Monday, November 8, 2010

اوپن ہارٹ

میری ایک محقق دوست جرمنی سے واپس آئیں تو ان سے ملاقات ہوئ۔  باتوں باتوں میں وہاں کے قصے چھڑے تو بتانے لگیں کہ جب میں نے اپنی جرمن پروفیسر کو بتایا کہ ہمارے ساتھ جو میرے کولیگ موجود ہیں انکی اوپن ہارٹ سرجری ہو چکی ہے۔ تو وہ پوچھنے لگیں کہ کہاں ہوئ تھی۔ میں نے بتایا پاکستان میں۔ ایکدم کندھے اچکا کر کچھ حقارت سے کہنے لگیں کہ کیا پاکستان میں ڈاکٹرز اوپن ہارٹ سرجری کر لیتے ہیں اور وہاں ہوتی ہے۔ اس سے میری دوست کے دل کو دکھ پہنچا۔ جرمن مغرور اور اکھڑ ہوتے ہیں۔ یہ اکثر سننے میں آتا ہے۔ لیکن جب کوئ آپکے سامنے آپکے وطن کا تذکرہ حقارت سے کرے تو رنج تو ہوتا ہے۔
 ان کا یہ طرز عمل شاہد انکی لا علمی پہ مبنی تھا۔ جب لوگ اپنے آپ میں گم ہو جائیں تو اکثر وہ اپنے علم سے نہیں بلکہ لا علمی سے دوسروں کا دل دکھاتے ہیں یا انکے لئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پہلی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو پچھلے کچھ سالوں سے معاشی بحران کا سامنا ہے جسکے نتیجے میں وہ اپنے باشندوں کو بنیادی سہولیات مناسب طور پہ نہیں دے پا رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ اسکی وجہ سے بے روزگاری کی شرح میں انتہائ اضافہ ہوا ہے اور یوں لوگوں کو اب ویسی آسانیاں میسر نہیں جیسی پہلے تھیں۔ بعض ممالک میں گورنمنٹ کے ہسپتالوں میں تین تین سال تک کی لمبی لائن لگی ہوئ ہے۔
یوں دنیا کے وہ ممالک جو سستی طبی سہولیات اور بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔ وہ پہلی دنیا کے عوام کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔  انڈیا میں تو یہ باقاعدہ ایک صنعت کی حیثیت اختیار کر گئ ہے۔ ٹیسٹ ٹیوب بے بی پیدا کرنا ہو، سر پہ مصنوعی بال لگوانے ہیں، دانتوں کا نیا سیٹ بنوانا ہے، گردوں کی پیوند کاری کروانی ہے ۔ لوگ اب ان ملکوں کا رخ کرتے ہیں۔ انڈیا میں تو یہ ایک صنعت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ آنے والا اپنے ساتھ ڈالرز لے کر آتا ہے۔ وہ جب اسے روپوں میں تبدیل کرتا ہے تو اسے زیادہ پیسے حاصل ہوتے ہیں۔ لوگ سیر تفریح کرتے ہیں، اپنا کام کرواتے ہیں، ایک نئ جگہ سے آشنائ حاصل کرتے ہیں اور خوش خوش اپنے ملک واپس جاتے ہیں۔ یہ کہلاتی ہے طبی سیاحت۔ اس سارے کے بعد بھی انکا کل خرچہ، انکے ملک میں ہونے والے خرچے سے خاصہ کم ہوتا ہے۔
انڈیا میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے لئے رضاکار بھی بآسانی مل جاتے ہیں۔ غریب عوام اپنے اعضاء بیچنے کے لئے تیار ہے۔ ادھر پاکستان میں۔ لاہور میں بآسانی گردے مل جاتے ہیں۔ اور شہر میں یہ کاروبار ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں بہت سرگرمی سے چل رہا ہے۔ میں خود ایسے لوگوں سے مل چکی ہوں جو پاکستان سر پہ بال لگوانے یا دانتوں کے علاج کے لئے آئے تھے۔
انڈیا کے علاوہ اس خطے میں تھائ لینڈ بھی کام کر رہا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ صنعت پھلنے پھولنے کے امکانات ہیں اورکئ ڈاکٹرز اس سمت میں کام بھی کر رہے ہیں۔  اگرچہ  ہم مہنگائ کی وجہ سے مختلف سہولیات کو اپنے سے دور ہوتا محسوس کر رہے ہیں کہ ہم روپوں میں کما کر روپوں میں خرچ کرتے ہیں۔ لیکن یہ ان لوگوں کو سستی لگتی ہے جو ڈالرز لے کر ان جگہوں کا رخ کرتے ہیں۔  یہ تو آپ جانتے ہی ہونگے کہ آجکل ایک ڈالر، پاکستانی تقریباً چھیاسی روپوں کا بن رہا ہے۔ میں جس اسپیشلسٹ کی آٹھ سو روپے فیس سن کر سوچ میں پڑ جاتی ہوں وہ ڈالر میں دس ڈالر سے بھی کم ہوتی ہے۔ پہلی دنیا کے بازاروں میں دس ڈالر میں اچھے سیب شاید آٹھ دس آجائیں مگر ایک اچھا ڈاکٹر نہیں ملے گا۔
آپکو لگا کہ ان جرمن یونیورسٹی پروفیسر کو ہمارے خطے کے بارے میں کچھ کم آگاہی نہیں۔ بلکہ شاید وہ اپنے ہی خطے کے ان لوگوں کے بارے میں بھی واقف نہیں جو نیرنگی ء زمانہ سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہر ممکن طریقہ کام لا رہے ہیں۔ لیجئیے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ انڈیا کے انڈر ورلڈ ڈان داءود ابراہیم کی اوپن ہارٹ سرجری بھی کراچی میں ہوئ، آپس کی بات ہے ہمیں بھی اسی لنک سے پتہ چلا۔ 
اب یہ بتائیے کہ ایکدوسرے سے آگاہ رہنے کے لئے دنیا کے لوگوں کو کیا کرنا چاہئیے۔ایک  بات تو میں بتا دیتی ہوں۔ اپنے دلوں کو اوپن کر لیجئیے، اس سے پہلے کہ اوپن ہارٹ سرجری کی باری آئے۔ باقی اب آپکی باری ہے۔

Thursday, November 4, 2010

ٹونی بلیئر کی سالی کا مسلماں ہونا

ایک دہرئیے اور ایک خدائے واحد کا یقین رکھنے والے شخص کے درمیان بحث چھڑ گئ۔ گھمسان کا رن چھڑنے کے بعد وہ دونوں اٹھے تو دہریہ خدا کا قائل ہو چکا تھا اور قائیل خدا، دہریہ ہو چکا تھا۔
 اس صورت حال سے ملتا جلتا ایک مصرعہ ہمارے ہاتھ لگا اور ہم آج تک اس کا دوسرا مصرعہ تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ مصرعہ کچھ یوں ہے،  ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا۔ کچھ مصرعے جوڑے۔ مثلاً

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

کوئ میرے دل سے پوچھے تیرے تیر نیم کش کو
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

نقش فریادی ہے کس کی شوخیء تحریر کا
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

 جاتی ہے کوئ کش مکش اندوہ عشق کی
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

عجب واعظ کی دینداری ہے یارب
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

پیران کلیسا ہوں کہ شیخان حرم ہوں
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

دیکھنا تقریر کی  لذت کہ جو اس نے کہا
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

کچھ جو سمجھا میرے شکوے کو تو رضواں سمجھا
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

کچھ اور بھی اٹکل پچو ہیں لیکن ایک تو یہ پوسٹ طویل ہو جائے گی دوسرے یہ کہ وارث صاحب ہمیں شاعری کے طول و عروض سکھانے کے بجائے دعا کرنے بیٹھ جائیں گے کہ اس حالت میں دعا ہی کام آ سکتی ہے۔ لیکن انکے دل کی تشفی کے لئے یہ واضح کرنا از حد ضروری ہے کہ اس چیز کا ہمیں احساس ہو چلا تھا کہ اس سے معنی و مطالب جتنے پھلیں پھولیں۔ کسی  بھی مجوزہ شعر میں وزن نہیں ہے۔ شاعری کیا ہے بات میں وزن کا ہونا۔ اس لئیے ایک دفعہ پھر اس مصرعے کو ہاتھ میں پکڑے بیٹھے تھے کہ اپنے ایک ساتھی پہ توجہ گئ۔
کیا دیکھتے ہیں کہ کمپیوٹر کے سامنے آنکھیں پھاڑے بیٹھے ہیں۔  اضطراری حالت میں  کبھی ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھتے ہیں، کبھی ایک فرضی داڑھی کو سہلاتے اور درست کرتے ہیں، کبھی کانوں کا مسح کرتے ہیں اور کبھی شہادت کی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کرتے  ہیں۔ ہر دو افعال کے درمیان مسکراتے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ سب نیکی علامت ہے مگر میرے شیطانی دل میں آئ کہ خاموشی سے انکے پیچھے  پہنچ جاءوں کہ کس سائیٹ سے مستفید ہو رہے ہیں۔  سوچا کہ انکی عمر کا تقاضہ ہے کبھی کبھی کے تصور میں برائ کیا ہے۔ لیکن عین اسی لمحے انہوں نے ہمیں دیکھ لیا۔ اب چونکہ ہم بھی انہیں ہی دیکھ رہے تھے اس لئے مجبوراً پوچھنا پڑا کہ کیا بات ہے بڑے پر جوش نظر آرہے ہیں۔ کہنے لگے، آپکو پتہ ہے ٹونی بلیئر کی سالی مسلمان ہو گئ۔

تو اس میں اتنا خوش ہونے کی کیا بات ہے لگ رہا ہے کہ آپکی ہونے والی  سالی آپکے ہاتھ پہ  مشرف بہ اسلام ہوئ ہیں۔ اس بات پہ انکا چہرہ لال ہو گیا اور باچھیں کھل گئیں فوری طور پہ تو یہی سمجھ آیا کہ ایک مشرقی، کنوارے مرد کو سالی کے تذکرے پہ اسی طرح حیا کا مظاہرہ کرنا چاہئیے۔
  کہنے لگے، انشاللہ، ہمارے اعمال درست رہے تو خدا ہمیں بھی کسی ایسی نیکی کی توفیق دے گا۔ جی ہاں، میں سمجھ رہی ہوں۔ اس بہانے آپ کسی گوری خاتون سے شادی کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ میرا خیال ہے آپ ٹونی بلیئر سے ایک میٹنگ کر لیں باہمی دلچسپی کے  امور پہ گفت و شنید کے لئے۔ بارے آپکے علم میں آجائے کہ وہ کون سی نیکی ٹونی بلیئر نے کی کہ اسکے نتیجے میں اتنی نیک سالی انہیں ملی۔
مذاق بنا رہی ہیں آپ میرا،  اہل کتاب خاتون سے تو مسلمان مرد کا شادی کرنا جائز ہے۔ اہل کتاب کا مسلمان مرد سے شادی کرنا جائز ہے تو مسلمان مرد انہیں مسلمان کیوں کرتے ہیں، میں ہنسی۔ آپکے عمران خان نے بھی جمائمہ خان کو مسلمان کر کے شادی کی تھی۔ پھر انکی علیحدگی ہو گئ اور وہ خاتون ایک مغربی خاتون کی طرح اپنے شب و روز اپنے وطن میں گذارنے لگیں۔ عمران خان یا انکی بیگم  کے تذکرے پہ وہ ایکدم لال ٹماٹر ہوئے۔ دیکھیں، وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ کوئ شخص مسلمان ہونے کے بعد اپنے شب و روز کیسے گذارتا ہے یہ آپکا سر درد نہیں ہے۔ خاص طور پہ کسی نو مسلم اہل کتاب خاتون کے متعلق اس طرح بات کرنا تو اخلاقی طور پہ کوئ اچھی بات نہیں۔ پھر وہ اٹھے اور دراز سے چھری نکالی۔  میں نے چستی سے اپنے اور دروازے کے درمیان ، انکے اور دروازے کے درمیان اور پھر اپنے اور انکے درمیان فاصلے کو نظروں سے ناپا اور سوچا کہ تمام فاصلے انتہائ مناسب ہیں اور اگر میں ذرا بھی جسمانی پھرتی سے کام لوں تو فرشتوں کے حساب سود زیاں والے انٹرویو سے جلدی سامنا ہونے سے بچا جا سکتا ہے۔
اس لئے ایک دفعہ پھر ہمت کڑی کر کے  اخلاقی گراوٹ کا مظاہرہ کیا۔ یہ بتائیے کہ ایک نو مسلم اہل کتاب خاتون کو جب آپ تمام رعائیتیں دینے کو تیار ہیں تو کئ اور جدی پشتی مسلمان خواتین کو جو مشرقی روایات کی خاصی حد تک علمبردارہیں کیوں ہر وقت اسلام کے دائرے سے باہر کرنے پہ  کمر بستہ رہتے ہیں یہی سلوک آپکا جدی پشتی مسلمان مردوں کے ساتھ بھی ہے۔ آخر کیوں؟
جواباً وہ چھری کی نوک پہ سیب کی ایک قاش پھنسا کر میرے ذرا قریب آ گئے۔  ایسے ہی جدی پشتی مسلمانوں نے مسلمانوں کی عزت کا جنازہ نکال ڈالا ہے۔ اب ان جیسے روشن خیال ڈھیٹ دیکھ لیں پاسباں ملیں گے کعبے کو صنم خانے سے۔ پھر سیب کی اس قاش کو کچر کچر چبانے لگے۔ 
میرا تو خیال ہے کہ آجکل کے حالات دیکھتے ہوئے ٹونی بلیئر کی سالی کا مسلمان ہونا ہی اسکے روشن خیال اور ڈھیٹ ہونے کا ثبوت ہے۔ میں نے اپنے دوپٹے کے پلو کو  تفکر میں مروڑا۔  لیکن پھر اچانک ہی  میرے منہ سے ایک ہلکی پر جوش چیخ نکلی۔ واءو، یوریکا شعر مکمل ہو گیا۔
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے بھائ میاں
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

انہوں نے مجھے ترس کھانے والی نگاہوں سے دیکھا۔ اور جا کر اس خبر کو دوسرے جدی پشتیوں کو اس طعنے کے ساتھ فارورڈ کرنے لگے کہ  بے حیا ، شرم کر۔
-
-
-

چھری واپس دراز میں ، سیب پیٹ میں۔ میں اپنی جگہ محفوظ۔ لیکن یہ کیسی سرگوشی ہے؟
اب بھی وزن پورا نہیں ہوا۔
شاعری کیا ہے بات میں وزن کا پیدا ہونا۔ 
مجھے تو لگتا ہے یہ مصرعہ کسی کی سازش ہے یا بد دعا۔

Monday, November 1, 2010

مہنگائ کے مارے

مہنگائ کا عفریت ہم سب کو نگلنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ مگر سلام ہے ہماری قوم پہ کہ نہایت استقامت سے تقدیر پہ راضی بہ رضا ہے۔ حالانکہ شاعر مشرق فرما کر جا چکے کہ تقدیر کے پابند ہیں نباتات، جمادات۔ اب ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم نباتات ہیں یا جمادات۔
ویسے تو ہر تھوڑے دنوں میں ہی چیزوں کی قیمتیں بدل جاتی ہیں۔ اور پچھلے سال کی قیمتوں کا بیان معلوم ہوتا ہے کہ قصہ ء پارینہ ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ گوشت ڈھائ سو روپے کلو تھا اب سوا تین سو روپے کلو ہے۔ 
عید کے فوراً بعد ، گھر میں کچھ ایسے مسائل آ کھڑے ہوئے کہ میں فوری طور پہ بازار نہ جا سکی۔ تقریبا آٹھ دن بعد جب فرج نے اعلان کیا کہ ذخیرہ کی ہوئ تمام سبزیاں ختم ہو گئیں ہیں تو میں نے جمعہ بازار کا رخ کیا۔
لیکن وہاں داخل ہوتے ہی حیرت کا دھچکہ لگا۔ پیاز پچاس روپے کلو، آلو چالیس روپے، ٹماٹر اسی روپے، بھنڈی اسّی روپے، اور لوکی جیسی معصوم سبزی  بھی پچاس روپے کلو۔
سوچا، قوم عید منا رہی ہے۔ منڈی میں مال پہنچا نہیں ہوگا۔ لیکن اگلے پانچ دن بعد بھی جب حالات یہی رہے اور دوکاندار کلو کے بجائے پاءو میں بھاءو بتاتے نظر آَئے۔ پندرہ روپے پاءو ٹنڈے  اور پندرہ روپے پاءو بیگن۔ تو کیا اب ہم سبزی بھی پاءو کے حساب سے خریدیں گے؟
  میں نے اپنے خیال پہ نظر ثانی کی۔ قوم عید نہیں منا رہی، خود کشی کرنے کو تیار بیٹھی ہے۔ لیکن قوم پہ نوحہ پڑھنے کے علاوہ میں کیا کر سکتی ہوں۔ میں نے گھر آ کر سوچا اور اسی دن مالی کو اس بات کا احساس دلاتے ہوئے کہ اسکی لاپرواہی سے گھاس میں چھوٹے چھوٹے جنگلی پودے نکل آئے ہیں۔ مجھے خیال آیا کہ یہ سب محنت کیوں۔ کیا اس لئے کہ گرمیوں میں کچھ موتئیے کے پھول آجائیں اور سردیوں میں رات کی رانی مہکے۔  اس چھوٹے سے لان کی ہری بھری گھاس دیکھ کر لوگ کہیں گھاس تو بڑی اچھی ہے آپ کی۔ یا فرن کے ایک قطار میں لگے پودوں کی خوش نمائ دیکھوں اور منی پلانٹ کے بڑے بڑے پتوں پہ نثار ہوتی رہوں۔
اسی دن میں نے فیصلہ کیا کہ پانی کی عظیم نعمت اور زمین کا یہ چھوٹا سا ٹکڑا ، اپنے صحیح استعما ل میں آنا چاہئیے۔ ترجیحات کا تعین  نئے سرے سے ہونا چاہئیے۔ اگر ہمارے حکمراں، ہمارے رہ نما، ہمارے دانشور، ہمارے بوڑھے اور ہمارے جوان اس بات کو محسوس نہیں کر پا رہے تو مجھے تو اپنے طور پہ اپنی ترجیحات متعین کر نے کی آزادی ہے۔
 میں اسی وقت نیٹ پہ بیٹھی کہ کراچی میں اچھے بیج کہاں ملیں گے۔ کیونکہ اس سے پہلے ایک دفعہ کیا گیا میرا تجربہ بیج اچھے معیار کے نہ ہونے کی وجہ سے فیل ہو گیا تھا۔
زیادہ تر پتے جو حاصل ہوئے وہ پرانے شہر کے تھے۔ جہاں کی گلیوں سے میری اتنی واقفیت نہیں اور وہاں گاڑی کی پارکنگ کا سنگین مسئلہ بھی رہتا ہے۔ ایک بلاگ پہ سرچ کرتے ہوئے مجھے ایک موبائل نمبر ملا جو کسی توفیق پاشا کا تھا۔
اگلے دن صبح میں نے انہیں فون کیا۔ انگیج تھا۔ پھر میں سوچنے لگی باقی کے نمبروں میں سے کس سے بات کروں کہ میرا فون بج اٹھا۔ یہ توفیق پاشا تھے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ کیا میں نے انہیں فون کیا تھا۔ میں انکے اخلاق سے متائثر ہوئ، انہیں اپنا مسئلہ بتایا۔
 معلوم ہوا کہ وہ ٹی وی کے کسی چینل سے جس کا نام میں اس وقت بھول گئ ہوں باغبانی کا ایک پروگرام  باقاعدگی سے کرتے ہیں۔ خیر، انہوں نے مجھے ایمپریس مارکیٹ اور سبزی منڈی کے قریب ایسی دوکانوں کے بارے میں بتایا۔ جہاں سے وہ بیج لیتے ہیں۔ اسکے علاوہ ڈیفینس میں لوٹیا کی دوکان موجود ہے۔

ایمپرہس مارکیٹ کراچی
 میں نے ڈیفینس والا پتہ نظر انداز کیا کہ چیزیں امکان یہی ہے کہ زیادہ قیمتوں کی ہونگیں۔
اگلے دن ایمپریس مارکیٹ صدر کا رخ کیا، وہاں پہ عبداللہ سیڈ اسٹور تلاش کرنا مشکل نہ تھا۔ ایمپریس مارکیٹ اپنے ماحول کی وجہ سے مجھے خاصی پسند ہے۔ حالانکہ اس مارکیٹ میں پہلی دفعہ میں اپنی شادی کے بعد گئ۔
جناب وہاں سے مجھے بیج مل گئے۔ شملہ مرچ ہری اور لال، کھیرا، ٹماٹر، تورئ، سیم، بروکلی، سلاد پتہ،ہرا دھنیا، اسکے علاوہ موسمی پھولوں کے بیج۔ اگلے دن صبح مشعل کو اسکول چھوڑا اور واپسی پہ کھاد والے کے پاس  سے دو طرح کی کھاد لی۔ ایک گٹر کی کھاد کہلاتی اور دوسری اوجھڑی والی۔ اور ایک بوری ریت کی بھی۔  یہ سب سامان لے کر گھر لوٹی۔ گھر آ کر خالی گملوں کو نکال کر انہیں پنیری کے لئے تیار کیا یعنی مٹی اور کھاد ڈالی۔ باقی گملوں کے بارے میں کڑا فیصلہ کیا کہ کس میںسے پودے ہٹانے ہیں۔ لان میں ایک موتئیے کا جھاڑ ایک کونے سے نکلوایا۔ ایک پودا کافی ہے۔ یہ یاد رکھنے کو کہ موتئیے کا پھول ایسا ہوتا ہے۔ اسکی جگہ تورئ کے بیج ڈالدئیے۔ایک کیاری سے للّی کے پھول کے پودے سارے نکلوا دئیے۔ گملے میں ایک پودا کافی ہے۔ اور اسکی جگہ ہرا دھنیا لگا دیا۔ایک تین فٹ اونچے گملے میں سیم کے بیج لگا دئیے ہیں اور ایک پلاسٹک کی ڈھائ فٹ اونچی بالٹی میں کھیرے کے بیج۔  پھر مالی سے کہا کہ فرن کے سارے پودے ہٹانے ہیں اسکی جگہ سلاد پتہ اور بروکلی لگا دیں گے۔ فرن کے تذکرے پہ اسکا دل ٹوٹا۔ کہنے لگا باجی، اب سارا لان ایسا مت کر دیجئیے گا۔ دل میں سوچ رہا ہوگا کہ کیا لان کے اوپر ہلاکو خان بنی ہوئ ہیں۔ لیکن اسے خبر ہونی چاہئیے کہ جب ملک میں اندہیر نگری چوپٹ راج ہو تو ہلاکوءوں کی عید ہوتی ہے۔ اچھا، باقی سارے بیجوں کو گملوں میں لگا دیا کہ انکی پنیری تیار ہو جائے۔  پھر سوچیں گے کہ انہیں کہاں فٹ کرنا ہے یا انکے لئے مزید گملے لے کر پچھلے صحن میں ڈال دئیے جائیں۔

کچھ پودے نکل آئے ہیں۔ اب آگے کے مسائل شروع ہو رہے ہیں۔ ایک بلی کہیں سے رات کو آجاتی ہے جو مختلف جگہوں پہ گملوں اور زمین کو کھود دیتی ہے۔ بغیر یہ خیال کئیے کہ اس میں ننھے ننھے پودے ہیں۔ اپنی غلاظت کو چھپانے کے لئے مناسب مقام تلاش کرتی پھرتی ہے۔ ایک دفعہ پھر میں نے پھر نیٹ پہ سرچ کی کہ بلی کو کیسے بھگایا جائے۔  اور نتیجے میں اگلے دن زمیں پہ پسی ہوئ کافی کا پوڈر پھیلا دیا۔  اس کے لئے میں اپنے شوہر صاحب کی کافی پینے کی عادت کی شکر گذار ہوں۔ وہ روز اپنی کافی پیستے ہیں اور پھر ایک لمبا کپ بلیک کافی کا تیار کرتے ہیں۔  بغیر دودھ اور شکر کی یہ کافی نہ صرف اچھی کھاد ہے بلکہ بلیاں بھی اسکی بو سے بھاگتی ہیں۔
آجکل روزانہ صبح اٹھ کر اپنے ننھے پودوں کی قامت میں ا ضافے اور صحت کو دیکھتی ہوں اور اس دن کے خواب سجاتی ہوں جب کم از کم سبزی میں خود کفالت کو حاصل کرونگی۔


رہے ملکی حالات تو اس پہ بعد میں گفتگو ہوگی۔ تھرڈ ورلڈ  ملک میں رہنے کا فائدہ ہے کہ آپکو دنیا کی بے ثباتی پہ سوچنے کا یا تو موقع نہیں ملتا یا پھریقین نہیں رہتا۔

Saturday, October 30, 2010

گا میرے منوا

یہ نئ نسل اس انداز سے نکلے سر بزم
کہ موءرخ سے گنہگار نہ ہونے پائے

لیکن تاریخ کی کلاس لینے کے بعد مصطفے  زیدی نے کبھی سوچا کہ  افتادگی ء زمانہ سے چکرائی ہوئی نسل کو قابو میں رکھنے کے لئے کیا کرنا چاہئیے۔ ایک ذہن میں آنے والے خیال کو  تو اس ویڈیو میں ددیکھ سکتے ہیں۔


جب چکرایا ہوا سر اپنے ماحول میں واپس پہنچتا ہے تو اپنا حال دیکھ کر اسے حال آجاتا ہے۔ کچھ لوگ اسکے لئے روحانی علاج تجویز کرتے ہیں اور کچھ کا کہنا ہے کہ چونکہ موسیقی روح کی غذا ہے اس لئے بہترین روحانی علاج گانا ہے۔ دانا کہتے ہیں کہ گائیے ، رونا اور گانا کسے نہیں آتا۔ لیکن ایسی سنی سنائ باتوں میں مت آجائیے گا کہ ایسا بھی ہوتا ہے۔


گانا جنوبی ایشیا کی ثقافت کا حصہ رہا ہے اور ایک قوم کی مذہبی عبادات کا قصہ بھی۔ یہاں کی سنگیت کی تاریخ اتنی شاندار رہی ہے کہ مائیکل جیکسن نے بھی اپنی فنی مہارت کو اس کے ساتھ مدغم کرنے کا مزہ لیا۔


یقین آیا، یہ مائیکل جیکسن ہے۔ 
ہمم لیکن پھر تاریخ۔ تاریخ ایک چلمن کی طرح راستے میں کیوں کھڑی ہو جاتی ہے۔ آئیے تاریخ اور چلمن کے درمیان تعلق نکالنے کی کوشش کرتے ہیں



  اس نتیجے کو سنگیت سے ضرب دیں۔  اگر کوئ تعلق نہ نکل پائے تو اس تحریر کو دوبارہ سے پڑھیں اور مکمل تجزئیے کے لئے ویڈیوز کو دوبارہ دیکھنا مت بھول جائیے گا۔ تعلق نکل آنے کی صورت میں  بے شمار فوائد ہیں۔ فوری طور پہ لاحول پڑھنے کا ایک صحیح موقع ملے گا۔  مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگی،  آپ،  ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کر لو والی صورت سے باہر نکل آئیں گے۔ معاشی حالات بہتر بنانے کے لئے مالشئیے کا کاروبار برا نہیں عالمی کساد بازاری میں اس قسم کے پیشوں سے مستقل ذریعہ ء روزگار رہنے کا امکان رہتا ہے۔
چلیں پھر گانا شروع کریں۔ 
ایک
دو
تین
گا میرے منوا گاتا جا رے
   
 

Friday, October 29, 2010

اسباب بغاوت ہند اور لائل محمڈنز آف انڈیا-۲


ہنگامے کے دنوں میں کچھ مسلمان علماء نے ایسے مضامین اور رسالے لکھے جن میں عیسائیوں کو نصاری کہا گیا تھا۔ انگریز حاکموں نے اسکا برا مانا۔ انہوں نے سمجھا کہ جیسے یہودی حقارت میں حضرت عیسی کو ناصری کہتے ہیں اسی طرح مسلمان لکھنے والوں نے عیسائیوں کی توہین کی ہے اور یہ لوگ دل سے مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ انگریزوں کا رد عمل اس سلسلے میں اتنا شدید تھا کہ انہوں نے بعض ایسے علماء اور مصنفین کو پھانسی دے دی۔ سر سید نے فوری طور پہ ایک رسالہ نصاری لفظ کی تحقیق پہ لکھا اور یہ ثابت کیا کہ مسلمانوں نے جو عیسائیوں کو نصاری لکھا ہے تو اسکی مشتق ناصری نہیں بلکہ نصر ہے۔ یہ قرآن سے بھی ثابت ہے۔ قرآن میں کہیں ناصرہ کے قریہ کا تذکرہ نہیں آیا۔ بلکہ حضرت عیسی اور انکے حواریوں کے نصاری ہونے کا بیان اس طرح آیا ہے کہ حضرت عیسی نے کہا من انصاری الی اللہ تو حواریوں نے کہا نحن انصاراللہ۔ سورہ مائدہ میں ارشاد ربانی ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو پائے گا اہل کتاب میں سب سے زیادہ مسلمانوں کا دوست انکو جنکا قول ہے کہ ہم نصاری ہیں انہوں نے اس مضون کا ترجمہ انگریزی میں کروایا اور سب انگریز حاکموں کو اسکی نقل بھیجی۔ یہ مضمون اردو ااور انگریزی اخبارات میں بھی چھپوایا۔ اس مضمون کی اشاعت کے بعد لفظ نصاری کا قصہ ختم ہوا اور اس بناء پہ مسلمانوں کو سزائیں دینے کا سلسلہ بند ہوا۔



اسی وقت انگریز اور ہندو مصنفین نے بھی تحاریر کا سلسلہ شروع کیا ہوا تھا اور ان میں سے اکثر کا مءوقف یہ تھا کہ مسلمان مذہباً عیسائیوں کے دشمن ہیں انکا مذہب انہیں عیسائیوں کے خلاف جہاد کرنے کی تعلیم دیتا ہے بلکہ عیسائیوں کے خلاف جہاد ان پہ مذہباً فرض ہے۔ وہ انگریزی حکومت کے خیر خواہ ہو ہی نہیں سکتے۔ یہ پروپیگینڈہ انتہائ زہریلا تھا اور اس سے مسلمانوں کا ہندوستان میں بطور مسلمان رہنا مشکل نظر آرہا تھا۔ یہ تباہی بالکل سامنے تھی اور واضح ہوتی جارہی تھی۔ سر سید ان الزامات کا اثر زائل کرنے کمر بستہ ہوئے۔ انہوں نے رسائل کا ایک سلسلہ شروع کیا جس کا نام لائل محمڈنز آف انڈیا رکھا۔ اس میں پہلے تو انہوں نے دلائل سے ثابت کیا کہ مذہب کی رو سے ہندوستان کی تمام اقوام میں صرف مسلمان ہی ایسی قوم جو انگریزوں کی وفادار ہو سکتی ہے
قرآن اور احادیث کا حوالہ دیا کہ جسطرح مسلمان اپنے رسول پہ ایمان رکھتے ہیں اسی طرح وہ حضرت عیسی اور بائبل پہ یقین رکھتے ہیں. اسلام کسی ایسے گروہ یا جماعت کے خلاف جہاد کی اجازت نہیں دیتا جو انکے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں مخل نہ ہو۔ پھر سر سید نے ہندوستان بھر سے ایسے مسلمانوں کے کوائف اکٹھا کئے جو ہنگامے کے دنوں میں انہی کی طرح انگریزوں سے خیر خواہی اور ہمدردی کا رویہ رکھا اور انکی حفاظت کے لئے اپنی اور اپنے گھر والوں کی جانوں کی قربانی دی۔
انگریزوں کا ایک عام عقیدہ اس وقت یہ تھا کہ اسلام اور تہذیب و شائیستگی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ سر سید نے دلیلیں اور مستند حوالے اکٹھے کرکے یہ ثابت کیا کہ اسلام اور صرف اسلام ہی سب سے بڑھ کر تہذیب و شائیستگی، خوش اخلاقی اور دوسروں سے ہمدردی کا سبق دیتا ہے۔

یہ رسالے ظاہر ہے مسلمانوں کی طرفداری میں لکھے گئے تھے اس لئے سر سید لکھتے ہیں کہ۔
ہاں یہ بات تو مجبوری کی ہے کہ میری پیدائیش ہندوستان میں ہوئ اور میں بلاشبہ مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا ذکر خیر اس کتاب میں لکھتا ہوں۔

سر سید کی ہمہ گیر اور مختلف النوع قومی جد وجہد کے لئے مولانا صلاح الدین احمد اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں
ایک معرکہ ء عظیم ہے جس کے مختلف محاذوں پہ بیک وقت یورش جاری ہے اور دفاع بھی۔ اور بڈھا سپہ سالار ایک ہاتھ میں دوربین اور دوسرے میں شمشیر عمل لئے ہر مورچے پر مثل برق پہنچتا اور مثال ابر گرجتا ہے۔

جاری ہے