کچھ کتابوں کے کچھ صفحات اسکین کر کے ڈالنے کا ارادہ ہے۔ سوچا کس سے شروع کیا جائے۔
ٹی وی پہ آجکل ایک ٹاک شو میری دلچسپی لئے ہوئے ہے۔ یہ ہے سی این بی سی سے نشر ہونے والا پروگرام ایجینڈا تین سو ساٹھ۔ اسکی پہلی خوبی تو مجھے اسکے میزبان لگتے ہیں ۔ دو میزبان، دونوں نوجوان۔ لیکن جتنی سادگی سے وہ اپنے مہمان کو گرفت میں لاتے ہیں ، وہ مزے کی چیز ہے۔ خاص طور پہ اسکا ایک میزبان عبدالمعید جعفری، اتنے سادہ اور پپو والے انداز میں کسی بھی گرم سوال کو اٹھالیتا ہے کہ شاید مہمان کو توقع بھی نہیں ہوتی۔
ابھی کچھ دنوں پہلے عمران خان اس پروگرام میں موجود تھے۔ معید ، نے اسی سادگی سے پوچھا۔ یہ ہم مانتے ہیں کہ آپ میں کوئ کرپشن نہیں۔ لیکن الیکشن میں آپکو کسی نہ کسی کو تو ساتھ رکھنا پڑے گا۔ آپ کرپشن نہیں کرتے نہ اسلحہ استعمال کرتے ہیں لیکن کراچی کے دھرنے میں آپ نے سنی تحریک کی حمایت استعمال کی۔ انکی شہرت تو یہ نہیں ہے۔ پھر الیکشن میں یا اسکے بعد آپ کیا کریں گے۔
اس سوال پہ مجھےایک کتاب یاد آگئ۔ اسکا نام ہے مولانا مودودی کی تقاریر۔ جماعت اسلامی نے انیس سو پچاس میں پنجاب میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لیا۔ جس کے لئے مولانا مودوددی صاحب نے انتھک محنت کی۔ انہوں نے اس سلسلے میں کیا اسٹریٹجی اپنائ ، وہ ان صفحات سے ظاہر ہے۔
لیکن انتخابات کے بعد ہوا کیا۔ اسکا اندازہ اس صفحے سے لگایا جا سکتا ہے۔
نوٹ؛
تصاویر بہتر طور پہ دیکھنے کے لئے ان پہ کلک کیجئیے۔



![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
لو وئی ... یہ (جماعت) اسلامی نظام جس کا ساری عمر سنتے آئے ہیں آخر کو پنچائتی نظام نکلا۔ پہلے دسناں سی .. ایویں ٹیئم ضائع کیا۔
ReplyDeleteاب آپ اور محبان مودودی ہی بیٹھے نبٹتے رہیں ، مولانا بلاگراعظم کینڈانوی تو چپ کر کے نکل لیو۔
محبان مودودی کیا کریں گے۔ یہ مودودی صاحب کی تقریر ہی کے صفحات ہیں۔ مودودی صاحب کو پنچائیتی نظام پسند تھا اور عمران خان کو سرحد کا جرگہ نظام۔ سب اپنے اپنے روایتی پسندی کے جال میں بند ہیں اور لیبل کسی اور چیز کا استعمال کرتے ہیں۔
ReplyDelete