Tuesday, June 30, 2009

مرفی کی برفی


جہاز اپنی سرنگ میں ایک بڑی تعداد اسکول کے بچوں کی لئیے ہوئے اپنی منزل کے قریب ہو رہا ہے۔ ہمارے ملک کے دارالحکومت میں متوقع امیرالمومنین دھڑکتے دل کے ساتھ بیٹھے آنیوالے لمحے کا انتظار کر رہے ہیں۔جہاز میں اچانک کھلبلی مچ گئ۔ ایئر پورٹ کی تمام لائٹس بند ہو گئ ہیں اور جہاز کے پائلٹ سے کہا جا رہا ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک چلا جائے چاہے وہ انڈیا ہی کیوں نہ ہو۔ جہاز میں اس وقت کا ملک کا سپہ سالار بیٹھا ہے۔ اسکول کے بچے ہیں۔ ایندھن خاتمے کے قریب ہے اور ادھر متوقع امیرالمومنین انتظار کر رہے ہیں ایک ایسی ساعت کا جس میں سانحہ ہو جائے۔ شطرنج کی بساط پہ سارے مہروں کو ہٹاتے ہوئے وہ اس مرحلے تک پہنچے ہیں۔ لیکن یہ کیا ہوا۔ ہائیں۔ مومنین منتظر رہ گئے۔ کچھ ایسا خاص نہیں ہوا۔ مرفی کا قانون حرکت میں آیا۔ اور امیر المومنین وہاں پہنچ گئے جہاں سے انکو بھی کچھ انکی خبر نہیں آتی تھی۔ مرفی کا قانون کہتا ہے کہ غلط ترین صورت حال وقوع پذیر ہو کر رہتی ہے۔

کسے گمان تھا کہ زرداری جیل سے نکلیں گے اور تخت پہ براجمان ہو جائیں گے۔ وہ بھی عوام کی

اکثریت کی حمایت سے۔ بےنظیر جو انتہائ اندرونی ذرائع کے مطابق تہیہ کئے ہوئے تھیں کہ اس دفعہ حکومت ملنے کے بعد زرداری کو سات سمندر پار ہی رکھیں گی۔ آسمانوں کے اس پار چلی گئیں۔
مشرف سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ بازی اس طرح ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی کہ اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئ اور انکے بعد ان کی جگہ سنبھالے گا بھی گا تو کون۔ زرداری۔ لگتا ہے وہ بھی مرفی کے قانون کو نہیں جانتے تھے۔ مرفی کا قانون کہتا ہے کہ غلط ترین صورتحال وقوع پذیر ہو کر رہتی ہے۔

لیکن عقلمند وہی ہے جو دوسروں کو دیکھ کر عبرت پکڑتا ہے۔ یہاں میری مراد اخبار عبرت نہیں ہے۔ اگر یہ بات آپ کو سمجھ آرہی ہے تو باقی کی باتیں بھی سمجھ آجائیں گی۔یہ ناہنجار مرفی ایک انجینیئر تھا۔ ایکدن کسی پروجیکٹ پہ کام کر رہا تھا۔ اسکے ساتھ کچھ اور لوگ بھی کام کر رہے تَھے۔ جب ہر چیز بظاہر اس حالت میں آگئ کہ اس کی آزمائش کی جائے تو وہ ناکام ہو گئے۔ پتہ چلا کہ کسی معمولی سی غلطی کی بناء پر وہ اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکے۔ مرفی نے تنکتے ہوئے اس کا ذمہ دار اپنے اسسٹنٹ کو ٹہرایا اور کہا۔' یہ شخص جہاں بھی غلطی کرنے کا موقع ہو ۔ ضرور کریگا۔' بس لوگ اس کی اس بات پہ واری واری ہو گئے۔ حالانکہ آپ میں سے بہتوں کے لئیے یہ مکالمہ نیا نہ ہوگا۔ اور انہوں نے کھوج کھوج کر اس کے حق میں جانے والی باتیں تیار کر لیں۔ جس سے اس قانون کی حیثیت مسلمہ ہو گئ۔ یہاں میرا مطلب حقیقت کے مسلمان ہونے سے نہیں ہے۔ یا تو حقیقت ہمیشہ مسلمان ہوتی ہے یا پھر کچھ نہیں ہوتی۔ اسکے کچھ نہ ہونے سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔

اب ان لوگوں نے اس قانون کو جانچنے کے لئے کچھ مثالیں پیش کیں جن میں سے میں صرف دو بیان کرنا چاہونگی۔۔ مثلاًڈبل روٹی کا سلائس اگر آپکے ہاتھ سے گرے گا تو ہمیشہ اس کا مکھن لگا ہوا حصہ قالین سے ٹکرائے گا۔ اسکے اس حصے سے گرنے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں جتنا قیمتی قالین ہوتا ہے۔

آپ کسی مشین کو درست کر رہے ہوں تو اس کا باریک سا اسکرو جو کہ بہت اہم ہوتا ہے آپکے ہاتھ سے چھٹ کر کمرے کے بھاری ترین فرنیچر کے سب سے کونے والے حصے میں پہنچ جاتا ہے۔

تو سب سے پہلے اس قانون کے چیدہ چیدہ نکات ذہن نشین کر لیں جو حسب ذیل ہیں؛
اگر کوئ غلط صورت حال پیدا ہو سکتی ہے تو وہ ضرور ہو گی

اگر ایک بات کے ساتھ بہت ساری غلط صورت احوال ہونے کے امکانات ہیں تو سب سےبد ترین صورتحال سامنے آئےگی۔

اگر کئ چیزیں ایک ساتھ غلط ہونے کے امکانات ہیں تو وہ سب ایک ساتھ وقوع پذیر ہونگی۔

اگر کوئ چیز کسی بھی طریقے سے غلط سمت میں نہیں جا سکتی تو وہ کسی نہ کسی طریقے سے جائے گی ضرور۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی چیز کے غلط سمت میں جانے کے چار طریقے ہو سکتے ہیں تو کوئ پانچواں طریقہ کہیں نہ کہیں سے جنم لے لیگا۔

اگر حالات کو ایسے ہی چھوڑ دیا جائے تو وہ کم بری سے زیادہ بری حالت کی طرف جاتے ہیں۔

قدرت ہمیشہ اس خفیہ غلطی کے ساتھ ہوتی ہے جس کا حل آپ نے نہیں سوچا ہوتا بلکہ جس کا تصور بھی آپ نے نہیں کیا ہوتا۔

قدرت اتنی مہربان نہیں جتنا آپ خیال کرتے ہیں۔

اب اس قانون کی مزید وضاحت کے لئے میں آپ کو آپ سب کی زندگی میں سے کچھ مثالیں دینے کی کوشش کرتی ہوں۔ امید ہے کہ آپ اپنی والی نہایت عقلمندی سے نکال لیں گے۔ میرا مطلب ہے مثال۔ ویسے مثال میری پڑوس کی لڑکی کا نام بھی ہے۔ انہوں نے بی اے کر لیا ہے اور بیاہ کے لئے تیار ہیں۔ آپ میں سے جو لوگ شادی جیسے بندھن میں بندھنا چاہتے ہیں وہ چاہیں تو انہیں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن زیادہ جلدی کی ضرورت نہیں پہلے یہ والی مثالیں دیکھ لیں۔

ٹریفک جام اس دن سب سے زیادہ ہو گا جس دن آپ گھر سے دیر سے نکلے ہونگے۔

جس دن آپ کو آفس پہنچنے میں دیر ہوگی اس دن داخلہ دروازے پہ آپ کی ملاقات باس سے ہوگی۔

امتحانات میں اسی فی صد پیپر ان اسباق میں سے آتے ہیں جنہیں آپ دوران تیاری چھوڑ دیتے ہیں۔

جب پیپر شروع ہونے میں دس گھنٹے رہ جاتے ہیں اس وقت مضمون اچھی طرح سمجھ میں آنا شروع ہوتا ہے اور آپ کہتے ہیں۔ اے کاش، ایکدن اور مل جاتا تو پیپر زبردست ہو جاتا۔ اب اگر اگلے دن اس وجہ سے ہڑتال ہوگئ کہ آپ کے اس وقت کے محبوب رہنما ، پھانسی چڑھ گئے، یا جہاز پھٹ جانے سے ہلاک ہو گئے یا بم دھماکے میں مارے گئے یا انہوں نے اپنے لئے کوئ بھی اور طریقہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں انکی غیر طبعی موت واقع ہونا ضروری ہے تو آپ کا پیپر مزید پندرہ دن کے لئے ٹل جائے گا۔ یاد رکھیں۔ اب بھی مضمون آپ کو دس گھنٹے پہلے ہی سمجھ میں آنا شروع ہو گا۔ اور آپ پھر کہیں گےکہ اے کاش،---- یہ بھی یاد رکھیں کہ ایک ہی محبوب رہنما بار بار غیر طبعی موت نہیں مرتا اور اگلے کی باری اتنی جلد نہیں آتی۔

اپنی اماں کو آپ جتنا مہنگا تحفہ لیکر دیں گے امکان غالب ہے کہ اتنا ہی کم وہ استعمال ہو گا۔

ماں کی وہ نصیحت جو آپ نظر انداز کر دیتے ہیں ۔بالکل صحیح اور انکی بتائ ہوئ تمام نصیحتوں میں سب سے بہترین نکل آتی ہے۔


آپ کے چھوٹے سےبچے کے ہنگامہء بدتمیزی کا انحصار ارد گرد موجود لوگوں کی تعداد پہ ہوتا ہے۔ جتنے زیادہ لوگ اتنا زیادہ ہنگامہ۔

خواتین کے لئے خاص طور پہ۔ جب آپ کہیں دعوت میں جانے کے لئے سب سولہ سنگھار سے لیس ہوجاتی ہیں تو آپ کے بچے کو اسی وقت واش روم جانا ہوتا ہے۔


پڑوس کے کرائے داروں کی جس بیٹی پہ آپ کا دل آیا ہے اسے پہلے ہی کوئ لے اڑا ہو گا۔

آپ کے آفس کا ہینڈ سم لڑکا جس کے خاموش عشق میں آپ مبتلا ہیں ایکدن کسی جمائمہ خان کو آپ کے سامنے لا کر کھڑا کر دیگا اور اپنی اسی نرم میٹھی مسکان سے جس پہ آپ فدا ہیں کہے گا۔ ان سے ملئیے یہ آپ کی بھابی ہیں۔

جس دن آپ گھر کے غلیظ ترین کپڑوں میں انتہائ نکمے پن سے پھر رہی یا پھر رہے ہوں۔ اسی دن آپ کو شادی کے ارادے سے دیکھنے کچھ لوگ نازل ہوجائیں گے اور سوئے اتفاق انہیں سب سے پہلے آپ ہی ملیں گے۔

جس لمحے کوئ آپ کو اچھا لگنے لگتا اسی لمحے اس کا کوئ دعوی دار نکل آتا ہے۔

محلے کا لڑکا جسے آپ بچپن سے اس کی فاسٹ باءولنگ کی وجہ سے پسند کرتے تھے حتی کہ دل ہی دل میں اسے اپنا داماد بنانے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ ایکدن صبح صبح، داڑھی سجائے، ٹخنوں سے اونچی شلوار پہنے نیچی نظروں کے ساتھ آپ کی بیٹی کا رشتہ مانگنے نہیں بلکہ جہاد پر جانے کے لئے آپ سے آشیرباد لینے آئیگا۔

غالب بھی مرفی کے قانون سے بڑے خائف تھے کہتے ہیں،

رات کے وقت مئے پئے، ساتھ رقیب کو لئے
آئے وہ یاں خدا کرے، پر نہ خدا کرے کہ یوں

کیا اس وقت بھی مرفی کا قانون موجود تھا، کیا مرفی نے ان کے ساتھ رعایت کی، کیا غالب کا خدشہ صحیح ثابت ہوا۔ غالب اور مرفی کی آپس میں کیسی بنتی تھی۔ یہ سب جاننے کے لئے شاید خطوط غالب پڑھنا پڑیں گے۔ کیا کہا پوسٹ پڑھ کر فارغ ہونگے تو کچھ اور پڑھیں گے۔ پڑھیں،کچھ اور نہیں پڑھیں گے تو بڑے آدمی کیسے بنیں گے۔

ریفرنس؛
مرفی کا قانون


سرمایہ اور ایجاد تمنا


اگر آپ کو یقین ہے کہ آپ مسائل کے حل تلاش کرنے میں ماہر ہیں۔ آپ کسی آئنسٹائن اور مادام کیوری سے کم نہیں۔ لیکن آپ یہ بھی سوچتے ہیں کہ روکڑہ یعنی پیسہ ملے تو کچھ کرنے میں مزہ آئے۔ اس سے انکار نہیں۔ پیسے کی ایک باعزت مقدار ہر ذی روح کے لئے ضروری ہے۔ اس یو آر ایل پہ جا کر دیکھئے یہ آپ کو ڈالر دے رہے ہیں اگر آپ انکی مدد کر سکیں انکے مسائل کو حل کرنے میں۔ دیکھ لیں اور کسی اور کو روانہ کر دیں۔ ہو سکتا ہے کوئ سینہ ٹھنوک کر کام سے لگ جائے۔

http://www.innocentive.com/

Friday, June 26, 2009

تیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوں


چلئیے۔
آج کچھ ادھر ادھر چلتے ہیں۔ یہ آج سے کچھ سال ادھر کی بات ہے۔ میں سانگھڑ کے ایک مضافاتی گاءوں میں موجود ہوں۔ جہاں پہنچنے کے لئیے ہمیں پہلے فور وھیل ڈرائیو کرنی پڑی۔ اور پھر کشتی کے ذریعے ایک جھیل کو پار کیا اور ریت کے ٹیلوں پر سے پھسلتے چڑھتے ہم بالآخر ایک گاءوں کی اوطاق تک جا پہنچے۔ یہاں موجود پندرہ بیس گھر سب کے سب مٹی کے گارے اور گھاس پھونس کی مدد سے بنائے گئے تھے۔ قریب میں موجود ایک ہینڈ پمپ سے پانی لیا منہ ہاتھ دھو کر جب آنکھوں سے مٹی صاف ہوئ تو احساس ہوا کہ کچھ گھر بالکل نزدیک ہیں۔ ابھی کھانا آنے میں وقت تھا اس لئے میں اٹھی۔ اپنا بیک پیک اٹھایا اور ایک گھر کی طرف چل پڑی کہ خواتین سے ملاقات کرکے آجاءوں۔

ایک گھر میں داخل ہوئ تو مجھے دیکھتے ہی ایک عورت جلدی سے ایک سندھی رلی نکال کر لے آئ اور لپک کر اسے چارپائ پر بچھا دیا۔ میں اسے منع کرتی رہ گئ کہ مجھے کھری چارپائ پر بیٹھنے میں کوئ اعتراض نہیں لیکن اسے اردو آتی نہ تھی اس لئے اس نے میری بات پہ کوئ دھیان نہ دیا۔ کمرے میں ایک دیوار پہ پیر پگارا کی تصویر لگی ہوئ تھی۔ یہ ان کا علاقہ ہے اور علاقے کے لوگ انکے معتقد ہیں۔ تھوڑی دیر ہم ایکدوسرے کو دیکھتے رہے۔ پھر میں نے اپنی سندھی آزمائ جوکہ بولنے کے ضمن میں بمشکل پچاس الفاط پر مشتمل ہے۔ البتہ سمجھ خاصی آجاتی ہے۔ اس نے مجھے سندھی بولتے دیکھا تو حیران ہوئ۔ تم کہاں سے آئ ہو۔ میں نے جواب دیا۔ کراچی سے۔ وہ بالکل ٹھٹھک گئ۔ کیا پنجابی ہو۔میں ہنسی, اپنے حلئے پر نظر ڈالی ایک مثالی سکنہ کراچی۔نہیں تو سندھی ہوں۔ نہیں کراچی میں تو پنجابی رہتے ہیں۔ اس نے بھی ہنس کر جیسے میری بات ہنسی میں اڑائ۔ نہیں سب پنجابی نہیں ہوتے۔ میں نہیں ہوں ۔ اچھا تمہاری ذات کیا ہے؟ اس نے جیسے امتحان لیا۔سندھ میں ذات کی بڑی اہمیت ہے۔ اب میں پھر مسکرائ۔ میں پٹھان ہوں۔ سندھی تو پٹھان نہیں ہوتے اس نے بڑی معصومیت سے کہا۔ آگے کی گفتگو کا کیا تذکرہ کہ میں نے کیسے پچاس الفاظ سے اسکا دل موم کیا۔ لیکن یہ ضرور سوچا کہ پنجابی ہونے کے ذکر پہ وہ اس قدر تذبذب میں اور کھنچی ہوئ کیوں تھی۔

اس بات کو ایک وقت گذر گیا اب ایک نئے منظر میں ، میں بلوچستان کے شہر گوادر کے مضافاتی علاقے میں ہوں۔ یہ چھوٹا سا گھر ہمارا ذاتی ہے جسے بلوچیوں کے کھلے دل، اس علاقے کے سکون اور سمندر سے نزدیکی کی بناء پر بنایا گیا ہے۔ اطلاع ملی کہ اکبر بگتی مارا گیا۔ ابھی شام کا دھندلکا پھیلے زیادہ دیر نہ ہوئ تھی کہ پندرہ سولہ لوگ گھر کی باءونڈری وال پھاند کر گھس آئے۔ان سب کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے۔ ہم نے سوچا اب شامت آئ۔ ساری شیشے کی کھڑکیاں جائیں گی جو صرف سمندر کا نظارہ کرنے کے لیئے لگائ گئیں تھیں۔گھر کے بزرگ حضرت آگے بڑھے۔ کیا بات ہے؟تم لوگ پنجابی ہو اور یہاں سے فوج کے لئے مخبری کرتے ہو۔ تمہارے پاس مخبری کی مشینیں بھی ہیں۔ کوئ غرایا۔ نہیں ہم پنجابی نہیں ہیں۔ کراچی کے رہنے والے ہیں۔ اردو بولتے ہیں۔ اور اس گھر میں ایسی کوئ مشین نہیں ہے۔ چاہو تو تم میں سے دو تین لوگ جا کر پورے گھر کی تلاشی بھی لے سکتے ہیں۔ بزرگ حضرت نے پر امن پیش کش کی۔ ان میں سے تین آگے بڑھے۔ پورے گھر کی تلاشی ہوئ۔ اس دوران بزرگوار انہیں اپنے غیر پنجابی ہونے کے مزید ثبوت بتاتے رہے۔ اتنی دیر میں محلے کے ایک دو لوگ بھی آگئے انہوں نے بھی کہا کہ یہ پنجابی نہیں ہیں۔ بچت ہوئ، وہ جن ارادوں سے آئے تھے انہیں پورا کئے بغیر چلے گئے۔

ان دونوں علاقوں کے درمیان ہزار کلو میٹر سے زیادہ فاصلہ ہے ان دونوں علاقوں کے رہن سہن اور ثقافت میں فرق ہے مگر ان دونوں علاقوں کے لوگ اپنے ملک کے ایک صوبے کے رہنے والوں سے نالاں کیوں ہیں۔

غالب تمہیں کہو کہ ملیگا جواب کیا
مانا کہ تم کہا کئے، اور وہ سنا کئے

ریفرنس؛

سانگھڑ

گوادر

Wednesday, June 24, 2009

کریلہ اور کترینہ کیف


آج میں ایسا کچھ نہیں لکھ رہی جس میں کوئ مقصد ہو سوائے کچھ لوگوں کی دل پشوری کے۔ خاص طور پر انکے لئے جو کریلہ کھانا سخت نا پسند کرتے ہیں۔ کریلہ پکانے کی یہ تر کیب اگرچہ ایک ماہر امور خانہ داری خاتون سے متائثر ہو کر بنائ گئ ہے۔ جی، یہ وہی خاتون ہیں جو ٹی وی پہ کھانا پکانے کا پروگرام کرتے ہوئے اپنی جوانی کی تصویر اپنے کچن میں لگا کر رکھتی ہیں۔


گھبرا ئیے نہیں، اگر آپ میں سے کچھ لوگ عین عالم شباب میں بھی بڑھاپے کی تصویر نظر

آتے ہیں۔ تو ان پر واضح ہو کہ اس تر کیب کے لئے جوانی کی تصویر کچھ ضروری نہیں۔ دل چاہ رہا ہو تو کسی اور کی جوانی کی تصویر لگا لیں۔ اور اگر کوئ نہ ملے تو پھر ظالمانہ حد تک خوبصورت لگنے والی خاتون کی تصویر لگا لیں۔ سنا ہے آجکل یہ اعزاز کترینہ کیف کو ملو ہوا ہے۔ لیکن میں یہ بھی آپکی پسند
پہ چھوڑتی ہوں۔ جو بھی ظالمانہ حد تک خوبصورت لگتا ہو چاہے زرداری ہی کیوں نہ ہو ۔
اس سے اس ڈش کے ذائقے پر کوئ فرق نہیں پڑے گا۔

ہماری یہ خاتون ہر ڈش کے اندر کہیں نا کہیں چکن ضرور استعمال کرتی ہیں۔ اگر وہ زردہ بناتی ہیں
تو بھی کسی نہ کسی ککڑ کا آس پاس ہونا ضروری ہوتا ہے۔ تاکہ اس کی ککڑوں کوں اس میں
وقفے وقفے سے شامل ہوتی رہے۔ اور دسترخوان پہ بیٹھ کر آپ یہ کہہ سکیں کہ گھٹ گئ مرغی، بڑھ گیا سالن۔ وجہ صاف ظاہر ہے پانی سے۔ یہاں میں آپ کو مرغیوں کے بھاءو، اور ہمارے محبوب صدر
کےبیرونی دوروں کے حوالے سے کوئ تعلق نہیں بتانا چاہ رہی۔ ایسا اگر کوئ کرتا ہے تو
وہ اپنی صوابدید پہ کر رہا ہے۔ میرا اس سے کوئ تعلق نہیں ہے۔

اب اگر آپ عاجز آ کر اس پوسٹ کو بند کرنا چاہ رہے ہیں تو بتا دوں کہ ابھی کچھ الفاظ کے بعد آپ کی خدمت میں کریلہ پکانے کی ایک ایسی ترکیب پیش کی جارہی ہے۔جو ملک کے کچھ غیر متوقع سائنسدانوں نے چوری چھپے سوچی۔ فنڈز کی کمی کی بناء پر اس کو فوری طور پر آزمایا نہیں گیا۔ لیکن جب تک فنڈز ملنا شروع ہوئے یعنی ان میں سے کچھ لوگوں کی شادی ہو گئ تو پتہ یہ چلا کہ نئ اینٹریز کریلوں کو ارتقاء کے راستے میں پیدا ہونے والی کڑواہٹ سمجھتے ہیں اور اسے دیکھنے کے بھی روادار نہیں چہ جائیکہ پکانے کے۔ اس سے آپ یہ نہ سمجھیں کہ اب میں آپ سے کریلوں کی فلا ح و بہبود کے لئے چندہ مانگنے والی ہوں۔ اس سے مقصود صرف اتنا تھا کہ آپ کو پتہ رہے کہ یہ ترکیب اتنی نادر ہے ابھی تک آزمائ بھی نہیں گئ۔ اور اس کے جملہ حقوق بالکل محفوظ نہیں ہیں۔اب آپ مجھے گالیاں دینے والے ہونگے یہ مرحلہ اس ڈش کے لئے بہت ضروری ہے۔ اس سے جو ذائقہ پیدا ہوگا وہی اس کا راز ہے۔

سو،اب میں وہ کرنے جا رہی ہوں جس کے لئے اقبال اپنی زندگی میں اور میری پیدائش سے قبل ہی مجھے لعن طعن کر کے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا اور میں نے سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی اس بات کو انتہائ خنداں پیشانی سے سنا۔

تو نے یہ کیا غضب کیا، اس کو بھی فاش کردیا
یہ ہی تو ایک راز تھا سینہء کائنات میں

تو جناب اس ترکیب کے لئے آپ کو چاہئےایک مرگی یعنی چکن، کہیں مرغی مت لے لیجئے گا۔ ورنہ ساری محنت اکارت جائے گی۔ مزید چیزوں میں ایک مکھن کی ٹکیہ اور ایک کنور کیوب۔ مکھن جتنا زیادہ ہو اتنا اچھا ہے۔ اس کے زیادہ استعمال سے طبقہء اشرافیہ سے آپکے اٹوٹ رشتوں کا پتہ چلتا ہے۔ نہیں نہیں اس کا مشرف سے کوئ تعلق نہیں۔ نہ ہی آپکے چوکیدار اشرف سے۔ کیا کہا، کریلہ کہاں ہے۔ اوہ ہاں ، ایک عدد کریلہ بھی لے لیں۔ اگر نہیں ملے تو تصویر سے بھی کام چلے گا لیکن کریلے کی۔ ظالمانہ حد تک خوبصورت لگنے والی خاتون کی تصویر آپ کے لئے ہے۔ مر گی یا مکھن کو اس سے کوئ دلچسپی نہیں۔ اور صحیح بات تو یہ ہے کہ ان خاتون کو بھی اس سے کوئ دلچسپی نہیں اور ان تینوں کا نام ایک ساتھ ایک جملے میں لینے پر آپ کے خلاف ہتک حسن کا دعوی بھی دائر کیا جا سکتا ہے۔ ڈرئیے نہیں حسین کافی خود بیں و خود آرا ہوتے ہیں اور انہیں پڑھنے کی فرصت نہیں ہوتی پھر بھی حیران کن طور پہ وہ پڑھاتے اچھا ہیں۔

اب ہم واپس چکن کی طرف آتے ہیں۔اگر آپ نے ذبح کی ہوئ مرگی لی ہے تو وہ اب تک اپنی جگہ پر ہوگی ورنہ دوسری صورت میں آپ کو ایک عدد اور چاہئیے ہوگی۔ مرگی، کترینہ نہیں۔ وہ صرف ایک ہے اور بھاگ جانے کی صورت میں آپ کو اسکا ککھ بھی نہیں ملے گا۔ اچھا اب کریلے کو اچھی طرح دھولیں۔ چھیلیں خوب اچھی طرح اور پھر دھوئیں۔ اب اس کریلے کو مرگی کے پیٹ کے اندر رکھ دیں۔ زندہ نہیں ذبح کی ہوئ اور صاف کی ہوئ۔ زندہ کے پیٹ میں اس کا انڈہ ہو گا جس سے اور مرگیاں بنیں گی اور آلائیشیں اندر سے صاف نہ کی جائیں تو کچھ لوگوں کو زیادہ کیا بالکل مزہ نہیں آتا۔ ویسے یہ آپکی پسند پہ ہے۔۔ اب اس کے ساتھ تھوڑا سا مکھن اور کنور کی ٹکیہ بھی رکھدیں۔ مرگی کے باہر اچھی طرح مکھن لگائیں۔ یہاں تک کہ سارا مکھن ختم یعنی خلاص ہو جائے۔ ورنہ یہ بچا ہوا مکھن کسی اور کے لگانے کے کام آئیگا۔ اور مرگئیوں کو یہ بات کچھ خاص پسند نہیں۔

اب اسے دھیمی آنچ پہ ایک منٹ پکائیں۔ اگر اس سلسلے میں اسٹاپ واچ استعمال کریں تو بہتر ہے۔ ورنہ ساٹھ تک گنتی گن لینا کافی ہے۔ اب ڈھکن کھولیں اور کریلے کو نکال کر باہر پھینک دیں۔ اس کی ساری غذائیت مرگی میں منتقل ہو چکی ہے۔ اب اس کی ضرورت نہیں۔ مرگی کو مکھن میں اچھی طرح تل لیں۔ اس مرحلے پہ آپ کو چلو بھر پانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ لاہور میں رہائش پذیر بھاگ کر نہر سے لے آئیں۔ کراچی والے سرکاری نل کی ہوا پہ گذارا کریں۔ سمندر کے پانی میں نمک زیادہ ہوتا ہے اس سے مرگی کا بلڈ پریشر ہائ ہوسکتا ہے۔ خیال رہےاس پانی میں آپ کو ڈوبنا نہیں ہے اور نہ ہی کسی کترینہ کو پلانا ہے وہ منرل واٹر پیتی ہے۔ اس سے صرف تلنے کے دوران مرگی کو چھینٹا دینا ہے۔ اس طرح آپ کو پتہ چلے گاکہ یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے۔ اگلے مرحلے میں جتنے مصالحہ جات کے نام آپ کو آتے ہیں اس میں ڈالدیں۔ کلچہ نان کے ساتھ جو موجاں ہونگیں۔ وہ تو آپ اور نان ہی جان سکتے ہیں۔ کیا کہا کریلے کا کیا ہوا۔ کریلوں کی فکر کرنے کی کوئ ضرورت نہیں۔ یہ تعصب کہلاتا ہے۔ انہیں اپنی بقاء کی جنگ خود لڑنے دیں۔ ورنہ پڑا سڑنے دیں۔ اہل پنجاب کی وضاحت کے لئیے سڑنے کے معنی یہاں بمطابق اردو ہیں۔ مزید معلومات کے لئے اگر ناگوار خاطر نہ گذرے تو کسی کراچی والے سے پوچھ لیں۔ زیادہ دل نہ جلائیے گا۔ یہی تو ایک چیز ہے سینہء کائنات میں۔

نوٹ: کریلوں کی بقاء کی فکر میں گھلنے والے اس مضمون کی کاپی کرواکے جہاں دل چاہے بھجوا دیں۔ وہ یعنی کریلے ارتقاء کے عمل میں کہیں بھی کوئ رخنہ پیدا کرنے کے قابل نہیں۔

ریفرنس؛


Tuesday, June 23, 2009

نوائے سروش


ابھی کچھ دنوں پہلے مجھے ٹیلیفون پر ایک ادبی اجلاس میں اپنی کہانی پڑھنے کے لئےبلایا گیا۔ میں نے اپنے قریبی حلقہء احباب میں اس خبر کو پھیلانے کی کوشش کی۔ کس نے بلایا ہے؟ ترقی پسندوں نے۔ اچھا ابھی تک موجود ہیں۔ کسی نے حیرانی کا اظہار کیا۔ ایک اور مبصر کہنے لگے۔' جائیں اپنا شوق پورا کرلیں۔ مگر زیادہ جذباتی ہو کر مت جائیے گا۔ وہاں سب ریٹائرڈ لوگوں کا مجمع ہو گا۔ اب اس عمر میں انکے پاس اور کچھ کرنے کو نہیں تو یہ ان کی ایک سرگرمی ہے'۔' تو اچھی بات ہے ناں کہ انسان اپنے آپ کو ہر عمر میں مصروف رکھے۔ سنا نہیں خالی ذہن شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے۔' 'اور بھراذہن شیطان کا شو روم ہوتا ہے'۔ اب ایسے لوگوں سے کوئ کیا کہے۔ مجھے اس سے کیا۔ ویسے بھی کسی کی دعوت ٹھکرانا سخت غیر اسلامی فعل ہے۔ اور لوگ تو چاہتے نہیں کہ ہمیں بھی عزت اور احترام ملے اور ہم بھی لائق توقیر ٹھریں اس لئے ایسی باتوں کا پروپیگنڈہ کرتے ہیں تاکہ ہم نہ جائیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ نوجوانوں کو تو موبائل فونز والوں نے مصروف رکھا ہوا ہے تو اب ایسی سرگرمیوں میں کون آئے گا۔ لازماً وہی ریٹائرڈ لوگ۔ وہ اپنی روایات کے ساتھ ہیں۔ بزم ادب میں رونق انہی کے دم سے ہے۔

لیجئیے مزید لوگوں کو کچھ بتانے سے کان پکڑے ۔ اور اگلے لمحے کان چھوڑ کر اپنی شائع شدہ

کہانیوں میں سے چھاننے لگی کہ کیا پڑھنا چاہئیے ۔ دعوتی پیغام میں تو یہ کہا گیا تھاکہ بالکل نئ تخلیق ہونی چاہئیے ۔ لیکن میں نے معذرت کر لی۔ ایک ہفتے کے نوٹس پہ یا تو اخبار میں آرٹیکل لکھا جا سکتا ہے ۔ یا کسی اور کے محبوب کے نام خط۔ ۔ ایک معیاری کہانی اگر لکھ بھی لی جائے تو اسے پال میں لگے رہنےکے لئے وقت چاہئیے ہوتا ہے ۔ اور یہ کچھ دنوں کا کام نہیں ہوتا۔ کم از کم میرے لئے ۔

حسب پیشنگوئ وہاں تقریباً بیس افراد ایسے تھے جن کی عمریں ساٹھ سال سے زیادہ تھیں۔چار پانچ احباب درمیانی عمروں کے اور دو تین لوگ ان میں سے کہے جاسکتے ہیں جن کے لئے اقبال نے کہا کہ

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے انکو اپنی منزل آسمانوں میں

محفل کے پہلے نثری حصے میں ہم اپنے حصے کا کام کر کے فارغ ہوئے۔ اب راقم کے لئے جو کچھ کہا گیا اسکے نتیجے میں تو مجھے اس پوسٹ کا بقیہ حصہ نہیں لکھنا چاہئیے۔ تعریف اور توصیف کا گوند اتنا ہی موئثر ہوتا ہے۔ لیکن پھر یہ مقام آتا ہے کہ کہنا پڑتا ہے کہ

کچھ شہر دے لوگ وی ظالم سیں
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی

اب اس شعر میں پنجابی زبان کی جو غلطیاں ہوں انہیں درست کر کے براہ شکریہ مجھے بھی بتا دیجئیے گا۔ محفل کا دوسرا اور متنازعہ حصہ شروع ہوا۔ اس حصے میں ایک شاعرہ کو تنقید کے لئے اپنی غزل پیش کرنی تھی۔ غزل کی ایک کاپی سب کو عنایت کی گئ۔

میں کوئ شاعر نہیں، اور نہ ان کیفیات میں مبتلا ہوں جس میں احباب کہتے ہیں۔ جب سے دیکھا میں نے تجھ کو شاعری آگئ۔ لیکن شاعری بقول شخصے روح کا نغمہ ہے تو جس بات کی فریکوئنسی روح کے ساتھ تال میل کھا جائے وہی شاعری لگنے لگتی ہے۔

ہمارے ایک کرمفرما کے مطابق کراچی میں اتنے شاعر ہیں کہ ایک پتھر اٹھاءو تو ہزار نکلتے ہیں۔ میرا خیال ہے جو پتھر جہاں پڑا ہے اسے وہیں پڑا رہنے دیجئیے کوئ خود ہی زور لگا کر نکل آئے تو ٹھیک ہےورنہ ان میں سے جو فوسلز میں تبدیل ہو جائیں انہیں بعد میں شاعر تسلیم کر لیا جائے ۔کم از کم اس غزل پر ایک نظر ڈالنے کے بعد یہ خیال راسخ ہو گیا۔
دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی۔ جب اس شعر پر تنقید کی گئ،

میری نظریں بھی نئے رنگ طلب کرتی ہیں
گھر کا سائیں، سر وسامان بدل کر دیکھیں

ہمارے پہلے تنقید نگار نے سوال آمیز تنقید میں پوچھا کہ شعر کا مفہوم تو یہ معلوم ہو رہا ہے کہ وہ اپنا گھر والا بھی گھر کے سروسامان کے ساتھ تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔ شاعرہ موصوفہ میرے پڑوس میں تھیں اور میں انکی آواز بخوبی سن سکتی تھی۔ وہ بالکل جھینپ گئیں اور کہنے لگیں کہ میں نے کومہ تو ڈالا ہے یہ مخاطب کرنے کے لئے ہے۔ سچ پوچھیں تو میں بھی اس کا وہی مطلب سمجھی تھی جو ان تنقید نگار نے کیا۔ ان شاعرہ کی وضاحت باقی لوگوں کے کانوں تک اس صفائ سے نہ پہنچ سکی اور ترقی پسندوں کی اس محفل میں اس بات پہ داد دی گئ کہ اردو شاعری میں یہ پہلا موقع ہے جب ایک عورت نے بھی مرد کی طرح اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کی تبدیلی چاہتی ہے۔ یاد رہے وہ اس کی تردید کر چکی تھیں لیکن اس خیال کو اس شعر کی خوبی سمجھا گیا۔ اسی طرح ایک اور شعر میں ایک مصرعہ کچھ اس طرح تھا کہ من کے اندر کا ہی بھگوان بدل کر دیکھیں۔ ایک اور سینیئر تنقید نگار نے اس بات پہ داد دی کہ شاعرہ نے بڑی جراءت دکھائ کہ ہندی کے الفاظ اپنی شاعری میں استعمال کئے۔ حالانکہ انکے علم میں خدا جانے کیوں ان لاتعداد شاعروں کے نام نہ تھے جنہوں نے اپنی شاعری میں پوربی اردو استعمال کی ہے جس میں بےشمار ہندی کے الفاظ ہوتے ہیں۔ اس وقت فوری طور پر جس قریبی شاعر کا نام میرے ذہن میں آرہا ہے وہ پرتو روہیلہ اور مجید امجد ہیں۔ محض روایت سے ہٹنے کا نام ترقی پسندی نہیں ہو سکتا۔ اگر کوے کی تین ٹانگیں ہو جائیں کسی بھی جینیاتی تبدیلی کے نتیجے میں تو اسے ترقی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ایک عیب ہے۔

سب سے مایوس کن صورتحال اس وقت لگی جب ہمارے ایک نوجوان شاعر نے حاضرین محفل کو غزل میں موجود فنی خرابیوں سے آگاہ کیا اور شاعری کی باریکیوں سے آگاہ کرتے ہوئے اسے ایک نچلے درجے کی غزل قرار دیا۔ یوں لگا کہ سب حاضرین کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ انکی اس ماہرانہ تنقید کے بعد باقی سینئر حضرات نے اس کا اثر مٹانے کی بھر پور کوشش کی اور آخر میں اسے ایک ترقی پسند اچھی غزل قرار دیا گیا۔ مزے کی بات یہ تھی کہ چونکہ مجھے ان شاعرہ کی ہم جلیسی میسر تھی۔ تو محفل کے اختتام پہ میں نے سنا کہ وہ اور انکے ساتھی اس بات پہ ناراض ہوئے کہ چھوٹے بڑے کی کوئ تمیز نہیں انہوں نے اس طرح کی تنقید آخر کیوں کی۔

میں گھر واپس آگئ۔ اگر ہم تنقید کے لئے کوئ چیز سب کے سامنے پیش کرتے ہیں تو ہمیں اس بات کی فکر نہیں کرنی چاہئیے کہ اس پر ہمارے سینیئر رائے دیں گے یا ہمارے جونیئر۔ اہمیت اس بات کی ہے کہ جو شخص اس چیز کی مہارت رکھتا ہے وہ کیا کہہ رہا ہے۔۔اس بات کو بھی مسئلہ نہیں بنانا چاہئیے کہ وہ رائے مثبت ہو گی یا منفی۔ اور جو شخص کوئ منفی رائے دے گا وہ ہماری بے عزتی کریگا یا یہ روایت کے خلاف ہوگا اور ہر ایک کو سب اچھا ہے کی گردان الاپنی چاہئیے۔ تخلیق کی دنیا میں سب برابر ہیں فرق صرف اس بات کا ہے کہ کوئ اپنی خدا داد صلاحیت کو کسطرح استعمال کرتا ہے۔ غالب تو مومن کو اس شعر کے بدلے اپنا دیوان دینے کو تیار تھے کہ۔

تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئ دوسرا نہیں ہوتا

اگرچہ اس محفل کے آغاز میں یہ کہا گیا کہ اس قسم کی سرگرمیوں کا مقصد نوجوانوں میں تخلیقی جذبہ پیدا کرنا اور ساتھ میں ان کی اصلاح اور سیکھنے سکھانے کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ لیکن جس طرح سیکھنا صبر اور استقامت کا کام ہوتا ہے سکھانا اس سے زیادہ صبر اور استقامت اور غیر جانبدار رہنے کا مرحلہ ہوتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن نے ایک دفعہ کہا کہ پاکستان میں زیادہ تر اداروں کی تباہی کا ایک بنیادی سبب سینیاریٹی سنڈروم ہے۔ میری بات سنی جائے، میری رائے کو صائب سمجھا جائے، صرف میرے بتائے ہوئے مشوروں پہ عمل کیا جائے کیونکہ میں سینیئر ہوں۔ یہ سوچ ہمارے بہت سارے اداروں کی نہ صرف تباہی کا باعث بنی بلکہ ہمارے ملک کے نوجوان ذہین دماغوں کے ملک چھوڑنے کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔حالانکہ میں سمجھتی ہوں کہ اس نوجوان تنقید نگار نے تنقید کا حق ادا کر دیا تھا۔ اور بجائے اس کی تنقیدی صلاحیت کو سراہنے کے اس غزل میں ایسی ایسی خوبیاں کھوج کھوج کر بیان کی گئیں جو صاحب تحریر کے علم میں بھی نہ تھیں۔

ہمارے عمومی روئیے کچھ اسی طرح کے ہیں۔ آخر ہم کسطرح کسی بھی میدان میں بلندی حاصل کر سکتے ہیں جب ہم اپنی خامیاں سننا برداشت نہیں کرتے۔ اور کوئ بھی چیز اپنے اعلی معیار پہ کیسے پہنچ سکتی ہے جب ہم اسکی جانچ کے لئے سخت معیار متعین نہیں کریں گے اور محض دوستی اور جان پہچان نبھانے کے لئے حقدار کو اسکے حق سے محروم رکھیں گے۔ گروپ بندی کر کے ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے ضمیر کو سپورٹ دے لیں کیونکہ اس طرح آپ وہی سنتے ہیں جو سننا چاہتے ہیں۔ لیکن اس سے آپ کے کسی ہنر کی تعمیر نہیں ہو پا تی۔

ریفرنس؛
پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن