Friday, March 16, 2012

لہو کے رنگ شخصیت پہ


آپ کسی کو پہلا پہلا محبت نامہ بھیجیں اور وہ یہ لکھ بھیجے کہ ہم دونوں کی راہیں ایک نہیں ہو سکتیں۔ میرے خون کا گروپ اے ہے اور آپکا او۔ جو لوگ  او گروپ رکھتے ہیں وہ مغرور ہوتے ہیں جبکہ اے گروپ والے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ پڑھتے ہی آپ اس دن کو لعنت بھیجیں گے جب یہ معلوم ہوا کہ خون ایک طرح کا نہیں ہوتا بلکہ اسکے گروپس ہوتے ہیں اسکے بعد آپ کسی جاننے والے کا نمبر کھڑکھڑائیں گے کہ یار ایک رپورٹ بنا دو جس میں میرا خون کا گروپ اے ہو۔
پریشان نہ ہو ہوں ایسا ہونے کے امکانات جاپان ، کوریا اور مشرق بعید میں ہی ہیں۔ جہاں بوڑھے سے لے کر بچے تک خون کے گروپ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔  کیونکہ اس سے وہ مقابل کی شخصیت جاننا چاہتے ہیں۔ اس لئے آپ جتنی بار چاہیں محبت کی بازی کھیلئیے۔ ہم اور آپ تو یہی سمجھتے ہیں کہ خون کا گروپ صرف اس وقت معلوم ہونا ضروری ہے جب کسی انسان کو انتقال خون کی ضرورت پیش آجائے ورنہ  بیٹھ کر سکھ چین کی بانسری بجا۔

جاپان میں خون کا گروپ پوچھنے کی روایت لوگوں کے آسمانی برج پوچھنے سے زیادہ ہے حتی کہ بعض جگہ پہ ملازمت کی درخواست میں خون کا گروپ بتانا ضروری ہوتا ہے۔ ان میں سے بعض ممالک میں فیس بک اپنے استعمال کرنے والوں کو خون کے گروپ  کا آپشن بھی دیتی ہے، دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا۔
مزید باتوں سے پہلے ہم پہلے یہ دیکھ لیں کہ جاپانی خون کے مختلف گروپس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ خون کہ یہ گروپس اے بی او نظام سے لئے جاتے ہیں یعنی  خون کی درجہ بندی کا وہ نظام جس میں خون کے بنیادی چار گروپس ہیں۔ اے، بی، او اور اے بی گروپس۔

اے گروپ؛
یہ گروپ رکھنے والے معتبر، ایماندار، با اصول،صابر، ذمہ دار ہوتے ہیں۔ انکی ایک اور خوبی اکملیت پسندی ہے یعنی کام کو اس طرح کرنا کہ اس میں کوئ کمی نہ رہ جائے۔ وہ باہر سے پر سکون نظر آتے ہیں لیکن اندرونی طور پہ مضطرب رہتے ہیں۔  یہ اچھی جمالیاتی حس رکھتے ہیں۔ اکثر شرمیلے اور حساس ہوتے ہیں۔
منفی خصوصیات؛ نازک مزاج، لوگوں سے کٹ کر رہنے والے، ضدی لوگ جو تناءو کا شکار ہو جاتے ہیں۔

بی گروپ؛
یہ بڑے مستحکم مزاج ہوتے ہیں۔اپنے اہداف حاصل کرنے میں جنون کی حد تک دلچسپی رکھتے ہیں۔ جو کام شروع کرتے ہیں اسے اپنے وقت میں بہترین طریقے سے ختم کر کے ہی دم لیتے ہیں۔ یہ گروپ رکھنے والے افراد زندگی اپنے طور پہ گذارتے ہیں۔
منفی خصوصیات؛ خود غرض، سست، معاف نہ کرنے والے، ناقابل بھروسہ، غیر ذمہ دار لوگ۔
اے بی گروپ؛
یہ خاصے دلچسپ لوگ ہوتے ہیں۔ قابل اعتبار، ایماندار لوگوں کی مدد کرنے پہ تیار، خوداعتماد۔ کہا جاتا ہے کہ یہ افراد دوہری شخصیات رکھتے ہیں۔ شاید اسکی وجہ یہ ہو کہ ان میں اے اور بی دونوں گروپ والے افراد کی خصوصیات پائ جاتی ہیں۔
منفی خصوصیات؛ ناقد، فیصلے کی صلاحیت سے محروم، خود غرض، گھٹیا لوگ۔
او گروپ؛
یہ گروپ رکھنے والے افراد بڑے تخلیق کار ہوتے ہیں۔ خوداعتماد اور مشہور ہوتے ہیں۔ انہیں مرکز نگاہ بننے میں مزہ آتا ہے۔ سماجی طور پہ متحرک یہ لوگ کسی کام کو شروع کرنے میں ہمیشہ پہل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ رہنمائ کے خواص رکھتے ہیں۔ یہ جو کام شروع کریں اسے ختم بڑی مشکل سے کرتے ہیں۔
منفی خصوصیات؛ باتونی، مغرور، حاسدی، غیر مہذب۔
اب ان خواص کو سامنے رکھتے ہوئے آپ بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کون سا خون کا گروپ کس کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔
اے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اے اور اے بی کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھتا ہے۔
بی، بی اور اے بی کے ساتھ بخوشی چلتا ہے
اے بی، ہر ایک کے ساتھ نبھا لیتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اے بی گروپ رکھنے والے افراد باقی دوسرے گروپ والوں کا خون بھی قبول کر سکتے ہیں اور یونیورسل ایکسیپٹر کہلاتے ہیں۔
اور گروپ رکھنے والے او اور اے بی کے ساتھ راضی بازی رہتے ہیں۔

سائینس، اس تمام تفصیل پہ کچھ خاص یقین نہیں رکھتی اگرچہ کہ اس ضمن میں ڈیٹا اکٹھا کر کے نتائج نکالنے کی کوشش کی گئ لیکن چند ایک حقائق کے علاوہ کچھ ثابت نہ ہو سکا۔
توہم پرستی اور عقیدے میں اتنا ہی معمولی فرق ہے ایک کو جانچنے کی کوشش کی جا سکتی ہے دوسرے کے بارے میں یہ سوچنا بھی محال ہے۔
نیچے چارٹ میں دئیے گئے ممالک میں خون کے مختلف گروپس کے پائے جانے کی شرح موجود ہے۔ اور اس سے آپ بھی اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ وہم کس حد تک درست ہوسکتا ہے۔
کیونکہ اس سے ایک بات پتہ چلتی ہے وہ یہ کہ او گروپ ساری دنیا میں کثیر تعداد پایا جاتا ہے۔ لیکن کیا اسی شرح سے خود اعتماد اور مشہور لوگ بھی پائَے جاتے ہیں ایسے لوگ جو پہل کرنے میں آگے ہوں؟

ملک آبادی O+ A+ B+ AB+ O- A- B- AB-
آسٹریلیا 21,262,641 40.0% 31.0% 8.0% 2.0% 9.0% 7.0% 2.0% 1.0%
آسٹریا 8,210,281 30.0% 33.0% 12.0% 6.0% 7.0% 8.0% 3.0% 1.0%
بیلجیئم 10,414,336 38.0% 34.0% 8.5% 4.1% 7.0% 6.0% 1.5% 0.8%
برازیل 198,739,269 36.0% 34.0% 8.0% 2.5% 9.0% 8.0% 2.0% 0.5%
کینیڈا 33,487,208 39.0% 36.0% 7.6% 2.5% 7.0% 6.0% 1.4% 0.5%
زیک ریپبلک 10,532,770 27.0% 36.0% 15.0% 7.0% 5.0% 6.0% 3.0% 1.0%
ڈنمارک 5,500,510 35.0% 37.0% 8.0% 4.0% 6.0% 7.0% 2.0% 1.0%
ایسٹونیا 1,299,371 30.0% 31.0% 20.0% 6.0% 4.5% 4.5% 3.0% 1.0%
فن لینڈ 5,250,275 27.0% 38.0% 15.0% 7.0% 4.0% 6.0% 2.0% 1.0%
فرانس 62,150,775 36.0% 37.0% 9.0% 3.0% 6.0% 7.0% 1.0% 1.0%
جرمنی 82,329,758 35.0% 37.0% 9.0% 4.0% 6.0% 6.0% 2.0% 1.0%
ہانگ کانگ 7,055,071 40.0% 26.0% 27.0% 7.0% 0.3% 0.2% 0.1% 0.1%
آئس لینڈ 306,694 47.6% 26.4% 9.3% 1.6% 8.4% 4.6% 1.7% 0.4%
انڈیا 1,166,079,217 36.5% 22.1% 30.9% 6.4% 2.0% 0.8% 1.1% 0.2%
آئر لینڈ 4,203,200 47.0% 26.0% 9.0% 2.0% 8.0% 5.0% 2.0% 1.0%
اسرائیل 7,233,701 32.0% 34.0% 17.0% 7.0% 3.0% 4.0% 2.0% 1.0%
نیدر لینڈز 16,715,999 39.5% 35.0% 6.7% 2.5% 7.5% 7.0% 1.3% 0.5%
نیوزی لینڈ 4,213,418 38.0% 32.0% 9.0% 3.0% 9.0% 6.0% 2.0% 1.0%
ناروے 4,660,539 34.0% 42.5% 6.8% 3.4% 6.0% 7.5% 1.2% 0.6%
پولینڈ 38,482,919 31.0% 32.0% 15.0% 7.0% 6.0% 6.0% 2.0% 1.0%
پرتگال 10,707,924 36.2% 39.8% 6.6% 2.9% 6.0% 6.6% 1.1% 0.5%
سعودی عرب 28,686,633 48.0% 24.0% 17.0% 4.0% 4.0% 2.0% 1.0% 0.3%
جنوبی افریقہ 49,320,000 39.0% 32.0% 12.0% 3.0% 7.0% 5.0% 2.0% 1.0%
اسپین 40,525,002 36.0% 34.0% 8.0% 2.5% 9.0% 8.0% 2.0% 0.5%
سوِئیڈن 9,059,651 32.0% 37.0% 10.0% 5.0% 6.0% 7.0% 2.0% 1.0%
ترکی 76,805,524 29.8% 37.8% 14.2% 7.2% 3.9% 4.7% 1.6% 0.8%
برطانیہ 61,113,205 37.0% 35.0% 8.0% 3.0% 7.0% 7.0% 2.0% 1.0%
ریاست ہائے متحدہ امریکہ 307,212,123 37.4% 35.7% 8.5% 3.4% 6.6% 6.3% 1.5% 0.6%











خون کے یہ گروپس کس طرح وجود میں آئے سائینس اس بارے میں اپنے نظریات رکھتی ہے لیکن کچھ سوالات ہم ضرور پوچھنا چاہیں گے۔
کیا تقسیم کرو حکومت کرو، یہ پالیسی خدا نے بھی اپنائ ہے۔ اس لئے بظاہر سرخ سیال نظر آنے والا  خون تک  جدا کر ڈالا۔؟
خون کے گروپس کیا خدا نے اس لئے بنائے ہیں کہ بیسویں صدی میں خون بیچنے اور خریدنے کا کاروبار ہو سکے؟
کیا یہ گروپ اس لئے بنائے گئے کہ انکی بنیاد پہ انسانوں کی خصوصیات معلوم کی جا سکیں؟
یا یہ انسان کے ارتقاء کے دوران وجود میں آئے؟

  

Wednesday, March 14, 2012

آپکی ہمدردی میں

مرد جب اپنے دکھ کی داستان سنانا شروع کرتا ہے تو وہ کسی ایک عورت کے متعلق نہیں ہوتی۔ بلکہ اس میں کئ عورتیں شامل ہوتی ہیں۔ سر فہرست اماں، بہنیں اور وہ یعنی بیگم۔  اس لئے کہا جاتا ہے کہ ناکام مرد کے پیچھے کئ خواتین ہوتی ہیں۔ ویسے یہ ایک پروپیگینڈہ ہے۔ اسکی صداقت کا اندازہ دنیا میں کامیاب مردوں کی تعداد سے لگایا جا سکتا ہے۔
خوفزدہ نہ ہوں یہ پوری تحریر مردوں کی ہمدردی میں لکھی گئ ہے۔
:)
کچھ لسانی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیگم دراصل بے غم کی استعمال شدہ شکل ہے۔ لیکن ارتقاء  سے انحراف کرتے ہوئے، بیگم کے بھی غم ہوتے ہیں۔ بیگم کے غم مردوں کے متعلق نہیں بلکہ مردوں سے تعلق رکھنے والی عورتوں سے متعلق ہوتے ہیں یا پھر لان کے پرنٹس۔
وہ پوچھتے ہیں کہ اندرون خانہ مردوں پہ ظلم ہوتے ہیں انکا بھی سد باب ہونا چاہئیے۔ دو مرغوں اور ایک مرغی کو ایک دڑبے میں بند کر کے ایک طرف رکھ دیں اور پھر جب اس میں دھماچوکڑی ہو تو کہیں کہ  مرغوں نے بڑا پریشان کیا ہوا  ہے۔ نہ جناب یہ شکایت درست نہیں۔
لیکن پھر بھی ہم اصل وجہ سے صرف نظر کرتے ہوئے جو کہ ہمارا قومی خاصہ ہے۔ اس سلسلے میں مختلف مردوں کے آزمائے ہوئے گُر بتاتے ہیں۔
اگرایک مرد نے ابتدائ زندگی میں ہی اپنی صلاحیتیں استعمال کر کے دولت کا ایک انبار جمع کر لیا تھا یاوہ منہ میں سونے ، چاندی کا چمچ لے کر پیدا ہوا توہر دروازہ اس کے لئے کھلتا جائے گا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ دولت سے سکون نہیں خریدا جا سکتا۔ وہ ابھی جان لیں گے کہ انکا زندگی کا عملی تجربہ کتنا کم ہے۔
پیسہ پھینک تماشہ دیکھ کے مصداق،  بیگم کے اکاءونٹ میں فروری میں ایک خطیر رقم جمع کرادے اور خموشی سے اپنے کاموں میں لگ جائے۔ اب دیکھئیے کہ یہ وظیفہ کیسےاسے بے غم کرتا ہے۔
فروری کے مہینے سے نئ لان کے نمائش کے اشتہار آنا شروع ہوتے ہیں جو امید ہے کہ اپریل کے وسط تک جاری رہیں گے۔ بیگم اس دوران اس میں مصروف رہیں گی ۔ نمائیش سے کپڑے خرید کر درزی کو پہنچانا، اور انکے لئے میچنگ کی لیس خریدنا پھر درزی سے اسکے ڈیزائین پہ سیر حاصل بحث کرنا، اس سرگرمی کے بعد اتنا سرور رہے گا کہ اگر کوئ لڑنے پہ آمادہ ہو تو بھی اسکے منہ لگنے کو دل نہ چاہے گا۔ پہلا نشہ، پہلا خمار۔ نیا پیار ہے نیا انتظار، کیا کر لوں میں اپنا حال اے دل بے قرار۔  جینے کی امنگ پیدا ہوتی ہے صرف اس لئے کہ جب تک کپڑے بن کر آئیں ہم شگفتہ نظر آئیں۔ آخر لوگ ہمارا چہرہ ہی تو دیکھتے ہیں۔ 
اپریل کے درمیان میں نئ سرگرمی شروع ہوگی۔  درزی کے پاس سے کپڑے بن کر آئیں گے، پھر پہن کر انکی فٹنگ چیک ہوگی، اس دوران  سب کی بلا درزی کے سر پڑی رہے گی۔  کس کو فکر کے وہ سارا دن کس حرافہ کے ساتھ رہے۔
مئ کا مہینہ ان کپڑوں کی نمائیش کے لئے مختلف پارٹیز میں گذرے گا، ساتھ ہی ساتھ پارلر والوں کی بھی آمدنی میں اضافہ رہے گا۔ جون کے مہینے میں ساون کے کپڑوں کی تیاری ہو گی جولائ میں افطار پارٹیز اور عید کے کپڑوں کی تیاری۔ ستمبر میں مڈ سمر کے پرنٹ آجائیں گے۔ خزاں بہت چھوٹا سا مہینہ ہوتا ہے اس لئے اس دوران ہی سردیوں کے گرم کپڑوں کی تیاری شروع ہو گی۔ دسمبر، جنوری آجکل شادیوں کے لئے انتہائ مناسب خیال کئ جاتے ہیں اور جناب ایک بار پھر فروری آ گیا۔ پچھلے سال کے تجربے کے بعد اسے معلوم ہونا چاہئِے  کہ اب کیا کرنا ہے۔
بیگم جب بھی نئے کپڑے پہن کر سامنے آئیں تو شاندار کہنا نہ بھولیں، وقتاً فوقتاً معلوم کرتے رہیں کہ آج نیا جوڑا کیوں نہیں پہنا۔ بیگم کو زیادہ مصروف رکھنا ہو تو درزی یا پارلر والوں کے کاموں میں نقص نکال دیں اور انہیں درزی یا پارلر تبدیل کرنے کا مشورہ دے دیں۔ اگرسونے پہ سہاگا چاہتے ہیں تو جون جولائ کی چھٹیوں کے لئے بیوی اور اماں کو باہر بھیج دیں مگر خیال رکھیں کہ دونوں مختلف مقامات پہ جائیں۔
اگر آپ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں تو اصل مصیبت آپکے لئے ہے۔ یہاں آکر ہم مردوں کو تین جماعتوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ عقل مند روائیتی مرد، بے وقوف روائیتی مرد اور غیر روائیتی مرد۔
عقل مند روائیتی مرد کمپیوٹر پہ مصروف رہتا ہے۔ چاہے وہ فیس بک پہ چیٹنگ ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن شکل ایسی بنا کر رکھیں گے کہ کوئ اہم پروجیکٹ چل رہا ہے۔  اگر یہ پروجیکٹ بر وقت مکمل نہ ہوا تو گھر والوں کو آٹے دال کا بھاءو پتہ چل جائے گا۔ لہذا بیوی کو یہ شکایت نہیں رہتی کہ اماں کے پاس زیادہ وقت گذارتے ہیں، بہنوں کی فکر میں مرے جاتے ہیں اور نہ اماں بہنوں  کو یہ شکوہ رہتا ہے کہ شادی کے بعد ایک دم بیوی کا غلام ہو گیا ہے۔ ہم تو سوچ بھی نہ سکتے تھے یہ ایسا نکلے گا۔ شادی سے پہلے تو یوں ہوا کرتا تھا۔ یہ سب چالاکیاں بیوی کی سکھائ ہوئ ہیں۔ ایک کمپیوٹر ہزار بلائیں ٹالتا ہے۔
بے وقوف روائیتی مرد تعداد میں سب سے زیادہ ہوتے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ بس واقعی میں کائینات کی لگامیں انکے ہاتھ میں ہیں اور اگر کوئ چیز انکے قابو میں نہیں آئ تو اس سے انکی مردانگی کو بھاری نقصان پہنچے گا۔ نتیجتاً انکی کمزوری یعنی مردانگی کو ہر فریق نشانہ بنائے رکھتا ہے اور انکا ہر دن روز عذاب بنا رہتا ہے۔ یہ اپنی روائیت پسندی چھوڑ نہیں سکتے اس لئے اس حالت میں صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے عمر یونہی تمام ہوتی ہے۔ مرتے وقت بھی فکر رہتی ہے کہ مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے۔ لیکن پھر بھی انکے لئے حوروں کی تسلی ایک قوی امید ہوتی ہے بیگم کو کبھِ کبھی اسکی دھمکی بھی دینے کی کوشش کرتے ہیں مگر بیگم کا رد عمل ایسا ہی ہوتا ہے کہ ہونہہ جا کر تو دکھاءو، دوسرے ہی دن بھاگ جائے گی اس سے تو دوزخ ہی بھلا۔ ان میں سے جو زیادہ چھوٹے دل ہوتے ہیں وہ بہتر حوروں والا راستہ لیتے ہیں۔
غیر روائیتی مرد کو ان سب باتوں کی کیا فکر۔ وہ اور انکی بیگم ایک ساتھ صبح گھر سے نکلتے ہیں۔ بچوں کو اسکول چھوڑتے ہوئے اپنے اپنے آفس کو روانگی۔ اب سارا دن گھر میں امّاں کا راج۔ شام کو بیگم کی اماں کے گھر سے بچوں کو لیتے ہوئے گھر پہنچے۔ یہاں آ کر خاتون خانہ بچوں کو نہلانے دھلانے، ہوم ورک کرانے اور رات کے کھانے کے چکروں میں ایسا الجھیں گی کہ انہیں پتہ ہی نہیں چلے گا کہ شوہر صاحب کتنی دیر اماں کے پاس بیٹھے رہے۔ اماں کو بھی یک گونہ تسلی رہتی ہے کہ بیٹے کی آمدنی بیگم کے نخرے اٹھانے میں خرچ نہیں ہو رہی۔
آخیر میں بچ جاتے ہیں غریب مرد۔  یہ فساد اور جھگڑے تو انکی زندگی کی رونق اور تفریح ہیں۔ زندگی کی تلخی کو مزید تلخیوں سے ملاتے ہیں اور یہ اکثر ان مردوں کے بارے میں سوچ کر حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیسے مرد ہیں جو لڑے بغیر یا کسی لڑائ میں پڑے بغیر اپنی زندگی گذارتے ہیں۔ یہ جینا بھی کوئ جینا ہے للّو۔ ڈو نہ کیا تو پھر کیا جیا۔

Tuesday, March 13, 2012

کہنے دیں

نبیلہ نے صرف  سسٹم سے بغاوت نہیں کی اور نہ ہی صرف یہ کیا کہ محسن پہ تیزاب پھینک کراس کے چھکے اڑا دئیے۔ بلکہ اس  البیلی نار نے مجھے بھی میرے متوقع موضوع سے ہٹا دیا۔
کیا نبیلہ نے کوئ برا کام کیا؟
جناب، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ خربوزے نے خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ پہلے خربوزے نے کبھی یہ خیال ہی نہیں کیا تھا کہ دوسرا خربوزہ بھی اسے دیکھ کر رنگ پکڑے گا اور وہ بھی وہی والا جو اسکا ہے۔ خربوزے نے یہ خیال کیوں نہیں کیا۔ یہ ہم اور آپ کیا جانیں۔ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ جو بکرے نے ماری ہے بکری کو سینگ تو بکری بھی مارے گی بکرے کو سینگ۔ 
یہ عجیب اتفاق ہے کہ اس قسم کے واقعات میں مرد مجرم شاید ہی گرفت میں آتے ہوں۔ لیکن نبیلہ دھر لی گئ۔ کوئ بات نہیں نبیلہ پہلی دفعہ ناتجربے کاری میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔ تم سے پہلے کسی عورت نے یہ کیا بھی تو نہیں تھا۔ اس لئے تمہاری معلومات بھی نہیں ہونگیں۔ آہستہ آہستہ تم بھی سیکھ جاءوگی کہ صحیح وار کہاں سے کرنا چاہئیے ایسے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
 اور پھر جس نظام میں تم ہو وہاں تمہاری ہمت پہ داد دینے والے کم اور برا بھلا کہنے والے زیادہ ہونگے۔  مرد مجرموں کو خفت کے اس مرحلے سے نہیں گذرنا پڑتا۔ انکے لئے تو یہ ایک اعزاز ہوتا ہے کہ کسی ایسی عورت کا دماغ درست کر دیا جو ان  پہ توجہ نہیں دے رہی تھی۔
یہ تو میں تسلیم کرتی ہوں کہ اس ملک میں پنجاب کی مٹیار سے زیادہ با ہمت اور جراءت مند کوئ اور عورت نہیں۔ اس لئے ہیر اور سوہنی دونوں کردار یہیں تخلیق ہوئے۔
اندازہ ہے کہ نبیلہ اس وقت کسی تھانے میں چھترول کھا رہی ہوگی، خاندان والے اسے کوسنے دے رہے ہونگے۔  خاندان کی عزت خاک میں مل گئ ہوگی۔
 یقین ہے کہ اس میں دو چیزوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک ٹیکنالوجی اور دوسرا معاشرے کی حد سے بڑھی ہوئ منافقت اور حقائق سے مسلسل فرار۔ یہ نہیں معلوم کہ  معاشرے کے تارو بود کی  حفاظت کرنے والے کس کو  عاق کریں گے۔
لیکن ہمیں یہ تو کہنے دیں کہ  رانجھن، رانجھن کردی، میں آپے رانجھن ہو گئ۔ جاننا صرف یہ ہے کہ جب ہیر ، رانجھا ہو گئ تو رانجھے پہ کیا گذری؟

Wednesday, March 7, 2012

آبگینوں کے خواب

کل ساری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا جائے گا۔ نہیں معلوم کہ تاریخ کے کس مقام پہ خواتین کا درجہ اس درجے پہ آگیا جہاں انکے  حقوق کے لئے تحاریک چلانے کا سلسلہ شروع ہوا۔
پاکستان میں ایک سال نہیں صرف ایک ماہ کے واقعات کا جائزہ لیجئیے۔ 
کراچی میں پچھلے ایک ماہ میں ایک لڑکی  اجتماعی زنا بالجبر کا شکار ہوئ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ بے پردہ پھرتی ہوگی نامناسب کپڑے پہنتی ہوگی اس لئے یہ کسی مرد کا حق بن گیا کہ اسے اس طرح بے عزت کرے۔ لیکن اسی ایک مہینے میں تقریباً تین بچیوں کو جنکی عمریں  پانچ سے چھ سال کی تھیں زنا بالجبر کا نشانہ بنایا گیا۔ اس جملے میں زنا بالجبر کا لفظ زائد ہے۔ اس عمر کی بچی کو نہ یہ معلوم ہوگا کہ اسکے ساتھ جو بربریت ہوئ ہے اسے کیا کہا جاتا ہے نہ یہ کہ اسکے ساتھ یہ کیوں کیا گیا ہے اور نہ ہی اغواء کے وقت اسے معلوم ہوگا کہ اس پہ اب کیا ستم ٹوٹ سکتا ہے۔
 کیا شہر میں کوئ آواز اٹھی؟
 نہیں  اس پہ آواز اٹھانے کا وقت نہیں۔ ابھی عافیہ ڈے تو منا لیں۔
اسی ایک مہینے میں مظفر گڑھ میں ایک خاتون کو بازار میں برہنہ کر کے پھرایا گیا۔ کیا کسی نے احتجاج کیا کہ یہ بے حیائ بند کرو۔ کیا یہ بے حیائ نہیں کہلاتی؟
جی نہیں یہ ان سب علاقوں کے رسم و رواج ہیں۔ جھگڑوں میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔ نزلہ تو گرتا ہی کمزور عضو پہ ہے۔
اسی ملک میں ایک ماہ میں تقریباً چھ خواتین پہ تیزاب پھینکا گیا۔ یہ سب کسی مرد کی انتقامی کارروائ کا نشانہ بنیں۔ کیا کوئ مجرم گرفتار ہوا؟ کیا کسی کو سزا ملی؟
 نہیں یہ سب نہیں ہو سکا۔ کیونکہ مجرم یہ قبیہہ فعل کرنے کے بعد پردہ ء غیب میں چلے گئے۔ 
کیا کسی نے اس پہ احتجاج کیا؟
 نہیں۔ 
کیا اس پہ احتجاج کی ضرورت ہے؟
 نہیں ، یہ خواتین ہی کا قصور ہوتا ہے کہ ان پہ تیزاب پھینکا جاتا ہے۔ اگر وہ اس طرح رہیں، اگر وہ یہ کریں، اگر وہ اس طرح کپڑے پہنیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اگر اس موضوع پہ بنائ گئ فلم کو ایوارڈ مل جائے تو فلم بنانے والی خاتون صرف اس لئے سی آئ اے کی ایجنٹ قرار پائے کہ اس نے ایسا موضوع کیوں اٹھایا جس سے پاکستان بدنام ہوتا ہے۔ حالانکہ اسے ایجنٹ قرار دینے کی دیگر وجوہات نکالی جا سکتی ہوں۔  لوگ جلدی جلدی اپنا اسٹیٹس اپ ڈیٹ کریں گے شرمین عبید کو ایوارڈ پاکستان کے منہ پہ ایک طمانچہ۔
 اور کل میں نے خبر سنی کہ ایک خاتون پہ تیزاب پھینک دیا گیا چوبیس گھنٹے گذرنے کے بعد بھی ہمارے کسی نوجوان کا کوئ بیان نہیں۔ یہ تیزابی طمانچے پاکستان کے منہ پہ کون مار رہا ہے؟ تیزاب بنانے والے، پھینکنے والے ان پہ فلم بنانے والے یا خواتین؟
یہ تیزاب پھینکنے والے مرد اپنے خاندانوں کے ساتھ اس زمین پہ موجود ہوتے ہیں ، رہتے ہیں، شادیاں کرتے ہیں انکے بچے ہوتے ہیں۔ اسی طرح زمین پہ پیر مار کر سینہ تان کر چلتے ہیں لیکن کسی شخص کو انکے گریبان پکڑنے کی ہمت نہیں ہوتی حتی کہ انکے گھر والے تک انہیں کسی وعظ یا نصیحت کرنے کی جراءت نہیں رکھتے یا شاید وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کسی نصیحت کی ضرورت ہی نہیں۔
اسی مہینے کا واقعہ ہے کہ اقلیتی ہندو لڑکی کو جبراً مسلمان کر کے اسکی ایک مسلمان لڑکے سے شادی کرا دی جاتی ہے وہ ہندو لڑکی رنکل کماری سے سید فریال شاہ بن جاتی ہے۔ انٹر نیٹ پہ مبارکباد کی ویڈیوز چل جاتی ہیں۔ اگر ملک میں کوئ فکر کی آواز اٹھتی ہے تو یہ کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مغربی میڈیا اسے پاکستان کا امیج بگاڑنے کے لئے استعمال کرے۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی لڑکیوں کی پسند کی شادی پہ انہیں کاری قرار دے کر قتل کر دیتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو مایا خان کو شہہ دیتے ہیں کہ پارکوں میں ملنے والے جوڑوں کو ہراساں کریں۔ ہم پارکس میں یہ بے حیائ نہیں پھیلنے دیں گے۔  لیکن جب معاملہ ایک اقلیتی لڑکی کا آتا ہے تو ساری اخلاقیات کا دیوالہ نکل جاتا ہے اور اسکی جگہ ایک مست نعرہ، نعرہ ء تکبیر آجاتا ہے۔ ایک ہندو لڑکی کو مسلمان کر کے ایک مسلمان لڑکے سے شادی کرادی اس ثواب میں جتنے لوگ شامل ہوجائیں کم ہیں۔ اس لئے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کو ہر دل بے قرار۔ ہندءووں کی ایک لڑکی کو عقد نکاح میں لے آنا ہندوستان فتح کرنے سے کم نہیں۔ بابری مسجد کا بدلہ لے لیا۔ 
یہ نہیں معلوم کہ عورت کو بیوی بنا لینا یا اس سے جنسی تعلق  قائم کر لینا، مرد کی فتح کیوں قرار پاتا ہے جبکہ وہ عورت اس فاتح سے دل سے نفرت کرتی ہو۔
۔
۔
۔
کیا آپکو معلوم ہے کہ اگر ایک عورت خوشبو لگا کر باہر نکلتی ہے تو جنت کی خوشبو اسے لاکھوں میل دور تک نہیں ملتی، کیا آپ جانتے ہیں کہ اپنی بچیوں کو حیا عادی بنانے کے لئے انہیں بچپن سے  پردے کی عادت ڈال دینی چاہئیے، کیا آپکو معلوم ہے کہ با اختیار عورت رکھنے والے معاشرے ناسور بن جاتے ہیں۔ کیا آپکو معلوم ہے کہ میراتھن ریس میں عورتوں کا دوڑنا بے حیائ ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ خوشگوار ازدواجی زندگی کا راز عورت کی برداشت اور اپنے آپکو جھکا لینے میں ہے۔
 یہ ساری معلومات مجھے نیٹ کی دنیا میں آجکے نوجوان مردوں کی گفتگو کے نتیجے میں ملتی ہیں باقی جو اوپر خبریں میں نے لکھی ہیں وہ اخبار سے ہی مل پاتی ہیں اس پہ ہمارے نوجوان کچھ لکھنا پسند نہیں کرتے۔  اس سے پاکستان کا امیج خراب ہوتا ہے وہ انتہائ دور اندیش ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ سب سی آئ اے والے کراتے ہیں۔ وہ سی آئ اے کی کسی ایسی سازش کا شکار ہونے والے نہیں ہیں۔
شرمین عبید کا کہنا ہے کہ اپنے خوابوں کو مت چھوڑیں۔ میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کی ایسی باتوں میں نہیں آتی۔ کل اگر میں کسی  مشکل میں پھنس جاءوں تو یہ صاحبہ تواس پہ دستاویزی فلم بنا کر اپنی شہرت کھری کر لیں گی۔ انکے تعلقات کی پہنچ پہنچ کہاں تک ہوگی۔ یہ فلم تو کسی غیر ملکی چینل پہ اپنی قیمت وصول کرے گی۔ میرے ہم وطن تو وہ دستاویزی فلم دیکھ تک نہیں پائیں گے۔ اور وہ حسین کپڑوں میں کیوٹ شکل کے ساتھ ایک اور ایوارڈ وصول کرنے کے لئے چھم سے اسٹیج پہ موجود ہونگیں۔ گوروں کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگا کہ کیا تیزاب سے جھلسنے والی عورت اور یہ عورت ایک ہی ملک کی باسی ہیں۔  وہ اس معمے میں ہی پھنس کر رہ جائیں گے کہ اگر ایسا ہے تو یہ کیونکر ممکن ہے۔ جبکہ یہاں ہم وطن مجھ پہ گذرے ہر ستم کو سی آئ اے کی سازش بنا کر معاملہ ہوا کر دیں گے۔
اس لئے میں اپنے خوابوں کو آبگینوں کی طرح سنبھالے اپنے ہم وطنوں سے ہی پوچھتی ہوں منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟

Monday, March 5, 2012

تقدس سے باہر-۴



ایک انتہائ پسماندہ اور غریب معاشرے میں رسول اللہ نے جنم لیا۔ دنیا جنہیں محمد کے نام سے جانتی ہے۔ خود انکے ابتدائ حالات خاصے مخدوش رہے۔ انکا تعلق بنو ہاشم کے قبیلے سے تھا جو قریش میں افضل قبیلہ سمجھا جاتا تھا لیکن عبدالمطلب کے انتقال کے بعد انکے حالات بھی بہتر نہ رہے۔
 والد کا انتقال آپکی پیدائش سے پہلے ہو گیا۔ عرب روایات کے تحت آپکی پرورش ماں سے الگ ایک دیہاتی علاقے میں ہوئ۔ چھ سات سال کی عمر میں والدہ کے پاس پہنچے لیکن چند مہینوں کے بعد انکا بھی انتقال ہو گیا۔ دادا نے کفالت سنبھالی لیکن جلد ہی وہ بھی داغ مفارقت دے گئے لیکن اپنے بیٹے ابو طالب کو بھتیجے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دے گئے۔ عبدالمطلب کے انتقال کے بعد حالات تبدیل ہوئے بنو ہاشم کے رتبے میں کمی آگئ اور حریف خاندان بنو امیہ حاوی آگیا۔
دس بارہ برس کی عمر میں آپ بکریاںچرایا کرتے تھے۔ جو کہ عربوں کا اہم پیشہ تھا۔ تقریباً بارہ برس کی عمر میں اپنے چچا  ابو طالب کے ساتھ تجارت کا سفر کیا۔
اس سفر میں وہ واقعہ پیش آیا جسے مختلف راویوں نے بیان کیا ہے۔ یہ عیسائ راہب بحیرہ سے ملنے کا واقعہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بحیرہ نے آپکی نبوت کی پیشن گوئ کی تھی۔ یوروپین موءرخین کا کہنا ہے کہ یہاں سے محمد نے مذہب کے حقائق و اسرار سیکھے۔ اور ان بنیادی نکات پہ اسلام کی بنیاد رکھی۔ شبلی تو اس واقعے کے پیش ہونے کے بارے میں بھی شک رکھتے ہیں۔
بہر حال یہ بات تو ثابت ہے کہ تجارت کی غرض سے آپ نے کافی ممالک کے دورے کئے اور مختلف طرز معاشرت کا نہ صرف ذاتی تجربہ کیا بلکہ لوگوں سے معلومات بھی لیں۔ فوٹون کے خیال میں  آپ جیسے ذہین شخص نے ان تمام معاشروں  کے تناظر میں اپنے معاشرے کو  دیکھا ہو گا اور یہ اندازلگایا ہوگا کہ انکے معاشرے کی تنزلی کے اسباب کیا ہیں۔
دعوی ء نبوت سے پہلے آپکے معمولات میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر ایک پہاڑی غار میں تنہا وقت گذارنے کا عمل شامل تھا۔ ایک مغربی مءورخ اسے اس  طرح بیان کرتا ہے۔
سفر و حضر میں ہر جگہ محمد کے دل میں ہزاروں سوال پیدا ہوتے تھے۔ میں کیا ہوں؟ یہ غیر متناہی عالم کیا ہے؟ نبوت کیا شے ہے؟ میں کن چیزوں کا اعتقاد کروں؟ کیا کوہ حرا کی چٹانیں، کوہ طور کی سر بفلک چوٹیاں، کھنڈر میدانکسی نے ان سوالوں کا جواب دیا۔ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ گنبد گرداں گردش لیل و نہار، چمکتے ہوئے ستارے، برستے ہوئے بادل کوئ ان سوالوں کا جواب نہیں دے سکا۔
اس ساری فکر کو  ہم اپنے مذہب کے لحاظ سے دیکھیں تو عبادت جیسی چیز تک محدود کر دیتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ نبوت جیسی پر اسرار طاقت اللہ نے آپکو دینے سے پہلے سے عبادت کا عادی بنایا۔ جبکہ فوٹون جیسا غیر مذہبی شخص  اسے انکی دانش سے منسلک کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ انہوں نے اس تمام عرصے میں یکسو ہو کر سوچ و بچار کی کہ وہ اپنی قوم کو اس جہالت اور غربت سے کیسے نکالیں۔
بطور نبی آپ اپنی قوم کو حضرت موسی کی طرح لے کرکسی اور ملک نکل جاتے یا حضرت عیسی کی طرح صرف تبلیغ پر اکتفا کرتے۔ لیکن آپکو عرب کی بہتری کے لئے، عرب میں رہ کر  کام کرنا تھا ااور اسکے لئے تدبراور تدریج کی ضرورت تھی۔
انکے اس تفکر کا نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب کا انسان کی نفسیات اور اعمال پہ گہرا اثر ہوتا ہے اور مذہبی نظریات کے ذریعے اسے سدھانا آسان ہوتا ہے۔ خاس طور پہ اگر اسے یہ ترغیب دی جائَ کہ اچھے اعمال کا مرنے کے بعد اچھا ہو گا اور برے اعمال کے نتیجے میں مرنے کے بعد برا نتیجہ ہوگا۔ مرنے کے بعد ایک ابدی زندگی ہے جس میں انسان اپنے اعمال کے نتائج بھگتے گا۔ یہی نہیں بلکہ ایک ایسا مذہب جو کسی ایک نکتے کے گرد گھومتا ہو وہ انسانوں کو زیادہ متحد کر سکتا ہے یوں توحید کا نظریہ، شرک کے نظرئیے پہ حاوی ہوجاتا ہے۔ کئ خداءووں کے بجائے ایک خدا انسانوں کو ایکدوسرے کے قریب کر سکتا ہے۔ شرک کی ہر طرح سے مذمت کی گئ اور توحید کو ہر طریقے سے مضبوط بنانے کے لَئے جدو جہد کی گئ۔ شرک کی مذمت اور توحید کی مضبوطی کے ساتھ ہی عرب کو اس بات کے لئے تیار کیا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے پرانے رسم و رواج کی زنجیریں توڑ ڈالے۔ اور مذہب اس سلسلے میں سب سے کڑا امتحان ہوتا ہے۔ اس لئے پہلی کاری ضرب مذہبی نظریات پہ لگی۔
 فوٹون اپنے خیال کی تصدیق کے لئے دیکھتا ہے  کہ جب رسول اللہ اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں تو اس میں جو لوگ ابتداء میں داخل ہوتے ہیں  ان میں ایک امر مشترک تھا کہ وہ قریش کے مناصب اعظم میں سے کوئ منصب نہ رکھتے تھے۔  اس معاشرے کے غریب اور پسے ہوئے لوگ تھے جنکی معاشرے میں کوئ حیثیت نہ تھی۔ مثلا عمار، خباب، ابو فکیہہ، صہیب وغیرہ کو دولت و جاہ کے دربار میں جگہ نہیں مل سکتی تھی۔ اس بناء پہ رسول اللہ کا مذاق اڑایا جاتا کہ یہ ہیں انکے ماننے والے۔ قریش کے رئیس ہنس کر کہتے
یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم لوگوں کو چھوڑ کر احسان کیا ہے۔ سورہ انعام ۱
اہل قریش کے نزدیک انکا افلاس انکی تحقیر کا باعث تھا جبکہ اسی کی وجہ سے وہ حلقہ ء اسلام میں سب سے پہلے داخل ہوئے۔ انکو یہ ڈر نہ تھا کہ اگر اسلام میں داخل ہو گئے تو کوئ منصب جاتا رہے گا۔ ان کے لئے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ تھا اگر وہ جیت جاتے تو معاشرے میں انکی حیثت قائم ہوجاتی ورنہ وہ پہلے سے بھی زیادہ کمزور بنا دئیے جاتے۔


جاری ہے ۔

نوٹ؛ اس تحریر کی تیاری میں جن کتب سے مدد لی گئ ہے وہ یہ ہیں۔ مولانا شبلی نعمانی کی کتاب سیرت النبی، اسکے پبلشر ہیں الفیصل ناشران و تاجران کتب اور مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کی الرحیق المختوم جسکے پبلشر ہیں المکتبہ السلفیہ لاہ


شبلی نعمانی کی سیرت النبی یہاں سے ڈاءونلوڈ کیجئیے۔
الرحیق المختوم یہاں سے ڈاءونلوڈ کریں۔۔