی رکھتے ہیں۔ بعض اوقات گھر کے پرانے جانوروں کو ان قربانی کے جانوروں سے جیلسی محسوس ہوتی ہے۔ شہری خواتین اس چیز کو زیادہ دل سے نہیں لگاتیں۔ انکا خیال ہوتا ہے کہ اس بہانے ان پہ رہنے والی کڑی نظر بٹ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میٹھی عید پہ جس قدر پردے اور خواتین سے متعلق دیگر امور کا تذکرہ رہتا ہے بقر عید پہ یہ رجحان تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔ اس لئے فلمی اداکارائیں بھی اس مہینے اپنا کوئ اسکینڈل بنوانے میں دلچسپی نہیں لیتیں۔
  ان دوکانوں پہ گلوں کے ہار، سینگوں میں ٹانگنے کی اشیاء، پیٹھ پہ بچھانے کی مختلف طرح کی چادر نما چیزیں، گلوں کی گھنٹیاں اور پیروں کے گھنگھرو شامل ہوتے ہیں۔ کچھ شوقین اس سب سے پہلے مہندی کی رسم بھی کرتے ہیں۔  گھنگھرو پہن کر جب جانور ٹھمک ٹھمک کر روڈ پہ چلتا ہے تو اس سے لا محالہ دل سے صدا نکلتی ہے کہ پائیل میں گیت ہیں چھم چھم کے تو لاکھ چلے رہ گوری تھم تھم کے اسکے علاوہ ڈرائیورز کو بھی یہ خبر ہو ہی جاتی ہے کہ اب کیا ہونے والا ہے۔  چونکہ خواتین کے لئے بجنے والا زیور پہن کر چلنا درست نہیں تو یہ آرزو بھی یہ گئیاں اور بکرے بکریاں پوری کرتے نظر آتے ہیں۔ اس بات کے ہم اتنے عادی ہو گئے ہیں کہ کوئ خاتون کوئ چھنا چھن کرنے والا زیور پہن بھی لیں تو ہماری آنکھیں کسی گائے کا تصور کرتی رہتی ہیں۔
بقر عید پہ عشّاق کیا کرتے ہیں؟ میٹھی عید کی طرح گلی کے نکڑ یا چھت سے تاکا جھانکی یا فیس بک پہ ایک تحریری عید مبارک کے بجائے اس عید پہ موقع ہوتا ہے کہ آپ گائے کا حصہ لیکر انکے گھر پہنچ جائیں۔ بکرے کی ران یا گائے کا دس کلو کا پورا ایک بغیر ہڈی کا ٹکڑا انکے گھر والوں کو آپکے قدموں پہ ڈھیر کر دےگا۔ یہ کوئ مغرب نہیں کہ ڈائریکٹ محبوب پہ ہلہ مارا جائے۔  یہ مشرق ہے مشرق۔  ایک دفعہ گھر والوں کا دل مٹھی میں آجائے تو سمجھیں کہ اب محبوب چاہے بھی توآپ کے کھونٹے سے جان چھڑانی مشکل ہے۔ اسکے گھر والے اسے آپکے یہاں باندھ کر رہیں گے۔  البتہ اپنے گھر والوں کو اس ران یا گوشت کے ٹکڑے کی منزل آپ کہاں بتائیں گے یہ آپکی ذہانت اور محبت کی گہرائ پہ منحصر ہے۔
 عید میں سے اس تمام تر تفریح نکل جانے کے بعد خواتین کے لئے اس عید میں جو بچ جاتا ہے۔ وہ کچن میں نظر بند ہونا ہے۔ اس کے لئے وہ یا تو سال بھر کی جمع کی ہوئ ترکیبیں آزماتی ہیں یا پھر انکی اس بوریت کو دور کرنے کے لئے مختلف برانڈز کے تیار مصالحوں سے پرچون کی دوکانیں بھر جاتی ہیں۔ اس سے پھوہڑ عورتیں ہی نہیں سگھڑ مرد بھی بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنی سلیقہ مندی کی داد پاتے ہیں۔ اسکے علاوہ خاندان میں چلی آنے والی سینہ بہ سینہ تراکیب بھی ہوتی ہیں۔  ہم بھی کھانا پکانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ لیکن بات یہ ہے کہ ہمارے پاس جتنی تراکیب ہیں سب خاندانی ہیں  اس لئے انہیں افشا نہیں کیا جا سکتا۔ یوں ہماری مجبوری صرف مملکت یا کائینات کےراز افشا کرنا رہ جاتی ہے۔
لیکن ایک آسان سی ترکیب تو میں آپکو بتا سکتی ہوں۔ حسب مرتبہ گوشت لیجئیے اس میں حسب ذائقہ تمام مصالحہ جات ملا لیں۔ حسب وزن گوشت کچا پپیتا ملا دیں۔ حسب میسر وقت اسے پڑا رنے دیں اور پھر سیخوں پہ لگا کر بار بی کیو کر لیں۔  آپ کہیں گے یہ تو ہم بھی بتا سکتے ہیں۔ تو جو تراکیب  سینہ بسینہ نہ چلیں وہ بس ایسی ہی ہوتی ہیں۔ اب آپکو پتہ چل گیا ہوگا کہ خاندان کس طرح بنتے اور سنبھالے جاتے ہیں۔
میرے پیارے قارئین، یہ کراچی میں بقرعید کا ایک دھندلا سا خاکہ تھا۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ ہمارے یہاں بقر عید ایک انڈسٹری ہی نہیں سارے کمرشل مصالحوں سے بھرپور ایک تہوار ہے اس لئے اتنا ہِٹ جاتا ہے۔ 

Saturday, November 13, 2010

بچوں کی ابتدائ تعلیم

کراچی میں سی آئ ڈی کی بلڈنگ پہ شدید دھماکہ ہوا۔ پوری عمارت تباہ، پندرہ سے زائد لوگ ہلاک۔ سوسے زائد زخمیوں کی بڑی تعداد سر پہ چوٹ کا شکار۔ ایک کلومیٹر کے علاقے میں دو سو سے زیادہ گھر تباہ۔  بس اس سے آگے میں اس پہ کچھ نہیں لکھنا چاہتی۔ البتہ ان لوگوں میں سے ہوں جو سوچتے ہیں کہ اس قتل و غارتگری، جنگ و جدل کو کیا ہمارے بچوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔ کون ان دہشت گردوں کے ہاتھوں کو روکے گا اورکون انکے منجمد دماغوں کو زندگی کی قدر کرنے کی تحریک دے گا۔
-
-
-
-
میری ایک تبصرہ نگارماں ہیں اور ہر ماں کی طرح چاہتی ہیں کہ وہ اپنی بچی کی زندگی میں وہ سب آسانیاں دیں جو وہ دے سکتی ہیں۔ بچوں کے بارے میں سب سے پہلے تعلیم کا سوال اٹھتا ہے۔ 
 ذمہ دار والدین فکر مند رہتے ہیں کہ وہ اپنے بچے کی تعلیم کن بنیادوں پہ استوار کریں۔ کراچی میں  بعض اسکولوں میں بچوں کی پیدائیش کے فوراً بعد رجسٹریشن کرانا ضروری ہوتی اور بعض بچے سوا سال کی عمر میں  اسکول میں داخل کرا دئیے جاتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ والدین کی اکثریت نہیں جانتی کہ یہ اسکول نہیں بلکہ پلے اسکول ہوتے ہیں۔ ان پلے اسکولوں میں جو کچھ ہوتا ہے وہ ماں باپ اپنے بچوں کو گھروں میں کرا سکتے ہیں۔ کیونکہ اس عمر میں بچوں کو کھیل ہی کھیل میں اپنے ماحول سے آگہی دی جاتی ہے اور زندگی کے ابتدائ ادب آداب سکھائے جاتے ہیں۔ ہمارے یہاں ماءووں کی اکثریت چونکہ گھروں میں رہتی ہے اور انکے لئے اسکا وقت نکالنا مشکل نہیں بلکہ یہ انکی پہلی ترجیح ہونی چاہئیے۔ لیکن بد قسمتی سے ہماری ماءووں کی اکثریت یا تو خود ان پڑھ ہوتی ہے، وہ خود ہی اپنے ماحول سے آگاہ نہیں ہوتی تو وہ اس سلسلے میں چاہنے کے باوجود کچھ کرنے سے معذور ہوتی ہے۔
وہ مائیں جو اتنی پڑھی لکھی ہیں کہ کمپیوٹر استعمال کر سکیں  اور انکے گھروں میں کمپیوٹر موجود بھی ہے انہیں اپنے آپکو خوش قسمت سمجھتے ہوئے اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہئیے۔ ٹیکنالوجی کے صحیح استعمال سے آپ اپنے بچے کو اپنے گھر کے اندر اس سارے طریقے سے واقف کرا سکتے ہیں جو کہ والدین بہت زیادہ فیسوں کی ادائیگی اور دن رات کے تناءو کے بعد حاصل کرتے ہیں۔ دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے اور ہم اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے اپنے بچوں کو وہ تمام علم دے سکتے ہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں دیا جاتا ہے۔ یوں ٹیکنالوجی نے تمام انسانوں کو برابر کی سطح پہ لا کھڑا کیا ہے۔
بچوں کی پہلی انسپیریشن انکے ماں باپ ہوتے ہیں۔ اگر گھر میں والدین کتابوں میں دلچسپی لیتے ہیں تو بچے بھی دلچسپی لینے لگتے ہیں انہیں کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔  اس لئے سب سے پہلے خود پڑھنے کی عادت ڈالنہ چاہئیے۔
بچوں ک تربیت میں ایک چیز کا خیال ضروررکھنا چاہئیے کہ جب بھی آپکا بچہ کوئ نئ چیز سیکھتا ہے چاہے وہ کتنی معمولی کیوں نہ ہو اسکی حوصلہ افزائ ضرور کریں۔ جب وہ آپکی ہدایات پہ عمل کرتا ہے اسے ڈھیر سارا پیار کریں اور خوب ساری تعریف۔ والدینکو بچوں کے سامنے لڑائ جھگڑے سے گریز کرنا چاہئیے۔ تعریف، محبت اور تحفظ کا احساس بچوں کے سیکھنے کے عمل کو مہمیز کرتے ہیں۔ ہر بچہ فطری طور پہ اپنے والدین کو خوش دیکھنا چاہتا ہے۔ اور ذرا سی تربیت سے وہ ہر کام آپکی مرضی کے مطابق کرنے لگتا ہے۔ سو تعریف اور محبت سب سے بڑی رشوت ہے۔
میں نے اپنی بچی کی ابتدائ تعلیمی سرگرمیوں کے لئے نیٹ گردی سے بڑا فائدہ اٹھایا اور آج بھی اٹھا رہی ہوں۔ 
بچوں کے سامنے چیزیں دوہراتے رہنے سے وہ اسے یاد کر لیتے ہیں۔ پھر انہیں رٹوانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کمپیوٹر پہ چیزوں کو دوہرانا آسان ہوتا ہے۔  بچوں کو چیزیں یاد کروانے کے بجائے انکے سامنے چیزیں دوہرائیں، ایک ہی ویڈیو بار باردکھائیں۔ مگر اس میں وقفہ رکھیں۔ ایکدن ایک چیز کروالی اور دوسرے دن دوسری۔ کتاب کو بار بار انکے سامنے رکھ کر پڑھیں۔ انہیں مارنے پیٹنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ لیکن اسکے لئے آپکے اندر ایک خوبی کا ہونا ضروری ہے اور وہ ہے صبر۔ 
میں نے اپنی بیٹی باقاعدہ تعلیم شروع کرنے کے لئے ڈیڑھ سال کی عمر میں اس لنک کا انتخاب کیا۔ اس سے پہلے وہ چھوٹے بچوں کے پزل کرتی تھی۔ یہ پزلز ابتدا میں تو مجھے  بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں نے لا دئیے تھے۔  لیکن اب کراچی میں لکڑی کے یہ پزل بآسانی دستیاب ہیں۔ یہ مخلتف ساختیں کٹی ہوتی ہیں اور ان میں پلاسٹک کی میخ لگی ہوتی ہے جس سے بچے انہیں اٹھا کر دئیے ہوئے بورڈ پہ جما لیتے ہیں۔ لکڑی کے یہ پزل مختلف جانوروں سے لے کر انگریزی اور اردو کے حروف اور گنتی کے اعداد میں بھی مل جاتے ہیں۔ اعداد یا حروف کی باری تو بہت بعد میں آتی ہے پہلے بچوں کو بالکل سادہ سے پزل سے شروع کرائیں۔ جن کی بیرونی ساخت کم پیچیدہ ہو۔ جیسے جیسے وہ اسے کرنے میں مہارت حاصل کر لیں پیچیدہ پزل کروانا شروع کر دیں۔
ڈیڑھ سال کی عمر میں، مشعل نے بارنی شو دیکھنا شروع کیا۔ اور اسکی ایک ویڈیو سانگز ان دا پارک اسکی پسندیدہ ویڈیو تھی۔ یہ ویڈیوز کسی بھی اچھے ویڈیو سینٹر سے بآسانی دستیاب ہیں۔ کراچی میں رینبو سینٹر میں صرف پچاس روپے میں ایک ڈی وی ڈی مل جاتی ہے۔ ہمم، لیکن یہ پائیریٹڈ ہوتی ہیں۔
جب ہم سب گھر والوں کو بارنی کی موجود ساری ویڈیوز یاد ہو گئیں اور ہم اس قبل ہو گئے کہ اسکے گانوں کی دھن ترتیب دے سکیں اور اسکے گانے آئ لو یو پہ ہم ہرروز مشعل کے ساتھ دن میں چھ دفعہ پرفارم کرتے تو اس وقت ڈورا دی ایکسپلورر نے زندگی کی اس گتھی کو سلجھایا۔ بارنی نے جہاں مشعل کو انگلش زبان سے واقفیت دی بچوں کے ناز و انداز سکھائے وہاں ڈورا نے مسائل  اور انکے حل کی طرف مشعل کی توجہ مبذول کروائ۔ مجھے بھی یہ ویڈیوز خاصی پسند ہیں یہ نہ صرف بچوں کی دماغی صلاحیتوں کو مہمیز کرتی ہیں بلکہ انہیں کافی کچھ سیکھنے میں مدد کرتی ہیں۔ یہیں سے مشعل کی زندگی میں یہ جملہ داخل ہوا , آئ ڈِڈ اٹ۔ اسکے بعد مشعل نے کافی انگریزی اس سے سیکھی بلکہ اسپینش بھی۔ اسے اسپینش گنتی بھی دس تک یاد ہو گئ تھی۔ انکی پسندیدہ ڈورا سیوز مر میڈ کنگ ڈم بلا مبالغہ دو مہینے تک روزانہ دو دفعہ چلتی تھی۔ اور اسے دیکھنے کے دوران انکی کمنٹری بھی، اب یہ ہونے والا ہے۔ اس میں مشعل کا پسندیدہ سین ڈورا کا ایک مرمیڈ میں تبدیل ہونا تھا۔
لیکن اس دوران ہمارا باقاعدہ تعلیمی سلسلہ بھی جاری رہا۔ اینیمل زو سے ہم نے انگریزی کے بڑے حروف سیکھے۔ جبکہ مونٹیسوری میں پہلے چھوٹے حروف سکھائے جاتے ہیں یہ پتہ چلتے ہی میں نے چھوٹے حروف کی ویڈیو تلاش کی اور میں ایک اور مزے کی سائیٹ پہ پہنچی جسکا نام ہے سپر سمپل سونگز۔ یہاں پہ گنتی کے اعداد سکھانے  کے لئیے مدد ملی۔ اور یہیں سے دنوں کے نام سیکھے۔ یہاں بچوں کے لئے مزے کی انگلش نظمیں اور سرگرمیاں موجود ہیں۔  انگلش نظموں کے لئے مجھے ایک اور سائیٹ بے حد پسند ہے جو ہے کلّن کی سائیٹ۔
ہمم، لیکن مونٹیسوری کی جس چیز سے اکثر والدین بڑے مرعوب ہوتے ہیں اور انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اسے بچوں کو کسطرح سکھائیں۔ وہ ہیں انگریزی حروف کی آوازیں یعنی فونیٹک ساءونڈز۔ اسکے لئے بہت ساری سائیٹس موجود ہیں ابتداً جو سائیٹ مل وہ ایک ایسی خاتون کی تھی جو اشاروں کی زبان بھی اپنی بچی کو ساتھ ساتھ سکھا رہی تھیں۔ اس طرح مشعل نے بھی کچھ اشارے سیکھے۔ یوں آوازوں والا مرحلہ نہایت ہمواری سے طے ہوا۔ مونٹیسوری جانے والے بچوں کی ماءووں کو یقین نہیں آتا تھا کہ مشعل نے حروف کی آوازیں گھر پہ سیکھی ہیں۔   
رنگوں کی پہچان، مہینوں کے نام اور چھوٹے چھوٹے انگریزی سوال و جواب کے لئے ایک اور دلچسپ سائیٹ ہے نام ہے اسکا بزی بیورز۔ اسی طرح ایک اور دلچسپ سائیٹ ہے نام ہے اسکا، لیٹس اسٹارٹ اسمارٹ۔
اردو حروف کے لئے پریشانی ہوئ۔ جو ایک آدھ سائیٹ ملیں وہ اتنی دلچسپ نہ تھیں۔ اگرچہ کہ میں نے انہیں پھر بھی مشعل کو دکھایا۔ اسکے لئے ایک ویڈیو میں نے خود بھی بنائ جو اس لنک پہ موجود ہے۔
یہ تو تھی اس نیٹ گردی کی ایک مختصر داستان، جو کہ خاصی طویل ہے لیکن یہ پوسٹ اس سے زیادہ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔  آجکل ہم  تصویروں میں فرق معلوم کرنا، ،جگسا پزل اور بھول بھلیاں کر رہے ہیں۔ یہ نیٹ پہ بھی موجود ہیں۔ نیٹ پہ بچوں کے لئے ایکٹیویٹیز کا ایک خزانہ موجود ہے۔ بس اسے آپکا وقت اور دلچسپی چاہئیے۔
ان تمام چیزوں کے ساتھ میں نے جس چیز کا خیال رکھا وہ یہ کہ بچی کے سوالوں کے آسان مگر صحیح جوابات ہونے چاہئیں۔ جو کچھ بھی ہم اپنی زندگی میں کر رہے ہوتے ہیں اسے آسان الفاظ اور آسان خیال میں بتاتے رہیں۔
میں سوچتی ہوں کہ  سوائے اسکے کہ بچوں کو اسکول میں دوسرے بچوں کی سنگت ملتی ہے اور وہ اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اگر آپ پڑھے لکھے والدین ہیں اور آپ کے پاس وقت ہے تو اس عمر میں بچوں کو اسکول بھیجنا بالکل ضروری نہیں۔  اپنی عمر کا یہ حصہ ہم میں سے بہت کم کو اور بہت ٹوٹا پھوٹا یاد ہوتا ہے۔ مگر اپنے بچوں کے ساتھ مونٹیسوری پڑھنا اسے سحر انگیز بنا دیتا ہے۔

یہ تحریر امن ایمان کی فرمائیش پہ لکھی گئ ہے۔ امن ایمان میرا خیال ہے کہ آپکے سوال کا جواب آپکو مل گیا ہوگا۔