Tuesday, June 9, 2009

لاگ اور لگاءو

تھائ لینڈ میں میری دلچسپی تھائ کھانوں کی وجہ سےیا ان کے شاہی نظام حکومت کی وجہ سے رہی تھی۔ بادشاہوں سے ہمارا لگاءو شاید اس وجہ سے بھی ہوتا ہے کہ ہم برصغیر پاک و ہند کے رہنے والے جنہیں اب لوگ جنوبی ایشیائ کہنے لگے ہیں۔ بچپن میں جب کہانیاں سنتے ہیں تو وہ اکثر اس طرح شروع ہوتی ہیں کہ ایک تھا بادشاہ۔ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ۔ جیسے جیسے شعور کی منازل طے کیں تو اس بات کو ہضم کرنے میں بڑا ٹائم لگا کہ کہانی بادشاہ کے بغیر بھی شروع ہو سکتی ہے۔

ہاں تو جب میں نے تھائ ائر لائن کی پرواز نمبر فلاں فلاں پہ قدم رکھا تو سب سے پہلے ان کی ائر ہوسٹس اور انکی یونیفارم پہ فدا ہوئ۔ پھر ان کی سروس پہ۔ تھائ لینڈ کے شہر پھوکٹ پہنچنے کے بعد اندازہ ہوا کہ تھائ کسقدر صفائ پسند اور معمولی چیزوں میں سے بھی تزئین کی جدت نکالنے والے لوگ ہیں ۔ یہاں کی روزانہ بارش خوبصورت آرکڈ کے پھولوں کے لئیے بہت سازگار ہے جن کے گملے ہر جگہ ٹنگے ہوئے نظر آتے ہیں۔اتنی بارش کے باوجودشہر اانتہائ صاف ۔دھلی دھلائ سڑکیں، ہر طرف سبزہ اور ہاتھیوں کے ہر طرح کے مجسموں کے ساتھ زندہ ہاتھی چہل قدمی کرتے نظر آجاتے ہیں۔ سمندر سے گھرا، سیاحوں کو خوش آمدید کہتا یہ شہر مجھے بےحد پسند آیا۔

لیکن جس چیز سے تکلیف ہوئ۔ وہ ان کی اپنی زبان تھائ سے محبت ہے۔ کسی سپر اسٹور میں چلے جائیں یا مقامی جمعہ بازاروں میں ہر چیز پر تھائ لکھی ہوتی ہے۔ اپنی ضرورت کی چیز چھٹی حس کو استعمال کر کے، چیز کی شکل صورت دیکھ کر، یا کہیں کہیں انگریزی میں لکھے چند الفاظ کی مدد سے ہی خریدی جا سکتی ہے۔ اور پھر بھی شک رہتا ہے کہ یہ وہی ہے جو ہمیں چاہئیے تھا۔تھائیوں کو فخر ہے کہ وہ کبھی کسی کے غلام نہیں رہے۔ اس لئے وہ بغیر انگریزی استعمال کئے ہم سے زیادہ تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔

اس سفر کے دوران ایک دفعہ ہم ایک ریسٹورنٹ میں کھانے کے لئے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے مینو پہ کافی تفصیلی غور وخوض کے بعد پائن ایپل رائس آڈر کئے۔ تھائ لینڈ میں ، میں تھائ کھانوں سے اتنا لظف اندوز نہ ہو سکی کیونکہ اب آپ کو حلال اور حرام بھی دیکھنا پڑ جاتا ہے حلال کھانے آسانی کے ساتھ بوٹنگ کے دوران مل سکتے ہیں کیونکہ سمندر سے منسلکہ کاروبار پہ مسلمان چھائے ہوئے ہیں۔
خیر، سب لوگوں کا کھانا آگیا۔ مگرمیرے چاول غیر حاضر۔جب سب اپنا ایک تہائ کھانا کھا چکے تو ویٹر میرے پاس آیا ۔ اسکی ٹوٹی پھوٹی تھائ آمیز انگریزی سے میں نے اندازہ لگایا کہ وہ کہ رہا کہ فرائیڈ رائس نہیں ہیں۔ میں نے اس سے کہا کہ میں نے پائن ایپل رائس منگوائے تھے فرائیڈ رائس نہیں۔ اس نے پھر کچھ کہنے کی کوشش کی اور اب کی بار مجھے صرف پائن ایپل کے کچھ سمجھ نہ آیا۔ اور میں نےاندازے سے اسے او کے کہہ دیا۔ اب پھر انتظار کی گھڑیاں شروع ہوئیں۔ سب لوگ اپنے کھانے کے اختتام پہ پہنچنے والے تھے اور میں سوچ ہی رہی تھی کہ اپنا آڈر کینسل کروادوں کہ وہ ویٹر ایک بڑی سی ٹرے میں ایک پائن ایپل لے آیا اور لا کر بڑے سلیقے سے میرے سامنے رکھدی۔ میں بالکل حیران ہوگئ تو گویا اتنے انتطار کی کلفت اٹھانے کے بعد مجھے یہ انناس کھانے کو ملے گا۔ اور یہ موصوف شاید مجھ سے فرما رہے تھے کہ چاول تو ہیں نہیں پائن ایپل البتہ موجود ہے۔ میں نے جھنجھلا کر کہا یہ کیا ہے، مجھے کھانا چاہئے۔ اب پھر ایک عجیب سی زبان، جس سے میں نے یہ معنی اخذ کئے کہ آپ نے یہی تو منگوایا تھا۔ میرے ساتھی نے کہا۔ اب آپ اسے اپنےہوٹل لے چلیں اور رستے میں کچھ اور کھا لیجئیے گا۔ 'کیا مطلب میں اس ریسٹورنٹ میں یہ انناس خریدنے آئ تھی اتنا مہنگا انناس۔ میں اسے کہیں نہیں لے جا رہی '۔ پھر میں نے اس ویٹر سے کہاں براہ مہربانی اےسے لے جائیں مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ اب وہ کچھ گومگوں حالت میں کھڑا تھا۔ یہ سارا منظر ہمارا تھائ ڈرائیور ذرا فاصلے سے دیکھ رہا تھا۔ وہ میرے پاس آیا کہ کیا ہوا ہے۔ قصہ مختصر اس کی انگریزی بھی اتنی اچھی نہ تھی لیکن اس ویٹر سے بہتر تھی۔

ان دونوں نے اس موضوع پر تھائ میں تبادلہء خیال کیا کہ ان خاتون کو یعنی مجھے کیا مسئلہ ہے۔ اس تفصیلی گفت و شنید کے بعد ویٹر آگے بڑھا اور اس نے اس انناس کو ہاتھ لگایا۔ انناس کا اوپری حصہ ہٹا اندر اس کے خا لی حصے میں پائن ایپل فرائیڈ رائس بھرے ہوئے تھے۔ اور ان پہ چھ جمبو جھینگے رکھے ہوئے تھے۔میرا منہ کھلا اور پھر بند ہوگیا۔ ویٹر اپنے حصے کی معذرت وصول کرنے کے بعد مسکراتا سینے پہ ہاتھ رکھے رخصت ہو گیا۔ چاول بے حد مزیدار تھے۔ لیکن میں اس دن، سارا دن ان کی مہارت کی داد دیتی رہی اور شرمندہ ہوتی رہی۔ کتنی مہارت سے انناس جیسے مشکل پھل کو کاٹا تھا کہ ذرا نہ پتہ چل رہا تھا کہ یہ کٹا ہوا انناس ہے۔ غالب نےصحیح کہا ہے،

لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاءو
جب کچھ بھی نہ ہو تو دھوکا کھائیں کیا

ریفرنس؛

پھوکٹ، تھائ لینڈ

Saturday, June 6, 2009

جو ڈر گیا

ٹرین کے ایک ڈبے میں صرف دو افراد تھے۔ رات اندھیری اور ایک سرنگ بھی قریب آ رہی تھی۔ ایک نے دوسرے سے پوچھا کیا تم بھوتوں پہ یقین رکھتے ہو۔ اگلے نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور قطعیت سے کہا۔'نہیں'۔ اگلے ہی لمحہ پہلا شخص دھواں بن کر تحلیل ہو گیا۔

لو جی، اب کیا اتنی پرانی کہانیاں نکال کر سنانے لگیں۔ او جی کچھ نیا لاءو۔ ہن یہ چالبازیاں نئیں چلیں گی۔ ٹہرئیے، یہ تو میں چیک کر رہی تھی آپ کو ڈر لگتا ہے یا نہیں۔ میں نے تو آپ کو ڈرانے کی کوشش کی تھی۔ کیا کہاطالبان کے علاوہ کسی سے ڈر نہیں لگتا۔

اچھا چھوڑیں، آپ لوگوں نے کالے جادو کے متعلق تو سنا ہوگا۔ بچپن میں میرا خیال تھا کہ کالا جادو کالے لوگ کرتے ہونگے۔ جہاں بڑے ہو کر اور بہت سی باتیں غلط ثابت ہوئیں۔ وہاں اس بات کی حقیقت میں بھی کوئ سچائ نہ تھی۔ اس جادو کے لئے دل کا کالا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ خیر اب ہمیں کیا پتہ چلے کے کسی کے دل کا کیا رنگ ہے۔ لیکن ہماری پڑوسن کہتیں تھیں ایک کالا جادو بڑا خطرناک ہوتا ہے۔ مٹی کی چھوٹی سی ہنڈیا میں کچھ تعویذ رکھ کر اور پڑھ کر پھونک دیتے ہیں اور اسے روانہ کردیتے ہیں۔ 'کس سے بس یا ٹرین سے'۔ 'یہ لڑکی بڑی دخل اندازی کرتی ہے۔ چپکے بیٹھی رہو'۔ وہ ایکدم گھرک دیتیں۔'ہاں تو ہوا میں اڑتی ہوئ جاتی ہے اور ٹھیک اسی جگہ پہنچتی ہے جہاں بھیجا جائے۔ اور جب وہاں پہنچ جائے تو جس کے نام پہ بھیجتے ہیں اس کی جان جا کر رہتی ہے۔ اور اگر کسی وجہ سے عمل الٹا ہوجائے اور ہنڈیا واپس آجائے تو عمل کرنے والے کی زندگی نہیں رہتی تھی'۔ اب میں چشم تصور سے دیکھتی کہ فضا میں ایک ہنڈیا چلی جا رہی ہے۔ لیکن ہم نے حقیقت میں کبھی نہیں دیکھی۔ پڑوسن کہتی تھیں انہوں نے تو جاتی ہوئ دیکھی۔

اب کیا سچ ہے اور کیا افسانہ۔ آپ کہیں گے یہ کیا کسی عامل کا تعارف کرانے والی ہیں جو ادھر ادھر کی باتیں کئے جارہی ہیں۔بات یہ ہے کہ میں تو خیال کے اس دھاگے کو وزیرستان لے جا رہی ہوں۔ چلیں گے اب آپ کا چہرہ کھل اٹھا۔ اڈرینالن ہائپ؟ اب ہونگیں کچھ جنگ وجدل کی باتیں۔ جی نہیں جناب یہاں تو جنگ کی گھاتیں ہیں۔ چلیں جناب اسی میں تو کراماتیں ہیں۔

تو یہ کرامت امریکن ٹیکنالوجی کے طفیل آئ ہے۔ امریکیوں نے، خدا کی مار ہو ان پہ، ایک ایسا مائکرو چپ بنایا ہے جس کا سائز معمولی سی کنکری کے برابر ہوتا ہے۔ یہ کنکری ڈرون طیارے کے لئے نشانے کا کام انجام دیتی ہے۔ اور ڈرون میزائل کسی طالبان کے اڈے پہ نہیں دراصل اس کنکری پہ حملہ کرتا ہے۔ امریکن اس کنکری کو جسے مقامی زبان یعنی پشتو میں 'پتھرئ' کہتے ہیں۔ اپنے کسی ایجنٹ کے ذریعے اپنے نشانے تک پہنچا دیتے ہیں۔بلوچستان کے کسی ائر بیس پہ موجود یہ بغیر پائلٹ کے جہاز دراصل اس لیور سے چلتے ہیں جو امریکہ میں لاس ویگاس کے جنوب سے پینتیس میل کے فاصلے پہ موجود ایک آپریٹر گھماتا ہے۔ اور ڈرون میزائل چل پڑتا ہے جہاں اسکے لئے سگنل موجود ہوتا ہے یعنی اس پتھرئ کی طرف۔ پتھرئ کی وجہ سے ڈرون حملے اب پہلے سے بہتر ہو گئے ہیں۔آمریکیوں کے لئے ڈرون حملے خاصے مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ اور اب ان کا نشانہ بھی خاصہ بہتر ہو گیا ہے۔ اس سال جنوری کے آغاز میں ایک کینیا کا رہنے والا عسکریت پسند مارا گیا جس کے پچھلے سال میریٹ ہوٹل کے دھماکوں میں ملوث ہونے کے شواہد ملے تھے۔

پچھلے اٹھارہ مہینوں میں امریکہ پچاس سے زائد حملے کر چکا ہے جن میں امریکی دعوی کے مطابق القاعدہ کی اعلی قیادت کے بیس میں سے نو افراد مارے گئے ہیں۔ اس کےعلاوہ اخباری اطلاعات کے مطابق ۲۰۰۶ سے اب تک تقریباً سات سو لوگ مارے گئے ہیں جن میں سے زیادہ تر بےگناہ ہیں۔
'شہر میں آجکل اسی کا چرچا ہے۔ ہر ایک خوفزدہ ہے کہیں اس کے گھر کے پاس پتھرئ نہ ہو کیونکہ پھر چند گھنٹوں یا دنوں میں ڈرون حملہ یقینی ہے۔'

مقامی لوگوں اور طالبان کے مطابق امریکن سی آئ اے قبائلیوں کو اس پتھرئ کو القاعدہ یا طالبان کے ٹھکانوں تک پہنچانے کے پیسے دے رہی ہے۔پچھلے دنوں طالبان نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں انیس سالہ حبیب الرحن نے کانپتی ہوئ آواز میں اقرار کیا کہ وہ سگریٹ کی پنی میں پتھرئ لپیٹ کر لے جا رہا تھا۔' انہوں نے وعدہ کیا تھا کے ڈرون کے کامیاب حملے کی صورت میں وہ مجھے ہزاروں پاءونڈز دیں گے اور پکڑے جانی کی صورت میں تحفط بھی۔' لیکن طالبان اپنے وعدے کے زیادہ پکے نکلے اور حبیب الرحمن کو ویڈیو کے آخیر میں سر اڑا کرجنت الفردوس پہنچا دیا۔

جنوبی وزیرستان کے مرکزی علاقے وانا میں باہر سے آئے ہوئے عسکریت پسند بازاروں اور دوکانوں میں جانے سے احتراز کرتے ہیں جبکہ مقامی افراد جو پہلے ان کے ساتھ گھلے ملے رہتے تھے اب ان سے دور رہنے لگے ہیں۔ مرنا تو ہر ایک کو ہے لیکن چیتھڑوں کی صورت مرنے میں دفن ہوتے وقت کافر اور غیر کافر کی تمیز نہیں رہتی۔ شاید اس لئے طالبان کو ڈرون حملے پسند نہیں ہیں۔ رہے عام افراد تو وہ انسانوں کی گنتی میں کہاں ہیں۔

عسکریت پسند اب اس سلسلے میں خاصے محتاط ہیں ان کا خیال ہے کہ پتھرئی افغانستان سے لائ جاتی ہے اور اس لئے بلاوجہ افغانستان جانے والے سے پوچھ گچھ ہوتی ہے۔

کہاں گئے ہمارے عامل جو ہنڈیا میں بند کرکے موت بھیجا کرتے تھے۔ طالبان ان سے کیوں نہیں فائدہ اٹھاتے۔اس کے لئے تو انہیں کوئ ایجنٹ بھی نہیں چاہئیے ہوگا۔ اور مٹی کی ہنڈیا تو پتھرئ کے مقابلے میں خاصی سستی پڑے گی۔ اس طریقے میں بےگناہ لوگوں کے مرنے کا احتمال بھی نہیں۔

ریفرنس؛


پتھرئ ایک مائکرو چپ

http://www.guardian.co.uk/world/2009/may/31/cia-drones-tribesmen-taliban-pakistan

میں گواہی دیتی ہوں

ہمارے ملک میں شادی ہو تو جہاں جہیز، شادی ہال، بیٹی پارلر، کھانا اور مہمان تفصیلات میں آتے ہیں وہاں دولہا اور دلہن کے بعد سب سے اہم شخصیات قاضی صاحب، اور گواہان ہوتے ہیں۔ اب آپ باقی انتظامات کسی ویڈنگ پلانر سے کروا بھی لیں تو بھی کچھ عجیب سے مسائل سر اٹھا لیتے ہیں۔ مثلاً فلاں رشتےدار کو بلایا جائے یا نہیں۔ کوئ وی آئ پی کیسے شریک ہوگا۔اب یہ خالصتاً آپ کا درد سر ہے۔ اس میں وہ بیچارے بھی کچھ نہیں کر سکتے۔

اس قحط االرجال میں جو ہمارے شہر میں اس وقت سے پیدا ہوا ہے جب گھرانوں کے گھرانے دوسری ہجرت پہ روانہ ہو چکے ہیں۔ اور اہل نظر بن چکے ہیں جیسا کہ کسی شاعر نے کہا تھا کہ کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد۔ تو جناب وہ تو ایک کے بعد ایک تازہ بستیاں آباد کر رہے ہیں۔ اور یہاں، پیچھے رہ جانے والوں کو ڈپریشن اور نوسٹیلجیا جیسی چیزیں دے گئے ہیں۔ یہ لوگ اس وقت بڑے یاد آتے ہیں جب خاندان میں کوئ شادی ہونے والی ہو۔ اور اس وقت خاص طور پہ جب شادی کے لئیے گواہ مقرر کئے جا رہے ہوں۔

ایسی ہی ایک تیاری میں میں بھی موجود تھی۔ دلہن کے خاندان کے زیادہ تر لوگ دیار غیر کو کوئے آشنا میں تبدیل کر چکے تھے۔ یہاں اس بد نام شہر میں بس اکا دکا لوگ رہ گئے تھے۔ مسئلہ یہ در پیش تھا کہ ایک وکیل صاحب اور ایک گواہ تو ہو گئے اب دوسرا گواہ لڑکی والوں کی طرف سے کون ہو۔ دوسرا مرد قریبی رشتے داروں میں نہیں مل رہا ۔ اب کیا کریں۔ کیونکہ کوئ قریبی رشتےدار ندارد۔ بھائ خدا نے دیا نہیں۔ والد صاحب واپس لے لئیے۔ اب خدا کے اس لین دین کے بعد، سب اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ میں نے اپنی خدمات پیش کردیں۔ محفل کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ میں نے کہا بھئ ایسی کیا بات ہے، اسلام میں عورت بھی گواہ بن سکتی ہے بس کرنا یہ ہو گا کہ ایک مرد کی جگہ دو عورتیں ہوجائیں گی تو عورتیں تو اس وقت خاصی ہیں۔ آپ ان میں سے کسی کو بھی لے لیں ۔ لیکن وہ سناٹا کم نہ ہوا۔ لڑکی کی والدہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ہائے کیا وقت آگیا کہ ہماری بیٹی کو دو مرد گواہوں کی کمی پڑ گئ۔ اب اس خاندان کے مردوں کے تذکروں کے اوراق کھل گئے۔ نتیجتاْ پڑوس کے ایک صاحب سے درخواست کی گئ کہ وہ گواہ بن جائیں۔ بظاہر تو معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا گیا۔ لیکن پتہ نہیں کیوں میرے دل میں اک پھانس چبھی رہ گئ۔ دل بھی کیا چیز ہے----

میں نے اپنے جاننے والون میں ان لوگوں سے جو مذہب کا خاصا علم رکھتے ہیں ان سے معلوم کیا خود اپنے طور پہ تحقیق کی۔ کیا شادی عورتوں کی گواہی سے منعقد نہیں ہو سکتی؟ تو مذہبی کتا بیں کوئ ایسی جانبداری نہیں دکھاتیں۔ جو بات میں سمجھ رہی تھی وہ ٹھیک تھی۔ نہ صرف یہ کہ عورت گواہ بن سکتی ہے بلکہ وہ نکاح کو منعقد بھی کرا سکتی ہے۔ اگر قاضی صاحب نکاح پڑھانے کے لئے میسر نہ ہوں تو ان کے خطبہء نکاح کے بغیر بھی شادی ہوجاتی ہے۔ نکاح کی بنیادی ضرورت گواہ ہیں۔ اور چونکہ ہر معاہدے کو لکھ لینا چاہئے اس لئیے شادی کے معاہدے کو بھی لکھ لینا چاہئیے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ مروجہ قانون کے مطابق اس کی رجسٹریشن اس لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے قانونی حقوق و فرائض سے آگاہ ہوجائیں جو اس رشتے میں بندھنے کے بعد ریاست آپ پہ لاگو کرتی ہے۔

پھر یہ سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیوں میری بات پہ ایسا بلک کر روئیں۔ عورتیں کیوں اپنے آپ کو اتنا کمتر اور گرا ہوا سمجھتی ہیں۔ اور وہ کب اس احسا س کمتری سے باہر آئیں گی۔ آپ کو معلوم ہے اس کے بعد میں نے لاتعداد لوگوں سے پتہ کیا اور کسی ایک کی شادی میں کوئ خاتون گواہ نہ تھی۔ وہ لوگ جو مسلمان عورت کی آدھی گواہی پہ ناک چڑھاتے رہتے ہیں انہیں علم ہو کہ مذہب کی دی ہوئ یہ آدھی گواہی کا حق جو کہ کچھ صورتوں میں پوری گواہی کے برابر بھی ہوتا ہے اسے بھی ہم اپنے سماجی ، ثقافتی اور معاشرتی دباءو کی وجہ سے نہیں استعمال کرتے۔ البتہ ہماری زبانیں سارا سارا دن اللہ کی تذکیر و تہلیل اور اپنے مذہب کی فضیلت گنواتے ہوئے گذارتی ہیں۔

میں نکاح کی اس تقریب میں مرد گواہوں کو دستخط کرتے ہوئے دیکھتی ہوں اوراپنے آپ سے عہد کرتی ہوں کہ میرے بچوں کی شادی میں خدا نے اگر مجھے اور انہیں زندگی دی تو ضرور دو عورتیں گواہ ہونگیں ۔ ہم اگر تبدیلی کے لئے کسی کو مجبور نہیں کرسکتے تو ہم خود تبدیلی کا نشان بن سکتے ہیں یہ زیادہ واضح اور مضبوط نشان ہوگا۔

تو میری بیٹی تمہارے بڑے ہونے تک مجھے اس لئے بھی زندہ رہنا ہوگا۔ تم نے میری زندگی کو کتنے معنی دئیے ہیں۔ خدا تمہیں لمبی اور مطمئن حیات دے اور میں تمہارے نام سے جانی جاءوں۔

اسلامی شادی کے اصول

پاکستان شادی سے متعلق قوانین

Thursday, June 4, 2009

مدد محمد بن قاسم مدد

پہلی گولی میں تینوں ایس لیے ماراں گا کہ توں میری بھین دا دوپٹہ کھنچیاں سیں---- آگے کی

گولیوں کی وجوہات مجھے یاد نہیں. ہو سکتا ہے کہ اس جملے میں پنجابی گرامر کی غلطیاں بھی ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے پنجابی دوستوں نے مجھ پہ کبھی پنجابی سیکھنے کے لئے دباءو نہیں ڈالا۔ میں ان کی گنگناتی ہوئ اردو میں چاہے جتنی خامیاں نکالوں، وہ میری اردو نما پنجابی سے خوش رہتے تھے۔ خدا انہیں اور خوش رکھے۔
لیکن ایک بات طے ہے اور وہ یہ کہ ہیرو کی غیرت جگانی ہو یا پاکستانیوں میں جذبہ پیدا کرنا ہو جب تک عورتون کی عزت اور ان کے دوپٹوں کا تذکرہ نہ ہو ایسا کرنا ممکن نہیں۔ یہ اوپر تھا کسی پنجابی فلم کا ڈائیلاگ جو میں نے لکھنے کی کوشش کی۔ لیکن اب جناب یہ ایک مضمون ہے جو زید حامد صاحب کے کسی ٹی وی پروگرام کو نثری شکل دینے پہ وجود میں آیا ہے۔
ان کی ویب سے حاصل کی گئ اطلاعات کے مطابق وہ بنیادی طور پہ ایک دفاعی مبصر اور تجزیہ کار ہیں۔ میرا ان سے تعارف بس اتفاقیہ طور پہ ہوا۔ اس کے لئے آزاد میڈیا کا شکریہ جو مشرف کی مہربانی سے ہمیں ملا۔ اب کچھ لوگ مجھے دیسی گالیوں سے نوازیں گے۔ گالیوں پہ مجھے کچھ شعر آتے ہیں جیسے غالب کا یہ شعر

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کہ بے مزہ نہ ہوا

میں باقاعدہ ٹی وی دیکھنے والوں میں سے نہیں۔ لیکن گھر میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اگر ٹی وی نہ دیکھیں تو دل جلانے کے لئیے کوئ واضح بہانہ نہیں رہتا۔ ایسے لوگوں کی وجہ سے میں خاصی باخبر رہتی ہوں۔

تو ہوا یوں کہ ایک دن ایسے ہی ٹی وی لاءونج سے گذرتے ہوئے ایک صاحب کی تیز جذباتی انداز میں بولنے کی آواز آئ۔ میں نے یونہی اسکرین پہ نظر ڈالی یہ کون ہیں جو جماعتیوں کے انداز میں بول رہا ہے۔ خیر ان سے معزرت کے ساتھ کہ میں نے ان کا ناطہ اپنی کم علمی کی بناء پہ جماعت اسلامی سے جوڑا۔ اس وقت ان کا موضوع دنیا کو درپیش حالیہ معاشی صورتحال تھی۔ تو بس پھر میں انہیں سننے بیٹھ گئ۔ کافی سیر حاسل بات چیت تھی۔مزہ آیا۔

کچھ دنوں بعد کسی نے مجھے ان کا مضمون 'پاکستان ایک عشق ایک یقین' کا لنک بھیجا۔ اپنی دیگر مصروفیات کی بناء پر میں اسے اس وقت نہ پڑھ سکی۔ اب جو کچھ فارغ لمحات میسر آئے تو میں نے اس مضمون کو پڑھا۔ اور جیسے ایکدم پنجابی فلموں کی یاد تازہ ہو گئ۔

اس مضمون کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ انہوں نے مہاجرین کی قربانیوں کو سراہا ہے اور اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ یہ ان مہاجرین کی بے غرضی اور بے انتہا قربانیوں کا نتیجہ ہے جو آج ہم اس مملکت خداد میں ایکدوسرے کو آرام سے بیٹھ کر طعنے تشنیع دیتے ہیں اور وہ ہتھیار جو متحدہ ہندوستان میں ہندءووں کے خلاف استعمال کرتے انہیں ایکدوسرے کے خلاف آزادانہ طور پہ استعمال کرنے میں نہیں جھجھکتے۔ وہ الفاط جس سے ہمارے دشمن کے دلوں میں سوراخ ہوجائیں ان سے اپنے ہم وطنوں کے سینوں کو ڈرل کرتے رہتے ہیں۔تو ان مہاجرین کے ایثار کو پہچاننے کا شکریہ۔ شکریہ زید حامد صاحب۔

دوسری طرف مجھے اس بات پہ ہنسی آئ کہ اس مضمون کا ایک تہائ سے زائد حصہ پاکستانیوں کی غیرت کو للکار رہا ہے کہ بے غیرتوں ان ہندءووں نے تمہاری عورتوں کے ساتھ یہ کیا، ان کے سروں سے دوپٹے چھینے ان کی عزتیں پائمال کیں، انہیں اپنے گھر کی باندیاں بنا کر رکھا مگر پھر بھی تم ان کے خلاف اٹھ کھڑے نہیں ہوتے۔ اب تو اٹھو۔ اور کہو پہلا بم میں تینوں اس لئے ماراں گا کہ توں میری بھین دا دوپٹہ کھنچیاں سیں------------------- دھائیں۔

متحدہ ہندوستان کے اندر جس میں موجودہ پاکستان بھی شامل ہے ۔ عزتیں لٹنے اور دوپٹوں کے کھینچنے کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوا جس کے نتیجے میں لوگوں کا ایک سیلاب اٹھ کھڑا ہوا۔۔ اور پاکستان وجود میں آیا۔ لیکن اس میں اتنی سنسنی نہیں کہ وہ غیرت کو جگا سکے۔

پھر اسکے بعد انہوں نے موجودہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت زار کا نقشہ کھینچا ہے اور اس میں انہوں نے ایکدفعہ پھر زور دیا مسلمان عورتوں کی عزتوں کا۔ کسطرح وہاں مسلمان اپنی بیٹیوں کی شادیاں ہندءووں سے کرنے پہ مجبور ہیں اور ایکدفعہ پھر وہ جیسے کہتے ہیں کہ اے بے غیرت پاکستانیوں ااب بھی تمہیں شرم نہ آئ تو کب آئیگی۔ تمہاری مسلمان بہنیں ہندءووں سے شادیاں کر رہی ہیں۔ یہاں میں ان سے تعظیماً ایک بات کہنا چاہتی ہوں کہ ایسا تو وہاں موجود مسلمان لڑکے یعنی مسلمان مرد بھی کر رہے ہیں یعنی ہندو عورتوں سے شادی کر رہے ہیں۔ آخر انہوں نے ان مسلمان مردوں کی غیرت کو کیوں نہیں للکارا۔

خیر جنگ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ اور عورتیں اور بچےجسمانی طور پہ اور سماجی طور پہ کمزور ہونے کی وجہ جنگ کو زیادہ جھیلتے ہیں۔ اور انکے وجود کو بس اسی طرح کے مقاصد کے لئیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اچھا اب اسی بات پہ آگے سوچتی ہوں ۔ قیام پاکستان کے بعدکئ ایسے واقعات حدود پاکستان کے اندر ہوئے جن میں عورتوں کو برہنہ کر کے سر بازار پھرایا گیا، اسی پاکستان میں سالانہ نجانے کتنی عورتوں کے ساتھ گینگ ریپ ہوتا ہے۔ کتنی عورتیں ویسےہی مردوں کی زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔ عورتوں کی ایک بڑی تعداد جاگیرداروں، وڈیروں سرداروں اور دوسرے مردوں کے تصرف میں بغیر کسی مذہبی، سماجی یا قانونی حیثیت کے ساتھ رہنے پہ مجبور ہے۔ ان عورتوں کو زبان کے مزے کے لئیے یا یا نفس کی تسکین کے لئیے کوئ بھی نام دیدیں ۔ ذاتی دشمنیوں کا بدلہ لینے کے لئیے خدا جانے کتنی عورتیں کاروکاری اور اسی قماش کے مظالم کا شکار ہوتی ہیں۔ زندہ عورتوں کو سبق سکھانے کے لئے ان پہ شکاری کتے چھوڑ دئیے جاتے ہیں ان کے چہروں پہ تیزاب پھینک دیا جاتا ہے۔ اور اسی پہ بس نہیں اسلام کا نام لیکر اسی عورت کو سر عام چار مرد اپنی ٹانگّوں میں دبا کر کوڑے بھی لگاتے ہیں۔ یہاں میں ان بنگالی خواتین کا تذکرہ نہیں کرنا چاہتی جو بنگلہ دیش بننے سے پہلے اپنے ہم مذہب لوگوں کی ظلم زیادتی کا شکار ہوئیں اور جن کا تذکرہ حمود الرحان رپورٹ میں بھی ہے۔ زید حامد صاحب کو شاید یہ معلوم نہیں کہ یہ سارے مظالم پاکستانی عورتوں پہ کسی غیر مسلم مرد نے نہیں مسلم مرد نے کئے اور کرتا ہے۔

اب میں ان سے یہ پوچھنا چاہونگی کہ اگر ایک غیر مسلم مرد مسلمان عورت کے ساتھ یہ کرتا ہے تو اس کے خلاف جہاد کرنا چاہئیے اور اس کی نسلوں کو سبق سکھا دینا چاہئے کہ تو نے ہماری عورتوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو تیری آنکھیں نکال کر ان میں بم رکھ دیں گے۔ لیکن اگر ایک مسلمان مرد یہ کرتا ہے تو کیا کرنا چاہئیے۔

میں ایک عورت ہونے کے ناطے یہ سوچ سکتی ہوں کہ اگر عورت کے ساتھ یہ زیادتی کوئ غیر مسلم مرد کرے یا مسلم مرد۔ وہ ان دونوں سے ایک جیسی نفرت کرے گی۔ نفسیات کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلم مرد سے زیادہ کرے گی۔

اگر آپ مسلم عورت کی پکار پہ محمد بن قاسم بننے کے لئیے تیار ہیں جس کا حوالہ اس مضمون میں موجود ہے تو آپ سب سے پہلے کس کے خلاف جہاد کریں گے۔ غیر مسلم مرد سے یا مسلم مرد سے۔ میں آپ کا جواب جاننا چاہتی ہوں۔ جناب محمد بن قاسم ----- ؛



حمودالرحمن رپورٹ
محمد بن قاسم
محمد بن قاسم حالات زندگی

زید حامد کامضمون دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Wednesday, June 3, 2009

صلائے عام

آپ یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کی فیس آپ کے لئے ایک مسئلہ ہے تو میں آپ کو مایوس نہیں دیکھنا چاہتی۔ ہیں لوگ وہی اچھے آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔ اقوام متحدہ کے ایک ادارے نے آپ کی مشکل آسان کرنے کے لئے ایک آن لائن یونیورسٹی قائم کی ہے ان کا دعوی ہے کہ آپ کو معمولی رجسٹریشن فیس جو کہ صرف پندرہ ڈالر ہے اس کے علاوہ کچھ ادا نہیں کرنا پڑے گا۔ ہاتھ کنگن کو آر سی کیا فوراً اس لنک پہ جائیے۔ کام کی ہے تو دیگر لوگوں کو بھی بتائیے اور خود کام کے انسان بن جائیں۔کسی کام کی نہیں تو اقوام متحدہ والوں کو برا بھلا کہئیے۔ اور مجھے بھول جائیے گا۔


http://www.uopeople.org/Default.aspx