Thursday, April 12, 2012

جنّاتی مسائل

وہ ایک مستند دہرئیے تھے۔ یعنی صرف لوگ ہی یہ رائے انکے بارے میں نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ بھی اسکا وقتاً فوقتاً اعلان کرتے تھے۔ یہ میری ان سے ابتدائ ملاقاتوں کی بات ہے۔  ایک عمومی رائے کے بر عکس وہ راقم کے بارے میں یہ رائے رکھتے تھے کہ تم ایک روایت پسند مسلمان ہو۔
 اگرچہ اس پہ کچھ بنیاد پرست مسلمانوں کو بڑا غصہ آتا ہے۔ لیکن  انکے نزدیک  ڈیڑھ ہزار سال پرانے مذہب پہ عمل کرنا روایت پسندی ہی ہے۔ ہمارے ایک اور ساتھی کا کہنا ہے کہ اسلام ڈیڑھ ہزار سال پرانا نہیں بلکہ ابتدائے کائینات سے صرف ایک ہی مذہب تھا اور وہ اسلام ہے۔ اگر وہ یہ بات سنتے تو یہی کہتے کہ  میاں، پھر تو یہ اربوں سال پرانا ہو گیا۔ یعنی اس سے زیادہ مستند روایتی اور کیا چیز  ہوگی۔
دہریئے پن کے علاوہ ان میں ہر وہ خوبی موجود تھی جو ایک ایماندار انسان میں ہونا چاہئیے۔ اس میں دل کی نرمی سر فہرست ہے۔ لیکن چونکہ یہ تحریر انکی شخصیت کے بارے میں نہیں۔ اس لئے ہم آگے چلتے ہیں۔
مجھے روایت پسند مسلمان جان کر ایک دن انہوں نے مجھے آڑے ہاتھوں لیا۔ میں اس ساری چیز سے گریزاں تھی۔ اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ مجھے آپکے نظریات پہ کوئ اعتراض نہیں ، آپ بھی میرے نظریات کو نشانہ نہ بنائیں۔ کہنے لگے اچھا ایک بات بتاءو، جنات پہ یقین رکھتی ہو؟
سائینس غیر زمینی، ذہین مخلوق پہ تحقیق کے لئے زر کثیر لگا چکی ہے۔ ہم بھی سوچتے ہیں کہ کوئ نہ کوئ مخلوق انسان کے علاوہ ہو گی۔ تو پھر یہ بات تسلیم کر لینے میں کیا حرج کہ جنّات بھی موجود ہونگے۔ میں نے اپنا بیان دیا۔ ویسے بھی جنات پہ ایمان رکھنے یا نہ رکھنے سے ایمان پہ کوئ اثر نہیں پڑتا۔ جنات کا میری عام زندگی سے کوئ تعلق نہیں۔ میں آج تک جن چند جنوں سے ملی ہوں۔   ان  پہ  یہ جناتی کیفیت کبھی کبھی طاری ہوتی ہے۔ اس لئے وہ با قاعدہ جنوں میں نہیں آ سکتے۔  بات آئ گئ ہوگی۔
 محمد علی مکی نے اپنے بلاگ پہ دوسرے سیاروں پہ ذہین مخلوق یا انسان جیسی مخلوق کا موضوع کھولا تو مجھے جنات پہ یہ بحث یاد آئ۔ اور انکی تحریر سے نئے سوال اٹھ کھڑے ہوئے۔ جو میں نے وہاں ڈالنے کے ساتھ اپنے بلاگ پہ بھی ڈال دئیے۔ 
 اسکی ایک بے کار سی وجہ یہ ہے کہ میری ذہنی ساخت مقلّد سے زیادہ سائینسی ہے۔ میں ہر خیال کو سوال کے ساتھ دیکھتی ہوں۔ مثلاً کل شام تک بچی ٹھیک تھی ایسا کیوں ہوا کہ رات بھر الٹی دست لگے رہے؟ ایسا کیوں کہ ہر بار کرپٹ لوگ ہمارے ووٹوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں؟ ایسا کیوں کہ ہمارے ملک میں اعلی تعلیم پہ ایک ادارہ بنا کر اس پہ اتنا فنڈ لگایا جائے اور اسکول کی تعلیم کو نظر انداز کیا جائے؟ ایسا کیوں کہ مارچ میں جو ارہر کی دال آتی ہے وہ جلدی گلتی ہے جبکہ جو ارہر کی دال نومبر میں آتی ہے وہ گل کر نہیں دیتی؟
اگرچہ حکومت اور معاشرے نے اتحاد باہمی سے اس فضا کو قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ جس سے لوگوں میں سوال پیدا کرنے کی اہلیت پیدا ہو نے پہ قدغن لگائ جائے مگر انسانی تاریخ کہتی ہے کہ فرعون کے گھر موسی ضرور پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے جہاں اور سوالات پیدا ہوتے ہیں وہاں جنّات پہ بھی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
چونکہ خدا کی کتاب میں یہ تذکرہ ہے کہ جنات  موجود ہیں۔ اور چونکہ ہمارے مسلمان دینی عالم ہی نہیں مسلمان سائینسی عالم بھی ہر بات کو قرآن یعنی خدا کی آخری کتاب تک لے جانے پہ بضد رہتے ہیں اس لئے کچھ جوابات کی چاہت بھی ہوئ۔ جن میں سے آج کچھ جنّات کے متعلق ہیں۔
ادھر ایسی احادیث ہیں جن کے مطابق  رسول اللہ سے جنات کے قبائل آکر ملے اور مسلمان ہوئے ان میں سے بعض تو حضرت نوح کے زمانے کے تھے۔  یعنی جنات طویل العمر ہوتے ہیں۔ ایک اور روایت کے مطابق انسانوں کو جنات سے شادی نہیں کرنی چاہئیے۔
 روحانی شخصیات جو کہ جنوں کو انکی اصل حالت میں دیکھنے کا دعوی کرتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ انکی جسمانی ساخت انسانوں سے بالکل الگ ہے۔ یہی نہیں، انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئ ہے اور جنات کی آگ سے۔ شیطان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی اصل میں ایک جن ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انسان سے پہلے زمین پہ جنات آباد تھے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں، جتنے دماغ اتنے خیالات۔ لیکن مکی کی باتوں سے مجھے خیال آیا کہ اگر جنات مسلمان ہوتے ہیں تو یہ بات اتنی سادہ نہیں رہتی۔ اس خیال کے ساتھ ہی بہت سارے سوالات میرے جیسے بے دماغ لوگوں کے ذہن میں آتے ہیں۔ مثلاً
اگر جنات مسلمان ہوتے ہیں تو یہودی، عیسائ، ہندو اور بدھ بھی ہوتے ہونگے۔ حتی کہ قادیانی بھی ہوتے ہونگے۔ کیا انکے یہاں بھی کافر قرار دینے کی مہم چلتی ہونگیں؟ یا وہ اس معاملے میں انسان کے مقلد ہیں؟
کیا انکے یہاں بھی مسلمان جنات کے علاوہ باقی سب ترقی یافتہ ہونگے؟
کیا انکے یہاں بھی امریکہ، اسرائیل اور سعودی عربجیسی طاقتیں موجود ہیں یا وہ ہمارے والوں پہ ہی گذارا کرتے ہیں؟
کیا انکے یہاں بھی مختلف احادیث کی روشنی میں مختلف فرقے ہونگے؟
کیا انکے بھی آپس میں جہاد ہوتے ہیں یا وہ ہمارے جہادوں میں ہی حصہ لے کر اپنی تسلی کرتے ہیں؟
کیا انکے ہاتھ ہوتے ہیں جن کے ناف پہ باندھنے اور نہ باندھنے کی وجہ سے مسلمان جنوں کے فرقے وجود میں آتے  ہوں؟
کیا انکی خواتین کے کان اور ناک ہوتی ہے جن پہ حجاب ٹہر سکے؟ کیا انکے یہاں مدنی اور مکی برقعے ہوتے ہیں؟
کیا جنات خواتین آدھی آستین یا بغیر آستین کے کپڑے پہنتی ہیں جن پہ مرد جنات بے غیرت کہلائے جائیں؟
کیا انکے یہاں بھی گل احمد اور الکرم کی لان کے اشتہار آتے ہیں، جن کی عریانیت پہ احتجاج کرنے کے واسطے خفیہ ورکنگ ویمن کی تنظیم  کروڑوں روپوں کے بینرز بنواتی ہے؟
کیا ان کے یہاں بھی غریب جنات عورتیں ان کروڑوں روپوں کے بینرز کے نیچے کھڑی ہو کر غربت کی وجہ سے اپنی عصمت کا سواد کرتی ہیں؟
کیا جنات خواتین اپنے گھروں میں بند رہنے پہ اللہ کی رحمت کی حقدار ٹہرتی ہیں؟
کیا مرد جنات اپنی خواتین کوقابو میں رکھنے کے فلسفوں پہ عمر گذارتے ہیں اور مولانا جنات انکی مدد اسی طرح کرتے ہیں جیسے ہمارے والے کرتے ہیں؟
ایک روایت کے مطابق ہماری پھینکی ہوئ ہڈیوں پہ سے اپنا کھانا چننے والے جنات کیا امیر اور غریب ہوتے ہیں؟
کیا انکے یہاں بھی نیک جنات کی قبر پہ مزار بنتے ہیں یا وہ نیک انسان کی قبر سے ہی گذارا کرتے ہیں؟
جنات تبلیغ کے لئے کسی اور سیارے پہ جاتے ہیں یا رائے ونڈ ہی آتے ہیں؟
انسانوں کے تبلیغی اجتماعات میں جنات موجود ہوتے ہیں لیکن وہ  انسان  کو تبلیغ کیوں نہیں کر سکتے ؟
اگر وہ زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پہ آباد ہیں انکے نماز اور روزے کے اوقات اور اس سے متعلق فقہ بھی الگ ہوگا۔ کیا انکے اپنے امام ہیں یا وہ انسانوں کے اماموں سے گذارا کرتے ہیں؟ 
اگر جنات مسلمان ہوتے ہیں تو عقیدہ ء آخرت انکے لئے بھی ہوگا۔ انکو بھی اعمال نیک و بد کا حساب دینا ہوگا۔
کیا انہیں بھی حوریں ملیں گی؟ چونکہ  وہ آگ سے بنے ہیں تو یقیناً انکی جنت کی ساخت اور حوریں الگ خصوصیات رکھتے ہونگے۔ کیا انکی ایک الگ جنت ہوگی؟
چونکہ وہ آگ سے بنے ہیں تو انکی دوزخ بھی الگ ہوگی اب انہیں اس دوزخ میں تو رکھا نہیں جا سکتا جس کی آگ کا خوف انسانوں کو دلایا جاتا ہے۔  کیا انکے لئے آگ کا ہی عذاب ہے یا کسی اور چیز کا؟
آخر خدا نے جنوں کو کیوں تخلیق کیا جبکہ انسان فساد کرنے کو کافی تھا؟

 نوٹ؛ اس سلسلے میں قارئین میں سے  کسی کے ذہن میں کوئ اور سوال ہو تو ضرور شامل کرے۔ اگر کوئ جواب دینا چاہتا ہے تو سو بسم اللہ۔
 

Wednesday, April 11, 2012

زندہ رشوت، مردہ بخشش

ہمارے 'محبوب صدر' نے  جب بن بلائے مہمان کے طور پہ بھارت جانے کا قصد کیا تو  دشمنوں نے جو اللہ کے کرم سے انکے کم نہیں، جس میں انکی شکل کا کم اور عقل کا حصہ زیادہ نظر آتا ہے۔  ان پہ الزام لگایا کہ وہ بھارت سے کوئ خفیہ ڈیل کرنے جا رہے ہیں۔
اگرچہ انہوں نے بار بار کہا کہ انکے اس دورے کا مقصد اجمیر شریف کی زیارت کے علاوہ کچھ نہیں ، جہاں وہ اپنی بیگم کی منت پوری کریں گے۔ ارے جناب، تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں اور یہ سیاستداں بھینگے کی۔ جس طرف کی دکھاتے ہیں اس طرف مقصود نہیں ہوتا۔ 
 ڈرانے والے تو انہیں کئ بار ڈرا چکے ہیں کہ مرنے والوں کا اتنا تذکرہ اچھا شگن نہیں۔ اگر مرنے والے نے بھی انہیں اس شدت سے یاد کیا تو  اس ملک کا، پیپلز پارٹی کا اور ننھے بلاول کا کیا ہوگا۔ لیکن  زرداری صاحب  بھی اپنے نام کے ایک ہی ہیں۔ ایک دفعہ ٹھان لی تو بس انڈیا جا کر ہی دم لیا۔ یہی نہیں جتنا لمبا دورہ مقصود تھا اتنا ہی رکھا اس میں وطن میں سو سے زائد فوجیوں کی سیاچن حادثے میں ہلاکت بھی رخنہ نہ ڈال سکی۔ وہ جانتے ہیں موت کا ایک دن مقرر ہے اور اجمیر شریف وہی جاتا ہے جسکا بلاوا آتا ہے۔
اسکی وجہ کچھ دل جلے یہ بتاتے ہیں کہ اب انکے مسائل کا حل نہ سپریم کورٹ کے پاس ہے نہ سوئس بینکوں کے پاس ، اب اگر انکے مسائل کا حل کسی عالم گوگیا پاشا کے پاس ہی ہے۔  بڑے لوگوں کی باتیں بڑی۔ اگر انکو کوئ بتا دے کہ آپ کسی کار کے حادثے میں کریں گے تو وہ دعا کریں گے کہ لیموزین جیسے ماڈل کی نئ کار ہو۔
اس لئے ملکی روحانی باباءوں کو انہوں نے بنظر حقارت  بھی نہ دیکھا۔  حتی کہ ہمارے ملک میں جہاں مزاروں اور مجاوروں کی کمی نہیں۔ وہ خود ایک سیاسی خاندان کے مجاور ہیں، انکے وزیر اعظم ایک روحانی خاندان کے مجاور۔ ہر دو خاندان کی سیاسی اور روحانی طاقت اتنی زیادہ ہے کہ مخالفین ایڑی چوٹی کا زور لگا دینے کے باوجود انکی شہرت میں کوئ کمی نہ لا سکے۔ مزاروں کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ زندہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
خیر، اس سب کے باوجود قرعہ ءفال اجمیر والوں کے نام کیوں نکلی؟
 محبوب صدر کا کہنا ہے کہ بیوی کی منت پوری کرنے آئے ہیں۔ ایک ایسے نازک وقت میں جب کہ ملک کا ملک انکے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے وہ پرائے دیس میں کیوں فاختائیں اڑا رہے ہیں اسکا جواب تو خلیل خاں ہی دے سکتے ہیں یا وہ۔ فی الوقت تو ان کے ہم وطن ااس ایک کروڑ ڈالر یعنی تقریباً نوے کروڑ کی رقم پہ طعنہ زن ہیں جو انہوں نے اجمیر کے مزار کے نام کی ہے۔ اگر یہ رقم وہ وطن میں ان زندہ لوگوں کے نام کر دیتے جن پہ دن بہ دن انکی ناکام طرز حکومت کی وجہ سے زندگی کے دروازے بند ہو رہے ہیں تو شاید انہیں اجمیر شریف جانے کی ضرورت پیش نہ ہوتی جو زندہ لوگوں کے دلوں میں رہتے ہیں انہیں مُردوں سے مدد نہیں چاہئیے ہوتی ۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مرنے کے بعد انہیں پاکستان میں شاید دو گز زمین نہ ملے، اس لئے اپنے لئے اجمیر میں بعد از مرگ زمین ان پیسوں کے عیوض بک کرائ ہے۔ تاکہ اس مجاور کا مزار وہاں بنے۔  ارے نہیں صاحب،  زمین نے کوئ گناہ ثواب کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔ سبھی اس کے کنوئیں میں جاتے ہیں۔ خاک وہیں پہنچتی ہے جہاں کا خمیر ہوتا ہے۔ کیا چشتی صاحب انکی ہمراہی قبول فرمائیں گے؟
یہ اجمیر والے بزرگ معین الدین چشتی  جو ہیں انہوں نے کاہے کو انہیں بلاوا بھیجا  اسکا بھی اندازہ نہیں۔  لوگوں کا اندازہ ہے کہ اللہ والوں کی بھی شاناں ہوتی ہیں۔ جسے نواز دیں۔ بس ایسی ہی باتوں سے اللہ والوں سے دل ہٹ سا جاتا ہے۔ خیر ایک معتقد نے بتایا کہ کچھ دنوں کے لئے ملک کو نحوست سے پاک کرنے کے لئے چشتی صاحب نے ایسا کیا باقی دنوں کے لئے کیوں نہیں کیا، ان مخصوص دنوں میں کیا بات تھی؟
کیا اجمیر کے مزار میں قیام پذیر چشتی صاحب، زرداری صاحب کا یہ دان قبول کر لیں گے یا انکے منہ پہ دے ماریں گے۔ اسکا نتیجہ بھی وقت ہی بتائے گا۔
ابھی یہ نہیں معلوم کہ زرداری صاحب نے یہ پیسے اپنی ذاتی جیب سے دئیے ہیں یا ہمارے ٹیکس سے۔ اگر ہمارے ٹیکس سے دئیے ہیں تو کم از کم مجھے احتجاج کا حق حاصل ہے۔ میں نے انہیں ٹیکس کی صورت میں یہ رقم اس مقصد کے لئے نہیں دی تھی۔
ہمارے شہزادے بلاول بھی والد صاحب کے ہمراہ تھے۔ سنا ہے کہ وہاں کے شہزادے راہول گاندھی کو انہوں نے اپنی سلطنت آنے کی دعوت دی ہے۔ انہیں آنا بھی چاہئیے یہ دیکھنے کے لئے ہم پاکستانی کتنے بڑے دل کے مالک ہیں کہ اپنے بچے مار کر دوسروں کے مزاروں پہ چڑھاوے چڑھاتے ہیں اس لئے کہ ہم منت کی صورت میں کئے جانے والے وعدے سے نہیں پھر سکتے۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ووٹ کی صورت میں کئے گئے وعدے اوراعلی عہدے پہ لئے گئے حلف کی ہماری نظر میں کوئ اہمیت نہیں ہوتی۔
 بس یونہی خیال آرہا ہے، سیاست میں تصوف تو ہوتی ہے کیا تصوف میں سیاست ہوتی ہے؟ کیا معین الدین چشتی صاحب رشوت لیتے ہیں؟
  

Friday, April 6, 2012

ایک نوحہ

پورے ایک سال گذرنے کے بعد مجھے داءود انجینیئرنگ کالج کراچی سے خط ملا کہ وہ جو آپ نے سال بھر پہلے ہمارے اشتہار کے سلسلے میں درخواست بھیجی تھی لیکچرر شپ کے لئے، اسکے انٹرویو ہو رہے ہیں آپ آجائیے۔
مقررہ تاریخ پہ صبح ساڑھے آٹھ بجے ہم وہاں موجود تھے۔ گھنٹہ بھر انتظار کے بعد اطلاع ملی کہ ابھی تھوڑی دیر میں ایک تحریری امتحان ہو گا۔ ممتحن آجائیں تو آپکو بلاتے ہیں۔ اسکے دو گھنٹے بعد پتہ چلا کہ ٹیسٹ کا ارداہ موقوف ہو گیا ہے۔ اب صرف انٹرویو ہونگے۔ انٹرویو بورڈ کے سارے ارکان آجائیں تو انٹرویو کا سلسلہ شروع ہوگا۔
 سہانی صبح ڈھل چکی نجانے کب تم آءوگے۔
دن کے دو بجے ہم سب امیدوار دھوپ سے بھرے لان میں بیٹھے، آتی ہوئ کھانوں کی ان قابوں کو دیکھ رہے تھے جو اس کمرے میں جارہی تھیں جہاں انٹرویو ہونا تھا۔ دن کو تین بجے پہلا امیدوار اندر طلب ہوا۔ پون گھنٹے بعد وہ باہر نکلا پندرہ منٹ کے بعد دوسرا امیدوار طلب ہوا۔ ہم وہاں پہ کوئ پندرہ لوگ موجود تھے۔
میں نے ایک آسان سا حساب کیا کہ شام کو پانچ چھ بجے تک کیا صورت حال ہوگی۔  میری توقع کے مطابق شام کو پانچ بجے دو امیدواروں کے انٹرویو کے بعد ہمیں اطلاع دی گئ کہ آج انٹرویو ختم کئے جاتے ہیں  اسکی نئ تاریخ سےآپ کو جلد آگاہ کیا جائے گا۔
تین سال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے بعد وہ نئ مبارک تاریخ آئ۔ ایک دفعہ پھر امیدوار وہاں موجود ، اس دفعہ پہلے سے کم۔ کچھ اس دوران دوسرے کاموں میں مصروف ہو گئے ہونگے۔ یہ کوئ محبوب کی زلف تو نہ تھی کہ اسی کو سر کرنے میں گذار دیتے۔
 ایک دفعہ پھر یہ پیغام کہ ابھی ایک تحریری ٹیسٹ ہوگا۔  لیکن اس دفعہ ریکارڈ توڑنے یا  رکھنے کے لئے ہمیں ڈھائ گھنٹے کے بعد  ٹیسٹ کے لئے بلا ہی لیا گیا۔ ٹیسٹ لینے والے نے پوچھا آپ سب کے پاس کاغذ اور قلم ہے۔ سب کے پاس قلم تھے لیکن ایسا کوئ معتبر کاغذ نہ تھا جس پہ ٹیسٹ دیا جا سکے۔ ہم سب بےوقوفوں کو کالج کی اس غربت کا اندازہ ہی نہ تھا۔ ہم نے اپنے آپ تف بھیجی اور شرمندگی سے سرجھکا دئیے۔ انہوں نےطنزیہ مسکراہٹ سے ہمیں ذلیل کرتے ہوئے کہا اچھا انتظار  کریں آپکو کاغذ فراہم کیا جاتا ہے۔ ایک گھنٹے کے انتظار کے بعد ہم سب کو ایک ایک کاغذ دیا گیا۔ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔
اب آگے ہنسنا منع ہے کیونکہ اسکے بعد ان صاحب نے کہا ایسا ہے کہ میں  کچھ سوالات املا کرا دیتا ہوں وہ آپ اپنے پاس لکھ لیجئیے۔ پھر انہوں نے چار سوال املا کرائے۔ فی البدیہہ املا کرائے جانے والے سوالات میں غلطیاں تھیں جن کی نشاندہی پہ متعلقہ صاحب نے انتہائ بڑکپن کا ثبوت دیتے ہوئے انہیں تبدیل کر دیا۔ ایسی بڑائ کی تعریف کرنا بے جا نہیں۔
آدھ گھنٹے بعد ہم سے کاغذ ، معاف کیجئیے گا ٹیسٹ پیپر لینے کے بعد ہمیں باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔ بعد کے واقعات سے یہ بد گمانی پیدا ہوتی ہے کہ ان ٹیسٹ پیپرز کو ہمارے نکلتے ہی کوڑے دان میں ڈال دیا ہوگا۔ کمزور اور حقیر لوگ بد گمانیوں کا جلد شکار ہوتے ہیں۔
 کراچی میں چالیس ڈگری کی گرمی میں ایک دفعہ پھر ہم بنجر لان میں بیٹھے انٹرویو کی پکار کا انتظار کر رہے تھے۔ ایک دفعہ پھر کھانے کی قابیں اندر جا رہی تھی۔ اس دفعہ یہ ہانڈیاں تھیں۔ منتظمین کو ہانڈیوں سے فراغت پانے میں شام کے چار بج گئے۔ 
میں اٹھی اور کلرک کے پاس گئ۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ میں اپنے گھر فون کر کے اطلاع کر دوں کے میں دیر سے آءونگی، میں اپنا موبائل فون گھر بھول آئ ہوں۔ ہاں ہاں کیوں نہیں۔ وہ مجھے سازش کر کے اس کمرے میں لے گیا جہاں بورڈ کے ارکان انٹرویو لینے کے بہانے موجود پاکستان کا مطلب کیا، ھذا من فضل ربی بتا رہے تھے۔ کلرک ذہنیت ایسی ہی ہوتی ہے خود سامنے آکر کچھ نہیں کرتے بس سازشیں کرتے ہیں یا سازش کرنے والے کا ساتھ دیتے ہیں۔
کمرے میں اس وقت تک مرغن کھانوں کی خوش بو بھری ہوئ تھی۔ ایسا نہیں کہ میرا دل جلانے کے لئے اس خوشبو کو وہاں قید کر کے رکھا گیا تھا۔ وجہ یہ تھِی کہ ایئر کنڈیشنڈ چلنے کی وجہ سے یہ خوشبو باہر نہیں جا سکتی تھی۔ کمرہ ایک دم جنت نظیر محسوس ہو رہا تھا۔  یہ صرف اس منحوس ایئر کنڈیشنڈ کی وجہ سے تھا ورنہ نہ وہاں حوریں تھیں اور نہ شہد کی نہریں۔ اس خوشبو سے مجھے اپنے پیٹ میں ہونے والی گُڑ گُڑ کی آواز آئ۔ یہ اس پانی کی تھی جو میں کئ گھنٹے سے چالیس ڈگری کی گرمی کی شدت کو لان کے ایک سوکھے درخت کے نیچے بیٹھ کر کم کرنے کے لئے پی رہی تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ پانی کیوں پیٹ میں گڑ گڑ کرتا ہے اور کھانا نہیں کرتا۔
میری حیرانی دیکھئیے، وہاں میرے وہ بلند باتیں کرنے والے سینیئر اساتذہ بھی موجود تھے جن سے میں نے پڑھا تھا۔  خوش گپیاں چل رہی تھیں۔بروٹس  یو ٹو۔ میں نے اپنی حیرانی کو چھپانے کے لئے منہ پھیر لیا۔  یہ وہ لوگ ہیں جو باہر کی دنیا میں اس کرپشن کا رونا روتے ہیں جو یہاں فرشتے عالم بالا سے آکر کرتے ہیں۔ ان دس لوگوں میں سے کوئ ایک شخص ایسا نہیں تھا جسے احساس ہو کہ وہ وہاں کس کام کے لئے موجود ہیں۔
شام کو ساڑھے پانچ بجے کلرک نے باہر آکر اعلان کیا کہ انٹرویو ملتوی کر دئے گئے ہیں نئ تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ میرے اس دن کا اختتام سن اسٹروک پہ ہوا۔ وہ رات میں نے بخار اور الٹیوں میں گذاری۔
 سات سال، سات سال سے زائد عرصہ گذر گیا۔ اسکی نئ تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔ کیا داءود انجینیئرنگ کالج میں ان سات سالوں میں کوئ کیمسٹری کا ٹیچر پڑھا نہیں رہا۔ کیا واقعی؟
خیر جناب، داءود انجینیئرنگ کالج تو بے حد خراب ریپوٹیشن رکھنے والا کالج ہے۔ آئیے کراچی شہر کی سب سے مایہ ناز انجینیئرنگ یونیورسٹی کی طرف۔ جہاں ہمارے شہر سے انٹر میں پاس ہونے والے طالب علموں کی کریم داخلہ لیتی ہے۔ جن کا چناءو بہترین رزلٹ اور داخلہ ٹیسٹ میں بہترین کارکردگی کے بعد ممکن  ہوتا ہے۔ کیا سوچتا ہوا گا ایک طالب علم کس قدر شاندار دنیا میں قدم رکھنے والا ہے وہ۔ 
اخبار میں اشتہار آیا کہ انہیں ایک اسسٹنٹ پروفیسر چاہئیے۔ ماسٹرز ہونے کی صورت میں چار سال کا تدریسی تجربہ، پی ایچ ڈی ہونے کی صورت میں کوئ تجربہ درکار نہیں۔ میں نے بھی اپلائ کر دیا۔ پی ایچ ڈی ہوں، ڈیڑھ سال کا تدریسی تجربہ بھی ہے۔ اور بین الاقوامی جرنلز میں چھپے ہوئے  مقالے بھی۔ ایک مضبوط پس منظر، میں نے بےوقوفی سے سوچا۔
چند ماہ بعد خط ملا کہ اس سلسلے میں تحریری امتحان ہوگا۔ تاریخ مقررہ پہ گئے۔ کمرہ ء امتحان میں امیدواروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ان میں سے تین چار لوگ پی ایچ ڈی بھی تھے لیکن ان میں سے کسی کے پاس تدریسی تجربہ نہیں تھا۔ میں نے سوچا  اب بھی میرا پلہ بھاری ہے۔ ٹیسٹ کے لئے چھپے ہوئے پرچے ملے۔ اسے حل کیا۔ ٹیسٹ بھی اچھا ہوا تھا۔
میں خوش خوش واپس آگئ۔ کافی مہینے گذر گئے کوئ اطلاع نہیں۔ این ای ڈی سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر استاد سے معلوم کیا تو کہنے لگے کہ اپائینٹمنٹس تو کب کے ہو گئے۔ میرا دل ٹوٹا، انہیں انٹرویو کے لئے تو بلانا چاہئیے تھا۔ آخر انہوں نے امیدواروں کی شارٹ لسٹنگ تو کی ہوگی۔ محض تحریری امتحان کے بعد ہی تو اپائنٹ نہیں کر لیا ہوگا۔ 
پھر ذرا اور خبر لی تو معلوم ہوا کہ کراچی یونیورسٹی میں تدریس کے دوران ایک خاتون کو لیگ  تھیں میری جن کی نالائقیوں کا انکے طالب علم ہمیشہ رونا روتے نظر آتے۔ ان کا اپائینٹمنٹ ہو گیا ہے۔ یہ خاتون ایم فل تھیں یعنی نان پی ایچ ڈی۔ انکے پاس کوئ بین الاقوامی پبلی کیشن نہیں تھی۔ ایسا کیسے ہو گیا میں نے ان سینیئر ساتھی سے، جو اب مرحوم ہو چکے ہیں پوچھا۔ کہنے لگے میں نے معلوم کیا تھا۔ پتہ چلا کہ ہم پی ایچ ڈی کو رکھ کر کیا کریں گے۔ ہمارے کیمسٹری ڈپارٹمنٹ کی ہیڈ ماسٹرز ہیں اور ایک اتنے زیادہ پڑھے لکھے شخص کو رکھ لیں تو ایک مصیبت ہو گی۔ ہمیں ڈپارٹمنٹ چلانا ہے۔ بھئ ہمیں تو اسٹوڈنٹس کو ہلکی پھلکی کیمسٹری پڑھوانی ہے یہاں کوئ تحقیقی کام تھوڑی کروانا ہے۔
ایچ ای سی کس ملک کی یونیورسٹیز کے لئے قوانین وضع کرتی ہے یہ نہیں معلوم۔
داءود انجیئرنگ کالج تو ویسے بھی سیاسی جماعتوں کا اکھاڑہ ہے کسی گنتی میں نہیں۔ لیکن این ای ڈی انجینیئرنگ یونیورسٹی کراچی بھی ایچ ای سی کی اس فہرست میں شامل نہیں جو ملک کی دس بہترین یونیورسٹیز ہیں۔ 
کیا یہ مکافات عمل ہے؟
کیا یہ  میری بد دعا ہے؟
یہ ان میں سے کوئ چیز نہیں۔ لیکن ہمارے تعلیمی ادروں کے کرتا دھرتاءوں کے منہ پہ ایک طمانچہ ہے جو لکھ کر دیا گیا ہے۔ کیا اسکی شدت کسی کو محسوس ہو گی۔ جی نہیں، کسی کو نہیں ہوگی کیونکہ یہ سارے کرتا دھرتا جانتے ہیں کہ کسی میں ہمت نہیں کہ ان سے سوال کر سکے۔ کون کرے گا ان سے سوال وہ جو خود مفاد پرستی کی لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں۔ ایک ننگا دوسرے ننگے سے کیا پوچھے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی اپنی سطح پہ ہر ادارے کو کرپشن کے لحاظ سے پاکستان بنایا ہوا ہے۔ جو حشر پاکستان کا ہے وہی ان اداروں کا۔ 
میں تو صرف یہ سوچ رہی ہوں کہ مجھے این ای ڈی انجینیئرنگ یونیورسٹی سے ہمدردی کرنی چاہئیے یا انکے لئے دعا کرنی چاہئیے۔

Wednesday, April 4, 2012

تقدس سے باہر-۵

 گذشتہ سے پیوستہ

مکہ کو جو عزت حاصل تھی  وہ کعبے کی وجہ سے تھی۔ اور فوٹون سمجھتا ہے کہ  آج بھی انکی عزت اور تقدس کی وجہ وہی ہے۔ ورنہ اس میں غلط کیا ہے کہ

پڑھتا ہوں تو کہتی ہے یہ خالق کی کتاب
ہے مثل ِ یہودی یہ سعودی بھی عذاب
اس قوم کے بارے میں قمر کیا لکھئے
کعبے کی کمائ سے جو پیتی ہو شراب

 قریش کا خاندان اسکی وجہ سے عرب پہ حکومت کرتا تھا۔ اور ہمسائیگان خدا، بلکہ آل اللہ یعنی خاندان الہی کہلاتے تھے۔انکی عزت کی وجہ یہ تھی کہ وہ کعبہ کے مجاور اور کلیہ بردار تھے۔  اس تعلق سے قریش کا کاروبار پھیلتا گیا۔ یہاں تک کے متعدد محکمے اور بڑے بڑے مناصب قائم کئے گئے۔ اسی وجہ سے خاندان بنو امیہ اور بنو ہاشم  ایکدوسرے کے حریف تھے اور اسلام آنے کے بعد بھی مختلف مواقع پہ ان دونوں قبائل کے اس جدی پشتی رجحان کی وجہ سے فساد ہوئے۔
اس پس منظر میں قریش نے دین اسلام کی مخالفت کی اسکی وجوہات کچھ اس طرح سامنے آتی ہیں۔
اسلام انکے آبائ دین کے خلاف تھا۔ تند خو قوموں کا مزاج ہوتا ہے کہ انکی مخالفت زبانی مخالفت نہیں ہوتی۔ اس لئے انہوں نے ہر طرح کا ظلم روا رکھا۔
اس تسلسل میں آگے دیکھیں تو دوسرا سبب یہ تھا کہ مختلف خداءووں اور کعبے پہ ان کے حق ملکیت کا ایک طلسم قائم تھا جس سے قریش کی عظمت، اقتدار اور عالمگیر اثر کا قائم تھا۔ اسلام کے ساتھ اسکے ختم ہونے کا اندیشہ تھا۔  اس لئے جس کو زیادہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا اس  نے زیادہ مخالفت کی۔ یہ تو ہم آجکی سیاست میں بھی دیکھتے ہیں۔
ابو لہب رءوسائے قریش میں شامل تھا۔ اسکے علاوہ بھی  اسلام کےنمایاں  دشمنوں میں رءوسائے قریش نمایاں  نظر آتے ہیں۔ان کا خیال تھا کہ نبوت کا منصب اگر کسی کو ملنا ہی ٹہرا تو اسکے حقدار مکہ یا طائف کا کوئ رئیس ہونا چاہئیے تھا۔
اسکے علاوہ ریاست کے منتظم کے ساتھ دولت اور اولاد کا ہونا ضروری ہے۔ یہ خیال کیا جاتا رہا کہ جس شخص کے اولاد نہ ہو اسے آخرت میں برکت نہیں مل سکتی۔  اولاد سے مرد کسی شخص کے لڑکے۔ اس لحاظ سے رسول اللہ دونوں اوصاف سے خالی تھے۔ تو یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ منتظم بن جائیں۔
ایک اور وجہ جو بیان کی جاتی ہے وہ قریش کی عیسائیوں سے بڑی نفرت تھی۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ حبش کا جو بادشاہ کعبے کو ڈھانے آیا تھا وہ عیسائ تھا۔  ادھر اسلام اور نصرانیت میں کافی چیزیں مشترک ہیں اس لئے قریش کو خیال ہوا کہ محمد یہاں عیسائیت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
ایک اور سبب خاندانی رقابت تھا۔ عتبہ بن ابی معیط جو آپکا سب سے بڑا دشمن تھا اور جس نے نماز کی حالت میں آپ پہ اونٹ کی اوجھڑی لا کر ڈالی تھی، اموی تھا۔ رسول اللہ کا تعلق بنو ہاشم سے تھا۔ ابو جہل کی ایک تقریر سے اس دشمنی کا پتہ چلتا ہے ایک دفعہ اخنسا بن شریق نے ابو جہل سے رسول اللہ کے بارے میں رائے پوچھی تو اس نے کہا
ہم اور آل بنو ہاشم ہمیشہ حریف رہے۔ انہوں نے مہمانداریاں کیں تو ہم نے بھی کیں، انہوں نے خون بہا دئیے تو ہم نے بھی دئیے۔ انہوں نے فیاضیاں کیں تو ہم نے  ان سے بڑھ کر کیں۔ یہاں تک جب ہم نے انکے کاندھے سے کاندھا ملا دیا تو اب بنو ہاشم پیغمبری کے دعویدار ہیں۔ خدا کی قسم ہم اس پیغمبر پہ ہرگز ایمان نہیں لا سکتے۔
سب سے بڑا سبب یہ بھی تھا کہ رسول اللہ بت پرستی کی برائیوں کے ساتھ انکی کرپشن سے بھی پردہ اٹھاتے جاتے جو انہیں اپنی شہنشاہی کی توہین لگتا۔ مثلاً ابو لہب نے حرم کعبہ کی ملکیت میں سونے کا ایک ہرن تھا اسے نکال کر بیچ ڈالا تھا۔ رءوسائے عرب کی اکثریت جھوٹ بولتی تھی اور یہ دیگر بد اخلاقیوں کا بھی اسی شدت سے شکار تھے۔
کرپشن اور معاشرتی نا انصافی نے معاشرے میں شدید مایوسی پھیلائ ہوئ تھی اور نچلا طبقہ بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہوئے بھی موجود  نہیں تھا۔
ایک سوال یہ بھی اٹحتا ہے کہ آخر قریش نے ابتداء ہی میں رسول اللہ کو ختم کر کے ان سے نجات کیوں نہیں پالی۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ قریش مسلسل جنگوں میں تباہ ہو چکے تھے۔ کیونکہ کوئ بھی لڑائ کسی ایک گروہ تک محدود نہ رہتی نہ ایک نسل تک۔  جب تک اس کا بدلہ نہ لیا جاتا  انتقام کی آگ بجھ نہ پاتی۔ رسول اللہ کے ساتھ ایسا کرنے کی صورت میں پھر ایسی جنگ چھڑ جاتی۔
معاشرہ ویسے ہی غرباء کے لئے سخت تھا۔ رسول اللہ کے اعلان نبوت کے جواب میں ان غرباء اور کمزوروں کی بڑی تعداد نے انکی طرف رخ کیا۔ قریش نے ان پہ سخت مظالم کی انتہا کر دی۔  عالم یہ تھا کہ ابو جہل نے اپنی کنیزحضرت بسینہ کو اتنا مارا کہ انکی آنکھیں جاتی رہیں۔ اسی طرح کے مظالم دیگر غلاموں اور کنیزوں پہ توڑے گئے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے رسول اللہ کا ساتھ نہ چھوڑا۔
فوٹون سوچتا ہے کوئ اپنی آخری امید کا جسے اس پہ یقین ہو، اعتماد ہو کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا۔
ان سب حالات کے مطالعے کے بعد فوٹون یہ دیکھتا ہے کہ مجموعی طور پہ عرب کے حالات اس نہج کے تھے ک ان میں کسی مصلح کا اٹھنا ضروری ہو گیا تھا۔ اور اس موقع پہ رسول اللہ نے بڑی حکمت سے اس قوم کو نئ سمت دی۔

جاری ہے
نوٹ؛ اس تحریر کی تیاری میں جس کتاب سے مدد لی گئ ہے وہ مولانا شبلی نعمانی کی  سیرت النبی ہے۔ اسکے پبلشر ہیں الفیصل ناشران و تاجران کتب۔

شبلی نعمانی کی سیرت النبی یہاں سے ڈاءونلوڈ کیجئیے۔
  

Monday, April 2, 2012

سنڈریلا

اچھا تو ہوا یوں کہ میں نے اپنی بچی کے لئے بازار سے کافی ساری اردو کی کہانیاں خریدیں۔ لیکن ان سب میں مجھے کچھ مسائل مشترکہ لگے۔ 
الفاظ کے درمیان فاصلہ اتنا کم ہے کہ ایک بچہ جو ابھی اردو سیکھنے کے بالکل ابتدائ مراحل میں ہے اسے انہیں الگ الگ پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے۔
کہانیوں میں غیر ضروری تفصیلات ہیں ۔ جس سے وہ خاصی لمبی ہوجاتی ہیں۔  چھوٹے بچے اگر کہانی بہت لمبی ہو اسے پڑھنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔
ابتدائ کلاس کے بچوں کے حساب سے کہانیوں کی زبان آسان نہیں ہے۔
کہانیوں میں تسلسل کی کمی لگتی ہے۔
الفاظ کا چناءو کم درجے کا ہے۔ 
یہ تو تھیں ان کہانیوں کی بنیاد  خامیاں۔ اس لئے ایک دن مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ میں یہ کہانیاں اپنی بچی کے لئے خود لکھوں۔ اس سلسلے میں پہلی کہانی سنڈریلا پہ لکھی ہے۔ یہ ان پیج میں لکھی گئ ہے۔ اس لئے کہ میں اسکے پرنٹس نکال کر جب چاہے کسی کو دے سکوں۔ ورڈ میں فونٹ نوری نستعلیق نہیں آتا۔
 الفاظ کے درمیان فاصلہ رکھا ہے تاکہ بچہ ہر لفظ کو الگ پہچان سکے۔ الفاظ کو غیر ضروری طور پہ جوڑنے سے احتراز کیا گیا ہے۔ مثلاً اسکے کو اس کے لکھا گیا ہے۔ یہ لہانی پہلی جماعت کے حساب سے لکھی گئ ہے۔ کہانی میں کچھ ڈرائنگز نیٹ سے لے کر ڈالی گئ ہیں۔ جب بچہ کہانی سن لے تو اس میں رنگ بھرے۔ میری بچی کو تصویروں میں رنگ بھرنے کا بہت شوق ہے۔ اس لئے میں نے یہ کام کیا۔
بے کار کے خیالات سے پرہیز کیا ہے۔ یعنی یہ نہیں لکھا کہ سوتیلی مائیں تو بس ایسے ہی ہوتی ہیں۔ چاہیں تو روز ایک صفحہ کرائیں ، اور اسکے ساتھ تصویر پہ رنگ بھی کروائیں۔ کہانی سنانے کے بعد اپنے بچے سے کہانی کے متعلق سوالات ضرور پوچھیں۔ اور اگر وہ سوال کرتا ہے تو اسکے تسلی بخش جوابات دیں۔ جن سوالوں کے جواب نہیں دینا چاہتے انکے متعلق یہ نہ کہیں کہ یہ سوال نہیں کرنا چاہئیے۔  انکی عمر کے حساب سے کوئ آسان سا جواب تلاش کریں جو اصل حقائق سے دور نہ ہو۔ اگر وہ سوال نہیں کرتا ، تو اس سے پوچھیں، کوئ سوال؟
چلیں، تو یہ پہلی کہانی ہے ۔ یہ کہانی ایک کلاسک کہانی ہے، سنڈریلا کے متعلق۔ ہم سب نے اپنے بچپن میں سنی۔ اب ہمارے بچوں کی باری ہے۔  پریوں اور کوہ قاف کی دنیا کی کہانیاں نہ صرف بچوں کو پسند آتی ہیں بلکہ یہ انکے تخیل کو مہمیز کرتی ہیں۔ تخیل کی پرواز پہ پھر کبھی گفتگو ا۔ اس وقت سنڈریلا کی روائیتی کہانی اردو میں۔