آدھی رات کو جب یہ دنیا والے خوابوں کی سیج سجاتے ہیں تو ایسے میں ہم شہروں کے رہنے والے ایکدوسرے کے فون کھڑ کھڑاتے ہیں۔ کیا کریں یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اپنے آپ سے ملاقات کرنے کا موقع ملتا ہے اورپھرکسی بہانے دوسرے ساتھیوں کو یادکرنے لگتے ہیں ۔یہ کچھ اوکھی سی گفتگو کا خلاصہ ہے۔ آنکھوں پر عقیدت کی پٹی باندھ کر پھرنے والے اور انسانی محبوبوں کو خدا سمجھنے والے اگر نہ پڑھیں تو انکا کچھ نقصان نہیں ہوگا۔ یہ دوسرا شخص، ایک ہمراہی ہیں۔ انکی اور میری ہم آہنگی ایسی ہے کہ باوجود مختلف طرز فکر رکھنے کے میں انہیں غدار پاکستان اور کافر نہیں سمجھتی اور وہ بھی مجھے اس وطن کے وفاداروں میں اور مسلمانوں میں خیال کرتے ہیں۔ یاد رہے اردو گرامر میں اگر تانیث ظاہر کرنا مقصود نہ ہو تو مذکر کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔ تو یہ کوئ بےوقوف خاتون بھی ہو سکتی ہیں اور عقلمند مرد بھی۔
شش،آرام سے سنیں۔
میں؛ کیا ہو رہا ہے سونا تو یقیناً نہیں چل رہا ہوگا۔
ہمراہی؛ نہیں کل کی تیاری چل رہی ہے۔ کس لئے یاد فرمایا آپ نے۔
میں: بھئ ایک موضوع چھڑا ہوا ہے۔قاضی صاحب کے حوالے سے۔
ہمراہی ؛ کون سے قاضی؟
میں؛ جناب قاضی حسین احمد، انہوں نے اقبال اور قائد اعظم کے حوالے سے اپنے ایک مضمون میں جس کے اقتباسات ڈان میں بھی کچھ دنوں پہلے شائع ہوئے تھے۔ یہ کہا ہے کہ اس ملک کو دراصل اسلامی مملکت بننا ہے ورنہ یہاں کا مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ انہوں نے اقبال کی نظم وطنیت کے ان اشعار کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات کہی کہ اقبال وطنیت کے سخت مخالف تھے۔
ان تازہ خداءوں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیراہن ہےاس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے
میرے ہاتھ میں اس وقت کلیات اقبال ہے۔ انکی نظم وطنیت بانگ درا میں موجود ہے اور اس نظم سے کوئ سو صفحے پہلے انکی نظم ہندی ترانہ موجود ہے جس میں انہوں نے ہندوستاں کو اپنا وطن قرار دیتے ہوئے اسے اپنی محبتوں کا مرکز قرار دیا ہے۔
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اسکی یہ گلستاں ہمارا
غربت میں ہوں اگر ہم، رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو وہیں ہمیں بھی، دل ہو جہاں ہمارا
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستاں ہمارا
میں الجھن میں ہوں۔ علامہ کی بات میں تضاد کیوں ہے۔
ہمراہی؛ دراصل علامہ ابتدائ طور پر تو نہیں البتہ بعد میں پین اسلام ازم کی طرف مائل ہو گئے تھے ان کی دوسری نظم وطنیت اسی دور کی ہے اور اپنے انتقال کے وقت تک وہ اسی پر قائم رہے۔ جبکہ نظم ہندی ترانہ پہلے دور سے تعلق رکھتی ہے۔
میں؛ مزید بات قائد اعظم کی اس پالیسی ساز تقریر کے حوالے سے جو انہوں نے قیام پاکستان سے دو دن قبل دی تھی۔
’آپ آزاد ہیں عبادت کے لیے اپنے مندروں میں جانے میں آزاد ہیں ،آپ اپنی مسجدوں میں جانے میں آزاد ہیں آپ مملکت پاکستان میں اپنے عقیدے کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں جانے میں آزاد ہیں آپ خواہ کسی مذہب،فرقے یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں امور مملکت کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ۔ ۔ ہم سب ایک ہی مملکت کے شہری ہیں اوربرابر کے شہری۔ ۔ ۔ پس ہمیں اس نصب العین کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور آپ وقت کے ساتھ ساتھ دیکھیں گے کہ نہ ہندو،ہندو رہے گا اور نہ مسلمان ،مسلمان ،مذہب کے معنوں میں نہیں کیونکہ یہ تو ذاتی عقیدت کا معاملہ ہے بلکہ سیاست کے معنوں میں جب ہر شخص مملکت کا شہری ہوتا ہے ‘‘۔
اسکے بارے میں قاضی صاحب کا کہنا ہے کہ صرف اس تقریر کے پیچھے سب پڑ گئے ہیں حالانکہ اس سے پہلے اور اسکے بعد انہوں نے کتنی دفعہ ایسی باتیں کیں جس سے یہ نتیجہ نکالنا چاہئے کہ وہ ایک اسلامی مملکت چاہتے تھے۔ ایک اسلامی مملکت جہاں اسلامی قوانین کا نفاذ ہو۔ مجھے تو قاضی صاحب کی یہ بات صحیح لگتی ہے۔
ہمراہی؛ تو ان سے آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ خود قائد اعظم کسطرح کے مسلمان تھے اور وہ اسلام کو کیسا سمجھتے تھے۔ محترمہ شاید آپ نے وہ واقعہ نہیں سنا کہ جناح صاحب کو نماز پڑھنا نہیں آتی تھی۔ ایکدفعہ کسی اجلاس کے دوران جب انہیں جماعت نماز پڑھنی پڑی تو عین نماز کے دوران جب سب لوگ رکوع میں چلے گئے تو وہ کھڑے رہ گئے اور انتہائ حیرت سے بولے کہ واٹ اے ڈسپلن۔
میں؛ یہ تو ایکدم مذاق ہے گھڑا ہوا۔
ہمراہی؛ جب انسان صدمے سے زیادہ حیرت میں ہو تو اسے چیزیں یونہی مذاق لگتی ہیں۔ وہ تو کہتے تھے کہ رسول اللہ نے آج سے تیرہ سو سال پہلے جمہوری طرز حکومت کی بنیاد رکھ دی تھی۔ وہ خودتو سرتاپا ایک سیکولر انسان تھے۔امیر اتنے کہ اصلی ریشم کی ٹائ بھی ایکدفعہ کے بعد دوسری نہیں پہنتے تھے۔مغربی پینٹ کوٹ کے ہاتھ کے سلے ہوئے سینکڑوں سوٹ انکے پاس اس وقت موجود تھے۔
میں؛ انہوں نے مسلمانوں کے لئے پاکستان حاصل کرنے کی جنگ لڑی آپ کو معلوم ہے انکے جلسوں میں لوگ نعرے لگایا کرتے تھے کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ۔
ہمراہی؛ اول تو انہوں ے یہ نعرہ کبھی خود نہیں لگایا اور دوئم انہوں نے یہ نعرے بھی کبھی نہیں لگوائے۔ مختلف تحریکوں میں جذبہ پیدا کرنے کے لئے نعرے تخلیق کئے جاتے ہیں۔ انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں نام نہاد جیت میں بھی ملکہء ترنم نورجہاں کے گانوں کا بڑا حصہ ہے۔ کیا آپ اس سے واقف نہیں۔ اب آپ کہیں جنگ اور اسکے لوازمات جیسے کھڑاگ کی کیا ضرورت ہے۔ دو چار نورجہانوں سے کام چل جائے گا۔ اور مزید یہ کہ حکومت وقت نے جنگ کو اسی مْصد کے لئے جیتا کہ نورجہاں اور گانے گائیں۔
میں؛ تو آپ سمجھتے ہیں کہ وہ سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔
ہمراہی؛ میرا خیال ہے کہ وہ مسلمانوں کے لئے ایک ایسی مملکت چاہتے تھے جس کے قاعدے قوانین مسلمان اپنے فائدے، نقصان اور اپنی ثقافت کو مد نظر رکھ کر بنائیں۔ آپ یا دوسرے لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ پاکستان محض جناح کی کوششوں سے نہیں بنا۔ کوئ بھی تحریک صرف لیڈر کے بل بوتے پہ نہیں چل سکتی بلکہ ان لوگوں کا عزم بھی اس میں کام کرتا ہے جو اس سے متاثر ہوتے ہیں جن کے لئے وہ تحریک چلائ گئ ہوتی ہے۔ اب آپ بتائیں۔ پاکستان کی تحریک کی اصل جنگ ان علاقوں میں لڑی گئ جو آج پاکستان میں شامل نہیں۔ وہاں کے مسلمان، مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ مسلمان خود جیسی زندگی گذار رہے تھے ویسی ہی زندگی گذارنا چاہتے ہونگے یا اپنے مزاج سے الگ کسی نئے اسلام کی طلب کر رہے تھے۔ وہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے تھے ناں۔ یا پاکستان بننے کے بعد سب نئے سرے سے مسلمان ہونا چاہتے تھے۔ انکی پریشانی یہ نہیں تھی کہ انگریز حکومت انہیں انکے مذہب پر عمل پیرا نہیں ہونے دے رہی تھی بلکہ انکی پریشانی یہ تھی کہ انگریزوں کے جانے کے بعد وہ ہندو اکثریت کے رحم و کرم پہ رہ جائیں گے۔ اور اس صورت میں انہیں معاشی اور ثقافتی طور پہ ہراساں کیا جائے گا۔ مسلمان کمیونٹی کے مفادات کو ضرب لگتی تھی نہ کہ اسلام کو۔ اب جناح صاحب شراب بھی پیتے تھے، غیر مسلمانوں کے ساتھ ہوتے تو ایسا کوئ حلال حرام کا بھی خیال نہ رکھتے تھے۔ کوئ ایسے نماز روزے کے پابند نہ تھے۔ اب وہ کیسا اسلامی ملک چاہتے ہونگے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلا وزیر قانون ایک ہندو کو اور پہلا وزیر خارجہ ایک قادیانی کو بنایا۔ آج لوگ انہیں ایک مذہبی شخصیت بنانے پہ تلے ہوئے ہیں۔ مجھے حیرت ہے قاضی صاحب ایسا کہہ رہے ہیں۔ انکی جماعت کے جد اعلی مولانا مودودی تو کہتے تھے کہ جس جماعت کی قیادت ’جناح جیسے آدمی‘ کے ہاتھوں میں ہے اس سے ایک اسلامی ریاست کے قیام کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
میں؛ انہوں نے آخری عمر میں شراب چھوڑ دی تھی۔ باقی چیزوں کے بارے میں مجھے معلوم نہیں اور نہ کوئ خواہش ہے معلوم کرنے کی۔ انکی شخصیت پاکستان کی تخلیق کی جدوجہد میں سب سے نمایاں اور اہم ہے۔ میں نے تو کسی کی رائے یہ بھی پڑھی کہ اگر کانگریس کے پاس جناح جیسا ایک بھی لیڈر ہوتا تو پاکستان نہ بن پاتا۔ تو پاکستان کی تخلیق انکی دانائ اور زیرک شخصیت کی وجہ سے ممکن ہوئ۔
ہمراہی؛ انکا انتقال پھیپھڑوں کی ٹی بی کی وجہ سے ہوا تو وہ تو ڈاکٹری ہدایت ہوگی کہ ترک کر دیں۔ البتہ میں آپکی بات سے متفق ہوں کہ کسی شخص کی ذاتی زندگی کو اسکی قابلیت اور اہلیت سے الگ رکھنا چاہئیے۔ لیکن آپ اسی دنیا میں رہتیں اور دیکھتی ہونگیں کہ جب کسی کے خلاف کچھ بن نہیں پڑتا تو پھر ایسے ہی باتیں کی جاتیں ہے کہ وہ شراب پیتا ہے وہ یہ غیر اسلامی کام کرتا ہے وہ، وہ غیر اسلامی کام کرتا ہے اور پھر آخر میں یہ کہ وہ تو مسلمان یہ نہیں ہے کافر ہے۔۔ میرا سوال تو یہ ہے کہ جناح بھی یہ کرتے تھے اب انکی شخصیت کو اتنا مذہبی کیوں بنایا جارہا ہے۔ جناح کی پیدائش ایک کھوجے شیعہ گھرانے میں ہوئ اور وہ بعد میں اثناء عشری شیعہ میں چلے گئے۔ پاکستانیوں کی اکثریت سنی فقے سے تعلق رکھتی ہے۔ اب یہاں پہ کس فقہ کی حکومت ہوگی۔ وہ جس پر عوام کی اکثریت رضا مند ہے یا وہ جس پہ ہمارے قائد عمل پیرا تھے۔
میں: مجھے تو نہیں معلوم۔
ہمراہی؛ توپھر آپ جا کر بھنڈی پکائیں۔ ایک تو عورتیں، مردوں کی سیاست سے واقف ہوتی نہیں ہیں۔ اور چلی آتیں ہیں بیچ میں لقمہ دینے۔ اب ناراض ہونگی کہ مجھ جیسی علامہ کو یہ کہہ دیا۔
میں؛ آپ مجھے زیادہ طعنے نہ دیں۔ کبھی کبھی معاملات کو قابو میں رکھنے کے لئے بھی لاعلمی کا ڈرامہ کرنا پڑتا ہے۔ سنا نہیں آپ نے لا علمی ایک نعمت ہے۔مجھے معلوم ہے یہ قرار داد مقاصد کا بھی اس میں کچھ چکر ہے۔ اب میں اتنی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتی۔ میں صرف یہ جاننا چاہتی تھی کہ یہ تضاد ان بڑے ناموں کے کردار کا حصہ تھا یا اب کچھ لوگ معاملات کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لئے انکا نام استعمال کرتے ہیں۔
ہمراہی؛ تو آپ نے مجھے عام لوگوں میں سے نکال کر قاضی صاحب کے مد مقابل کھڑا کر دیا۔
میں؛ جی، میری خواہش ہے کہ ہر عام آدمی ان خاص لوگوں کے سامنے کھڑا ہو جائے۔
ہمراہی؛ اس طرح تو بڑی مشکل ہو جائے گی۔ عام آدمی کے لئے بھی اور خاص آدمی کے لئے بھی۔ سو میری دعا ہے تیری آرزو بدل جائے۔
ریفرنس؛
قاضی حسین احمد کا مضمونقائد اعظم کی سوانح حیات ۱
قائد اعظم کی سوانح حیات ۲پاکستان ایک مذہبی ریاست
فیصلے کا مرحلہ